🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3610. -- باب: قتل من لا قتال فيه من الكفار جائز وإن كان الاشتغال بغيره أولى
-- باب: کفار میں سے جو جنگ نہ کرے اسے قتل کرنا بھی جائز ہے، اگرچہ اس کے علاوہ (جنگجوؤں کے خلاف) مشغول ہونا زیادہ بہتر ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18164
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ، وَاسْتَبْقُوا شَرْخَهُمْ". قَالَ الشَّافِعِيُّ:" وَلَوْ جَازَ أَنْ يُعَابَ قَتْلَ مَنْ عَدَا الرُّهْبَانَ لِمَعْنَى أَنَّهُمْ لَا يُقَاتِلُونَ، لَمْ يُقْتَلِ الْأَسِيرُ، وَلَا الْجَرِيحُ الْمُثْبَتُ، وَقَدْ ذُفِّفَ عَلَى الْجَرْحَى بِحَضْرَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، ذَفَّفَ عَلَيْهِ ابْنُ مَسْعُودٍ وَغَيْرُهُ".
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکین کے بوڑھے اشخاص کو قتل کرو اور ان کے بچوں کو باقی رکھو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر راہب کے علاوہ کسی کو قتل کرنے پر عیب لگایا جاتا تو قیدی اور زخمی کو کبھی قتل نہ کیا جاتا۔ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابو جہل بن ہشام زخمی کو قتل کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18164]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18165
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ؟". قَالَ: فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ، فَنَزَلَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، قَالَ: أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ؟ قَالَ: وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَهُ قَوْمُهُ؟". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو ابو جہل کا کیا بنا؟“ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گئے تو دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مار کر گرا دیا ہے، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نیچے اتر کر اس کی داڑھی پکڑ لی اور پوچھا: ”کیا تو ابو جہل ہے؟“ اس نے کہا: ”کیا تم نے مجھ سے کسی بڑے آدمی کو قتل کیا ہے یا اس کو اس کی قوم نے قتل کیا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18165]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18166
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ وَهُوَ مَصْرُوعٌ، فَضَرَبْتُهُ بِسَيْفِي، فَمَا صَنَعَ شَيْئًا وَنَدَرَ سَيْفُهُ، فَضَرَبْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ كَأَنَّمَا أَقَلَّ مِنَ الْأَرْضِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا عَدُوُّ اللهِ أَبُو جَهْلٍ قَدْ قُتِلَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آللَّهِ لَقَدْ قُتِلَ؟". قُلْتُ: آللَّهِ لَقَدْ قُتِلَ. قَالَ: فَانْطَلِقْ بِنَا فَأَرِنَاهُ. فَجَاءَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ:" هَذَا كَانَ فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ". كَذَا قَالَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَدْ مَضَى ذَلِكَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن میں ابو جہل تک پہنچا، وہ گرا ہوا تھا، میں نے اسے اپنی تلوار ماری، اس نے کچھ بھی نہ کیا، اس کی تلوار گر گئی، میں نے اسے مارا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشخبری لے کر آیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ اللہ کا دشمن ابو جہل قتل کر دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «آللّٰهِ؟» ”اللہ کی قسم! کیا وہ قتل کر دیا گیا؟“”میں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم وہ قتل کر دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو ہمیں دکھاؤ“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر دیکھا اور فرمایا: ”یہ اس امت کا فرعون تھا“۔
انہوں نے اسی طرح عمرو بن میمون سے بیان کیا ہے، جبکہ محفوظ روایت ابو اسحاق عن ابی عبیدہ عن ابیہ کی سند سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18166]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم ١٨٠١٣-١٨٠١٤»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18167
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ" كَانَ مَعَ أَبِيهِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ، فَلَمَّا انْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ وَحَمَلَ، فَجَعَلَ يُجِيزُ عَلَى جَرْحَاهُمْ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَلَا أَعْلَمُ يَثْبُتُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خِلَافُ هَذَا، وَلَوْ كَانَ ثَبَتَ لَكَانَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَمَرَهُمْ بِالْجِدِّ عَلَى قِتَالِ مَنْ يُقَاتِلُهُمْ، وَلَا يَتَشَاغَلُوا بِالْمُقَامِ عَلَى مَوْضِعِ هَؤُلَاءِ". قَالَ الشَّيْخُ:" وَإِنَّمَا قَالَ هَذَا لِأَنَّ الرِّوَايَاتِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّهَا مَرَاسِيلُ، إِلَّا أَنَّهَا رُوِيَتْ مِنْ أَوْجُهٍ وَرَوَاهَا ابْنُ الْمُسَيِّبِ، وَهُوَ حَسَنُ الْمُرْسَلِ، ⦗١٥٩⦘ وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِيِّ عَنْهُ حَدِيثَ الْمُرَقَّعِ، ثُمَّ ضَعَّفَهُ بِأَنَّ مُرَقَّعًا لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ، وَذَكَرَ حَدِيثَ أَيُّوبَ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِيهِ، ثُمَّ قَالَ: وَهَذَا كَالَّذِي ذَكَرْنَا مِنْ قَبْلِهِ مَجْهُولٌ، وَأَمَّا حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ فَلَمْ يَذْكُرْهُ الشَّافِعِيُّ وَهُوَ أَضْعَفُ مِمَّا رَدَّهُ بِالْجَهَالَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ".
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں غزوہ یرموک میں اپنے باپ کے ساتھ تھا۔ جب مشرکین کو شکست ہوئی تو انہوں نے حملہ کیا اور ان کے زخمیوں کا کام تمام کرنے لگے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف کوئی بات ثابت معلوم نہیں۔ اگر ان سے ثابت ہو تو غالباً اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے لشکر کو حکم دیا کہ وہ لڑنے والوں سے پوری کوشش کے ساتھ لڑائی کریں اور ان (راہبوں) کی جگہوں پر ٹھہرنے میں مشغول نہ ہوں۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی نے یہ بات اس لیے کہی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے جو روایات ہم نے ذکر کی ہیں وہ سب مرسل ہیں، البتہ وہ کئی سندوں سے مروی ہیں اور انہیں ابن مسیب نے روایت کیا ہے جن کی مرسل روایت عمدہ ہوتی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ابو عبدالرحمن بغدادی کی روایت میں مرقع کی حدیث ذکر کی، پھر اسے اس بنا پر ضعیف قرار دیا کہ مرقع معروف نہیں۔ اور ایوب کی وہ حدیث ذکر کی جو وہ ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتا ہے، پھر فرمایا: یہ بھی پہلی کی طرح مجہول ہے۔ رہی ابراہیم بن اسماعیل بن ابی حبیبہ کی حدیث تو امام شافعی نے اسے ذکر نہیں کیا، اور وہ اس روایت سے بھی زیادہ ضعیف ہے جسے انہوں نے جہالت کی بنا پر رد کیا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18167]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3611. -- باب: أمان العبد
-- باب: غلام کی طرف سے امان دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18168
حَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ يَحْيَى الرَّازِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ، وَمَنْ وَالَى مُؤْمِنًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ"." ⦗١٦٠⦘ وَمَضَى ذَلِكَ فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام مسلمانوں کا پناہ دینا ایک جیسا ہے، ان کا ادنیٰ بھی پناہ دے سکتا ہے۔ جس نے مسلمان کی پناہ کو ختم کیا اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے؛ اس کے فرض و نفل قبول نہ کیے جائیں گے۔ اور جس نے اپنے موالی کی اجازت کے بغیر کسی مومن سے موالات (ولاء) کا رشتہ قائم کیا اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے؛ اس کے فرض و نفل قبول نہ کیے جائیں گے۔“ (ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”تمام مومنوں کے خون برابر ہیں، وہ اپنے مخالفوں پر ایک ہاتھ کی مانند متحد ہیں اور ان کا ادنیٰ ترین شخص بھی پناہ دے سکتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18168]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18169
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُجِيرُ عَلَى أُمَّتِي أَدْنَاهُمْ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا ادنیٰ آدمی بھی پناہ دے سکتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18169]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18170
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأُمَوِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا مُصَافِّي الْعَدُوِّ. قَالَ: فَكَتَبَ عَبْدٌ فِي سَهْمٍ أَمَانًا لِلْمُشْرِكِينَ فَرَمَاهُمْ بِهِ، فَجَاءُوا فَقَالُوا: قَدْ أَمَّنْتُمُونَا. قَالُوا: لَمْ نُؤَمِّنْكُمْ إِنَّمَا أَمَّنَكُمْ عَبْدٌ. فَكَتَبُوا فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّ الْعَبْدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَذِمَّتُهُ ذِمَّتُهُمْ، وَأَمَّنَهُمْ".
فضیل بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم دشمن کا مقابلہ کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک غلام نے ایک تیر پر مشرکین کے لیے امان لکھ کر وہ تیر ان کی طرف پھینک دیا۔ مشرکین نے آ کر کہا: ”تم نے ہمیں پناہ دی ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”ہم نے تمہیں پناہ نہیں دی، تمہیں غلام نے پناہ دی ہے“، تو انہوں نے اس بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”غلام مسلمانوں میں سے ہیں، ان کی پناہ مسلمانوں کی پناہ شمار کی جائے گی“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو پناہ دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18170]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18171
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مُسْلِمٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْهِنْدِ قَدِمَ بِأَمَانِ عَبْدٍ، ثُمَّ قَتَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ:" فَبَعَثَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِدِيَتِهِ إِلَى وَرَثَتِهِ". وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ أَهْلِ الْبَيْتِ.
زیاد بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہند کا ایک شخص کسی غلام کی پناہ میں آیا تو اسے مسلمانوں کے کسی شخص نے قتل کر دیا، راوی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس کی دیت اس کے ورثاء کو بھجوا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18171]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18172
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الصُّوفِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَبِي عَلِيٍّ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ الْكُوفِيِّ بِمِصْرَ وَأَنَا أَسْمَعُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لِلْعَبْدِ مِنَ الْغَنِيمَةِ شَيْءٌ إِلَّا خُرْثِيَّ الْمَتَاعِ، وَأَمَانُهُ جَائِزٌ إِذَا هُوَ أَعْطَى الْقَوْمَ الْأَمَانَ".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالِ غنیمت سے غلام کو گھٹیا سامان دیا جائے گا، اور اس کی پناہ جائز ہے جب وہ لوگوں کو پناہ دے دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18172]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3612. -- باب: أمان المرأة
-- باب: عورت کی طرف سے امان دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18173
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو سُلَيْمَانَ دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ بِخَسْرُوجَرْدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ عَلَيْهَا السَّلَامُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، قَالَتْ: فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟". فَقُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ:" مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ". فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانَ بْنَ هُبَيْرَةَ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ". قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ: وَذَلِكَ ضُحًى." لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، جب میں وہاں پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرما رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک کپڑے کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پردہ کیا ہوا تھا، میں نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کون ہے؟“ میں نے جواب دیا: میں ام ہانی بنت ابی طالب ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام ہانی کے لیے خوش آمدید!“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ایک کپڑے میں لپٹ کر آٹھ رکعت نفل ادا کیے، پھر میری جانب متوجہ ہوئے، میں نے عرض کیا کہ میرا بھائی علی رضی اللہ عنہ کہتا ہے کہ وہ ایک شخص فلاں بن ہبیرہ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جسے میں نے پناہ دی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام ہانی! جس شخص کو تو نے پناہ دی ہے، اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔“ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18173]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں