السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3623. -- باب: دعاء من لم تبلغه الدعوة من المشركين وجوبا ودعاء من بلغته نظرا
-- باب: مشرکین میں سے جنہیں (اسلام کی) دعوت نہیں پہنچی انہیں دعوت دینا واجب ہے، اور جنہیں پہنچ چکی ہے انہیں از راہِ مصلحت دعوت دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18233
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرٍو مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنَ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُسَارَى مِنَ اللَّاتِ وَالْعُزَّى. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ دَعَوْهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ؟". فَقَالُوا: لَا. فَقَالَ لَهُمْ:" هَلْ دَعَوْكُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ؟" فَقَالُوا: لَا. قَالَ:" خَلُّوا سَبِيلَهُمْ حَتَّى يَبْلُغُوا مَأْمَنَهُمْ". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا} [الأحزاب: ٤٦] ، {وَأُوحِيَ إِلِيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللهِ آلِهَةً أُخْرَى} [الأنعام: ١٩] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لات و عزیٰ کے قیدی لائے گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”کیا تمہیں انہوں نے اسلام کی جانب بلایا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ امن کی جگہ پہنچ جائیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو آیات تلاوت کیں: ”بے شک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ (بنا کر)۔“ [سورة الأحزاب: 46] اور ”اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعے تمہیں ڈراؤں اور اسے بھی جس تک یہ پہنچے، کیا تم واقعی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہیں؟“ [سورة الأنعام: 19] آیت کے آخر تک۔
روح بن مسافر ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18233]
روح بن مسافر ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18233]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3624. -- باب: جواز ترك دعاء من بلغته الدعوة
-- باب: جن لوگوں کو دعوت پہنچ چکی ہو انہیں (جنگ سے پہلے دوبارہ) دعوت نہ دینے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 18234
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، وَأنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حَاتِمٍ،، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ، يَعْنِي فِي الْقِتَالِ، فَكَتَبَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ، وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ. حَدَّثَنِي بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا مَضَى.
ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے نافع کو خط لکھا کہ قتال میں دعوت دینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ شروع اسلام میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا اس حال میں کہ وہ غافل تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جنگجوؤں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا اور اسی دن جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملیں۔ یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اور وہ اس لشکر میں تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18234]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18235
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، أنبأ عِكْرِمَةُ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَمَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فِي غَزْوَةٍ، فَلَمَّا دَنَوْنَا أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَعَرَّسْنَا فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ، فَوَرَدْنَا الْمَاءَ فَقَتَلْنَا مَنْ قَتَلْنَا. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي مَضَتْ فِي جَوَازِ التَّبْيِيتِ دَلِيلٌ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ.
ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارے اوپر ایک غزوہ میں امیر بنایا تھا۔ جب ہم دشمن کے قریب ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں پڑاؤ کا حکم دیا۔ جب ہم نے صبح کی نماز ادا کی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چاروں طرف سے حملے کا حکم دے دیا، ہم پانی کے گھاٹ پر وارد ہوئے تو ہم نے قتل کیا جس کو بھی قتل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18235]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ١٧٥٥»
الحكم على الحديث: صحيح
3625. -- باب: الاحتياط في التبييت والإغارة كيلا يصيب مسلمين بجهالة
-- باب: شب خون اور غارت گری میں اس احتیاط کا بیان تاکہ لاعلمی میں مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچے۔
حدیث نمبر: 18236
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغِيرُ عِنْدَ الصَّبَاحِ فَيَسْتَمِعُ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حملہ کرتے، اگر اذان کی آواز کو سن لیتے تو رک جاتے وگرنہ حملہ کر دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18236]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18237
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ⦗١٨٣⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَوْمًا لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ بَعْدَ مَا أَصْبَحَ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم سے جنگ کرتے تو صبح سے پہلے حملہ نہ فرماتے۔ اگر اذان کی آواز سن لیتے تو حملے سے باز آجاتے، اور اگر اذان کی آواز نہ سنتے تو صبح کے بعد حملہ فرما دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18237]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18238
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ عِصَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا أَوْ رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا.
ابن عصام اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی چھوٹا لشکر بھیجتے تو فرماتے: ”جب تم اذان کی آواز سنو یا تم مسجد دیکھو تو تم کسی کو قتل نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18238]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3626. -- باب: النهي عن السفر بالقرآن إلى أرض العدو
-- باب: دشمن کے علاقے کی طرف قرآن مجید ساتھ لے کر سفر کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18239
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ. قَالَ مَالِكٌ أُرَاهُ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ..
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دشمن کی زمین کی طرف قرآن لے کر سفر کرنے سے“ منع فرمایا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے اس ڈر سے کہ کہیں دشمن اس کو حاصل نہ کر لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18239]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے اس ڈر سے کہ کہیں دشمن اس کو حاصل نہ کر لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18239]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18240
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ مَالِكٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
یحییٰ بن یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے یہ حدیث پڑھی، پھر انہوں نے اسی کی مثل ذکر کیا، لیکن امام مالک رحمہ اللہ کا قول ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18240]
حدیث نمبر: 18241
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ.
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قرآن لے کر دشمن کے علاقہ کی طرف سفر کرنے سے منع فرمایا اس خوف سے کہ کہیں دشمن اس کو لے نہ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18241]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
3627. -- باب: حمل السلاح إلى أرض العدو
-- باب: دشمن کے علاقے کی طرف ہتھیار لے کر جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18242
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ، رَجُلٌ مِنَ الضِّبَابِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِي يُقَالُ لَهَا الْقَرْحَاءُ، فَقُلْتُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جِئْتُكَ بِابْنِ الْقَرْحَاءِ لِتَتَّخِذَهُ. قَالَ:" لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أُقِيضَكَ بِهِ الْمُخْتَارَةَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ فَعَلْتُ". قُلْتُ: مَا كُنْتُ أُقِيضُهُ الْيَوْمَ بِغُرَّةٍ. قَالَ:" فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ". قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ أُقِيضُكَ مِنَ الْمُقَايَضَةِ، وَهِيَ الْمُبَادَلَةُ.
ذی الجوشن رضی اللہ عنہ ضباب قبیلے کے ایک آدمی ہیں، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے گھوڑے کا بچہ لایا جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدر والوں سے فارغ ہو چکے تھے۔ اس گھوڑے کو «القَرْحَاء» ”قرحاء“ کہا جاتا تھا۔ میں نے کہا: ”اے محمد! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قرحاء کے بچے کو لایا ہوں تاکہ آپ اس کو لے لیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر آپ چاہیں تو میں اس کا بدر کی درعوں (زرہوں) سے تبادلہ کر لیتا ہوں۔“ میں نے کہا: میں آج اس کا کسی غلام کے بدلے تبادلہ نہ کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18242]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف