السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3631. -- باب: الحربي يدخل بأمان وله مال في دار الحرب ثم يسلم أو يسلم في دار الحرب
-- باب: حربی کافر جو امان لے کر آئے اور دار الحرب میں اس کا مال موجود ہو، پھر وہ اسلام لے آئے یا دار الحرب میں ہی اسلام لے آئے (تو اس کے مال کا حکم)۔
حدیث نمبر: 18262
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ، حَارَبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ، حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَهُمْ وَأَسْلَمُوا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا، جبکہ بنو قریظہ کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا، لیکن بعد میں بنو قریظہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مردوں کو قتل کیا اور ان کی عورتوں، مال اور اولاد کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ لیکن جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پناہ بھی دی تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18262]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18263
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْظَةَ أَنَّهُ قَالَ: هَلْ تَدْرِي عَمَّ كَانَ إِسْلَامُ ثَعْلَبَةَ وَأُسَيْدٍ ابْنَيْ سَعْيَةَ، وَأَسَدِ بْنِ عُبَيْدٍ نَفَرٌ مِنْ هُدَلَ لَمْ يَكُونُوا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ وَلَا نَضِيرٍ كَانُوا فَوْقَ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ: لَا. قَالَ: فَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الشَّامِ مِنْ يَهُودَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْهَيْبَانِ فَأَقَامَ عِنْدَنَا، وَاللهِ مَا رَأَيْنَا رَجُلًا قَطُّ لَا يُصَلِّي الْخَمْسَ خَيْرًا مِنْهُ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا قَبْلَ مَبْعَثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَنَتَيْنِ، فَكُنَّا إِذَا قَحَطْنَا وَقَلَّ عَلَيْنَا الْمَطَرُ نَقُولُ لَهُ: يَا ابْنَ الْهَيْبَانِ اخْرُجْ فَاسْتَسْقِ لَنَا، فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ حَتَّى تُقَدِّمُوا أَمَامَ مَخْرَجِكُمْ صَدَقَةً، فَنَقُولُ: كَمْ نُقَدِّمُ؟ فَيَقُولُ: صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ مُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى ظَاهِرَةِ حَرَّتِنَا وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَسْتَسْقِي، فَوَاللهِ مَا يَقُومُ مِنْ مَجْلِسِهِ حَتَّى تُمَرَّ الشِّعَابُ، قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ لَا مَرَّتَيْنِ وَلَا ثَلَاثَةً، فَحَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ مَا تَرَوْنَهُ أَخْرَجَنِي مِنْ أَرْضِ الْخَمْرِ وَالْخَمِيرِ إِلَى أَرْضِ الْبُؤْسِ وَالْجُوعِ؟ فَقُلْنَا: أَنْتَ أَعْلَمُ، فَقَالَ: إِنَّهُ إِنَّمَا أَخْرَجَنِي أَتَوَقَّعُ خُرُوجَ نَبِيٍّ قَدْ أَظَلَّ زَمَانُهُ، هَذِهِ الْبِلَادُ مُهَاجَرُهُ، فَأَتَّبِعُهُ فَلَا تُسْبَقُنَّ إِلَيْهِ إِذَا خَرَجَ يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، فَإِنَّهُ يَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَيَسْبِي الذَّرَارِيَّ وَالنِّسَاءَ مِمَّنْ خَالَفَهُ، فَلَا يَمْنَعْكُمْ ذَلِكَ مِنْهُ. ثُمَّ مَاتَ، فَلَمَّا كَانَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ الَّتِي افْتُتِحَتْ فِيهَا قُرَيْظَةُ قَالَ أُولَئِكَ الْفِتْيَةُ الثَّلَاثَةُ، وَكَانُوا شُبَّانًا أَحْدَاثًا: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ لَلَّذِي كَانَ ذَكَرَ لَكُمُ ابْنُ الْهَيبَانِ. قَالُوا: مَا هُوَ؟ قَالُوا: بَلَى وَاللهِ لَهُوَ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، إِنَّهُ وَاللهِ لَهُوَ لِصِفَتِهِ. ثُمَّ نَزَلُوا فَأَسْلَمُوا وَخَلَّوْا أَمْوَالَهَمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَهَالِيَهُمْ. قَالَ: وَكَانَتْ أَمْوَالُهُمْ فِي الْحِصْنِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ، فَلَمَّا فُتِحَ رُدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ".
عاصم بن عمر بن قتادہ بنو قریظہ کے ایک شیخ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ ثعلبہ اور اسید رضی اللہ عنہما جو سعیہ کے بیٹے تھے اور اسد بن عبید رضی اللہ عنہ، جو بنو ہدل کے چند افراد تھے، بنو قریظہ اور بنو نضیر سے نہ تھے بلکہ ان سے بڑھ کر تھے، ان کے اسلام لانے کا سبب کیا تھا؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے فرمایا: ہمارے پاس شام سے یہود کا ایک شخص آیا، اسے ابن ہیبان کہا جاتا تھا۔ اس نے ہمارے پاس قیام کیا۔ اللہ کی قسم! ہم نے پانچ نمازیں نہ پڑھنے والوں میں اس سے بہتر کوئی شخص کبھی نہیں دیکھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دو سال پہلے آیا۔ جب ہم قحط سالی کا شکار ہوتے اور بارش کم ہوتی تو ہم کہتے: اے ابن ہیبان! چلو ہمارے لیے بارش کی دعا کرو۔ وہ کہتا: اللہ کی قسم! نہیں، جب تک تم نکلنے سے پہلے صدقہ نہ کرو۔ ہم پوچھتے کتنا صدقہ کریں؟ وہ کہتا کہ ایک صاع کھجور یا دو مد جو۔ پھر وہ ہمارے حرہ (پتھریلی زمین) کے کھلے حصے کی طرف نکلتا، ہم بھی ساتھ ہوتے اور وہ بارش کی دعا کرتا۔ اللہ کی قسم! وہ اپنی جگہ سے نہ اٹھتا کہ گھاٹیاں بہنے لگتیں۔ یہ کام اس نے کئی مرتبہ کیا، دو یا تین مرتبہ نہیں۔ اس کی موت کا وقت آ گیا تو ہم اس کے پاس جمع ہو گئے۔ اس نے کہا: اے یہود کا گروہ! تمہارا کیا خیال ہے کہ کس چیز نے مجھے شراب اور خمیری روٹی کی سرزمین سے تنگی اور بھوک کی سرزمین کی طرف نکالا؟ ہم نے کہا: آپ زیادہ جانتے ہیں۔ اس نے کہا: مجھے صرف اس بات نے نکالا کہ میں ایک نبی کے ظہور کا منتظر ہوں جس کا زمانہ قریب آ چکا ہے، یہ شہر اس کی ہجرت گاہ ہے، تاکہ میں اس کی پیروی کروں۔ تو اے یہود کا گروہ! جب اس کا ظہور ہو تو کوئی تم سے پہلے اس تک نہ پہنچ جائے، کیونکہ وہ اپنے مخالفوں کا خون بہائے گا اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنائے گا، تو یہ چیز تمہیں اس (کی پیروی) سے نہ روکے۔ پھر وہ فوت ہو گیا۔ جس رات بنو قریظہ فتح ہوئے، ان تینوں نوجوانوں نے، جو کم عمر جوان تھے، کہا: اے یہود کا گروہ! یہ وہی ہے جس کا ذکر ابن ہیبان نے تم سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا: یہ وہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم! اے یہود کا گروہ! یہ وہی ہے، اللہ کی قسم! یہ اپنی صفات کے مطابق وہی ہے۔ پھر وہ (قلعے سے) اترے اور اسلام قبول کر لیا اور اپنے مال، اولاد اور گھر والوں کو چھوڑ دیا۔ راوی کہتے ہیں: ان کے مال قلعہ میں مشرکین کے پاس تھے، جب فتح ہوئی تو ان کو واپس کر دیے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18263]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18264
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبُو حَفْصٍ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا أَبَانُ، قَالَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ صَخْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا ثَقِيفًا ⦗١٩٣⦘ فَلَمَّا أَنْ سَمِعَ ذَلِكَ صَخْرٌ رَكِبَ فِي خَيْلٍ يَمُدُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ انْصَرَفَ وَلَمْ يَفْتَحْ، فَجَعَلَ صَخْرٌ حِينَئِذٍ عَهْدَ اللهِ وَذِمَّتَهُ أَنْ لَا يُفَارِقَ هَذَا الْقَصْرَ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُفَارِقْهُمْ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ صَخْرٌ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ ثَقِيفًا قَدْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا مُقْبِلٌ إِلَيْهِمْ وَهُمْ فِي خَيْلٍ. فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً فَدَعَا لِأَحْمَسَ عَشْرَ دَعَوَاتٍ:" اللهُمَّ بَارِكْ لِأَحْمَسَ فِي خَيْلِهَا وَرِجَالِهَا". وَأَتَاهُ الْقَوْمُ فَتَكَلَّمَ الْمُغِيرَةُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ صَخْرًا أَخَذَ عَمَّتِي وَدَخَلَتْ فِيمَا دَخَلَ فِيهِ الْمُسْلِمُونَ. فَدَعَاهُ فَقَالَ:" يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ فَادْفَعْ إِلَى الْمُغِيرَةِ عَمَّتَهُ". فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، وَسَأَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لِبَنِي سُلَيْمٍ قَدْ هَرَبُوا عَنِ الْإِسْلَامِ وَتَرَكُوا ذَاكَ الْمَاءَ؟" فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَنْزِلْنِيهِ أَنَا وَقَوْمِي. قَالَ:" نَعَمْ". فَأَنْزَلَهُ وَأَسْلَمَ يَعْنِي السُّلَمِيِّينَ، فَأَتَوْا صَخْرًا فَسَأَلُوهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْهِمُ الْمَاءَ فَأَبَى، فَأَتَوْا نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ أَسْلَمْنَا وَأَتَيْنَا صَخْرًا لِيَدْفَعَ إِلَيْنَا مَاءَنَا فَأَبَى عَلَيْنَا، فَدَعَاهُ فَقَالَ:" يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ فَادْفَعْ إِلَى الْقَوْمِ مَاءَهُمْ". قَالَ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللهِ. فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ عِنْدَ ذَلِكَ حُمْرَةً؛ حَيَاءً مِنْ أَخْذِهِ الْجَارِيَةَ وَأَخْذِهِ الْمَاءَ قَالَ الشَّيْخُ: وَالِاسْتِدْلَالُ وَقَعَ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ". فَأَمَّا اسْتِرْدَادُ الْمَاءِ عَنْ صَخْرٍ بَعْدَ مَا مَلَكَهُ بِتَمْلِيكِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ فَإِنَّهُ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ بِاسْتِطَابَةِ نَفْسِهِ، وَلِذَلِكَ كَانَ يَظْهَرُ فِي وَجْهِهِ أَثَرُ الْحَيَاءِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَأَمَّا عَمَّةُ الْمُغِيرَةِ، فَإِنْ كَانَتْ أَسْلَمَتْ بَعْدَ الْأَخْذِ فَكَأَنَّهُ رَأَى إِسْلَامَهَا قَبْلَ الْقِسْمَةِ يُحْرِزُ مَالَهَا، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِسْلَامُهَا قَبْلَ الْأَخْذِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَصَخْرٌ هَذَا هُوَ ابْنُ الْعَيْلَةِ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ أَبَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ الْعَيْلَةِ لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ. وَرُوِيَ فِي قِصَّةِ رِعْيَةَ السُّحَيْمِيِّ مَا دَلَّ عَلَيْهِ ظَاهِرُ قِصَّةِ عَمَّةِ الْمُغِيرَةِ، فَإِنَّهُ أَسْلَمَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَهْلِي وَمَالِي. قَالَ:" أَمَّا مَالُكَ فَقَدْ قُسِمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا أَهْلُكَ فَانْظُرْ مَنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ مِنْهُمْ". قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ ابْنَهُ وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ أَهْلِ الْغَنِيمَةِ كَمَا فَعَلَ فِي سَبْيِ هَوَازِنَ وَعَوَّضَ أَهْلَ الْخُمُسِ مِنْ نَصِيبِهِمْ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَإِسْنَادُ الْحَدِيثَيْنِ غَيْرُ قَوِيٍّ.
عثمان بن ابی حازم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا صخر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ثقیف کے خلاف غزوہ کیا، صخر رضی اللہ عنہ کو علم ہوا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فتح کے بغیر) واپس ہو گئے ہیں تو صخر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”وہ اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر نہ اتر آئیں“۔ بالآخر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اتر پڑے تو صخر رضی اللہ عنہ نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو) لکھا: ”حمد و ثنا کے بعد! اے اللہ کے رسول! وہ آپ کے حکم پر اتر پڑے ہیں اور آپ کے پاس ایک قافلے کی صورت میں آ رہے ہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارنے کا حکم دیا: «الصَّلَاةَ جَامِعَةً» ”نماز جمع کرنے والی ہے (یعنی سب جمع ہو جائیں)“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل احمس کے لیے دس دعائیں فرمائیں: ”اے اللہ! اہل احمس کے سواروں اور پیادوں میں برکت عطا فرما“۔ جب لوگ آئے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! صخر رضی اللہ عنہ نے میری پھوپھی کو قید کر لیا ہے اور وہ لوگوں کے ساتھ مسلمان ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے صخر! جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں، لہٰذا مغیرہ کو ان کی پھوپھی واپس کر دو“۔ صخر رضی اللہ عنہ نے انہیں واپس کر دیا اور بنو سلیم کے ان چشموں کے متعلق سوال کیا جن کے مالک اسلام سے بھاگ گئے تھے اور پانی چھوڑ گئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ مجھے اور میری قوم کو عطا فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“۔ وہ وہاں چلے گئے تو پھر بنو سلیم والے مسلمان ہو کر آ گئے، انہوں نے صخر رضی اللہ عنہ سے اپنے پانی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے اور ہم نے صخر سے مطالبہ کیا کہ وہ ہمارے پانی واپس کر دیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے صخر! جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں، لہٰذا آپ ان کے پانی واپس کر دیں“۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ٹھیک ہے۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ وہ حیا کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے لونڈی اور پانی دونوں واپس لیے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: اس قول سے استدلال کیا گیا ہے کہ ”جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں“، صخر رضی اللہ عنہ سے پانی واپس لینا بھی اسی کے مشابہ ہے کہ وہ اپنے دل کی خوشی سے واپس کریں، یہی وجہ تھی کہ حیا کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا تھا، اور مغیرہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی نے اگر قید ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے اس کے اسلام کو اس کے مال کی حفاظت کا ذریعہ سمجھا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ پکڑے جانے سے پہلے ہی اس نے اسلام قبول کر لیا ہو۔ رعیہ حیمی کا قصہ بھی اسی طرح ہے کہ جب وہ مسلمان ہوا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے اہل و عیال اور میرا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا مال تو مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے، البتہ اپنے اہل کو دیکھ لو جن پر تمہیں قدرت حاصل ہو سکے“، چنانچہ ان کا بیٹا انہیں واپس کر دیا گیا، یہ بھی ممکن ہے کہ غنیمت پانے والوں نے اپنی خوشی سے اسے واپس کیا ہو۔
ان دونوں حدیثوں کی سند قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18264]
شیخ فرماتے ہیں: اس قول سے استدلال کیا گیا ہے کہ ”جب لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں تو اپنے خون اور مال کو محفوظ کر لیتے ہیں“، صخر رضی اللہ عنہ سے پانی واپس لینا بھی اسی کے مشابہ ہے کہ وہ اپنے دل کی خوشی سے واپس کریں، یہی وجہ تھی کہ حیا کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا تھا، اور مغیرہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی نے اگر قید ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے اس کے اسلام کو اس کے مال کی حفاظت کا ذریعہ سمجھا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ پکڑے جانے سے پہلے ہی اس نے اسلام قبول کر لیا ہو۔ رعیہ حیمی کا قصہ بھی اسی طرح ہے کہ جب وہ مسلمان ہوا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے اہل و عیال اور میرا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا مال تو مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے، البتہ اپنے اہل کو دیکھ لو جن پر تمہیں قدرت حاصل ہو سکے“، چنانچہ ان کا بیٹا انہیں واپس کر دیا گیا، یہ بھی ممکن ہے کہ غنیمت پانے والوں نے اپنی خوشی سے اسے واپس کیا ہو۔
ان دونوں حدیثوں کی سند قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18264]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3632. -- باب: المشركين يسلمون قبل الأسر وما على الإمام وغيره من التثبت إذا تكلموا بما يشبه الإقرار بالإسلام ويشبه غيره
-- باب: مشرکین کے قید ہونے سے قبل اسلام لانے کا بیان، اور امام و دیگر افراد پر تصدیق کی کیا ذمہ داری ہے جب مشرکین ایسے الفاظ بولیں جو اسلام کے اقرار سے بھی مشابہ ہوں اور دیگر باتوں سے بھی۔
حدیث نمبر: 18265
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا فَيَّاضٌ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، أَحْسَبُهُ قَالَ: إِلَى بَنِي جُذَيْمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا: أَسْلَمْنَا، فَقَالُوا: صَبَأْنَا صَبَأْنَا، وَجَعَلَ خَالِدٌ بِهِمْ قَتْلًا وَأَسْرًا، قَالَ: ثُمَّ دَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرًا، حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ يَوْمًا أَمَرَنَا فَقَالَ لِيَقْتُلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمْ أَسِيرَهُ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ. قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مَا صَنَعَ خَالِدٌ قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَحْمُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنو خزیمہ کی طرف بھیجا تو خالد نے انھیں اسلام کی دعوت دی۔ انھوں نے اچھا کلام نہ کیا کہ وہ کہتے کہ ہم مسلمان ہو گئے بلکہ انھوں نے کہا: ہم بے دین ہو گئے، تو خالد نے انھیں قتل کیا اور قیدی بنائے۔ کہتے ہیں: پھر ہر شخص کو اس کا قیدی دے دیا گیا تو ایک صبح سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اپنے قیدی قتل کر دو تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نہ تو میں اپنے قیدی کو قتل کروں گا اور نہ ہی میرا کوئی ساتھی، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بلند کر کے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ» ”اے اللہ! میں اس سے بری ہوں جو خالد نے کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18265]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٤٣٣٩-٧١٨٩»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18266
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" لَقِيَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا فِي غَنِيمَةٍ لَهُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغَنِيمَةَ، فَنَزَلَ: {وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا} [النساء: ٩٤] ، وَقَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ: السَّلَامَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مسلمان کسی شخص کو اس کے مال میں ملا، اس نے کہا: ”تم پر سلامتی ہو“ تو انہوں نے پکڑ کر اس کو قتل کردیا اور اس کی بکریاں بھی لے لیں، تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا﴾ [سورة النساء: 94] ”اور تم ایسے شخص کو نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے جو تمہاری طرف صلح چاہتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18266]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18267
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غَنَمٌ لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ، فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ، فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا} [النساء: ٩٤] إِلَى قَوْلِهِ: {كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا} [النساء: ٩٤] .
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ بنو سلیم کا ایک شخص صحابہ کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا، اس کے پاس بکریاں بھی تھیں، اس نے سلام کیا، صحابہ کہنے لگے: ”اس نے صرف بچاؤ کے لیے سلام کہا ہے۔“ انہوں نے پکڑ کر اس کو قتل کر دیا اور اس کی بکریاں بھی لے لیں، وہ اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا﴾ [سورة النساء: 94] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تم اللہ کے راستے میں چلو تو تحقیق کر لیا کرو، تم ایسے شخص کو یہ نہ کہہ دو کہ تو مؤمن نہیں ہے حالانکہ وہ تم پر سلام کہہ رہا ہو، تم پہلے اس طرح تھے اللہ نے تمہارے اوپر احسان فرمایا، لہٰذا تحقیق کر لیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18267]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18268
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ ⦗١٩٥⦘ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي الْقَعْقَاعِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي حَدْرَدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِضَمٍ، فَخَرَجْتُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ، وَمُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَطْنِ إِضَمٍ مَرَّ بِنَا عَامِرُ بْنُ الْأَضْبَطِ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ، فَلَمَّا مَرَّ عَلَيْنَا سَلَّمَ عَلَيْنَا بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ، فَأَمْسَكْنَا عَنْهُ، وَحَمَلَ عَلَيْهِ مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ فَقَتَلَهُ وَأَخَذَ بَعِيرَهُ وَمَا مَعَهُ، فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ، فَنَزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا} [النساء: ٩٤] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. كَذَا رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ، عَنْ أَبِيهِ. وَرَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ. وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فِي رِوَايَةِ حَجَّاجٍ عَنْهُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَقِيلَ غَيْرُ ذَلِكَ. وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ فِي سَرِيَّةٍ بَعَثَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِضَمٍ، وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ أَشْجَعَ. وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابو حدرد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اضم کی طرف روانہ کیا۔ میں مسلمانوں کے گروہ میں نکلا جس میں ابو قتادہ حارث بن ربعی اور محلم بن جثامہ رضی اللہ عنہم تھے۔ جب ہم اضم وادی کے نشیب میں آئے تو ہمارے پاس سے عامر بن اضبط اپنے اونٹ پر سوار ہو کر گزرا۔ جب وہ ہمارے پاس سے گزرا تو اس نے ہمیں سلام کہا۔ ہم اس سے رک گئے، لیکن محلم بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا اور اس کا اونٹ اور جو کچھ اس کے پاس تھا قبضے میں لے لیا۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو ہمارے بارے میں قرآن نازل ہوا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا﴾ [سورة النساء: 94] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تم اللہ کے راستہ میں چلو تو تحقیق کر لیا کرو، تم ایسے شخص کو یہ نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے حالانکہ وہ تم پر سلام کہہ رہا ہو۔ تم پہلے اس طرح تھے، اللہ نے تمہارے اوپر احسان فرمایا، لہٰذا تحقیق کر لیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18268]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18269
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ، فَرَآهُمْ رَجُلٌ وَهُوَ فِي جَبَلٍ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ فَفِيهِ نَزَلَتْ: {وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [النساء: ٩٤] ، وَالرَّجُلُ الَّذِي قَتَلُوهُ عَامِرُ بْنُ الْأَضْبَطِ الْأَشْجَعِيُّ.
سیدنا ابن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک لشکر میں تھا کہ انہیں پہاڑ سے ایک شخص نے دیکھا تو ان کے پاس آ کر سلام کیا، انہوں نے پکڑ کر اس کو قتل کر دیا تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [سورة النساء: 94] ”اور تم نہ کہو ایسے شخص کو جو تمہیں سلام کہتا ہے کہ تم مومن نہیں تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو۔“ کہ وہ شخص جسے انہوں نے قتل کیا وہ عامر بن اضبط تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18269]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18270
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ⦗١٩٦⦘ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ ضُمَيْرَةَ بْنِ سَعْدٍ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أَبَاهُ وَجَدَّهُ شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَامَ إِلَيْهِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ يَخْتَصِمَانِ فِي دَمِ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ الْأَشْجَعِيِّ، وَكَانَ قَتَلَهُ مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ بْنِ قَيْسٍ، فَعُيَيْنَةُ يَطْلُبُ بِدَمِ الْأَشْجَعِيِّ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ؛ لِأَنَّهُ مِنْ قَيْسٍ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ يَدْفَعُ عَنْ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ؛ لِأَنَّهُ مِنْ خِنْدِفَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ سَيِّدُ خِنْدِفَ، فَسَمِعْنَا عُيَيْنَةَ يَقُولُ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ لَا أَدَعُهُ حَتَّى أُذِيقَ نِسَاءَهُ مِنَ الْحَرِّ مَا أَذَاقَ نِسَائِي. وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا، وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا"، وَهُوَ يَأْبَى، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ مَجْمُوعٌ قَصِيرٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا وَجَدْتُ لِهَذَا الْقَتِيلِ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ إِلَّا كَعِيرٍ وَرَدَتْ فَرُمِيَتْ أُولَاهَا فَنَفَرَتْ أُخْرَاهَا، اسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا. فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ:" تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا"، فَقَبِلَهَا الْقَوْمُ، ثُمَّ قَالَ:" ائْتُوا بِصَاحِبِكُمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءُوا بِهِ فَقَامَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِيلٌ ضَرَبَ عَلَيْهِ حُلَّةً لَهُ قَدْ تَهَيَّأَ فِيهَا لِلْقَتْلِ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ:" مَا اسْمُكَ؟" فَقَالَ: مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ، اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ، اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ". ثُمَّ قَالَ لَهُ:" قُمْ"، فَقَامَ وَهُوَ يَتَلَقَّى دَمْعَهُ بِفَضْلِ رِدَائِهِ، فَأَمَّا نَحْنُ فِيمَا بَيْنَنَا فَنَقُولُ: إِنَّا لَنَرْجُو أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَغْفَرَ لَهُ، وَلَكِنْ أَظْهَرَ هَذَا لِيَنْزِعَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ، فَأَمَّا مَا ظَهَرَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ..
زیاد بن ضمیرہ بن سعد سلمی، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کو بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد اور دادا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں موجود تھے۔ دونوں رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر سایہ دار درخت کے نیچے چلے گئے تو اقرع بن حابس اور عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہما، عامر بن اضبط رضی اللہ عنہ کے خون کا جھگڑا لے کر آگئے، جسے محلم بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ عیینہ بن بدر رضی اللہ عنہ، عامر بن اضبط رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کر رہے تھے کیونکہ وہ قیس سے تھے اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ محلم بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا دفاع کر رہے تھے کیونکہ وہ ان دنوں قبیلہ خندف کے سردار تھے۔ ہم نے عیینہ رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: ”اے اللہ کے رسول! میں اس کو نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ میں اس کی عورتوں کو غم پہنچاؤں جو میری عورتوں نے غم پایا ہے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”تم پچاس اونٹ دیت کے سفر میں حاصل کرلو اور پچاس جب ہم واپس پلٹیں گے تب لے لینا۔“ لیکن وہ انکار کر رہا تھا، تو بنو لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جس کو مکیتل کہا جاتا تھا، وہ گٹھے ہوئے جسم اور چھوٹے قد کا تھا۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس مقتول کے لیے میں کچھ نہیں پاتا مگر اونٹوں کے اس قافلے کی مثل جو پانی پر آیا تو اس کے پہلے اونٹ کو تیر مارا گیا اور آخری اونٹ بدک کر بھاگ گئے۔ آج طریقہ مقرر کر دیجیے اور کل بدل دیجیے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا: ”تم پچاس اونٹ دیت کے سفر میں لے لو اور پچاس اونٹ تب لے لینا جب ہم واپس جائیں گے۔“ لوگوں نے دیت کو قبول کیا، پھر کہا: تم اپنے ساتھی کو لاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ وہ لے کر آئے تو ایک شخص گندمی رنگ، لمبے قد کا کھڑا ہوا جس نے حلہ پہن رکھا تھا۔ وہ قتل کے لیے تیار تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: محلم بن جثامہ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ» ”اے اللہ! تو محلم بن جثامہ کو معاف نہ کر۔“ تین مرتبہ فرمایا۔ پھر اسے کہا: ”کھڑا ہوجا۔“ وہ کھڑا ہوا تو اپنی چادر کے زائد حصے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا۔ ہم آپس میں کہہ رہے تھے کہ ہمیں امید ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بخشش کی دعا کر دی ہوگی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اس لیے ظاہر فرمایا تاکہ لوگ ایک دوسرے (پر زیادتی) سے باز آ جائیں۔ رہی وہ بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ظاہر ہوئی تو وہ یہی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18270]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا: ”تم پچاس اونٹ دیت کے سفر میں لے لو اور پچاس اونٹ تب لے لینا جب ہم واپس جائیں گے۔“ لوگوں نے دیت کو قبول کیا، پھر کہا: تم اپنے ساتھی کو لاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ وہ لے کر آئے تو ایک شخص گندمی رنگ، لمبے قد کا کھڑا ہوا جس نے حلہ پہن رکھا تھا۔ وہ قتل کے لیے تیار تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: محلم بن جثامہ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ» ”اے اللہ! تو محلم بن جثامہ کو معاف نہ کر۔“ تین مرتبہ فرمایا۔ پھر اسے کہا: ”کھڑا ہوجا۔“ وہ کھڑا ہوا تو اپنی چادر کے زائد حصے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا۔ ہم آپس میں کہہ رہے تھے کہ ہمیں امید ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بخشش کی دعا کر دی ہوگی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اس لیے ظاہر فرمایا تاکہ لوگ ایک دوسرے (پر زیادتی) سے باز آ جائیں۔ رہی وہ بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ظاہر ہوئی تو وہ یہی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18270]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18271
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيِّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ سَعْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ مُحَلِّمَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ فِي الْإِسْلَامِ، وَذَلِكَ أَوَّلُ عِيرٍ قَضَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُيَيْنَةُ أَلَا تَقْبَلُ الْعِيرَ"؟ يُرِيدُ الدِّيَةَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقَتَلْتَهُ بِسِلَاحِكَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ؟ اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ" بِصَوْتٍ عَالٍ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
زیاد بن سعد بن ضمیرہ سلمی، عروہ بن زبیر کو اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ محلم بن جثامہ لیثی نے اشجع کے ایک فرد کو اسلام میں قتل کر دیا۔ یہ پہلی دیت تھی جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عیینہ! کیا آپ دیت قبول نہیں کریں گے؟“ راوی کہتے ہیں کہ اس کے آخر میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسلام کے ابتدائی دور میں اس کو اپنے اسلحہ سے قتل کیا؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا: «اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ» ”اے اللہ! تو محلم کو معاف نہ کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18271]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف