السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3635. -- باب: ترك أخذ المشركين بما أصابوا
-- باب: مشرکین نے (زمانہ کفر میں مسلمانوں کا) جو جانی و مالی نقصان کیا ہو اس پر ان کا مؤاخذہ ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18292
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا كُنَّا نَعْمَلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ:" مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخَرِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ. وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ فِي الْآخِرَةِ وَكَأَنَّهُ جَعَلَ الْإِيمَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ كُفْرِهِ، وَجَعَلَ الْعَمَلَ الصَّالِحَ بَعْدُ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ سِوَى كُفْرِهِ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے جاہلیت کے کاموں کا مؤاخذہ کیا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اسلام میں اچھے کام کیے، اس کے جاہلیت کے کاموں کا مؤاخذہ نہ ہوگا اور جس نے برائی کی اس کے پہلے اور آخری تمام کاموں کا مؤاخذہ کیا جائے گا۔“
اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صرف آخرت تھی؛ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کو اس کے سابقہ کفر کا کفارہ بنایا اور بعد کے نیک اعمال کو کفر کے علاوہ اس کے باقی تمام سابقہ گناہوں کا کفارہ بنایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18292]
اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صرف آخرت تھی؛ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کو اس کے سابقہ کفر کا کفارہ بنایا اور بعد کے نیک اعمال کو کفر کے علاوہ اس کے باقی تمام سابقہ گناہوں کا کفارہ بنایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18292]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18293
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ عَتَاقَةٍ وَصِلَةِ رَحِمٍ هَلْ لِي فِيهَا مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ.
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسے کاموں کے متعلق کیا خیال ہے کہ جاہلیت میں غلام آزاد کرنا، صلہ رحمی کرنا، کیا اس کا مجھے ثواب ملے گا؟“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اسلام قبول کیا، جو بھلائی تھی وہ تیرے لیے باقی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18293]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3636. -- باب: الرجل من المسلمين قد شهد الحرب يقع على الجارية من السبي قبل القسم
-- باب: مسلمانوں میں سے وہ شخص جو جنگ میں حاضر ہوا اور مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے قیدی لونڈی سے ہمبستری کر لے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: Q18294
قَالَ الشَّافِعِيُّ: أُخِذَ مِنْهُ عُقْرُهَا وَلَا حَدَّ مِنْ قِبَلِ الشُّبْهَةِ فِي أَنَّهُ يَمْلِكُ مِنْهَا شَيْئًا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس سے اس (لونڈی) کا عُقر (یعنی اس سے ہمبستری کا معاوضہ، مہر مثل) لیا جائے گا، اور اس پر حد نہیں ہو گی، کیونکہ اس بات کا شبہ موجود ہے کہ وہ (غنیمت میں شریک ہونے کی وجہ سے) اس میں سے کچھ حصے کا مالک ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q18294]
حدیث نمبر: 18294
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ⦗٢٠٨⦘ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْرَؤُوا الْحُدُودَ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ لِلْمُسْلِمِينَ مَخْرَجًا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ، فَإِنَّ الْإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ". وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَغَيْرِهِمَا، وَأَصَحُّ الرِّوَايَاتِ فِيهِ عَنِ الصَّحَابَةِ رِوَايَةُ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ قَوْلِهِ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْحُدُودِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی طاقت کے موافق حدود کو دور کرو، اگر مسلمانوں کے لیے کوئی راستہ پاؤ تو ان کو چھوڑ دو، کیونکہ امام کا معاف کرنے میں غلطی کرنا اس سے بہتر ہے کہ وہ غلطی سے سزا دے۔“
اس بارے میں صحابہ سے سب سے صحیح روایت عاصم کی ہے جو ابووائل سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر نقل کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18294]
اس بارے میں صحابہ سے سب سے صحیح روایت عاصم کی ہے جو ابووائل سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر نقل کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18294]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18295
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي السَّرِيَّةِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ جَارِيَةٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَقَعَ عَلَيْهَا أَحَدُهُمَا قَالَ: هُوَ خَائِنٌ لَيْسَ عَلَيْهِ حَدٌّ، تَقُومُ عَلَيْهِ قِيمَةٌ". وَهَذَا يُحْتَمَلُ أَنْ يُرِيدَ بِهِ تَقْوِيمَ الْبُضْعِ عَلَيْهِ فَيَرْجِعَ إِلَى الْمَهْرِ، غَيْرَ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک لونڈی جو دو افراد کی مشترک تھی، ایک نے اس سے صحبت کر لی، فرمایا: ”وہ خائن انسان ہے، حد نہ لگائیں بلکہ اس کے ذمہ اس کی قیمت لگا دی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18295]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18296
أَنَّ وَكِيعًا رَوَاهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَهُوَ اسْمُ أَبِي السَّرِيَّةِ فَقَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ جَارِيَةٍ كَانَتْ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا أَحَدُهُمَا قَالَ:" لَيْسَ عَلَيْهِ حَدٌّ، يَقُومُ عَلَيْهِ قِيمَتُهَا وَيَأْخُذُهَا" أَنْبَأَنِيهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ إِجَازَةً، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ، أَنْبَأَ أَبُو زُهَيْرٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ وَكِيعٍ فَذَكَرَهُ، وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ إِذَا حَمَلَتْ مِنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عمیر بن نمیر فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دو آدمیوں کی مشترک لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا کہ ایک اس سے صحبت کر لیتا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ اس پر حد نہیں، اس پر اس کی قیمت لگائی جائے گی اور وہ اسے لے لے گا۔ (ب) اس میں یہ احتمال ہے کہ یہ اس صورت میں ہو جب وہ اس سے حاملہ ہو جائے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18296]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
3637. -- باب: المرأة تسبى مع زوجها
-- باب: اس عورت کا بیان جو اپنے شوہر کے ساتھ قید کی جائے۔
حدیث نمبر: Q18297
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: سَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيَ أَوْطَاسٍ، وَسَبْيَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَأَسَرَ مِنْ رِجَالِ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ وَقَسَمَ السَّبْيَ، فَأَمَرَ أَنْ لَا تُوطَأَ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلَا حَائِلٌ حَتَّى تَحِيضَ، وَلَمْ يَسْأَلْ عَنْ ذَاتِ زَوْجٍ وَلَا غَيْرِهَا، وَلَا هَلْ سُبِيَ زَوْجٌ مَعَ امْرَأَتِهِ وَلَا غَيْرُهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کے قیدیوں اور بنو المصطلق کے قیدیوں کو گرفتار کیا، اور ان دونوں قبیلوں کے مردوں کو بھی قیدی بنایا، اور قیدیوں کو تقسیم فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ کسی حاملہ (لونڈی) سے وضع حمل تک اور غیر حاملہ سے ایک حیض آنے تک ہمبستری نہ کی جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں پوچھا کہ کون شوہر والی ہے اور کون نہیں، اور نہ یہ پوچھا کہ کیا کسی کا شوہر بھی اس کی بیوی کے ساتھ قید ہوا ہے یا نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: Q18297]
حدیث نمبر: 18297
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ وَالْمُجَالِدِ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ ⦗٢٠٩⦘ أَوْطَاسٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا وَلَا غَيْرُ حَامِلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اوطاس کے دن ہمیں لونڈیاں ملیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حاملہ کے ساتھ وضع حمل سے پہلے ہمبستری نہ کی جائے اور غیر حاملہ سے ایک حیض آنے تک۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18297]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 18298
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلَى تُجِيبَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ أَبِي رُوَيْفِعٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَغْرِبَ، فَافْتَتَحَ قَرْيَةً فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: إِنِّي لَا أَقُولُ فِيكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِينَا يَوْمَ خَيْبَرَ قَامَ فِينَا عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ" يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَى مِنَ الْفَيْءِ،" وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُصِيبَ امْرَأَةً مِنَ السَّبْيِ ثَيِّبًا حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَرْكَبَ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَلْبَسَ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ". كَذَا قَالَ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَإِنَّمَا هُوَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، كَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ الصَّحِيحُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ السِّبَاءَ نَفْسَهُ انْقِطَاعُ الْعِصْمَةِ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ، وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا يَأْمُرُ بِوَطْءِ ذَاتِ زَوْجٍ بَعْدَ حَيْضَةٍ إِلَّا وَذَلِكَ قَطَعَ الْعِصْمَةَ، وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤] ذَوَاتُ الْأَزْوَاجِ اللَّاتِي مَلَكْتُمُوهُنَّ بِالسِّبَاءِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حنش صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا رویفع انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر مغرب (کے علاقے) میں غزوہ کیا۔ ایک بستی فتح ہوگئی تو انہوں نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا: میں تم سے صرف وہی بات کہوں گا جو میں نے خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ غیر کی کھیتی کو پانی دے، یعنی حاملہ عورت سے وطء نہ کرے اور کسی مومن کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ استبراءِ رحم کے بغیر کسی شوہر دیدہ قیدی عورت سے ہم بستری کرے اور کسی مومن کے لیے جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے یہ جائز نہیں کہ مالِ غنیمت کو تقسیم ہونے سے پہلے فروخت کرے اور کسی مومن کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے یہ جائز نہیں مالِ فیء کی سواری لے کر دبلی پتلی یعنی کمزور کر کے واپس کرے اور نہ ہی کسی مسلمان کے لیے یہ جائز ہے کہ جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر یقین ہے کہ وہ مالِ فیء سے کپڑے حاصل کر کے پہنے اور بوسیدہ کر کے واپس کر دے۔“
یونس بن بکیر نے اسی طرح 'خیبر کا دن' کہا ہے، حالانکہ یہ حنین کا دن تھا، ابن اسحاق سے دوسرے راویوں نے اور ابن اسحاق کے علاوہ دوسروں نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، اور دوسروں نے 'رویفع بن ثابت' کہا ہے اور یہی صحیح ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قید ہو جانا ہی میاں بیوی کے درمیان نکاح کا رشتہ ختم کر دیتا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شوہر والی عورت سے ایک حیض کے بعد ہمبستری کا حکم تبھی دے سکتے ہیں جب یہ رشتہ ختم ہو چکا ہو۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] سے مراد ”وہ خاوند والی عورتیں ہیں جن کو لونڈی بنا کر تم ان کے مالک بنے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18298]
یونس بن بکیر نے اسی طرح 'خیبر کا دن' کہا ہے، حالانکہ یہ حنین کا دن تھا، ابن اسحاق سے دوسرے راویوں نے اور ابن اسحاق کے علاوہ دوسروں نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے، اور دوسروں نے 'رویفع بن ثابت' کہا ہے اور یہی صحیح ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قید ہو جانا ہی میاں بیوی کے درمیان نکاح کا رشتہ ختم کر دیتا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شوہر والی عورت سے ایک حیض کے بعد ہمبستری کا حکم تبھی دے سکتے ہیں جب یہ رشتہ ختم ہو چکا ہو۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] سے مراد ”وہ خاوند والی عورتیں ہیں جن کو لونڈی بنا کر تم ان کے مالک بنے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18298]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18299
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، أَنَّ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأَصَابُوا جَيْشًا مِنَ الْعَرَبِ يَوْمَ أَوْطَاسٍ، فَقَاتَلُوهُمْ وَهَزَمُوهُمْ، فَأَصَابُوا نِسَاءً لَهُنَّ أَزْوَاجٌ، وَكَأَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَثَّمُوا مِنْ غَشَيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤] فَهُنَّ لَكُمْ حَلَالٌ. ⦗٢١٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ..
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک سریہ روانہ فرمایا، جن کی لڑائی اوطاس کے دن عرب کے ایک لشکر سے ہوئی جن کو شکست ہوئی۔ عورتیں قیدی بنیں جن کے خاوند بھی تھے تو صحابہ نے ان کے خاوندوں کی وجہ سے ان سے ہم بستری کرنے کو گناہ خیال کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] کہ یہ تمہارے لیے حلال ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18299]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٤٥٦»
الحكم على الحديث: صحيح