🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3677. -- باب: الرخصة في الرجز عند الحرب
-- باب: جنگ کے دوران رجز (جنگی اشعار) پڑھنے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18472
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا ⦗٢٦٠⦘ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، وَأَبُو حُذَيْفَةَ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عُمَارَةَ أَوَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يُوَلِّ وَلَكِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ فَرَشَقَتْهُمْ هَوَازِنُ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرَأْسِ بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَهُوَ يَقُولُ:" أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے ابو عمارہ! کیا آپ حنین کے دن بھاگ گئے تھے؟ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بھاگے، لیکن قوم کے جلد باز لوگوں پر جب ہوازن نے تیر برسائے اور سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے تھے: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ» ”میں نبی ہوں کوئی جھوٹ نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18472]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18473
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقِتَالِهِ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ قَالَ: وَهُوَ يَقُولُ:.
ابن اسحاق غزوہ موتہ میں سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا قصہ ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
اے جنت! تو قریب ہے۔ تیرا پینا پاکیزہ اور ٹھنڈا ہے۔
اور رومی ایسے لوگ ہیں کہ عذاب ان کے قریب ہے۔ اگر میری ان سے ملاقات ہوئی تو ان کا قتل میرے ذمہ ہے۔
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم کہتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن جھنڈا پکڑا تو یہ اشعار پڑھے:
اے جان! میں نے قسم کھائی ہے کہ تجھے خوشی سے یا ناپسندیدگی کے باوجود لڑائی میں اترنا ہی پڑے گا۔
اگرچہ لوگ جمع ہو کر سخت شور ہی کیوں نہ کریں۔ میں دیکھتا ہوں کہ تو جنت سے کراہت کرتی ہے۔
تو نے حالتِ اطمینان میں زندگی گزاری ہے، تو تو صرف ایک نطفہ ہی ہے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں آپ نے یہ بھی کہا:
اے جان! اگر تو قتل نہ ہوئی تو بھی فوت تو ہونا ہی ہے۔ یہ موت کا چشمہ ہے جہاں تو پہنچ چکی ہے اور جو تو نے خواہش کی تھی وہ تجھے دے دیا گیا ہے۔ اگر تو نے یہ دونوں کام (یعنی سیدنا جعفر اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما کی پیروی) کر لیے تو بہتر ہے۔ اگر تو پیچھے ہٹ گئی تو بدبخت ہے۔
ان کا ارادہ سیدنا جعفر اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما تھے۔ پھر انہوں نے آگے بڑھ کر لڑائی کی اور شہید کر دیے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18473]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18474
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ هُنَيْدَةَ، ⦗٢٦١⦘ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ؟" قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا. قَالَ: فَأَخَذَهُ، فَلَمَّا لَقِيَ الْعَدُوَّ جَعَلَ يَقُولُ:.
ہنیدہ رضی اللہ عنہ جو خزاعہ کے ایک فرد ہیں، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کرے۔“ ایک شخص نے کہا: میں حق ادا کروں گا، اس نے تلوار لے کر دشمن سے لڑائی کرتے ہوئے کہا:
میں وہ آدمی ہوں جس نے اپنے خلیل سے بیعت کی ہے، جب ہم کھجور کے نیچے تھے، میں بزدلی سے نہیں رہوں گا، میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار چلاتا رہوں گا، دوسروں نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ آخر کار وہ شہید ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18474]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3678. -- باب: الصف عند القتال
-- باب: قتال کے وقت صف بندی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18475
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، ح قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا ابْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ حِينَ صَفَّنَا لِقُرَيْشٍ وَصَفُّوا لَنَا:" إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْفَضْلِ، وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ:" إِذَا أَكْثَبُوكُمْ" يَعْنِي أَكْثَرُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الصَّحِيحُ: إِذَا أَكْثَبُوكُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ، وَعَنْ أَبِي يَحْيَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ أَبِي أَحْمَدَ.
حمزہ بن ابی اسید رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا، جب ہم نے قریش کے لیے اور انہوں نے ہمارے لیے صف بندی کی: ”جب وہ تمہارے قریب آجائیں تو ان کو تیر مارو۔“ یہ فضل کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابواحمد اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں: «إِذَا أَكْثَبُوكُمْ» یعنی ”جب وہ زیادہ تمہارے قریب آجائیں تو ان پر تیر برساؤ اور اپنے تیروں کو بچا کر رکھو۔“ ابوبکر کہتے ہیں کہ صحیح لفظ «أَكْثَبُوكُمْ» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18475]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٢٩٠٠۔ ٣٩٨٤»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3679. -- باب: سل السيوف عند اللقاء
-- باب: دشمن سے مقابلے کے وقت تلواریں سونتنے (میان سے نکالنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18476
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ نَجِيحٍ وَلَيْسَ بِالْمَلْطِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ:" إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ وَلَا تَسُلُّوا السُّيُوفَ حَتَّى يَغْشَوْكُمْ".
مالک بن حمزہ بن ابی اسید اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ تمہارے قریب آ جائیں تو ان پر تیر برساؤ اور جب تک وہ تمہیں ڈھانپ نہ لیں، تلواریں نہ سونتو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18476]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3680. -- باب: الترجل عند شدة البأس
-- باب: جنگ کی شدت کے وقت سواری سے اتر کر پیدل قتال کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18477
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ رَضِيَ ⦗٢٦٢⦘ اللهُ عَنْهُ: يَا أَبَا عُمَارَةَ أَكُنْتُمْ فَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟ فَقَالَ: لَا وَاللهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ سِلَاحٌ أَوْ كَثِيرُ سِلَاحٍ، فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاةً لَا يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ، جَمْعَ هَوَازِنَ وَبَنِي نَصْرٍ فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا لَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ، فَأَقْبَلُوا هُنَاكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ، فَنَزَلَ وَاسْتَنْصَرَ وَقَالَ:" أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ" ثُمَّ صَفَّهُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ زُهَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو عمارہ! کیا تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بھاگے، لیکن کچھ نوجوان جن کے پاس اسلحہ کم تھا، ان کا سامنا تیر انداز لوگوں سے ہوا، وہ ہوازن اور بنو نصر کے جمع شدہ قبائل تھے جن کا نشانہ خطا نہیں ہوتا تھا، انہوں نے ان پر تیر برسائے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور سیدنا ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اس خچر کو چلا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر پڑے اور فرمایا: «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ» ”میں نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں ہے، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18477]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3681. -- باب: الخيلاء في الحرب
-- باب: جنگ کے دوران فخر اور اکڑ کر چلنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18478
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّهَا اللهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللهُ، فَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللهُ فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ، وَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّهَا اللهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاخْتِيَالُهُ عِنْدَ الصَّدَقَةِ، وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِهِ فِي الْفَخْرِ وَالْخُيَلَاءِ.
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اوقات غیرت کو اللہ پسند فرماتے ہیں اور بعض اوقات اللہ کو غیرت پسند نہیں ہوتی، وہ غیرت جسے اللہ رب العزت پسند کرتے ہیں شک کے بارے میں ہے اور وہ غیرت جو اللہ کو ناپسند ہے وہ ہے جو بغیر شک کے کی جائے، اور اللہ رب العزت اس تکبر کو پسند کرتے ہیں جو لڑائی کے موقع پر انسان اختیار کرتا ہے یا صدقہ کے وقت تکبر کرنا، اور وہ فخر جس کو اللہ ناپسند کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ انسان اپنے بارے میں فخر اور تکبر اختیار کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18478]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3682. -- باب: الغزو مع أئمة الجور
-- باب: ظالم حکمرانوں کی معیت میں جہاد کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18479
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا زَكَرِيَّا، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَمْرُو بْنُ تَمِيمِ بْنِ سَيَّارٍ الطَّبَرِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، الْأَجْرُ وَالْغَنِيمَةُ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ الْأَزْرَقِ الْأَجْرُ وَالْغَنِيمَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ زَكَرِيَّا.
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی باندھی گئی ہے، یعنی ثواب اور غنیمت۔“ یہ ابو نعیم کی حدیث کے لفظ ہیں، لیکن ازرق کی روایت میں «الْأَجْرُ وَالْغَنِيمَةُ» کے الفاظ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18479]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18480
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا ٣٥٦٧ أَبُو دَاوُدَ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ ⦗٢٦٣⦘ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي نُشْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثٌ مِنْ أَصْلِ الْإِيمَانِ: الْكَفُّ عَمَّنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ لَا يُكَفِّرُهُ بِذَنْبٍ وَلَا يُخْرِجُهُ مِنَ الْإِسْلَامِ بِعَمَلٍ، وَالْجِهَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ أُمَّتِي الدَّجَّالَ، لَا يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ، وَالْإِيمَانُ بِالْأَقْدَارِ" وَحَدِيثُ مَكْحُولٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجِهَادُ وَاجِبٌ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا". قَدْ مَضَى فِي بَابِ الْإِمَامَةِ وَكِتَابِ الْجَنَائِزِ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ایمان کی اصل ہیں: (1) اس سے رک جانا جو اس بات کی گواہی دے کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں“، کسی گناہ کی وجہ سے اسے کافر نہ کہے اور عمل کی وجہ سے اسلام سے خارج نہ کہے۔ (2) جہاد قیامت تک جاری رہے گا، جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے اور میری امت کا آخری فرد دجال سے جہاد کرے گا، کسی عادل کا عدل اور کسی ظالم کا ظلم اسے باطل نہ کرے گا۔ (3) تقدیر پر ایمان لانا۔“ (ب) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نیک و بد امیر کے ساتھ جہاد واجب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18480]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3683. -- باب: ما يستحب من الجيوش والسرايا
-- باب: لشکروں اور فوجی دستوں کے حوالے سے مستحب امور کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18481
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ح وأنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ الدَّهَّانُ، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ قَالَا: ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ الْأَصْحَابِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ". تَفَرَّدَ بِهِ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ مَوْصُولًا، وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْقَطِعًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَسْنَدَهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَهُوَ خَطَأٌ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین ساتھی چار ہیں اور بہتر سریہ چار سو افراد کا ہے اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے اور بارہ ہزار کا لشکر قلت کی بنا پر مغلوب نہ ہوگا۔“
جریر بن حازم اسے موصول بیان کرنے میں منفرد ہیں، جبکہ عثمان بن عمر نے اسے یونس سے، انہوں نے عقیل سے، انہوں نے زہری سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقطع روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جریر بن حازم نے اسے مسند بیان کیا ہے اور یہ غلطی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18481]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں