🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3666. -- باب: بعث العيون والطلائع من المسلمين
-- باب: مسلمانوں کی طرف سے جاسوس اور ہراول دستے بھیجنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18442
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ رَجُلٌ: لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُ مَعَهُ أَوْ أَبْلَيْتُ. فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: أَنْتَ كُنْتَ تَفْعَلُ ذَاكَ؟ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ رِيحٍ شَدِيدَةٍ وَقَرٍّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَكُونُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟" فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ، ثُمَّ الثَّانِيَةَ مِثْلَهُ ثُمَّ قَالَ:" يَا حُذَيْفَةُ قُمْ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ"، فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِي بِاسْمِي أَنْ أَقُومَ، فَقَالَ:" ائْتِنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلَا تُذْعِرْهُمْ عَلَيَّ". قَالَ: فَمَضَيْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ حَتَّى أَتَيْتُهُمْ، فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يُصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ، فَوَضَعْتُ سَهْمِي فِي كَبِدِ قَوْسِي وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُذْعِرْهُمْ عَلَيَّ"، وَلَوْ رَمَيْتُ لَأَصَبْتُهُ قَالَ: فَرَجَعْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصَابَنِي الْبَرْدُ حِينَ فَرَغْتُ وَقُرِرْتُ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِ عَبَاءَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا، فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّى الصُّبْحِ فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحْتُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ يَا نَوْمَانُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
ابراہیم تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کے پاس تھے۔ ایک شخص نے کہا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنے آپ کو بوڑھا کر لیتا، تو حذیفہ رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تو یہ کام کرے گا؟ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ احزاب کی راتوں میں سے ایک رات کو سخت ہوا والی اور ٹھنڈی پایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص مجھے قوم کی خبر لا کر دے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہو گا“ تو ہم میں سے کسی نے بھی جواب نہ دیا۔ پھر دوسری مرتبہ اسی طرح فرمایا، پھر فرمایا: ”اے حذیفہ! ہمارے پاس قوم کی خبر لے کر آؤ“۔ اب میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر مجھے کھڑا ہونے کو کہا تو فرمایا: ”قوم کی خبر لاؤ تو ان کو میرے بارے میں خبر نہ دینا“۔ کہتے ہیں: میں گیا گویا کہ میں سکون سے چل رہا تھا۔ جب میں ابوسفیان کے قریب آیا تو وہ اپنی کمر کو آگ سے تاپ رہا تھا، میں نے اپنا تیر کمان میں رکھا اور اسے تیر مارنے کا ارادہ کیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”ان کو میرے خلاف نہ بھڑکانا“، اگر میں اس کو تیر مارتا تو ہلاک کر سکتا تھا۔ کہتے ہیں: میں واپس آیا کہ میں گرمی کے اندر ہی چل رہا تھا۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر مجھے ٹھنڈک محسوس ہوئی، جب میں اپنے کام سے فارغ ہو چکا تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کا زائد حصہ میرے اوپر ڈال دیا، پھر میں صبح تک سویا رہا۔ جب میں نے صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سونے والے! اٹھ جا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18442]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٧٨٨»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3667. -- باب: فضل الحرس في سبيل الله
-- باب: اللہ کی راہ میں پہرہ دینے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18443
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ ⦗٢٥١⦘ لَهُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَذْكُرُ أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتَّى كَانَ عَشِيَّةً، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَارِسٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي انْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ حَتَّى طَلَعْتُ جَبَلَ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلَى بَكْرَةِ أَبِيهِمْ بِظُعُنِهِمْ وَنَعَمِهِمْ وَشَائِهِمْ، فَاجْتَمَعُوا إِلَى حُنَيْنٍ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" تِلْكَ غَنِيمَةٌ لِلْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ". ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟" فَقَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ. فَقَالَ:" ارْكَبْ". فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَقْبِلْ هَذَا الشِّعْبِ حَتَّى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ وَلَا نُغَرَّنَّ مِنْ قِبَلِكَ اللَّيْلَةَ". فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُصَلَّاهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ:" هَلْ حَسَسْتُمْ فَارِسَكُمْ؟" فَقَالَ رَجُلٌ: مَا حَسَسْنَا. فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَبْشِرُوا فَقَدْ جَاءَ فَارِسُكُمْ". قَالَ: فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَى خِلَالِ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى هَذَا الشِّعْبِ حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا طَلَعْتُ عَلَى الشِّعْبَيْنِ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ؟" قَالَ: لَا إِلَّا مُصَلِّيًا أَوْ قَاضِيَ حَاجَةٍ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَوْجَبْتَ فَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَعْمَلَ بَعْدَهَا".
ابو کبشہ سلولی نے سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ حنین کے دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شام تک چلے۔ نماز کا وقت ہو گیا تو ایک سوار شخص آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کے آگے فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا کہ اچانک بنو ہوازن نے اپنے والدین، چوپائے اور بکریوں کو حنین میں جمع کر رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ” «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ یہ کل مسلمانوں کے لیے مالِ غنیمت ہو گا۔“ پھر فرمایا: ”آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا؟“ تو انس بن ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں پہرہ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار ہو جا۔“ تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ اس سامنے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جائیں، (تاکہ) آپ کی جانب سے ہم پر آج رات کوئی حملہ نہ کر لے۔“ جب ہم نے صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر پوچھا: ”کیا تم نے اپنے شاہسوار کو محسوس کیا ہے؟“ تو ایک شخص نے کہا: ہم نے محسوس نہیں کیا، تو نماز کی اقامت کہہ دی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مڑ مڑ کر اس گھاٹی کی طرف دیکھتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی اور فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، تمہارا شاہسوار آ گیا ہے۔“ تو ہم درختوں کے درمیان سے دیکھ رہے تھے کہ اچانک اس نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو کر سلام کیا، اس نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس گھاٹی کی چوٹی پر پہنچا۔ جب میں نے صبح کی تو میں نے دونوں گھاٹیوں کے درمیان نظر دوڑائی، میں نے کسی کو نہ دیکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو رات کو نیچے اترا تھا؟“ اس نے کہا: نماز اور قضائے حاجت کے علاوہ نہیں اترا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «أَوْجَبْتَ» ”تو نے (جنت کو) واجب کر لیا ہے“، تیرے اوپر کوئی حرج نہیں اگر اس کے بعد عمل نہ بھی کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18443]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18444
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِلَيْلَةٍ أَفْضَلَ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ حَارِسٌ حَرَسَ فِي أَرْضِ خَوْفٍ لَعَلَّهُ أَنْ لَا يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ". رَفَعَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَوَقَفَهُ وَكِيعٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں لیلۃ القدر سے فضیلت والی رات نہ بتاؤں؟“ پھر فرمایا: ”خوف والی زمین پر پہرہ دینا کہ وہ اپنے اہل کے پاس واپس نہ آ سکے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18444]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18445
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَأَوْفَى بِنَا عَلَى شَرَفٍ فَأَصَابَنَا بَرْدٌ شَدِيدٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ أَحَدُنَا يَحْفِرُ ⦗٢٥٢⦘ الْحَفِيرَ ثُمَّ يَدْخُلُ فِيهِ وَيُغَطِّي عَلَيْهِ بِحَجْفَتِهِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنَ النَّاسِ قَالَ:" أَلَا رَجُلٌ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ أَدْعُو اللهَ لَهُ بِدُعَاءٍ يُصِيبُ بِهِ فَضْلًا؟" فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ. فَدَعَا لَهُ، قَالَ أَبُو رَيْحَانَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَقُلْتُ: أَنَا، فَدَعَا لِي بِدُعَاءٍ هُوَ دُونَ مَا دَعَا بِهِ لِلْأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ دَمَعَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ، حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللهِ". قَالَ: وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ. قَالَ أَبُو شُرَيْح /٦٣ ٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ: وَسَمِعْتُهُ بَعْدُ أَنَّهُ قَالَ:" حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ غَضَّتْ عَنْ مَحَارِمِ اللهِ أَوْ عَيْنٍ فُقِئَتْ فِي سَبِيلِ اللهِ".
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے، ایک چوٹی پر چڑھے تو ہمیں سخت سردی لگی، ہم گڑھے کھود کر ان کے اندر داخل ہو گئے اور سروں کو چمڑے کی ڈھال سے ڈھانپ لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: ”کوئی شخص ہے جو آج رات ہمارا پہرہ دے تو میں اللہ سے اس کے لیے دعا کروں گا، جس کی وجہ سے اس کو فضیلت نصیب ہو گی؟“ تو ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں پہرہ دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی۔ سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی پہرہ دیتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری کی دعا کے علاوہ میرے لیے کوئی دوسری دعا دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آنکھ سے اللہ کے ڈر کی وجہ سے آنسو بہہ گئے، اس پر جہنم حرام ہے اور ایسی آنکھ جو اللہ کے راستے میں پہرہ دیتے ہوئے بیدار رہتی ہے، اس پر بھی جہنم کی آگ حرام ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں تیسری چیز بھول گیا۔ ابوشریح رحمہ اللہ، جو عبدالرحمن بن شریح ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد ان سے سنا کہ ”وہ آنکھ جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے محفوظ رہے، اس پر بھی جہنم کی آگ حرام ہے، یا جو آنکھ اللہ کے راستے میں پھوڑ دی جائے، اس پر بھی جہنم کی آگ حرام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18445]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18446
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ سَهْلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَمَّادٍ الْآمُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رَحِمَ اللهُ حَارِسَ الْحَرَسِ"..
قیس بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہرہ دینے والے شخص پر اللہ رحم فرمائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18446]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18447
وَرُوِيَ عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ عُمَرَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَأَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، فَذَكَرَهُ.
یہی حدیث سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18447]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3668. -- باب: صلاة الحرس
-- باب: پہرے دار کی نماز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18448
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَقَالَ:" مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ؟" فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَا: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" فَكُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ". فَلَمَّا أَنْ خَرَجَا إِلَى فَمِ الشِّعْبِ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ: أِيُّ اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَكْفِيَكَ أَوَّلَهُ أَوْ آخِرَهُ؟ قَالَ: بَلِ اكْفِنِي أَوَّلَهُ. فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ فَنَامَ، وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات رقاع میں نکلے، انہوں نے حدیث کو ذکر کیا، کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا؟“ تو مہاجرین اور انصار میں سے ایک ایک نے حامی بھری، ان دونوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم (پہرہ دیں گے)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم دونوں گھاٹی کے منہ پر رہو۔“ جب وہ دونوں گھاٹی پر پہنچے تو انصاری نے مہاجر سے کہا: ”رات کا کون سا حصہ تمہیں پسند ہے کہ میں تمہاری طرف سے اس میں پہرہ دوں، پہلا پہر یا آخری پہر؟“ اس نے کہا: ”تم میری طرف سے رات کے ابتدائی حصے میں پہرہ دو۔“ تو مہاجر لیٹ کر سو گیا، جبکہ انصاری نماز کے لیے کھڑا ہو گیا۔ پھر انہوں نے (باقی) حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18448]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3669. -- باب: من أراد غزوة فورى بغيرها
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کسی غزوے کا ارادہ کیا لیکن بات کو کسی دوسری سمت پھیر کر اسے پوشیدہ رکھا (توریہ کیا)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18449
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَةً يَغْزُوهَا إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے، انہوں نے حدیث کو ذکر کیا، فرماتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے کا ارادہ فرماتے تو اشارہ کسی اور جانب کرتے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم توریہ فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18449]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18450
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُرِيدُ غَزْوَةً يَغْزُوهَا إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَغَزَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا، وَاسْتَقْبَلَ عَدُوًّا كَثِيرًا فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ عَدُوِّهِمْ، وَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يُونُسَ نَحْوَ إِسْنَادِ عَقِيلٍ.
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی غزوے کا ارادہ فرماتے تو کم ہی ایسا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم توریہ نہ کرتے۔ جب غزوہ تبوک کا موقع آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت گرمی، لمبا سفر اور کثیر دشمن کا سامنا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے یہ بات واضح کردی تاکہ وہ اپنے دشمن کے لیے تیاری کرلیں اور ان کو صحیح سمت کی خبر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18450]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18451
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ غَزْوَةً وَرَّى بِغَيْرِهَا وَكَانَ يَقُولُ:" الْحَرْبُ خَدْعَةٌ".
عبدالرحمن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوے کا ارادہ فرماتے تو توریہ کرتے اور فرماتے: ”لڑائی دھوکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18451]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں