السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3673. -- باب: كراهية تمني لقاء العدو وما يفعل وما يقول عند اللقاء
-- باب: دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا کرنے کی کراہت، اور جب سامنا ہو جائے تو کیا عمل کرے اور کیا کہے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18462
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي ⦗٢٥٧⦘ إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ خَرَجَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ فَقَرَأْتُهُ، فَإِذَا فِيهِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ"، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ". قَالَ: وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ: وَبَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فِي مِثْلِ ذَلِكَ فَقَالَ:" أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُمْ، وَنَحْنُ عَبِيدُكَ وَهُمْ عَبِيدُكَ، وَنَوَاصِينَا وَنَوَاصِيهِمْ بِيَدِكَ فَاهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ دُونَ بَلَاغِ أَبِي النَّضْرِ.
سالم ابو النضر جو عمر بن عبید اللہ کے غلام اور ان کے کاتب تھے، فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے حروریہ کی جانب نکلتے وقت خط لکھا، جس میں یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض دنوں میں جب دشمن سے لڑتے تو سورج کے ڈھل جانے کا انتظار کرتے، پھر لوگوں میں یہ بات ارشاد فرماتے: ”اے لوگو! دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو اور جب تم دشمن سے ملو تو صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ» ”اے اللہ! کتاب کو نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے، لشکروں کو شکست دینے والے! ان کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔“ راوی کہتے ہیں کہ ابو النضر نے کہا: ہمیں یہ خبر ملی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثل دعا کی کہ «أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُمْ، وَنَحْنُ عَبِيدُكَ وَهُمْ عَبِيدُكَ، وَنَوَاصِينَا وَنَوَاصِيهِمْ بِيَدِكَ، فَاهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ» ”تو ہمارا بھی رب ہے اور ان کا بھی رب ہے، ہم بھی تیرے بندے ہیں اور وہ بھی تیرے بندے ہیں، ہماری اور ان کی پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، ان کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18462]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18463
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَلَمَةَ الْهَمَذَانِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَاسِي الْمَتُّوثِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا قَالَ:" اللهُمَّ إِنِّي أَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ.
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم کا خوف ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ» ”ہم تجھی کو ان کے مقابلے میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18463]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18464
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عِيسَى، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ عَائِشَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ لَا يُفْهَمُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ تُحَرِّكُ شَفَتَيْكَ بِشَيْءٍ لَا يُفْهَمُ، فَقَالَ:" إِنَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أَعْجَبَهُ كَثْرَةُ قَوْمِهِ، فَقَالَ: مَنْ يَفِي لِهَؤُلَاءِ أَوْ مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ؟ قَالَ: فَقِيلَ لَهُ خَيِّرْ أَصْحَابَكَ بَيْنَ أَنْ نُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ أَوِ الْجُوعَ أَوِ الْمَوْتَ فَخَيَّرَهُمْ فَاخْتَارُوا الْمَوْتَ، قَالَ: فَمَاتَ مِنْهُمْ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ سَبْعُونَ أَلْفًا. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا أَقُولُ: اللهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ، وَبِكَ أُحَاوِلُ، وَبِكَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ" وَسَائِرُ مَا وَرَدَ مِنَ الدُّعَاءِ فِي هَذَا قَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْحَجِّ وَفِي كِتَابِ الدَّعَوَاتِ.
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے لیکن ہم اس کو سمجھ نہ پاتے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہونٹوں کو کسی چیز سے حرکت دیتے ہیں لیکن ہم سمجھ نہیں پاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کی کثرت اچھی لگی، اس نے کہا کہ کون ان کے مقابلے میں کھڑا ہوگا؟ فرماتے ہیں کہ اس سے کہا گیا: اپنے ساتھیوں کو اختیار دے دو کہ یا تو ہم ان پر دشمن کو مسلط کر دیں جو ان کی جمعیت کو تباہ کر دے، یا بھوک، یا موت۔ اس نے انہیں اختیار دیا تو انہوں نے موت کو پسند کیا تو تین ایام کے اندر ستر ہزار آدمی مارے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو یہ کہتا ہوں: «اللَّهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ، وَبِكَ أُحَاوِلُ، وَبِكَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ”اے اللہ! تیری مدد سے میں قتال کرتا ہوں اور تیری توفیق سے معاملات کی تدبیر کرتا ہوں اور تیری توفیق سے مقابلہ کرتا ہوں اور برائی سے پھرنے اور نیکی کرنے کی قوت تیری توفیق سے ہے۔“““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18464]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3674. -- باب: أي وقت يستحب اللقاء
-- باب: دشمن سے مقابلے کے لیے کون سا وقت مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 18465
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ النُّعْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ وَيَنْزِلَ النَّصْرُ.
سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر دن کے ابتدائی حصے میں لڑائی نہ کرتے تو اسے سورج کے ڈھلنے، ہواؤں کے چلنے اور مدد کے اترنے تک مؤخر فرماتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18465]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه السجستاني ٢٦٥٥»
الحكم على الحديث: صحيح
3675. -- باب: الصمت عند اللقاء
-- باب: مقابلے کے وقت خاموش رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18466
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُونَ رَفْعَ الصَّوْتِ عِنْدَ ثَلَاثٍ: عِنْدَ الْقِتَالِ، وَفِي الْجَنَائِزِ، وَفِي الذِّكْرِ.
قیس بن عباد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم تین موقعوں پر بلند آواز کو ناپسند کرتے تھے: (1) لڑائی کے وقت، (2) جنازہ کے وقت، (3) ذکر کے وقت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18466]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18467
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُونَ الصَّوْتَ عِنْدَ الْقِتَالِ..
قیس بن عباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم قتال کے وقت بلند آواز کو ناپسند کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18467]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18468
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَطَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
ابوبردہ اپنے والد سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل نقل فرماتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18468]
حدیث نمبر: 18469
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا الْعَافِيَةَ، فَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَاثْبُتُوا وَأَكْثِرُوا ذِكْرَ اللهِ، فَإِنْ أَجْلَبُوا وَصَيَّحُوا فَعَلَيْكُمْ بِالصَّمْتِ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت کا سوال کرو۔ اگر دشمن سے ملاقات ہو ہی جائے تو ثابت قدم رہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو۔ اگر وہ شور شرابا کریں تو تم خاموشی کو لازم پکڑو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18469]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3676. -- باب: التكبير عند الحرب
-- باب: جنگ کے وقت تکبیر کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18470
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، أنبا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ الْهُذَلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ⦗٢٥٩⦘ صَبَّحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بُكْرَةً وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءُوا يَسْعَوْنَ إِلَى الْحِصْنِ وَقَالُوا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے خیبر پہنچے، جبکہ وہ (اہلِ خیبر) اپنے کھیتی باڑی کرنے کے آلات لے کر نکل چکے تھے۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو قلعے کی جانب بھاگ گئے اور کہنے لگے: محمد اور لشکر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند فرمائے، پھر تین مرتبہ فرمایا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“، (پھر فرمایا:) «خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» ﴿فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] ”خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے گھر اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18470]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
3677. -- باب: الرخصة في الرجز عند الحرب
-- باب: جنگ کے دوران رجز (جنگی اشعار) پڑھنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18471
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَاميُّ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَفِيهِ حِينَ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ قُمْتُ عَلَى ثَنِيَّةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثَةَ أَصْوَاتٍ: يَا صَبَاحَاهُ، ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ:.
ایاس بن سلمہ اپنے والد (سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا۔ انہوں نے لمبی حدیث ذکر کی، جس میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مویشیوں پر حملہ کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں ثنیہ پہاڑی پر چڑھ گیا اور مدینہ کی جانب متوجہ ہو کر تین آوازیں لگائیں، پھر لوگوں کے پیچھے تیر پھینکتا اور رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا نکلا: میں اکوع کا بیٹا ہوں، آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔
اس میں ہے کہ جب ہم خیبر گئے تو میرے چچا عامر رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے:
«تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا، فَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا» ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، صدقہ نہ کرتے، نمازیں نہ پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے ہی غنی ہیں، اگر دشمن سے ملاقات ہو جائے تو ہمیں ثابت قدم رکھنا اور ہمارے اوپر سکون نازل فرمانا“۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: عامر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ» ”تیرا رب تجھے معاف فرمائے“۔ اس میں ہے کہ جب خیبر گئے تو مرحب اپنی تلوار کو لہراتے ہوئے آیا اور اس نے کہا:
«قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ، إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ» ”خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں، اسلحے کا ماہر، بہادر تجربہ کار، جس وقت لڑائیوں کی آگ بھڑک اٹھتی ہے“۔
تو میرے چچا نے اس کا جواب دیا:
«قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ» ”کہ خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں، اسلحہ کا ماہر اور بہادر“۔
پھر انہوں نے حدیث میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی تلوار میان میں داخل کر لی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تلوار کو میان سے نکالا اور اشعار پڑھے اور اسے قتل کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18471]
اس میں ہے کہ جب ہم خیبر گئے تو میرے چچا عامر رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے:
«تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا، فَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا» ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، صدقہ نہ کرتے، نمازیں نہ پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے ہی غنی ہیں، اگر دشمن سے ملاقات ہو جائے تو ہمیں ثابت قدم رکھنا اور ہمارے اوپر سکون نازل فرمانا“۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: عامر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ» ”تیرا رب تجھے معاف فرمائے“۔ اس میں ہے کہ جب خیبر گئے تو مرحب اپنی تلوار کو لہراتے ہوئے آیا اور اس نے کہا:
«قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ، إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ» ”خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں، اسلحے کا ماہر، بہادر تجربہ کار، جس وقت لڑائیوں کی آگ بھڑک اٹھتی ہے“۔
تو میرے چچا نے اس کا جواب دیا:
«قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ» ”کہ خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں، اسلحہ کا ماہر اور بہادر“۔
پھر انہوں نے حدیث میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی تلوار میان میں داخل کر لی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تلوار کو میان سے نکالا اور اشعار پڑھے اور اسے قتل کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18471]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح