🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3745. -- باب: ما جاء في تفسير أرض الحجاز وجزيرة العرب
-- باب: سرزمینِ حجاز اور جزیرہ نما عرب کی تفسیر کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18756
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: جَزِيرَةُ الْعَرَبِ مَا بَيْنَ حُفَرِ أَبِي مُوسَى إِلَى أَقْصَى الْيَمَنِ فِي الطُّولِ، وَأَمَّا الْعَرْضُ فَمَا بَيْنَ رَمْلِ يَبْرِينَ إِلَى مُنْقَطَعِ السَّمَاوَةِ. قَالَ: وَقَالَ الْأَصْمَعِيُّ: جَزِيرَةُ الْعَرَبِ مِنْ أَقْصَى عَدَنِ أَبْيَنَ إِلَى رِيفِ الْعِرَاقِ فِي الطُّولِ، وَأَمَّا الْعَرْضُ فَمِنْ جُدَّةَ وَمَا وَالِاهَا مِنْ سَاحِلِ الْبَحْرِ إِلَى أَطْرَافِ الشَّامِ.
ابو عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جزیرہ عرب ابو موسیٰ کے کنویں سے لے کر لمبائی میں یمن تک اور چوڑائی یبرین کے ریگستان سے لے کر سماوہ کے اختتام تک ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جزیرہ عرب عدن ابین کی سرحد سے عراق تک لمبائی میں اور چوڑائی جدہ سے لے کر ساحل سمندر اور شام تک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18756]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18757
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْمُقْرِيَّ: جَزِيرَةُ الْعَرَبِ مِنْ لَدُنِ الْقَادِسِيَّةِ إِلَى لَدُنْ قَعْرِ عَدَنَ إِلَى الْبَحْرَيْنِ.
ابو عبد الرحمن مقری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جزیرہ عرب قادسیہ سے قعر عدن اور بحرین تک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18757]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18758
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكَ أَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى أَهْلَ نَجْرَانَ وَلَمْ يُجْلَوْا مِنْ تَيْمَاءَ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ بِلَادِ الْعَرَبِ، فَأَمَّا الْوَادِي فَإِنِّي أَرَى أَنَّمَا لَا يُجْلَى مَنْ فِيهَا مِنَ الْيَهُودِ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْهَا مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ.
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل نجران کو جلا وطن کیا، لیکن بستی تیماء سے جلا وطن نہ کیے گئے کیونکہ یہ عرب کا شہر نہیں ہے اور رہی وادی (القریٰ) تو میرا خیال ہے کہ وہاں کے یہود کو اس لیے جلا وطن نہ کیا گیا کہ انہوں نے اسے عرب کی سرزمین نہیں سمجھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18758]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18759
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنْ سَأَلَ مَنْ يُؤْخَذُ مِنْهُ الْجِزْيَةَ أَنْ يُعْطِيَهَا وَيَجْرِيَ عَلَيْهِ الْحُكْمُ عَلَى أَنْ يَسْكُنَ الْحِجَازَ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ لَهُ، وَالْحِجَازُ مَكَّةُ وَالْمَدِينَةُ وَالْيَمَامَةُ وَمَخَالِيفُهَا كُلُّهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا أُجْلِيَ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ مِنَ الْيَمَنِ، وَقَدْ كَانَتْ بِهَا ذِمَّةٌ وَلَيْسَتِ الْيَمَنُ بِحِجَازٍ، فَلَا يُجْلِيهِمْ أَحَدٌ مِنَ الْيَمَنِ، وَلَا بَأْسَ أَنْ يُصَالِحَهُمْ عَلَى مَقَامِهِمْ بِالْيَمَنِ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ جَعَلُوا الْيَمَنَ مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ وَالْجَلَاءُ وَقَعَ عَلَى أَهْلِ نَجْرَانَ، وَذِمَّةُ أَهْلِ الْحِجَازِ دُونَ ذِمَّةِ أَهْلِ الْيَمَنِ؛ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِحِجَازٍ، لَا لِأَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْهَا مِنْ أَرْضِ الْعَرَبِ، وَالْجَلَاءُ فِي الْحَدِيثِ تَخْصِيصٌ، وَفِي حَدِيثِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَلِيلٌ أَوْ شِبْهُ دَلِيلٍ عَلَى مَوْضِعِ الْخُصُوصِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر جزیہ دینے والا شخص یہ مطالبہ کرے کہ وہ جزیہ ادا کرے گا اور اس پر (اسلامی) حکم جاری ہوگا اس شرط پر کہ وہ حجاز میں رہائش رکھے، تو اسے یہ حق نہیں۔ اور حجاز مکہ، مدینہ، یمامہ اور ان کے تمام اطراف و نواحی ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ کوئی ذمی شخص یمن سے جلا وطن کیا گیا ہو؛ کیونکہ ان کے ساتھ عہد تھا اور یمن کا علاقہ حجاز میں شامل نہ تھا، اس لیے کسی کو یمن سے جلا وطن نہ کیا گیا اور یمن میں رہتے ہوئے ان سے صلح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہوں نے یمن کو عرب کی سرزمین میں شمار کیا ہے، اور جلا وطنی اہل نجران پر واقع ہوئی، اور اہل یمن کو چھوڑ کر صرف اہل حجاز کے ذمیوں کو (جلا وطن کیا گیا)؛ اس لیے کہ یمن حجاز نہیں ہے، نہ اس لیے کہ وہ اسے عرب کی سرزمین نہیں سمجھتے تھے۔ اور حدیث میں جلا وطنی کا حکم خاص ہے، اور سمرہ کی ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت میں اس خاص جگہ پر دلیل یا دلیل جیسی چیز موجود ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18759]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18760
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ إِلَى وَادِي الْقُرَى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي فَتْحِ وَادِي الْقُرَى، قَالَ: فَأَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي الْقُرَى أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ، وَقَسَمَ مَا أَصَابَ عَلَى أَصْحَابِهِ بِوَادِي الْقُرَى، وَتَرَكَ الْأَرْضَ وَالنَّخْلَ بِأَيْدِي يَهُودَ وَعَامَلَهُمْ عَلَيْهَا، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْرَجَ يَهُودَ خَيْبَرَ وَفَدَكَ، وَلَمْ يُخْرِجْ أَهْلَ تَيْمَاءَ وَوَادِي الْقُرَى؛ لِأَنَّهُمَا دَاخِلَتَانِ فِي أَرْضِ الشَّامِ، وَنَرَى أَنَّ مَا دُونَ وَادِي الْقُرَى إِلَى الْمَدِينَةِ حِجَازٌ، وَأَنَّ مَا وَرَاءَ ذَلِكَ شَامٌ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الْكَلَامُ الْأَخِيرُ أَظُنُّهُ مِنْ قَوْلِ الْوَاقِدِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادیِ قریٰ کی جانب گئے۔ اس نے وادیِ قریٰ کی فتح کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادیِ قریٰ میں چار دن قیام کیا۔ وادیِ القریٰ سے جو مال غنیمت حاصل ہوا تھا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم فرمایا اور زمین اور کھجوروں کے باغات پر یہود کو عامل بنا دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں خیبر و فدک کے یہود کو جلاوطن کر دیا، لیکن تیماء اور وادیِ القریٰ کے لوگوں کو جلاوطن نہ کیا؛ کیونکہ یہ دونوں شام کی سرزمین میں شامل تھے اور ہمارے خیال میں وادیِ القریٰ کی اس طرف والی سرزمین حجاز میں شامل ہے جبکہ دوسری جانب والی شام میں داخل ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے یہ آخری کلام واقدی کا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18760]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»

الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18761
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنَ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ يَعْنِي النَّيْسَابُورِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ الرَّازِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ يَحْيَى الْمَدَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَقُولُ: جَزِيرَةُ الْعَرَبِ الْمَدِينَةُ وَمَكَّةُ وَالْيَمَنُ، فَأَمَّا مِصْرُ فَمِنْ بِلَادِ الْمَغْرِبِ، وَالشَّامُ مِنْ بِلَادِ الرُّومِ، وَالْعِرَاقُ مِنْ بِلَادْ فَارِسَ.
مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جزیرۂ عرب مدینہ، مکہ اور یمن ہے، اور مصر مغرب کے ممالک سے ہے، اور شام ملکِ روم سے ہے اور عراق فارس کے ملک سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18761]
تخریج الحدیث: «موضوع»

الحكم على الحديث: موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3746. -- باب: الذمي يمر بالحجاز مارا لا يقيم ببلد منها أكثر من ثلاث ليال
-- باب: ذمی حجاز سے صرف گزرتے ہوئے جائے گا، اس کے کسی شہر میں تین راتوں سے زیادہ قیام نہیں کرے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18762
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ضَرَبَ لِلْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ بِالْمَدِينَةِ إِقَامَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ يَتَسَوَّقُونَ بِهَا وَيَقْضُونَ حَوَائِجَهُمْ، وَلَا يُقِيمُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ.
اسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے یہود، نصاریٰ اور مجوس کے لیے مدینہ میں تین دن کا قیام مقرر فرمایا، وہ اپنی ضروریات کو پورا کرتے تھے، لیکن ان میں سے کوئی بھی تین دن سے زیادہ قیام نہ کرتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18762]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3747. -- باب: ما يؤخذ من الذمي إذا اتجر في غير بلده، والحربي إذا دخل بلاد الإسلام بأمان
-- باب: ذمی جب اپنے شہر کے علاوہ کہیں اور تجارت کرے، اور حربی جب امان لے کر بلادِ اسلام میں داخل ہو، تو ان سے کیا وصول کیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18763
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: بَعَثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْعُشُورِ فَقُلْتُ: تَبْعَثُنِي عَلَى الْعُشُورِ مِنْ بَيْنِ غِلْمَتِكَ؟ فَقَالَ: أَلَا تَرْضَى أَنْ أَجْعَلَكَ عَلَى مَا جَعَلَنِي عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رُبْعَ الْعُشْرِ، وَمِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ نِصْفَ الْعُشْرِ، وَمِمَّنْ لَا ذِمَّةَ لَهُ الْعُشْرَ.
انس بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے مالِ تجارت سے دسواں حصہ لینے کے لیے بھیجا۔ انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مالِ تجارت سے دسواں حصہ وصول کرنا یہ آپ کا کام ہے، آپ نے مجھے بھیج دیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا آپ راضی نہیں جس کام پر مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقرر کیا، میں آپ کو بھیج رہا ہوں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ مسلمانوں سے چوتھائی عشر اور ذمی لوگوں سے بیسواں حصہ اور جو ذمی نہ ہو اس سے دسواں حصہ لوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18763]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18764
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلِيَّ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلِيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَرَى لَوْ أَنِّي أَمَرْتُكَ أَنْ تَعَضَّ عَلَى حَجَرِ كَذَا وَكَذَا ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي لَفَعَلْتَ، اخْتَرْتُ لَكَ خَيْرَ عَمَلٍ فَكَرِهْتَهُ، إِنِّي أَكْتُبُ لَكَ سُنَّةَ عُمَرَ. قُلْتُ: فَاكْتُبْ لِي سُنَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. قَالَ: فَكَتَبَ: مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَمَنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ مِنْ كُلِّ عِشْرِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَمِمَّنْ لَا ذِمَّةَ لَهُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ دِرْهَمٌ. قَالَ: قُلْتُ: مَنْ لَا ذِمَّةَ لَهُ؟ قَالَ: الرُّومُ كَانُوا يَقْدَمُونَ الشَّامَ.
انس بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام بھیجا، میں نے دیر کر دی، دوسرے پیغام پر میں آیا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے: اگر میں تجھے اپنی رضا مندی کے لیے یہ کہتا کہ اس پتھر کو منتقل کر دو تو آپ ایسا کر دیتے۔ لیکن میں نے آپ کے لیے بہتر کام کا انتخاب کیا جس کو آپ نے ناپسند کیا۔ کہتے ہیں: میں تجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ تحریر کر دیتا ہوں، میں نے کہا: تحریر کر دیں تو انہوں نے لکھا کہ مسلمانوں سے چالیس درہموں سے ایک درہم وصول کرنا ہے، ذمی لوگوں سے ہر بیس درہم میں سے ایک درہم، اور جن کا کوئی ذمہ (عہد) نہیں ان سے ہر دس درہم میں سے ایک درہم۔ میں نے پوچھا: غیر ذمی کون سے لوگ ہیں؟ فرمایا: جو رومی شام سے تجارت کی غرض سے آتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18764]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18765
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ الْفَقِيهُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْمُقْرِيُّ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنِ الْهَيْثَمِ وَكَانَ صَيْرَفِيًّا بِالْكُوفَةِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: جَعَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَلَى صَدَقَةِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. فَقُلْتُ: لَا أَعْمَلُ ذَلِكَ حَتَّى تَكْتُبَ لِي عَهْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الَّذِي عَهِدَ إِلَيْكَ، فَكَتَبَ لِي أَنْ خُذْ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ رُبْعَ الْعُشْرِ، وَمِنْ أَمْوَالِ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِذَا اخْتَلَفُوا ⦗٣٥٤⦘ لِلتِّجَارَةِ نِصْفَ الْعُشْرِ، وَمِنْ أَمْوَالِ أَهْلِ الْحَرْبِ الْعُشْرَ.
انس بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو بصرہ سے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ اس کام پر میں آپ کو بھیجتا ہوں جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے مقرر کیا ہے۔ میں نے کہا: میں اس وقت تک آپ کا کام نہیں کروں گا جب تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عہد مجھے تحریر کر کے نہ دیں گے، تو انہوں نے مجھے تحریر کر کے دیا کہ مسلمانوں سے چالیسواں حصہ، اور ذمی لوگوں کا مال جب تجارت کی غرض سے مختلف شہروں میں جائیں تو بیسواں حصہ اور حربی کافر کے مال سے دسواں حصہ وصول کرنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18765]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں