السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3749. -- باب: السنة أن لا يقتل الرسل
-- باب: یہ سنت ہے کہ قاصدوں (سفیروں) کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَهُ رَسُولَا مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ بِكِتَابِهِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُمَا:" وَأَنْتُمَا تَقُولَانِ مِثْلَمَا يَقُولُ؟" فَقَالَا: نَعَمْ، فَقَالَ:" أَمَا وَاللهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا".
سلمہ بن نعیم بن مسعود اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب مسیلمہ کذاب کے قاصد آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں بھی اس کی مثل کہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہم بھی وہی بات کہتے ہیں جو وہ کہتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر قاصدوں کو قتل کیے جانے کا طریقہ ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا، لیکن قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18776]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ حِنَّةٌ وَإِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ لِبَنِي حَنِيفَةَ فَإِذَا هُمْ يُؤْمِنُونَ بِمُسَيْلِمَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللهِ فَجِيءَ بِهِمْ فَاسْتَتَابَهُمْ غَيْرَ ابْنِ النَّوَّاحَةِ قَالَ لَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ"، فَأَنْتَ الْيَوْمَ لَسْتَ بِرَسُولٍ، فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فِي السُّوقِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى ابْنِ النَّوَّاحَةِ قَتِيلًا بِالسُّوقِ.
حارثہ بن مضرب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ فرماتے ہیں کہ میرے اور عرب کے درمیان کوئی دشمنی نہ تھی۔ جب میرا گزر بنو حنیفہ کی مسجد کے قریب سے ہوا، وہ مسیلمہ پر ایمان لا چکے تھے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا اور توبہ طلب کی۔ صرف ابن نواحہ نے توبہ نہ کی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس سے کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ”قاصد کو قتل نہ کیا جائے“، وگرنہ تیری گردن اتار دیتا۔ لیکن آج آپ قاصد بن کر نہیں آئے تو انہوں نے قرظہ بن کعب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ انہوں نے بازار میں اس کی گردن اتار دی۔ پھر فرمایا: جو ابن نواحہ کو بازار میں مقتول دیکھنا چاہے دیکھ سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18777]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله ١٦٨٨٦»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18778
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ النَّوَّاحَةِ:" لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُكَ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن نواحہ سے فرمایا: ”اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18778]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18779
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" مَضَتِ السُّنَّةُ أَنْ لَا تُقْتَلَ الرُّسُلُ".
ابو وائل رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”سنت یہ ہے کہ قاصد کو قتل نہ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18779]
3750. -- باب: الحربي إذا لجأ إلى الحرم وكذلك من وجب عليه حد
-- باب: حربی کافر جب حرم میں پناہ لے لے، اور اسی طرح وہ شخص جس پر کوئی حد واجب ہو، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18780
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: حَدَّثَكَ ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ"، قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ نے خود کو اتارا تو ایک شخص نے آ کر کہا: ابن خطل کعبہ کے غلاف کے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ فرمایا: ”تم اس کو قتل کر دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18780]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18781
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَقَالَ:" اقْتُلُوهُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ: عِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ خَطَلٍ، وَمَقِيسَ بْنَ صُبَابَةَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي سَرْحٍ.
مصعب بن سعد اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب لوگوں کو امن دے دیا، سوائے چار مردوں اور دو عورتوں کے، ان کو امن نہ دیا اور فرمایا: ”اگر تم ان کو کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکے پاؤ تب بھی قتل کر دو۔“ یہ چار مرد تھے: 1۔ عکرمہ بن ابی جہل، 2۔ عبداللہ بن خطل، 3۔ مقیس بن صبابہ، 4۔ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18781]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 18782
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ:" أَرْبَعَةٌ لَا أُؤَمِّنُهُمْ فِي حِلٍّ وَلَا فِي حَرَمٍ: الْحُوَيْرِثُ بْنُ مَعْبَدٍ، وَمَقِيسٌ، وَهِلَالُ بْنُ خَطَلٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ. فَأَمَّا الْحُوَيْرِثُ فَقَتَلَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَمَّا مَقِيسٌ فَقَتَلَهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ لَحًّا، وَأَمَّا هِلَالُ بْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ أَخَاهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمِقْيَسٍ تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَتْ إِحْدَاهُمَا، وَأَفْلَتَتِ الْأُخْرَى وَأَسْلَمَتْ.
عمر بن عثمان بن عبد الرحمن بن سعید مخزومی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”چار افراد کو حرم اور حلت میں بھی پناہ نہیں ہے: حویرث بن معبد، مقیس، ہلال بن خطل اور عبداللہ بن ابی سرح۔“ حویرث کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا، مقیس کو اس کے ایک سگے چچا زاد بھائی نے قتل کر دیا، ہلال بن خطل کو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا، جبکہ عبداللہ بن ابی سرح کو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رضاعی بھائی ہونے کی وجہ سے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) امان طلب کی۔ مقیس کی دو گانے والی لونڈیاں تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو گایا کرتی تھیں؛ ایک کو قتل کر دیا گیا، دوسری بچ کر نکل گئی اور وہ مسلمان ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18782]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18783
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ ⦗٣٥٨⦘ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، وَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولُوا: إِنَّ اللهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ". فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو؟ فَقَالَ: قَالَ عَمْرٌو: أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ، إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ نے عمرو بن سعید سے کہا، جو مکہ کی جانب لشکر بھیج رہے تھے کہ اے امیر! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فتح مکہ کے دوسرے دن بات فرمائی تھی، وہ مجھے کہنے کی اجازت دیں۔ میرے دونوں کانوں نے اسے سنا، دل نے اسے یاد رکھا اور میری دونوں آنکھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بات کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے، لوگوں نے نہیں۔ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے حرم میں خون بہانا جائز نہیں ہے اور نہ اس کے درخت کاٹے جائیں۔ اگر کوئی کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتال کی اجازت ملی تھی تو تم کہہ دینا اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی، تمہیں نہیں، اور آپ کو صرف دن کی ایک گھڑی اجازت دی گئی تھی۔ اب اس کی حرمت ویسے ہی ہو گئی جیسے پہلے تھی اور چاہیے کہ حاضر غائب تک بات کو پہنچا دے۔“ سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ عمرو نے آپ سے کیا کہا؟ راوی کہتے ہیں: عمرو نے سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تجھ سے اس بات کو زیادہ جانتا ہوں، حرم کسی گناہ گار قاتل اور فساد کرنے والے کو پناہ نہیں دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18783]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18784
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّمَا مَعْنَى ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّهَا لَمْ يُحَلَّلْ أَنْ يُنْصَبَ عَلَيْهَا الْحَرْبُ حَتَّى تَكُونَ كَغَيْرِهَا، فَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَمَا قُتِلَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ وَخُبَيْبٌ بِقَتْلِ أَبِي سُفْيَانَ فِي دَارٍ بِمَكَّةَ غِيلَةً إِنْ قُدِرَ عَلَيْهِ، وَهَذَا فِي الْوَقْتِ الَّذِي كَانَتْ فِيهِ مُحَرَّمَةً، فَدَلَّ عَلَى أَنَّهَا لَا تَمْنَعُ أَحَدًا مِنْ شَيْءٍ وَجَبَ عَلَيْهِ، وَأَنَّهَا إِنَّمَا يُمْنَعُ مِنْ أَنْ يُنْصَبَ عَلَيْهَا الْحَرْبُ كَمَا يُنْصَبُ عَلَى غَيْرِهَا.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا معنی، واللہ اعلم، یہ ہے کہ مکہ پر جنگ مسلط کرنا حلال نہیں کیا گیا کہ وہ دوسرے شہروں کی طرح ہو جائے۔ جب سیدنا عاصم بن ثابت اور خبیب رضی اللہ عنہما شہید کیے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اگر ابوسفیان پر قابو پایا جا سکے تو اسے مکہ کے ایک گھر میں چپکے سے قتل کر دیا جائے، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مکہ حرمت والا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حرم کسی شخص کو اس چیز سے نہیں بچاتا جو اس پر واجب ہو چکی ہو، بلکہ صرف اس بات سے روکا گیا ہے کہ اس پر اس طرح جنگ مسلط کی جائے جیسے دوسرے علاقوں پر کی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18784]
حدیث نمبر: 18785
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الْوَاقِدِيُّ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، وَزَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَذَكَرَ قِصَّةً فِي بَعْثِ أَبِي سُفْيَانَ مَنْ يَقْتُلُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِيلَةً، وَأَنَّ اللهَ تَعَالَى أَطْلَعَ عَلَيْهِ نَبِيَّهُ، وَأَسْلَمَ الرَّجُلُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ وَسَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ بْنِ حَرِيشٍ:" اخْرُجَا حَتَّى تَأْتِيَا أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، فَإِنْ أَصَبْتُمَا مِنْهُ غِرَّةً فَاقْتُلَاهُ". ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً فِي رُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ عَمْرًا وَإِخْبَارِهِ إِيَّاهُ بِذَلِكَ، وَأَنَّ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ وَسَلَمَةَ بْنَ أَسْلَمَ أَسْنَدَا فِي الْجَبَلِ وَتَغَيَّبَا فِي غَارٍ، ثُمَّ إِنَّ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ خَرَجَ فَقَتَلَ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ مَالِكٍ ابْنَ أَخِي طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، وَجَاءَ إِلَى خُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ وَهُوَ مَصْلُوبٌ فَأَنْزَلَهُ وَأَهَالَ عَلَيْهِ التُّرَابَ، ثُمَّ ذَكَرَ رُجُوعَهُمَا مُنْفَرِدَيْنِ إِلَى الْمَدِينَةِ.
عبد الواحد بن ابی عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض نے کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں اور ابوسفیان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا سے قتل کرنے کا قصہ ذکر کیا ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی، تو قتل کے ارادے سے آنے والا شخص مسلمان ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن امیہ ضمری اور سلمہ بن اسلم بن حریش رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”تم ابوسفیان بن حرب کے پاس جاؤ، اگر تم اسے غافل پاؤ تو قتل کر دینا۔“
(ب) پھر انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھ لینے اور اپنے باپ کو اس کی خبر دینے کا قصہ ذکر کیا ہے کہ عمرو بن امیہ اور سلمہ بن اسلم رضی اللہ عنہما پہاڑ پر چڑھ کر غار میں چھپ گئے، تو عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے غار سے نکل کر عبید اللہ بن مالک کو، جو طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے تھے، قتل کر دیا۔ پھر خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہیں سولی سے اتار کر ان پر مٹی ڈال دی، پھر وہ دونوں اکیلے اکیلے مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18785]
(ب) پھر انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے عمرو رضی اللہ عنہ کو دیکھ لینے اور اپنے باپ کو اس کی خبر دینے کا قصہ ذکر کیا ہے کہ عمرو بن امیہ اور سلمہ بن اسلم رضی اللہ عنہما پہاڑ پر چڑھ کر غار میں چھپ گئے، تو عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے غار سے نکل کر عبید اللہ بن مالک کو، جو طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے تھے، قتل کر دیا۔ پھر خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہیں سولی سے اتار کر ان پر مٹی ڈال دی، پھر وہ دونوں اکیلے اکیلے مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18785]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف