السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3750. -- باب: الحربي إذا لجأ إلى الحرم وكذلك من وجب عليه حد
-- باب: حربی کافر جب حرم میں پناہ لے لے، اور اسی طرح وہ شخص جس پر کوئی حد واجب ہو، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18786
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بَرْصَاءَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ:" لَا تُغْزَى بَعْدَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
حارث بن مالک بن برصاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”یہاں قیامت تک غزوہ نہ کیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18786]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18787
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِي الْحِلِّ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْحَرَمِ فَإِنَّهُ لَا يُجَالَسُ وَلَا يُكَلَّمُ وَلَا يُؤْذَى، وَيُنَاشَدُ حَتَّى يَخْرُجَ، فَإِذَا خَرَجَ أُقِيمَ عَلَيْهِ مَا أَصَابَ، فَإِنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِي الْحِلِّ ثُمَّ أُدْخِلَ الْحَرَمَ فَأَرَادُوا أَنْ يُقِيمُوا عَلَيْهِ مَا أَصَابَ أَخْرَجُوهُ مِنَ الْحَرَمِ إِلَى الْحِلِّ، وَإِنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِي الْحَرَمِ أُقِيمَ عَلَيْهِ فِي الْحَرَمِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا مِِنْ رَأْيِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَقَدْ تَرَكْنَاهُ بِالظَّوَاهِرِ الَّتِي وَرَدَتْ فِي إِقَامَةِ الْحُدُودِ دُونَ تَخْصِيصِ الْحَرَمِ بِتَرْكِهَا فِيهِ مِنْ صَاحِبِ الشَّرِيعَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس نے حل (حدودِ حرم سے باہر) میں قتل یا چوری کی، پھر وہ حرم میں داخل ہو گیا تو ایسے شخص کو نہ پاس بٹھایا جائے، نہ اس سے کلام کیا جائے اور نہ ہی اسے تکلیف دی جائے، بلکہ اس سے حرم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے، جب وہ حرم سے نکل آئے تو اس پر حد جاری کی جائے۔ اگر کسی نے حل میں قتل یا چوری کی، پھر اسے حرم میں اس نیت سے لایا گیا کہ اس پر حد قائم کی جائے تو تم اسے حرم سے نکال کر حل میں لے آؤ، اور اگر کسی نے حرم میں ہی قتل یا چوری کی تو پھر حرم کے اندر ہی اس پر حد جاری کی جائے گی۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ رائے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ہے جسے ہم نے ان ظاہری دلائل کی وجہ سے ترک کر دیا ہے جو حد قائم کرنے کے بارے میں وارد ہیں، جن میں حرم کی تخصیص نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18787]
شیخ فرماتے ہیں: یہ رائے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ہے جسے ہم نے ان ظاہری دلائل کی وجہ سے ترک کر دیا ہے جو حد قائم کرنے کے بارے میں وارد ہیں، جن میں حرم کی تخصیص نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18787]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3751. -- باب: ما جاء في هدايا المشركين للإمام
-- باب: مشرکین کی طرف سے امام کے لیے تحائف کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18788
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةً فَلَبِسَهَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ سَعِيدٌ: عَنْ قَتَادَةَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اکیدر دومہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جبہ ہدیہ میں دیا جس کو آپ زیب تن فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18788]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18789
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ثنا مُعْتَمِرٌ، ح وأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ؟" فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ، فَعُجِنَ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا قَالَ: أَبَيْعٌ أَوْ عَطِيَّةٌ؟ أَوْ قَالَ: أَمْ هِبَةٌ؟ فَقَالَ: بَلْ بَيْعٌ، قَالَ: فَاشْتَرَى مِنْهَا شَاةً فَصُنِعَتْ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى، وَايْمُ اللهِ مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَالْمِائَةِ إِلَّا قَدْ حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا، إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهُ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ. قَالَ: وَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ. قَالَ: فَأَكَلْنَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ فَحَمَلْنَاهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَارِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ.
عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ١٣٠ ساتھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا کسی کے پاس کھانا موجود ہے؟“ جب کسی شخص کے پاس ایک صاع گندم ہوتی تو اسے گوندھ لیا جاتا۔ پھر ایک مشرک آدمی لمبے پراگندہ بالوں والا بکریاں لے کر آیا۔ فرمایا: ”کیا یہ فروخت کرو گے یا ہبہ ہے؟“ اس نے کہا: فروخت کرنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خرید لی، اسے ذبح کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ کے گوشت کے بارے میں حکم دیا کہ اسے بھونا جائے، اللہ کی قسم! ہم ایک سو تیس شخص تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس گوشت سے کاٹ کر دیا؛ اگر کوئی موجود نہ ہوتا تو اس کے لیے الگ کر کے رکھ لیتے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گوشت کو دو پلیٹوں میں ڈال دیا، ہم تمام نے سیر ہو کر کھایا۔ پھر جو باقی بچا اونٹ پر لاد لیا یا جیسے آپ نے فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18789]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18790
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ إِمْلَاءً، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْعَبَّاسِ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى تَبُوكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: وَأَهْدَى مَلِكُ الَأَيْلَةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، فَكَسَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً، وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَهْلِ بْنِ بَكَّارٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ وُهَيْبٍ.
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک کا سفر کیا۔ انہوں نے حدیث کا ذکر کیا جس میں یہ تھا کہ ایلہ کے بادشاہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید خچر تحفہ میں دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چادر پہنائی اور ان کے سمندر (یعنی علاقے) کے بارے میں اسے تحریر لکھ دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18790]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18791
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامٍ، عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ الْهَوْزَنِيُّ، قَالَ: لَقِيتُ بِلَالًا مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي كَيْفَ كَانَتْ نَفَقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: فَإِذَا إِنْسَانٌ يَسْعَى يَدْعُو يَا بِلَالُ أَجِبْ ⦗٣٦٢⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَإِذَا أَرْبَعُ رَكَائِبَ مُنَاخَاتٍ عَلَيْهِنَّ أَحْمَالُهُنَّ، فَاسْتَأْذَنْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرْ فَقَدْ جَاءَكَ اللهُ بِقَضَائِكَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَمْ تَرَ إِلَى الرَّكَائِبِ الْمُنَاخَاتِ الْأَرْبَعِ؟" فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ:" إِنَّ لَكَ رِقَابَهُنَّ وَمَا عَلَيْهِنَّ فَإِنَّ عَلَيْهِنَّ كِسْوَةً وَطَعَامًا أَهْدَاهُنَّ إِلِيَّ عَظِيمُ فَدَكَ فَاقْبِضْهُنَّ وَاقْضِ دَيْنَكَ"، فَفَعَلْتُ.
عبداللہ ہوزنی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ سے ملا اور پوچھا: اے بلال رضی اللہ عنہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خرچے کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے حدیث ذکر کی، جس میں تھا کہ ایک انسان دوڑتا ہوا آیا اور کہا: اے بلال رضی اللہ عنہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بلا رہے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، چار اونٹنیاں سامان سے لدی ہوئی تھیں۔ میں نے اجازت طلب کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، اللہ نے آپ کے قرض کی ادائیگی کا بندوبست کر دیا ہے۔“ پھر فرمایا: ”کیا آپ ان چار سامان سے لدی ہوئی اونٹنیوں کی طرف نہیں دیکھتے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سب تیرے لیے ہیں اور ان پر کپڑے اور کھانا ہے جو فدک کے امیر نے مجھے تحفے میں دیا ہے، یہ لے جا کر اپنا قرض ادا کرو۔“ کہتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18791]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه السجستاني ٣٠٥٥»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18792
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَهْدَى كِسْرَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ مِنْهُ، وَأَهْدَى قَيْصَرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ مِنْهُ، وَأَهْدَتْ لَهُ الْمُلُوكُ فَقَبِلَ مِنْهُمْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ: قَدْ أَهْدَى أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَمًا فَقَبِلَ مِنْهُ، وَأَهْدَى إِلَيْهِ صَاحِبُ الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ مَارِيَةَ أُمَّ إِبْرَاهِيمَ فَقَبِلَهَا، وَغَيْرُهُمَا قَدْ أَهْدَى إِلَيْهِ وَلَمْ يَجْعَلْ ذَلِكَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ.
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسریٰ و قیصر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دیا، جو آپ نے قبول فرمایا اور کئی بادشاہوں نے آپ کو تحفے دیے، جو آپ نے قبول کیے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب نے مشکیزہ، اسکندریہ کے بادشاہ نے ابراہیم کی والدہ ماریہ تحفہ میں دی، جو آپ نے قبول فرمایا، کئی اور لوگوں نے بھی آپ کو تحفے دیے جو مسلمانوں کے درمیان تقسیم نہیں فرمائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18792]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب نے مشکیزہ، اسکندریہ کے بادشاہ نے ابراہیم کی والدہ ماریہ تحفہ میں دی، جو آپ نے قبول فرمایا، کئی اور لوگوں نے بھی آپ کو تحفے دیے جو مسلمانوں کے درمیان تقسیم نہیں فرمائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18792]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18793
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَهْدَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً أَوْ هَدِيَّةً، فَقَالَ:" أَسْلَمْتَ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ". وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ، ثنا يُونُسُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَبُو التَّيَّاحِ، ثنا الْحَسَنُ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَهْدَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً، أَوْ قَالَ: نَاقَةً فَقَالَ لِي:" أَسْلَمْتَ؟" قُلْتُ: لَا، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا وَقَالَ:" إِنَّا لَا نَقْبَلُ زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ". قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَا زَبْدُ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: رِفْدُهُمْ قَالَ الشَّيْخُ: يَحْتَمِلُ رَدُّهُ هَدِيَّتَهُ التَّحْرِيمَ، وَيَحْتَمِلُ التَّنْزِيهَ، وَقَدْ يَغِيظُهُ بِرَدِّ هَدِيَّتِهِ فَيَحْمِلُهُ ذَلِكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَالْأَخْبَارُ فِي قَبُولِ هَدَايَاهُمْ أَصَحُّ وَأَكْثَرُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی تحفہ میں دی یا کوئی تحفہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا مسلمان ہو گئے ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے مشرکین کے تحفے (قبول کرنے) سے منع کیا گیا ہے۔“ (ب) سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ہدیہ یا اونٹنی دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ”کیا مسلمان ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحفہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”ہم مشرکین کے تحفے قبول نہیں کرتے۔“ میں نے حسن رحمہ اللہ سے پوچھا: مشرکین کے تحفے کیا ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ان کے عطیے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کا تحفہ رد کرنا حرمت پر بھی محمول ہو سکتا ہے اور تنزیہ پر بھی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ تحفہ رد کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے غصہ دلانا چاہتے ہوں تاکہ یہ چیز اسے اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرے۔ مشرکین کے تحفے قبول کرنے کے بارے میں روایات زیادہ صحیح اور زیادہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18793]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کا تحفہ رد کرنا حرمت پر بھی محمول ہو سکتا ہے اور تنزیہ پر بھی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ تحفہ رد کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے غصہ دلانا چاہتے ہوں تاکہ یہ چیز اسے اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرے۔ مشرکین کے تحفے قبول کرنے کے بارے میں روایات زیادہ صحیح اور زیادہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18793]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3752. -- باب: نصارى العرب تضعف عليهم الصدقة
-- باب: عرب عیسائیوں پر صدقہ (ٹیکس) دگنا کر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18794
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ السَّفَّاحِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ كُرْدُوسٍ، قَالَ: صَالَحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ⦗٣٦٣⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَنِي تَغْلِبَ عَلَى أَنْ يُضَاعِفَ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةَ، وَلَا يَمْنَعُوا أَحَدًا مِنْهُمْ أَنْ يُسْلِمَ، وَأَنْ لَا يَغْمِسُوا أَوْلَادَهُمْ.
داؤد بن کردوس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بنو تغلب سے اس شرط پر صلح کی کہ ان پر دوگنا صدقہ کیا جائے گا، وہ کسی کو اسلام قبول کرنے سے نہیں روکیں گے اور اپنی اولاد کو پانی میں غوطہ دے کر نہیں رنگیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18794]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18795
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ السَّفَّاحِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ كُرْدُوسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ صَالَحَ بَنِي تَغْلِبَ عَلَى أَنْ لَا يَصْبُغُوا فِي دِينِهِمْ صَبِيًّا، وَعَلَى أَنَّ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةَ مُضَاعَفَةٌ، وَعَلَى أَنْ لَا يُكْرَهُوا عَلَى دِينٍ غَيْرِ دِينِهِمْ، فَكَانَ دَاوُدُ يَقُولُ: مَا لِبَنِي تَغْلِبَ ذِمَّةٌ؛ قَدْ صَبَغُوا.
داؤد بن کردوس، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بنو تغلب سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ اپنے دین میں کسی بچے کو نہیں رنگیں گے اور ان پر دوگنا صدقہ ہے، انہیں ان کے اپنے دین کے علاوہ کسی دوسرے دین پر مجبور نہ کیا جائے گا، داؤد کہتے ہیں کہ بنو تغلب کے لیے کوئی عہد نہ تھا کیونکہ انہوں نے اپنی اولادوں کو عیسائیت میں رنگ دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18795]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف