السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3717. -- باب: من يؤخذ منه الجزية من أهل الكتاب، وهم اليهود والنصارى
-- باب: اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ میں سے جن سے جزیہ لیا جائے گا ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 18632
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْصَاهُ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، زَادَ فِيهِ:" وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ وَأَرَادُوكَ عَلَى أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّكَ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّكَ، وَلَكِنِ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ آبَائِكَ وَذِمَمَ أَصْحَابِكَ، فَإِنَّكُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ آبَائِكُمْ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ". وَلَمْ يَذْكُرْ إِسْنَادَ حَدِيثِ مُقَاتِلٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ دُونَ إِسْنَادِ مُقَاتِلٍ، وَرَوَاهُ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، وَذَكَرَ فِيهِ إِسْنَادَ مُقَاتِلٍ..
سیدنا سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر کا امیر بنا کر روانہ فرماتے تو چند وصیتیں فرماتے۔ اس میں زیادتی ہے کہ ”جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کا تقاضا کریں تو انہیں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کے علاوہ اپنا اور اپنے رفقاء کا ذمہ دو، کیونکہ اگر تم اپنے اور اپنے آباء اور رفقاء کا ذمہ توڑ ڈالو گے تو یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں معمولی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18632]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18633
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ دَعَاهُ فَأَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِزِيَادَتِهِ فِي مَتْنِهِ. ⦗٣١٢⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ..
سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب کبھی سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چھوٹے یا بڑے لشکر کا امیر مقرر فرماتے تو اس کو ”اپنے معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے“ کی نصیحت فرماتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18633]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18634
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، فَذَكَرَهُ.
ایضاً (یہی روایت شعبہ بن حجاج سے ایک دوسری سند کے ساتھ بھی منقول ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18634]
حدیث نمبر: 18635
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَرَوِيُّ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى أَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَأَنْ لَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَيَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ، وَإِنَّمَا قِيلَ الْحَجُّ الْأَكْبَرُ مِنْ أَجْلِ قَوْلِ النَّاسِ الْحَجَّ الْأَصْغَرَ، فَنَبَذَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّاسِ فِي ذَلِكَ الْعَامِ فَلَمْ يَحُجَّ فِي الْعَامِ الْقَابِلِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مُشْرِكٌ، وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْعَامِ الَّذِي نَبَذَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ إِلَى الْمُشْرِكِينَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ} [التوبة: ٢٨] إِلَى قَوْلِهِ: {عَلِيمٌ حَكِيمٌ} [التوبة: ٢٨] ، فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يُوَافُونَ بِالتِّجَارَةِ فَيَنْتَفِعُ بِهَا الْمُسْلِمُونَ، فَلَمَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ أَنْ لَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَجَدَ الْمُسْلِمُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قُطِعَ عَنْهُمْ مِنَ التِّجَارَةِ الَّتِي كَانَ الْمُشْرِكُونَ يُوَافُونَ بِهَا، فَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ إِنْ شَاءَ} [التوبة: ٢٨] ، ثُمَّ أَحَلَّ فِي الْآيَةِ الَّتِي تَتْبَعُهَا الْجِزْيَةَ، وَلَمْ تَكُنْ تُؤْخَذُ قَبْلَ ذَلِكَ، فَجَعَلَهَا عِوَضًا مِمَّا مَنَعَهُمْ مِنْ مُوَافَاةِ الْمُشْرِكِينَ بِتِجَارَاتِهِمْ فَقَالَ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: ٢٩] ، فَلَمَّا أَحَلَّ اللهُ ذَلِكَ لِلْمُسْلِمِينَ عَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ عَاضَهُمْ أَفْضَلَ مِمَّا كَانُوا وَجَدُوا عَلَيْهِ مِمَّا كَانَ الْمُشْرِكُونَ يُوَافُونَ بِهِ مِنَ التِّجَارَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ إِلَى قَوْلِهِ: حَجَّةَ الْوَدَاعِ مُشْرِكٌ دُونَ مَا بَعْدَهُ، وَأَظُنُّهُ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے منی میں قربانی کے دن اعلان کرنے کے لیے روانہ کیا کہ ”آئندہ سال مشرک حج کے لیے نہ آئے۔ بیت اللہ کا کپڑے اتار کر طواف نہ کیا جائے اور حج اکبر قربانی کا دن ہے۔“ یہ بھی کہا گیا کہ لوگوں کا حج اصغر کہنے کی وجہ سے حج اکبر کہا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سال اعلان کروا دیا اور آئندہ سال کسی مشرک نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج نہیں کرنا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اسی سال جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اعلان کروایا یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ﴾ [سورة التوبة: 28] ”اے ایمان والو! مشرک پلید ہیں وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں“ تا ﴿عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 28] ”وہ جاننے والا حکمت والا ہے۔“
مشرکین تجارت کی غرض سے آتے، جن سے مسلمان فائدہ حاصل کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا مسجدِ حرام میں داخلہ بند کر دیا تو مسلمانوں نے خیال کیا کہ تجارت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ إِنْ شَاءَ﴾ [سورة التوبة: 28]
”اگر تمہیں فقیری کا ڈر ہے تو اللہ تمہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا“، تو پھر ان سے جزیہ لینا حلال کر دیا گیا جو اس سے پہلے نہ لیا جاتا تھا۔ یہ اس کا بدل تھا جو وہ مشرکین کی تجارت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ فرمایا: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ [سورة التوبة: 29] ”ان لوگوں سے جہاد کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ اور رسول کی حرام کردہ اشیاء کو حرام نہیں جانتے اور دین حق کو اہل کتاب سے قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں۔“ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے یہ حلال کر دیا تو وہ پہچان گئے کہ اللہ نے ان کو بہتر بدلہ عطا کر دیا ہے جو وہ مشرکین کی تجارت سے حاصل کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18635]
مشرکین تجارت کی غرض سے آتے، جن سے مسلمان فائدہ حاصل کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا مسجدِ حرام میں داخلہ بند کر دیا تو مسلمانوں نے خیال کیا کہ تجارت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ إِنْ شَاءَ﴾ [سورة التوبة: 28]
”اگر تمہیں فقیری کا ڈر ہے تو اللہ تمہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا“، تو پھر ان سے جزیہ لینا حلال کر دیا گیا جو اس سے پہلے نہ لیا جاتا تھا۔ یہ اس کا بدل تھا جو وہ مشرکین کی تجارت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ فرمایا: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ [سورة التوبة: 29] ”ان لوگوں سے جہاد کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ اور رسول کی حرام کردہ اشیاء کو حرام نہیں جانتے اور دین حق کو اہل کتاب سے قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں۔“ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے یہ حلال کر دیا تو وہ پہچان گئے کہ اللہ نے ان کو بہتر بدلہ عطا کر دیا ہے جو وہ مشرکین کی تجارت سے حاصل کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18635]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الي قوله عرهان»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18636
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ} [التوبة: ٢٩] إِلَى قَوْلِهِ: {حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ ⦗٣١٣⦘ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: ٢٩] قَالَ: نَزَلَ هَذَا حِينَ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بِغَزْوَةِ تَبُوكَ.
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ [سورة التوبة: 29] ”ان لوگوں سے جہاد کرو جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین نہیں رکھتے“ اور ﴿حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ [سورة التوبة: 29] ”یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو غزوہ تبوک کا حکم دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18636]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18637
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى تَبُوكَ أَتَاهُ يَحْنَةُ بْنُ رَوْبَةَ صَاحِبُ أَيْلَةَ فَصَالَحَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَاهُ الْجِزْيَةَ وَأَتَاهُ أَهْلُ جَرَبَا وَأَذْرُحَ فَأَعْطَوْهُ الْجِزْيَةَ.
ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک پہنچے تو یحنہ بن روبہ نے صلح کر کے جزیہ ادا کر دیا، اسی طرح اہل جرباء اور اذرح نے بھی جزیہ دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18637]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18638
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: يُقَاتَلُ أَهْلُ الْأَوْثَانِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَيُقَاتَلُ أَهْلُ الْكِتَابِ عَلَى الْجِزْيَةِ.
لیث رحمہ اللہ، مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بتوں کے پجاریوں سے اسلام (قبول کرنے) پر لڑائی کی جائے گی اور اہل کتاب سے جزیہ (ادا کرنے) پر لڑائی کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18638]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3718. -- باب: من لحق بأهل الكتاب قبل نزول الفرقان
-- باب: ان لوگوں کا بیان جو قرآن نازل ہونے سے پہلے اہل کتاب میں شامل ہو گئے۔
حدیث نمبر: 18639
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ: {لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ} [البقرة: ٢٥٦] قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنَ الْأَنْصَارِ لَا يَكَادُ يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ فَتَحْلِفُ: لَئِنْ عَاشَ لَهَا وَلَدٌ لَتُهَوِّدَنَّهُ، فَلَمَّا أُجْلِيَتْ بَنُو النَّضِيرِ إِذَا فِيهِمْ نَاسٌ مِنْ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَبْنَاؤُنَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ} [البقرة: ٢٥٦] . قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: مَنْ شَاءَ لَحِقَ بِهِمْ وَمَنْ شَاءَ دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ. أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ، ⦗٣١٤⦘ وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ فَأَرْسَلَهُ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ [سورة البقرة: 256] کے متعلق فرماتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت کے بچے زندہ نہ رہتے تھے، تو وہ قسم کھاتی کہ اگر اس کا بچہ زندہ رہا تو وہ اسے یہودی بنا دے گی۔ جب بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا تو ان میں انصار کی اولاد بھی تھی تو انصار نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے بیٹے، تو اللہ تعالیٰ نے ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ [سورة البقرة: 256] ”دین میں زبردستی نہیں“ نازل کی؛ سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: جو چاہے ان کے ساتھ مل جائے، جو چاہے اسلام میں داخل ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18639]
حدیث نمبر: 18640
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي قَوْلِهِ: {لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ} [البقرة: ٢٥٦] قَالَ: نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ، قُلْتُ: خَاصَّةً؟ قَالَ: خَاصَّةً، كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ إِذَا كَانَتْ نَزِرَةً أَوْ مِقْلَاةً تَنْذِرُ: لَئِنْ وَلَدَتْ وَلَدًا لَتَجْعَلَنَّهُ فِي الْيَهُودِ تَلْتَمِسُ بِذَلِكَ طُولَ بَقَائِهِ، فَجَاءَ الْإِسْلَامُ وَفِيهِمْ مِنْهُمْ، فَلَمَّا أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ قَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَبْنَاؤُنَا وَإِخْوَانُنَا فِيهِمْ، فَسَكَتَ عَنْهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: {لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ} [البقرة: ٢٥٦] ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ خُيِّرَ أَصْحَابُكُمْ، فَإِنِ اخْتَارُوكُمْ فَهُمْ مِنْكُمْ، وَإِنِ اخْتَارُوهُمْ فَأَجْلُوهُمْ مَعَهُمْ".
ابو بشر اللہ کے اس فرمان ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ [سورة البقرة: 256] کے بارے میں سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اسلام میں زبردستی نہیں ہے۔ فرماتے ہیں: یہ انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ میں نے پوچھا: خاص انصار کے متعلق؟ فرمایا: خاص انصار کے بارے میں۔ ان کی ایک عورت جب نذر مانتی کہ اگر اس نے بچہ جنم دیا تو اس کو یہود کے ساتھ ملا دے گی، وہ اس کی لمبی زندگی کی متلاشی تھی۔ جب اسلام آیا تو بعض لوگ اس طرح کے تھے۔ جب بنو نضیر جلا وطن کیے گئے تو انصار نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے بیٹے اور بھائی ان میں موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے تو یہ آیت ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ [سورة البقرة: 256] نازل ہوئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ان لوگوں کو اختیار دیا گیا ہے، اگر ان کے ساتھ رہنا چاہیں تو جلا وطن کر دو، اگر تمہارے پاس رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18640]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3719. -- باب: من قال تؤخذ منهم الجزية عربا كانوا أو عجما
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان کہ ان سے جزیہ لیا جائے گا خواہ وہ عرب ہوں یا عجم۔
حدیث نمبر: Q18641
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِزْيَةَ مِنْ أُكَيْدِرِ دُومَةَ، وَهُوَ رَجُلٌ يُقَالُ مِنْ غَسَّانَ أَوْ كِنْدَةَ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دومۃ (الجندل) کے (حاکم) اکیدر سے جزیہ وصول کیا، اور کہا جاتا ہے کہ وہ غسان یا کندہ (قبیلے) کا ایک شخص تھا۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: Q18641]