🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3722. -- باب: المجوس أهل كتاب والجزية تؤخذ منهم
-- باب: مجوسی اہل کتاب ہیں اور ان سے بھی جزیہ لیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18660
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، وَزِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ مِنْ أَفْنَاءِ الْأَمْصَارِ يُقَاتِلُونَ الْمُشْرِكِينَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِسْلَامِ الْهُرْمُزَانِ قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي مُسْتَشِيرُكَ فِي مَغَازِيَّ هَذِهِ فَأَشِرْ عَلَيَّ فِي مَغَازِي الْمُسْلِمِينَ. قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، الْأَرْضُ مَثَلُهَا وَمَثَلُ مَنْ فِيهَا مِنَ النَّاسِ مِنْ عَدُوِّ الْمُسْلِمِينَ مَثَلُ طَائِرٍ لَهُ رَأْسٌ وَلَهُ جَنَاحَانِ وَلَهُ رِجْلَانِ، فَإِنْ كُسِرَ أَحَدُ الْجَنَاحَيْنِ نَهَضَتِ الرِّجْلَانِ بِجَنَاحٍ وَالرَّأْسُ، وَإِنْ كُسِرَ الْجَنَاحُ الْآخَرُ نَهَضَتِ الرِّجْلَانِ وَالرَّأْسُ، وَإِنْ شُدِخَ الرَّأْسُ ذَهَبَ الرِّجْلَانِ وَالْجَنَاحَانِ وَالرَّأْسُ، فَالرَّأْسُ كِسْرَى، وَالْجَنَاحُ قَيْصَرُ، وَالْجَنَاحُ الْآخَرُ فَارِسُ، فَمُرِ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَنْفِرُوا إِلَى كِسْرَى. فَقَالَ بَكْرٌ وَزِيَادٌ جَمِيعًا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ قَالَ: فَنَدَبَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْنَا رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَحَشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَعَهُ. قَالَ: وَخَرَجْنَا فِيمَنْ خَرَجَ مِنَ النَّاسِ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنَ الْقَوْمِ وَأَدَاةُ النَّاسِ وَسِلَاحُهُمُ الْجَحْفُ وَالرِّمَاحُ الْمُكَسَّرَةُ وَالنَّبْلُ. قَالَ: فَانْطَلَقْنَا نَسِيرُ وَمَا لَنَا كَثِيرُ ⦗٣٢٢⦘ خُيُولٍ، أَوْ مَا لَنَا خُيُولٌ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَرْضِ الْعَدُوِّ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ نَهَرٌ، خَرَجَ عَلَيْنَا عَامِلُ كِسْرَى فِي أَرْبَعِينَ أَلْفًا، حَتَّى وَقَفُوا عَلَى النَّهَرِ وَوَقَفْنَا مِنْ حِيَالِهِ الْآخَرِ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَخْرِجُوا إِلَيْنَا رَجُلًا يُكَلِّمُنَا، فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، وَكَانَ رَجُلًا قَدِ اتَّجَرَ وَعَلِمَ الْأَلْسِنَةَ. قَالَ: فَقَامَ تُرْجُمَانُ الْقَوْمِ فَتَكَلَّمَ دُونَ مَلِكِهِمْ قَالَ: فَقَالَ لِلنَّاسِ: لِيُكَلِّمْنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: سَلْ عَمَّا شِئْتَ، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ؟ فَقَالَ: نَحْنُ نَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ كُنَّا فِي شَقَاءٍ شَدِيدٍ وَبَلَاءٍ طَوِيلٍ، نَمُصُّ الْجِلْدَ وَالنَّوَى مِنَ الْجُوعِ، وَنَلْبَسُ الْوَبَرَ وَالشَّعَرَ، وَنَعْبُدُ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ إِلَيْنَا نَبِيًّا مِنْ أَنْفُسِنَا نَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، فَأَمَرَنَا نَبِيُّنَا رَسُولُ رَبِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُقَاتِلَكُمْ حَتَّى تَعْبُدُوا اللهَ وَحْدَهُ أَوْ تُؤَدُّوا الْجِزْيَةَ، فَأَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا عَنْ رِسَالَةِ رَبِّنَا أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى جَنَّةٍ وَنَعِيمٍ لَمْ يَرَ مِثْلَهُ قَطُّ، وَمَنْ بَقِيَ مِنَّا مَلَكَ رِقَابَكُمْ. قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ بَعْدَ غَدٍ حَتَّى نَأْمُرَ بِالْجِسْرِ يُجْسَرُ. قَالَ: فَافْتَرَقُوا وَجَسَرُوا الْجِسْرَ، ثُمَّ إِنَّ أَعْدَاءَ اللهِ قَطَعُوا إِلَيْنَا فِي مِائَةِ أَلْفٍ، سِتُّونَ أَلْفًا يَجُرُّونَ الْحَدِيدَ، وَأَرْبَعُونَ أَلْفًا رُمَاةُ الْحَدَقِ، فَأَطَافُوا بِنَا عَشْرَ مَرَّاتٍ. قَالَ: وَكُنَّا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، فَقَالُوا: هَاتُوا لَنَا رَجُلًا يُكَلِّمُنَا، فَأَخْرَجْنَا الْمُغِيرَةَ، فَأَعَادَ عَلَيْهِمْ كَلَامَهُ الْأَوَّلَ، فَقَالَ الْمَلِكُ: أَتَدْرُونَ مَا مَثَلُنَا وَمَثَلُكُمْ؟ قَالَ الْمُغِيرَةُ: مَا مَثَلُنَا وَمَثَلُكُمْ؟ قَالَ: مَثَلُ رَجُلٍ لَهُ بُسْتَانٌ ذُو رَيَاحِينَ، وَكَانَ لَهُ ثَعْلَبٌ قَدْ آذَاهُ، فَقَالَ لَهُ رَبُّ الْبُسْتَانِ: يَا أَيُّهَا الثَّعْلَبُ لَوْلَا أَنْ تُنَتِّنَ حَائِطِي مِنْ جِيفَتِكَ لَهَيَّأْتُ مَا قَدْ قَتَلَكَ، وَأَنَا لَوْلَا أَنْ تُنَتَّنَ بِلَادُنَا مِنْ جِيفَتِكُمْ لَكُنَّا قَدْ قَتَلْنَاكُمْ بِالْأَمْسِ. قَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ: هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ الثَّعْلَبُ لِرَبِّ الْبُسْتَانِ؟ قَالَ: مَا قَالَ لَهُ؟ قَالَ: قَالَ لَهُ: يَا رَبَّ الْبُسْتَانِ أَنْ أَمُوتَ فِي حَائِطِكَ ذَا بَيْنَ الرَّيَاحِينِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى أَرْضٍ قَفْرٍ لَيْسَ بِهَا شَيْءٌ، وَإِنَّهُ وَاللهِ لَوْ لَمْ يَكُنْ دِينٌ وَقَدْ كُنَّا مِنْ شَقَاءِ الْعَيْشِ فِيمَا ذَكَرْتُ لَكَ مَا عُدْنَا فِي ذَلِكَ الشَّقَاءِ أَبَدًا حَتَّى نُشَارِكَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ أَوْ نَمُوتَ، فَكَيْفَ بِنَا وَمَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَى رَحْمَةِ اللهِ وَجَنَّتِهِ، وَمَنْ بَقِيَ مِنَّا مَلَكَ رِقَابَكُمْ. قَالَ جُبَيْرٌ: فَأَقَمْنَا عَلَيْهِمْ يَوْمًا لَا نُقَاتِلُهُمْ وَلَا يُقَاتِلُنَا الْقَوْمُ. قَالَ: فَقَامَ الْمُغِيرَةُ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا الْأَمِيرُ إِنَّ النَّهَارَ قَدْ صَنَعَ مَا تَرَى، وَاللهِ لَوْ وُلِّيتُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مِثْلَ الَّذِي وُلِّيتَ مِنْهُمْ لَأَلْحَقْتُ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ بِمَا أَحَبَّ. فَقَالَ النُّعْمَانُ: رُبَّمَا أَشْهَدَكَ اللهُ مِثْلَهَا ثُمَّ لَمْ يُنَدِّمْكَ وَلَمْ يُخْزِكَ، وَلَكِنِّي شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا كَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ انْتَظَرَ حَتَّى تَهُبَّ الْأَرْوَاحُ وَتَحْضُرَ الصَّلَاةُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَسْتُ لِكُلِّكُمْ أَسْمَعُ فَانْظُرُوا إِلَى رَايَتِي هَذِهِ، فَإِذَا حَرَّكْتُهَا فَاسْتَعِدُّوا، مَنْ أَرَادَ أَنْ يَطْعَنَ بِرُمْحِهِ فَلْيُيَسِّرْهُ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَضْرِبَ بِعَصَاهُ فَلْيُيَسِّرْ عَصَاهُ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَطْعَنَ بِخِنْجَرِهِ فَلْيُيَسِّرْهُ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهِ فَلْيُيَسِّرْ سَيْفَهُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي مُحَرِّكُهَا الثَّانِيَةَ فَاسْتَعِدُّوا، ثُمَّ إِنِّي مُحَرِّكُهَا الثَّالِثَةَ⦗٣٢٣⦘ فَشُدُّوا عَلَى بَرَكَةِ اللهِ، فَإِنْ قُتِلْتُ فَالْأَمِيرُ أَخِي، وَإِنْ قُتِلَ أَخِي فَالْأَمِيرُ حُذَيْفَةُ، فَإِنْ قُتِلَ حُذَيْفَةُ فَالْأَمِيرُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ. قَالَ: وَقَدْ حَدَّثَنِي زِيَادٌ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: قَتَلَهُمُ اللهُ فَنَظَرُوا إِلَى بَغْلٍ مُوَقَّرٍ عَسَلًا وَسَمْنًا قَدْ كَدَسَتِ الْقَتْلَى عَلَيْهِ فَمَا أُشَبِّهُهُ إِلَّا كَوْمًا مِنْ كَوْمِ السَّمَكِ مُلْقًى بَعْضُهُ عَلَى بَعْضٍ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَكُونُ الْقَتْلُ فِي الْأَرْضِ وَلَكِنَّ هَذَا شَيْءٌ صَنَعَهُ اللهُ، وَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ، وَقُتِلَ النُّعْمَانُ وَأَخُوهُ، وَصَارَ الْأَمْرُ إِلَى حُذَيْفَةَ. فَهَذَا حَدِيثُ زِيَادٍ وَبَكْرٍ.
جبیر بن حیہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مشرکوں سے قتال کے لیے مختلف شہروں میں لوگوں کو روانہ کیا۔ انہوں نے حدیث ذکر کی جس میں ہرمزان کے اسلام لانے کا تذکرہ بھی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے کہا: میں اپنی ان جنگوں کے بارے میں تم سے مشورہ لینا چاہتا ہوں، تو مجھے مسلمانوں کی جنگوں کے بارے میں مشورہ دو، تو اس نے کہا: جی ہاں، اے امیر المؤمنین! اس زمین کی مثال اور جس زمین میں یہ لوگ رہتے ہیں ایک پرندے کی ہے کہ ایک اس کا سر، دو پر اور دو پاؤں ہیں، اگر ایک پر کاٹ دیا جائے تو ایک پر، دو پاؤں اور ایک سر سے پرواز کرے گا۔ اگر دوسرا پر بھی کاٹ دیا جائے تو دونوں پاؤں اور سر کے ذریعے اڑے گا۔ اگر سر بھی کچل دیا جائے تو پھر پاؤں، پر اور سر سب ختم ہوجائیں گے۔ سر سے مراد کسریٰ، پر سے مراد قیصر اور دوسرا پر فارس ہے۔ آپ مسلمانوں کو حکم دیں کہ وہ کسریٰ کی جانب جائیں۔ بکر و زیاد دونوں جبیر بن حیہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں بلوا کر ہمارا امیر قبیلہ مزینہ کے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو بنا دیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم بھی لوگوں کے ساتھ نکل پڑے یہاں تک کہ ہم دشمن قوم کے قریب ہو گئے، اور ہمارے لوگوں کا سامانِ حرب اور ہتھیار چمڑے کی ڈھالیں، ٹوٹے ہوئے نیزے اور تیر تھے۔ ہم چلتے رہے۔ جب دشمن کے قریب آئے تو ہمارے پاس زیادہ گھوڑے نہ تھے۔ ہمارے اور دشمن کے درمیان ایک نہر تھی۔ کسریٰ کے عامل نے چالیس ہزار کا لشکر لا کر نہر کی دوسری جانب کھڑا کر دیا۔ اس نے کہا: بات چیت کے لیے کوئی آدمی نکالو۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو نکالا گیا کیونکہ یہ تاجر آدمی تھے اور زبان سمجھتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ ترجمان نے بات چیت شروع کی۔ کہنے لگا: تمہارا کوئی اور آدمی بات کرے؟ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چاہو پوچھو۔ اس ترجمان نے پوچھا: تم کون ہو؟ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہم عرب لوگ ہیں، مصیبت کے مارے ہوئے اور پریشانیوں میں گھرے ہوئے، ہم تو بھوک کے مارے چمڑے کو چوستے ہیں اور گٹھلیاں کھاتے ہیں۔ ہم اونی اور بالوں والا لباس پہنتے ہیں، ہم شجر و حجر کی عبادت کرتے تھے کہ آسمانوں و زمین کے رب نے ہماری جانب ہمارے اندر سے ایک رسول صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرما دیا جن کے والدین کو ہم جانتے ہیں، تو ہمارے رب کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ”تمہارے ساتھ قتال کریں یہاں تک کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو یا جزیہ ادا کرو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بھی خبر دی کہ ”ہم میں سے جو قتل کیا جائے گا وہ ایسی جنت اور نعمتوں کی طرف جائے گا جن کی مثل اس نے کبھی نہ دیکھی ہوگی، اور ہم میں سے جو باقی رہے گا وہ تمہاری گردنوں کا مالک بن جائے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس شخص نے کہا: کل ہم اپنے اور تمہارے درمیان پل بنانے کا حکم دے دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: جب پل بن گیا تو اللہ کے دشمنوں نے ہماری طرف ایک لاکھ کا لشکر مرتب کیا۔ ساٹھ ہزار کا لشکر وہ لوہے میں غرق اور چالیس ہزار تیر انداز تھے۔ وہ ہمارے اردگرد دس مرتبہ گھومے۔ راوی کہتے ہیں: ہم صرف بارہ ہزار تھے۔ انہوں نے پھر کہا: کوئی آدمی نکالو جو ہم سے بات چیت کرے۔ ہم نے پھر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو نکالا تو انہوں نے پہلے والی کلام دہرائی۔ بادشاہ نے کہا: تم اپنی اور ہماری مثال کو جانتے ہو؟ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہماری اور تمہاری کیا مثال ہے؟ اس بادشاہ نے کہا: اس شخص کی مثال جس کے پاس خوشبودار پودوں والا ایک باغ ہو اور ایک لومڑی نے اس کو تکلیف دی ہو تو باغ کا مالک کہتا ہے: اے لومڑی! اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تیری لاش سے میرا باغ بدبودار ہو جائے گا تو میں ایسی چیز تیار کر دیتا جو تجھے قتل کر دیتی۔ اور اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تمہاری لاشوں سے ہمارے شہر بدبودار ہو جائیں گے تو ہم تمہیں کل ہی قتل کر چکے ہوتے۔ تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: جانتے ہو لومڑی نے بستان کے مالک کو کیا جواب دیا تھا؟ تو بادشاہ کہنے لگا: کیا جواب دیا اس نے؟ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس نے کہا: اے باغ کے مالک! مجھے تیرے اس باغ میں خوشبودار پودوں کے درمیان مرنا زیادہ پسندیدہ ہے بہ نسبت اس کے کہ میں ایسی بنجر زمین کی طرف نکل جاؤں جہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! اگر کوئی دین نہ بھی ہوتا، جبکہ ہم اس بدحالی میں تھے جو میں نے تیرے سامنے بیان کی ہے، تب بھی ہم اس بدحالی میں کبھی واپس نہ جاتے یہاں تک کہ جن نعمتوں میں تم ہو ان میں تمہارے شریک ہو جائیں یا مارے جائیں، تو اب ہمارا کیا حال ہوگا جبکہ ہم میں سے جو مارا گیا وہ اللہ کی رحمت اور جنت کا وارث ہوگا اور جو باقی بچا وہ تمہاری گردنوں کا وارث یعنی بادشاہ ہوگا۔ جبیر کہتے ہیں: ایک دن تک نہ انہوں نے اور نہ ہی ہم نے لڑائی کی۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر! دن گزر گیا، جس طرح اللہ نے آپ کو امیر بنایا ہے اگر میں ہوتا تو جنگ شروع کروا چکا ہوتا، پھر جو اللہ کو منظور ہوتا فیصلہ فرما دیتے۔ نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نے کہا: بسا اوقات اللہ نے آپ کو ایسے مواقع میں حاضر کیا ہے، پھر نہ آپ کو ندامت دی اور نہ رسوا کیا، لیکن میں بہت دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر رہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے ابتدائی حصے میں لڑائی نہ کرتے تو ہواؤں کے چلنے اور نماز کا وقت آنے کا انتظار فرماتے۔ خبردار! اے لوگو! میں تم کو آواز نہ دوں گا بلکہ میرے جھنڈے کو دیکھتے رہنا، جب میں اس کو حرکت دوں تو تیاری کر لینا۔ جو نیزہ مارنا چاہے یا لاٹھی تو اپنے ہتھیار تیار کر لینا۔ جو خنجر یا تلوار مارنا چاہے وہ بھی تیاری کر لے۔ جب دوسری مرتبہ جھنڈے کو حرکت دوں تب ہی تیار ہو جاؤ، جب تیسری بار حرکت دی جائے تو حملہ کر دینا۔ اگر میں قتل ہو جاؤں تو میرا بھائی امیر ہوگا۔ اگر وہ شہید ہو جائے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔ اگر وہ بھی مارے جائیں تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔
(ب) زیاد کے والد بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کو قتل کر ڈالا تو ہم نے ایک خچر شہد و گھی سے لدی ہوئی دیکھی کہ مقتولوں کا ڈھیر تھا۔ اس کے مثل کوئی چیز نہ تھی جیسے مچھلیوں کا ڈھیر ہوتا ہے جسے ایک دوسرے کے اوپر ڈالا گیا ہے۔ میں پہچان گیا کہ زمین میں قتل ہے لیکن یہ چیز اللہ نے مقدر کی تھی۔ مسلمان غالب آگئے۔ نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی شہید ہو گئے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ امیر تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18660]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري ٣١٦٠»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18661
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: كَتَبَ حُذَيْفَةُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أُصِيبَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ، وَفِيمَنْ لَا يَعْرِفُ أَكْثَرُ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ رَفَعَ صَوْتَهُ ثُمَّ بَكَى وَبَكَى فَقَالَ: بَلِ اللهُ يَعْرِفُهُمْ - ثَلَاثًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا عَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الرَّقِّيِّ وَفِيهِ دِلَالَةٌ عَلَى أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، فَقَدْ كَانَ كِسْرَى وَأَصْحَابُهُ مَجُوسًا.
ابو رجاء حنفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ فلاں، فلاں مہاجر شہید ہو گئے اور ان کے بارے میں لکھا جن کی پہچان نہ ہو سکی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط کو پڑھا تو روئے اور فرمایا: اللہ ان کو جانتے ہیں، تین مرتبہ فرمایا۔ (ب) اس میں جزیہ لینے پر دلالت ہے کیونکہ کسریٰ اور ساتھی مجوسی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18661]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18662
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ أَهْلَ فَارِسَ لَمَّا مَاتَ نَبِيُّهُمْ كَتَبَ لَهُمْ إِبْلِيسُ الْمَجُوسِيَّةَ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب اہل فارس کا نبی فوت ہو گیا تو ابلیس نے ان کے لیے مجوسیت لکھ دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18662]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3723. -- باب: الفرق بين نكاح نساء من يؤخذ منه الجزية وذبائحهم
-- باب: جن لوگوں سے جزیہ لیا جاتا ہے ان کی عورتوں سے نکاح اور ان کے ذبیحوں کے درمیان فرق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18663
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَجُوسِ هَجَرَ يَعْرِضُ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ، فَمَنْ أَسْلَمَ قَبِلَ مِنْهُ، وَمَنْ أَبَى ضُرِبَتْ عَلَيْهِ الْجِزْيَةُ عَلَى أَنْ لَا تُؤْكَلَ لَهُمْ ذَبِيحَةٌ وَلَا تُنْكَحَ لَهُمُ امْرَأَةٌ. ⦗٣٢٤⦘ هَذَا مُرْسَلٌ، وَإِجْمَاعُ أَكْثَرِ الْمُسْلِمِينَ عَلَيْهِ يُؤَكِّدُهُ وَلَا يَصِحُّ مَا رُوِيَ عَنْ حُذَيْفَةَ فِي نِكَاحِ مَجُوسِيَّةٍ، وَالرِّوَايَةُ فِي نَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَرِدُ فِي مَوْضِعِهَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حسن بن محمد بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے مجوس کو اسلام کی دعوت دی۔ جس نے اسلام قبول کر لیا تو درست وگرنہ دوسروں پر جزیہ لاگو کر دیا اور فرمایا: ”ان کا ذبح شدہ جانور نہ کھایا جائے اور ان کی عورتوں سے نکاح نہ کیا جائے۔“
یہ روایت مرسل ہے، اور اکثر مسلمانوں کا اس پر اجماع اس کی تائید کرتا ہے، اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مجوسی عورت سے نکاح کے بارے میں جو روایت کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18663]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3724. -- باب: كم الجزية
-- باب: جزیہ کی مقدار کتنی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18664
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا، أَوْ عِدْلَهُ ثَوْبَ مَعَافِرَ.
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن روانہ کیا اور فرمایا: ”گائے والوں سے ہر تیس گایوں پر ایک سال کا بچہ وصول کیا جائے اور چالیس گایوں پر دو سال کا بچہ وصول کیا جائے اور ہر بالغ کے ذمہ ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18664]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18665
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ، يَعْنِي مُحْتَلِمًا، دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مِنَ الْمَعَافِرِيِّ ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيَمَنِ..
ابو وائل سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی جانب روانہ کیا تو فرمایا: ”گائے والوں سے ہر تیس پر ایک سالہ نر یا مادہ وصول کرنا اور ہر چالیس گائے پر دو دانت والا اور ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر یمن کے بنے ہوئے معافری کپڑے وصول کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18665]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18666
قَالَ: وَحَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ بَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِنْكَارًا شَدِيدًا. قَالَ الشَّيْخُ: إِنَّمَا الْمُنْكَرُ رِوَايَةُ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذٍ، فَأَمَّا رِوَايَةُ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، فَإِنَّهَا مَحْفُوظَةٌ قَدْ رَوَاهَا عَنِ الْأَعْمَشِ جَمَاعَةٌ، مِنْهُمْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَمَعْمَرٌ، وَجَرِيرٌ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ مُعَاذٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ، ⦗٣٢٥⦘ وَأَمَّا حَدِيثُ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فَالصَّوَابُ كَمَا.
مسروق سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل نقل فرماتے ہیں۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بعض نسخوں میں فرمایا: یہ حدیث منکر ہے، مجھے امام احمد رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ اس حدیث کا سختی سے انکار کرتے تھے۔
شیخ (امام بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: منکر تو صرف ابومعاویہ کی اعمش سے، ان کی ابراہیم سے، ان کی مسروق سے اور ان کی معاذ سے روایت ہے، رہی اعمش کی ابووائل سے اور ان کی مسروق سے روایت تو وہ محفوظ ہے، اسے اعمش سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے، جن میں سفیان ثوری، شعبہ، معمر، جریر، ابوعوانہ، یحییٰ بن سعید اور حفص بن غیاث شامل ہیں۔ ان میں سے بعض نے ”معاذ سے“ کہا اور بعض نے کہا: ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا“ یا اس کے ہم معنی الفاظ۔ اور اعمش کی ابراہیم سے روایت کے بارے میں درست بات وہی ہے جو ذکر ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18666]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18667
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: قَالَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً ثَنِيَّةً، وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ. هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ حَدِيثُ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَحَدِيثُهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ مُنْقَطِعٌ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ مَسْرُوقٍ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا اور حکم فرمایا: ”چالیس گائے پر ایک ثنیہ اور ہر تیس گائے پر ایک تبیعہ، نر یا مادہ، اور ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا وصول کرنا۔“
یہی محفوظ ہے، یعنی اعمش کی ابووائل شقیق بن سلمہ سے اور ان کی مسروق سے روایت، اور اعمش کی ابراہیم سے روایت منقطع ہے، اس میں مسروق کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18667]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18668
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ أَنَّ" عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْكُمْ دِينَارًا كُلَّ سَنَةٍ أَوْ قِيمَتَهُ مِنَ الْمَعَافِرِ"، يَعْنِي أَهْلَ الذِّمَّةِ مِنْهُمْ.
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن والوں کو خط لکھا کہ: ”تمہارے ہر بالغ پر سال میں ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا ہے یعنی ذمی لوگوں پر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18668]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18669
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، وَهِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، بِإِسْنَادٍ لَا أَحْفَظُهُ غَيْرَ أَنَّهُ حَسَنٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ دِينَارًا كُلَّ سَنَةٍ، فَقُلْتُ لِمُطَرِّفِ بْنِ مَازِنٍ فَإِنَّهُ يُقَالُ: وَعَلَى النِّسَاءِ أَيْضًا، فَقَالَ: لَيْسَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ مِنَ النِّسَاءِ ثَابِتًا عِنْدَنَا.
ہشام بن یوسف اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے ذمی لوگوں پر سال میں ایک دینار مقرر کیا۔ کہتے ہیں: میں نے مطرف بن مازن سے کہا: کیا عورتوں پر بھی؟ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے وصول کیا ہو، ہمارے نزدیک یہ ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18669]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں