السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3719. -- باب: من قال تؤخذ منهم الجزية عربا كانوا أو عجما
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان کہ ان سے جزیہ لیا جائے گا خواہ وہ عرب ہوں یا عجم۔
حدیث نمبر: 18641
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ فَأَخَذُوهُ فَأَتَوْا بِهِ، فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ عَلَى الْجِزْيَةِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور عثمان بن ابی سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اکیدر دومہ کی جانب روانہ کیا، تو وہ اسے پکڑ کر لے آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون نہ بہایا اور اس سے جزیہ پر صلح کر لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18641]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18642
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، رَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ، كَانَ مَلِكًا عَلَى دُومَةَ، وَكَانَ نَصْرَانِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالِدٍ:" إِنَّكَ سَتَجِدُهُ يَصِيدُ الْبَقَرَ"، فَخَرَجَ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ حِصْنِهِ مَنْظَرَ الْعَيْنِ، وَفِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ صَافِيَةٍ وَهُوَ عَلَى سَطْحٍ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ، فَأَتَتِ الْبَقَرُ تَحُكُّ بِقُرُونِهَا بَابَ الْقَصْرِ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: هَلْ رَأَيْتَ مِثْلَ هَذَا قَطُّ؟ قَالَ: لَا وَاللهِ، قَالَتْ: فَمَنْ يَتْرُكُ مِثْلَ هَذَا؟ قَالَ: لَا أَحَدَ، فَنَزَلَ فَأَمَرَ بِفَرَسِهِ فَأُسْرِجَ ⦗٣١٥⦘ وَرَكِبَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فِيهِمْ أَخٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ حَسَّانُ، فَخَرَجُوا مَعَهُ بِمَطَارِفِهِمْ، فَتَلَقَّاهُمْ خَيْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْهُ وَقَتَلُوا أَخَاهُ حَسَّانَ، وَكَانَ عَلَيْهِ قُبَاءُ دِيبَاجٍ مَخُوصٍ بِالذَّهَبِ، فَاسْتَلَبَهُ إِيَّاهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ قُدُومِهِ عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّ خَالِدًا قَدِمَ بِالْأُكَيْدِرِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ عَلَى الْجِزْيَةِ وَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَرَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِزْيَةَ مِنْ أَهْلِ ذِمَّةِ الْيَمَنِ، وَعَامَّتُهُمْ عَرَبٌ، وَمَنْ أَهْلِ نَجْرَانَ وَفِيهِمْ عَرَبٌ.
یزید بن رومان اور حضرت عبداللہ بن ابی بکر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اکیدر بن عبد الملک، جو دومہ کا عیسائی بادشاہ اور کندہ کا ایک فرد تھا، کی جانب روانہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تُو اس کو گائے کا شکار کرتے ہوئے پائے گا۔“ جب خالد رضی اللہ عنہ اس کے قلعہ پر پہنچے تو چاندنی رات میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ چھت پر موجود تھا، گائے نے آ کر محل کے دروازے کے ساتھ خارش کرنا شروع کر دی تو اس کی بیوی نے کہا: کیا آپ نے اس جیسا کبھی دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ اس کی بیوی نے کہا: اس جیسے کو کون چھوڑے گا؟ اس نے کہا: کوئی بھی نہیں۔ تو وہ نیچے اترا اور گھوڑے لانے کا حکم دیا۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کے درمیان، جس میں اس کا بھائی حسان بھی تھا، نکلا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک گروہ نے انہیں پکڑ لیا اور اس کے بھائی حسان کو قتل کر دیا۔ اس پر ریشمی قباء تھی جس پر سونے کا کام ہوا تھا، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے سے پہلے اسے روانہ کر دیا۔ پھر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اکیدر کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون معاف کر دیا اور جزیہ پر صلح کر لی اور اسے واپس جانے کی اجازت دے دی۔
شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے ذمیوں سے، جن میں سے اکثر عرب تھے، اور اہل نجران سے، جن میں عرب بھی تھے، جزیہ وصول کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18642]
شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے ذمیوں سے، جن میں سے اکثر عرب تھے، اور اہل نجران سے، جن میں عرب بھی تھے، جزیہ وصول کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18642]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18643
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ. قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: وَإِنَّمَا هَذِهِ الْجِزْيَةُ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَهُمْ قَوْمٌ عُرْبٌ؛ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ قَالَ: لَا يُفْتَنُ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِيَّةٍ" يَعْنِي فِي رِوَايَتِهِ عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ بِذَلِكَ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا اور حکم دیا کہ ”میں ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا وصول کروں۔“ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ یمن والے عرب لوگ تھے، ان سے جزیہ وصول کیا گیا، اس لیے کہ وہ اہل کتاب ہیں اور کہا: آپ کو معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”کسی یہودی کو اس کی یہودیت سے نہ ہٹایا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18643]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18644
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، أنبأ أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَالَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ نَجْرَانَ عَلَى أَلْفَيْ حُلَّةٍ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے دو ہزار سوٹ پر صلح کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18644]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18645
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِزْيَةَ مِنْ أُكَيْدِرَ الْغَسَّانِيِّ وَيَرْوُونَ أَنَّهُ صَالَحَ رِجَالًا مِنَ الْعَرَبِ عَلَى الْجِزْيَةِ، فَأَمَّا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَنْ بَعْدَهُ مِنَ الْخُلَفَاءِ إِلَى الْيَوْمِ فَقَدْ أَخَذُوا الْجِزْيَةَ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ وَتَنُّوخَ وَبَهْرَاءَ وَخُلْطٍ مِنْ خُلْطِ الْعَرَبِ، وَهُمْ إِلَى السَّاعَةِ مُقِيمُونَ عَلَى النَّصْرَانِيَّةِ، يُضَاعَفُ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةُ وَذَلِكَ جِزْيَةٌ، وَإِنَّمَا الْجِزْيَةُ عَلَى الْأَدْيَانِ لَا عَلَى الْأَنْسَابِ، وَلَوْلَا أَنْ نَأْثَمَ بِتَمَنِّي بَاطِلٍ وَدِدْنَا أَنَّ الَّذِي قَالَ أَبُو يُوسُفَ كَمَا قَالَ، وَأَنْ لَا يُجْرَى صَغَارٌ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَكِنَّ اللهَ أَجَلُّ فِي أَعْيُنِنَا مِنْ أَنْ نُحِبَّ غَيْرَ مَا قَضَى بِهِ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیدر غسانی سے جزیہ وصول کیا اور لوگ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے کچھ لوگوں سے جزیہ پر صلح کی۔ رہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد آج تک جتنے خلفاء ہوئے ہیں تو ان سب نے بنو تغلب، تنوخ، بہراء اور عرب کے ملے جلے قبائل سے جزیہ وصول کیا، اور وہ اس وقت تک عیسائیت پر قائم ہیں، ان پر صدقہ دو گنا کیا جاتا ہے اور یہی جزیہ ہے، اور جزیہ ادیان پر ہوتا ہے نہ کہ نسلوں پر۔ اگر باطل کی تمنا کرنے کی وجہ سے ہمارے گناہ گار ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم یہ چاہتے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی بات ویسے ہی ہوتی جیسے انہوں نے کہی، اور کسی عربی پر ذلت مسلط نہ کی جاتی، لیکن اللہ ہماری نگاہوں میں اس سے کہیں زیادہ بلند ہے کہ ہم اس کے فیصلے کے علاوہ کسی اور چیز کو پسند کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18645]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18646
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَوْمَ الْمَرْجِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَمْنَعُ الدِّينَ بِنَصَارَى مِنْ رَبِيعَةَ عَلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ" مَا تَرَكْتُ عَرَبِيًّا إِلَّا قَتَلْتُهُ أَوْ يُسْلِمَ.
سعید بن عمرو بن سعید نے اپنے والد سے مرج کے دن سنا کہ وہ کہہ رہے تھے: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ ”اللہ رب العزت فرات کے کنارے پر ربیعہ کے عیسائیوں کے ذریعے دین کی حفاظت فرمائیں گے“ تو میں کسی عربی کو قتل کرنے سے نہ چھوڑتا یا وہ اسلام قبول کر لیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18646]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18647
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ وُرُودِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ مِنْ جِهَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحِيرَةَ وَمُحَاوَرَةِ هَانِئِ بْنِ قَبِيصَةَ إِيَّاهُ فَقَالَ خَالِدٌ: أَدْعُوكُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَإِلَى أَنْ تَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتُقِرُّوا بِأَحْكَامِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى أَنَّ لَكُمْ مِثْلَ مَا لَهُمْ وَعَلَيْكُمْ مِثْلَ مَا عَلَيْهِمْ. فَقَالَ هَانِئٌ: وَإِنْ لَمْ أَشَأْ ذَلِكَ فَمَهْ؟ قَالَ: فَإِنْ أَبَيْتُمْ ذَلِكَ أَدَّيْتُمُ الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ. قَالَ: فَإِنْ أَبَيْنَا ذَلِكَ؟ قَالَ: فَإِنْ أَبَيْتُمْ ذَلِكَ وَطِئْتُكُمْ بِقَوْمٍ الْمَوْتُ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الْحَيَاةِ إِلَيْكُمْ. فَقَالَ هَانِئٌ: أَجِّلْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ فَنَنْظُرَ فِي أَمْرِنَا. قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ. فَلَمَّا أَصْبَحَ الْقَوْمُ غَدَا هَانِئٌ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ أَجْمَعَ أَمْرُنَا عَلَى أَنْ نُؤَدِّيَ الْجِزْيَةَ فَهَلُمَّ فَلْأُصَالِحْكَ. فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ: فَكَيْفَ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ تَكُونُ الْجِزْيَةُ وَالذُّلُّ أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ الْقِتَالِ وَالْعِزِّ؟ فَقَالَ: نَظَرْنَا فِيمَا يُقْتَلُ مِنَّا فَإِذَا هُمْ لَا يَرْجِعُونَ، وَنَظَرْنَا إِلَى مَا يُؤْخَذُ مِنَّا مِنَ الْمَالِ فَقَلَّمَا نَلْبَثُ حَتَّى يُخْلِفَهُ اللهُ لَنَا. قَالَ: فَصَالَحَهُمْ خَالِدٌ عَلَى تِسْعِينَ أَلْفًا.
ابن اسحاق، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جانب سے حیرہ شہر میں ورود کے قصے کے بارے میں بیان کرتے ہیں اور ہانی بن قبیصہ کا محاورہ بیان کرتے ہیں کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں اور اس بات کی کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بندے اور رسول ہیں اور تم نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور مسلمانوں کے احکام کا اقرار کرو، تمہارے لیے وہی حقوق ہوں گے جو ان کے لیے ہیں اور تم پر وہ ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ان پر ہیں۔ ہانی نے کہا: اگر ہم اس کو بھی نہ مانیں؟ فرمایا: اگر تم اس بات کو بھی نہیں مانتے تو تم جزیہ ادا کرو۔ اس نے کہا: اگر میں یہ نہ چاہوں؟ فرمایا: اگر تم اس بات کو نہیں مانتے تو پھر تمہارا واسطہ ایسی قوم سے پڑے گا جنہیں موت زندگی سے زیادہ محبوب ہے جیسے تمہیں زندگی محبوب ہے۔ ہانی نے کہا: آپ ہمیں ایک رات مہلت دیں، ہم اپنے معاملے میں سوچ بچار کر لیں۔ کہنے لگے: میں آپ کو مہلت دیتا ہوں۔ جب لوگوں نے صبح کی تو ہانی نے آ کر کہا کہ ہم اس پر متفق ہوئے ہیں کہ ہم جزیہ ادا کیا کریں گے۔ آؤ میں آپ سے صلح کرنا چاہتا ہوں۔ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: تم عرب لوگ ہو، جزیہ اور ذلت کو لڑائی اور عزت پر ترجیح دے رہے ہو۔ اس نے کہا: ہم نے غور و فکر کیا، جو ہمارے قتل کیے جائیں گے وہ کبھی واپس نہ لوٹیں گے اور جو ہم سے مال لیا جائے گا تھوڑی مدت کے بعد اللہ رب العزت اور دے دیں گے، تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے نوے ہزار پر صلح کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18647]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3720. -- باب: من زعم أنما تؤخذ الجزية من العجم
-- باب: اس شخص کے دعوے کا بیان کہ جزیہ صرف عجمیوں سے لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18648
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ النَّهْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَالِبٍ وَعِنْدَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ، وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو جَهْلٍ قَامَ فَجَلَسَ فَقَالَ: ابْنُ أَخِيكَ يَذْكُرُ آلِهَتَنَا، فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ: مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ؟ قَالَ:" يَا عَمِّ أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ يَدِينُ لَهُمُ الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمُ الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ". قَالَ: مَا هِيَ؟ قَالَ:" شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ". فَقَامُوا وَقَالُوا: أَجَعَلَ ⦗٣١٧⦘ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا؟ قَالَ: وَنَزَلَ: {ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ} [ص: ١] حَتَّى إِذَا بَلَغَ: {إِنَّ هَذَا لِشَيْءٌ عُجَابٌ} [ص: ٥] لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئُ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کی تیمارداری فرمائی۔ اس وقت ان کے پاس قریشی لوگ تھے اور ان کے سرہانے ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ جب ابو جہل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اٹھ کر اس جگہ بیٹھ گیا اور کہنے لگا: آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کا تذکرہ کرتا تھا، تو ابو طالب نے کہا: آپ کی قوم کو کیا ہوا کہ وہ آپ کی شکایت کر رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے چچا! میں ان سے ایک ایسی بات چاہتا ہوں جس کے ذریعے اہل عرب ان کے تابع ہو جائیں گے اور عجم والے ان کو جزیہ دیں گے۔“ پوچھا: کون سی بات؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔“ تو انہوں نے کہا: کیا آپ نے صرف ایک ہی معبود بنا دیا؟ پھر سورہ ص کی آیات نازل ہوئیں: ﴿صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ﴾ [سورة ص: 1] سے ﴿إِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ [سورة ص: 5] تک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18648]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3721. -- باب: ذكر كتب أنزلها الله قبل نزول القرآن
-- باب: قرآن نازل ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں کا ذکر۔
حدیث نمبر: Q18649
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى} [النجم: 37] . قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَيْسَ يُعْرَفُ تِلَاوَةُ كِتَابِ إِبْرَاهِيمَ، وَذَكَرَ زَبُورَ دَاوُدَ وقَالَ: {وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ} [الشعراء: 196] .
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى﴾ ”کیا اسے ان باتوں کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہیں، اور ابراہیم (علیہ السلام) کے (صحیفوں میں) جنہوں نے (اپنا عہد) پورا کیا؟“ [سورة النجم: 36-37]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ابراہیم (علیہ السلام) کی کتاب کی تلاوت معروف نہیں ہے۔“ اور انہوں نے داؤد (علیہ السلام) کی زبور کا ذکر کیا اور فرمایا: ﴿وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ﴾ ”اور بے شک یہ (قرآن) پہلے لوگوں کی کتابوں میں (بھی مذکور) ہے۔“ [سورة الشعراء: 196] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: Q18649]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ابراہیم (علیہ السلام) کی کتاب کی تلاوت معروف نہیں ہے۔“ اور انہوں نے داؤد (علیہ السلام) کی زبور کا ذکر کیا اور فرمایا: ﴿وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ﴾ ”اور بے شک یہ (قرآن) پہلے لوگوں کی کتابوں میں (بھی مذکور) ہے۔“ [سورة الشعراء: 196] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: Q18649]
حدیث نمبر: 18649
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنبأ عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" نَزَلَتْ صُحُفُ إِبْرَاهِيمَ أَوَّلَ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ لِسِتٍّ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَ الْإِنْجِيلُ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، وَأُنْزِلَ الزَّبُورُ لِثَمَانَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، وَالْقُرْآنُ لِأَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ" وَفِيمَا رَوَى الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ قَالَ: أَنْزَلَ اللهُ مِائَةً وَأَرْبَعَةَ كُتُبٍ مِنَ السَّمَاءِ.
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”یکم رمضان کو ابراہیم کے صحیفے نازل ہوئے اور چھ رمضان کو توراۃ نازل کی گئی اور 13 رمضان کو انجیل نازل کی گئی اور 18 رمضان کو زبور کا نزول ہوا اور 24 رمضان کو قرآن نازل ہوا۔“
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے 104 کتب آسمان سے نازل فرمائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18649]
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے 104 کتب آسمان سے نازل فرمائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18649]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف