🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3821. -- باب: ما يستحب للمرء من أن يتولى ذبح نسكه أو يشهده
-- باب: آدمی کے لیے اپنی قربانی خود ذبح کرنے یا اس کے پاس حاضر رہنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19161
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ آبَائِهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ:" يَا فَاطِمَةُ قُومِي فَاشْهَدِي أُضْحِيَّتَكِ، أَمَا إِنَّ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا مَغْفِرَةً لِكُلِّ ذَنْبٍ، أَمَا إِنَّهُ يُجَاءُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلُحُومِهَا وَدِمَائِهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا حَتَّى تُوضَعَ فِي مِيزَانِكِ". فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَهَذِهِ لِآلِ مُحَمَّدٍ خَاصَّةً فَهُمْ أَهْلٌ لِمَا خُصُّوا بِهِ مِنْ خَيْرٍ، أَوْ لِآلِ مُحَمَّدٍ وَالنَّاسِ عَامَّةً؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ هِيَ لِآلِ مُحَمَّدٍ وَالنَّاسِ عَامَّةً". عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ضَعِيفٌ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات کہی: ”اپنی قربانی کے پاس کھڑی ہو جاؤ؛ کیونکہ قربانی کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے گوشت اور خون سمیت لایا جائے گا اور اسے ستر گنا بڑھا کر آپ کے نامہ اعمال میں تولا جائے گا۔“ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! کیا یہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے یا عام لوگوں کے لیے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ یہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کے لیے ہے۔“
عمرو بن خالد ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19161]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19162
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا فَاطِمَةُ قُومِي فَاشْهَدِي أُضْحِيَّتَكِ فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِيهِ، وَقُولِي: {إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ} [الأنعام: ١٦٣] . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا لَكَ وَلِأَهْلِ بَيْتِكَ خَاصَّةً، فَأَهْلُ ذَلِكَ أَنْتُمْ، أَمْ لِلِمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ:" بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً". وَرَوَاهُ أَيْضًا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، ⦗٤٧٧⦘ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَمَرَ بَنَاتِهِ أَنْ يُضَحِّينَ بِأَيْدِيهِنَّ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ! اپنی قربانی کے ذبح ہوتے وقت پاس کھڑی ہونا؛ کیونکہ قربانی کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی تیرے کیے ہوئے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور یہ کہہ: ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔““ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کی جانب سے ہے اور آپ کے گھر والوں کی طرف سے خاص ہے یا عام مسلمانوں کی طرف سے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ عام مسلمانوں کی جانب سے بھی ہے۔“
(ب) سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے قربانی ذبح کرنے کا حکم دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19162]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3822. -- باب: النسيكة يذبحها غير مالكها
-- باب: قربانی کے جانور کو اس کے مالک کے علاوہ کسی اور کا ذبح کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19163
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بَعْضَ هَدْيِهِ بِيَدِهِ، وَنَحَرَ بَعْضَهُ غَيْرُهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ کفایت کر جائے گا، کیونکہ بعض قربانیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نحر کیں اور بعض دوسروں سے نحر کروائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19163]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19163
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بَعْضَ هَدْيِهِ بِيَدِهِ، وَنَحَرَ بَعْضَهُ غَيْرُهُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض قربانیاں اپنے ہاتھ سے نحر فرمائیں اور بعض قربانیاں دوسروں سے نحر کروائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19163]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19164
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: ضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأُهْدِيَ هَدْيًا وَإِنَّمَا نَحَرَهُ مَنْ أَهْدَاهُ مَعَهُ.
عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عورتوں کی جانب سے گائے قربان کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور (ہدی) بھیجے تو انہیں اسی شخص نے نحر کیا جس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19164]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19165
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ ثُمَّ يَقُولُ:" إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ فَخَشِيتَ عَلَيْهَا مَوْتًا فَانْحَرْهَا، ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا وَلَا تَطْعَمْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رِفْقَتِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: غَيْرَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَذْبَحَ مِنَ النَّسَائِكِ مُشْرِكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ذویب ابو قبیصہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ اونٹوں کی قربانی روانہ کرتے اور فرماتے: ”اگر کوئی قربانی تھک جائے اور آپ کو اس کے ہلاک ہونے کا خوف ہو تو نحر کر دینا، پھر اس کے خون میں جوتا تر کر کے اس کے پہلو پر مارنا لیکن خود اور اپنے ساتھیوں کو نہ کھلانا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: البتہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ قربانی کے جانوروں میں سے کسی کو کوئی مشرک ذبح کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19165]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٣٢٦»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19166
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَا يَذْبَحُ نَسِيكَةَ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيُّ وَالنَّصْرَانِيُّ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی ذبح نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19166]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19167
وَبِإِسْنَادِهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي قَابُوسُ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَذْبَحَ نَسِيكَةَ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيُّ وَالنَّصْرَانِيُّ.
ابو ظبیان رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ناپسند کرتے تھے کہ کوئی یہودی یا عیسائی مسلمان کی قربانی ذبح کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19167]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19168
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: لَا يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَكَ إِلَّا مُسْلِمٌ، وَإِذَا ذَبَحْتَ فَقُلْ: بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، اللهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ فُلَانٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ ذَبْحَهَا مُشْرِكٌ تَحِلُّ ذَكَاتُهُ أَجْزَأَتْ مَعَ كَرَاهِيَتِي لَهَا. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا لِمَا مَضَى فِي إِحْلَالِ ذَبَائِحِهِمْ، وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ لَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا.
قابوس بن ابی ظبیان اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آپ کی قربانی صرف مسلمان ذبح کرے اور جب ذبح کرے تو یہ کہہ دینا: «بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ» ”شروع اللہ کے نام سے، اے اللہ! تیری عطا ہے اور تیرے لیے ہے۔“ اے اللہ! فلاں کی جانب سے قبول فرما۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر ایسا مشرک قربانی ذبح کرے جس کا ذبیحہ حلال ہے تو قربانی ادا ہو جائے گی اگرچہ میں ناپسند کرتا ہوں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس وجہ سے کہ ان کا ذبیحہ بھی تو حلال ہے۔
(ب) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19168]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3823. -- باب: ذبائح نصارى العرب
-- باب: عرب عیسائیوں کے ذبیحے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19169
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعْدِ الْفَلَحَةِ مَوْلَى عُمَرَ أَوِ ابْنِ سَعْدِ الْفَلَحَةِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَا نَصَارَى الْعَرَبِ بِأَهْلِ كِتَابٍ، وَمَا تَحِلُّ لَنَا ذَبَائِحُهُمْ، وَمَا أَنَا بِتَارِكِهِمْ حَتَّى يُسْلِمُوا أَوْ أَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ.
سعد فلجہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام یا ابن سعد فلجہ سے منقول ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عرب کے عیسائی اہل کتاب نہیں اور نہ ہی ان کا ذبیحہ حلال ہے اور میں ان کو اسلام قبول کرنے تک نہ چھوڑوں گا یا ان کی گردنیں اتار دوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19169]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم ١٨٧٩٨»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں