السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3802. -- باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها
-- باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19034
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، وَمُطَرِّفٍ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: أَدْرَكْتُ أَبَا بَكْرٍ أَوْ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا لَا يُضَحِّيَانِ فِي بَعْضِ حَدِيثِهِمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُقْتَدَى بِهِمَا. أَبُو سَرِيحَةَ الْغِفَارِيُّ هُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ أُسَيْدٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوشریحہ غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو پایا کہ وہ قربانی نہیں کرتے تھے۔ بعض احادیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ صرف اقتدا کے ڈر سے ایسا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19034]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19035
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَمَا يُضَحِّيَانِ عَنْ أَهْلِهِمَا خَشْيَةَ أَنْ يُسْتَنَّ بِهِمَا، فَلَمَّا جِئْتُ بَلَدَكُمْ هَذَا حَمَلَنِي أَهْلِي عَلَى الْجَفَاءِ بَعْدَ مَا عَلِمْتُ السُّنَّةَ. كَذَا قَالَهُ مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَامِرٍ وَأَخْطَأَ فِيهِ..
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی جانب سے قربانی نہ کرتے تھے کہ کہیں لوگ اس کو سنت نہ بنا لیں، لیکن جب میں تمہارے اس شہر میں آیا تو میرے گھر والوں نے مجھے سنت جان لینے کے بعد بھی جفا (یعنی سنت سے ہٹنے) پر آمادہ کر دیا۔
معتمر بن سلیمان نے اسے عامر سے اسی طرح بیان کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19035]
معتمر بن سلیمان نے اسے عامر سے اسی طرح بیان کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19035]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 19036
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ ⦗٤٤٥⦘ الْبِزَارِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْغَازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: إِنَّ مُعْتَمِرًا حَدَّثَنَا قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ، فَقَالَ: هَذَا مِثْلُ حَدِيثِهِ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَمْرٍو الْجَمَلِيِّ، يُرِيدُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أنبأ عَامِرٌ، فَذَكَرَهُ. يُرِيدُ يَحْيَى أَنَّهُ أَخْطَأَ فِي هَذَا كَمَا أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ. وَرِوَايَةُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ تُؤَكِّدُ قَوْلَ يَحْيَى قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عمرو بن علی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید سے کہا: معتمر نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل نے بیان کیا، ہمیں مطرف نے شعبی سے، انہوں نے ابو سریحہ سے بیان کیا۔ تو انہوں نے کہا: یہ ان کی اس حدیث کی طرح ہے جو شعبی سے عمرو جملی یعنی عمرو بن مرہ سے ہے: ہمیں اسماعیل نے بیان کیا، ہمیں عامر نے خبر دی، پھر انہوں نے اسے ذکر کیا۔ یحییٰ کی مراد یہ ہے کہ انہوں نے اس میں بھی ویسے ہی غلطی کی جیسے اُس میں غلطی کی تھی۔ اور سفیان ثوری کی روایت یحییٰ کے قول کی تائید کرتی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی (روایت ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19036]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی (روایت ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19036]
حدیث نمبر: 19037
فذَكَرَ مَعْنَى مَا أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي، يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ بُخْتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ إِذَا حَضَرَ الْأَضْحَى أَعْطَى مَوْلًى لَهُ دِرْهَمَيْنِ فَقَالَ: اشْتَرِ بِهِمَا لَحْمًا وَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ أَضْحَى ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قربانی کے موقع پر انہیں دو درہم عطا کرتے کہ گوشت خرید کر لوگوں کو بتا دینا کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قربانی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19037]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19038
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي لَأَدَعُ الْأَضْحَى وَإِنِّي لَمُوسِرٌ؛ مَخَافَةَ أَنْ يَرَى جِيرَانِي أَنَّهُ حَتْمٌ عَلَيَّ.
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں خوشحالی کے باوجود قربانی چھوڑ دیتا ہوں کہ میرا ہمسایہ اس کو میرے اوپر فرض نہ جان لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19038]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19039
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَوَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدَعَ الْأُضْحِيَّةَ وَإِنِّي لَمِنْ أَيْسَرِكُمْ؛ مَخَافَةَ أَنْ تَحْسَبَ النَّفْسُ أَنَّهَا عَلَيْهَا حَتْمٌ وَاجِبٌ.
سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مالداری کے باوجود قربانی چھوڑ دینے کا ارادہ کیا تاکہ ذہن اس کو اپنے اوپر فرض قرار نہ دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19039]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19040
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْخَصِيبِ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْأَضْحَى فَقَالَ: أَكْرَهُ أَوِ اجْتَنِبْ، شَكَّ وَهْبِ، الْعُورَ الْبَيِّنَ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءَ الْبَيِّنَ عَرَجُهَا، وَالْمَرِيضَةَ الْبَيِّنَ مَرَضُهَا، وَالْمَهْزُولَةَ الْبَيِّنَ هُزَالُهَا. ثُمَّ قَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: لَعَلَّكَ تَحْسَبُ حَتْمًا؟ قُلْتُ: لَا وَلَكِنَّهُ أَجْرٌ وَخَيْرٌ وَسُنَّةٌ. قَالَ: نَعَمْ ⦗٤٤٦⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَا يَعْدُو الْقَوْلُ فِي الضَّحَايَا هَذَا أَوْ تَكُونُ وَاجِبَةً فَهِيَ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ لَا يُجْزِي غَيْرُ شَاةٍ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ.
قیس بن ثعلبہ کے ایک شخص ابو خصیب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوئے تو ان سے کسی شخص نے قربانی کے متعلق سوال کیا، وہ کہتے ہیں: میں ناپسند کرتا ہوں یا تم اجتناب کرو (وہب کو شک ہے) ”ایسا کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو اور لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو، ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو اور ایسا کمزور جانور جس کی کمزوری واضح ہو“، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: شاید تم اس کو لازم سمجھتے ہو؟ وہ کہتے ہیں: یہ تو ثواب، خیر اور سنت ہے، انہوں نے فرمایا: ایسا ہی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قربانیوں کے متعلق قول اس سے آگے نہیں جاتا، ورنہ پھر یہ واجب ہو گی اور ہر چھوٹے بڑے پر ہو گی اور ہر ایک کی طرف سے ایک بکری سے کم کفایت نہ کرے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19040]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قربانیوں کے متعلق قول اس سے آگے نہیں جاتا، ورنہ پھر یہ واجب ہو گی اور ہر چھوٹے بڑے پر ہو گی اور ہر ایک کی طرف سے ایک بکری سے کم کفایت نہ کرے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19040]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3803. -- باب: سنة لمن أراد أن يضحي أن لا يأخذ من شعره ولا من ظفره إذا أهل هلال ذي الحجة حتى يضحي
-- باب: جو شخص قربانی کا ارادہ رکھے اس کے لیے سنت یہ ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی کرنے تک وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
حدیث نمبر: 19041
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، ثنا الْقَاضِي أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا بَشَرِهِ شَيْئًا". قِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَا يَرْفَعُهُ، قَالَ: لَكِنِّي أَرْفَعُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عشرہ ذی الحج شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہے تو وہ اپنے جسم کے کسی حصے سے بال نہ کاٹے۔“ سفیان سے کہا گیا کہ بعض لوگ اس حدیث کو مرفوع بیان نہیں کرتے، کہتے ہیں لیکن میں اس کو مرفوع بیان کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19041]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 19042
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفِ بْنِ شَجَرَةَ الْقَاضِي بِبَغْدَادَ، وَأَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ بِمَرْوَ قَالَا: ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الرَّقَاشِيَّ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ فَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيِّ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عُمَرُ أَوْ عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُمَا عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ مَوْقُوفًا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدَعِيِّ مَرْفُوعًا.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہے تو وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19042]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 19043
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عُمَرُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أُكَيْمَةَ، قَالَ: كُنَّا فِي الْحَمَّامِ قَبْلَ الْأَضْحَى فَاطَّلَى فِيهِ أُنَاسٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ، بَعْضُ أَهْلِ الْحَمَّامِ: إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَكْرَهُ هَذَا وَيَنْهَى عَنْهُ، فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ⦗٤٤٧⦘ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ وَتُرِكَ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ ذَبْحٌ يُرِيدُ أَنْ يَذْبَحَهُ فَإِذَا أَهَلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا ظُفُرِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ وَأَبِي أُسَامَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مُعَاذٌ: عُمَرُ، وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ: عَمْرٌو، وَسَاقَ أَبُو أُسَامَةَ الْقِصَّةَ بِطُولِهَا.
عمر بن مسلم بن عمارہ بن اکیمہ کہتے ہیں کہ ہم قربانی سے پہلے حمام میں تھے، وہاں کچھ لوگوں نے بال صفا لیپ لگایا تو حمام والوں میں سے کسی نے کہا: سعید بن مسیب اسے ناپسند کرتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں۔ میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ملا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے! یہ ایسی حدیث ہے جو بھلا دی گئی اور چھوڑ دی گئی ہے، مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس قربانی موجود ہو اور وہ قربانی کرنا چاہتا ہو تو جب وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھ لے تو قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کٹوائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19043]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر