🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3802. -- باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها
-- باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19024
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٤٤١⦘ سَخْتَوَيْهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْمُثَنَّى، أَنَّ مُسَدَّدًا حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ، أنبأ أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ النَّحْرِ:" مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ كَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ. قَالَ: فَرَخَّصَ لَهُ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لَا.
(١٩٠٢٤) انس بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا: جس نے نماز سے پہلے قربانی کردی وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت کی چاہت کی جاتی ہے اور اس نے اپنے پڑوسی کی جلد بازی کا تذکرہ کیا۔ گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تصدیق کی اور اس نے کہا: میرے پاس کھیرا جانور ہے جو دو گوشت کی بکریوں سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رخصت دی۔ لیکن مجھے معلوم نہیں یہ رخصت اسی کو تھی یا اس کے علاوہ کسی اور کو بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19024]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19025
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ زَادَ: ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَى غَنِيمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ: تَجَزَّعُوهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ صَدَقَةِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ بِطُولِهِ، وَعَنْ مُسَدَّدٍ مُخْتَصَرًا، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
(١٩٠٢٥) ابن علیہ نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے، اس میں زیادتی ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جیسے دونوں مینڈھے ذبح کردیے۔ تو لوگوں نے پھر بکریاں ذبح کیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19025]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19026
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنَ إِبْرَاهِي مَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الْأَضْحَى، وَأَنَّهُ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ لِضَحِيَّةٍ أُخْرَى.
(١٩٠٢٦) عباد بن تمیم فرماتے ہیں کہ عویمر بن اشعر نے عید کی نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کردی اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو آپ نے اس کی جگہ دوسری قربانی کرنے کا حکم دیا۔
(ب) بشری بن یسار فرماتے ہیں کہ ابو بردہ بن نیار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربانی ذبح کرنے سے پہلے ذبح کردی تو ان کا گمان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دوبارہ قربانی کرنے کا حکم فرمایا۔ ابو بردہ نے کہا: میرے پاس صرف جزعہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر صرف تیرے پاس جزعہ ہے تو ذبح کر ڈال۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19026]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19027
ثُمَّ قَالَ: مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَاحْتُمِلَ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ لِضَحِيَّةٍ أَنَّ الضَّحِيَّةَ وَاجِبَةٌ، وَاحْتَمَلَ أَمْرُهُ أَنْ يَكُونَ أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ إِنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ؛ لَأَنَّ الضَّحِيَّةَ قَبْلَ الْوَقْتِ لَيْسَتْ بِضَحِيَّةٍ تُجْزِيهِ فَيَكُونُ مِنْ عِدَادِ مَنْ ضَحَّى فَوَجَدْنَا الدَّلَالَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الضَّحِيَّةَ لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ لَا يَحِلُّ تَرْكُهَا وَهِيَ سُنَّةٌ نُحِبُّ لُزُومَهَا وَنَكْرَهُ تَرْكَهَا لَا عَلَى إِيجَابِهَا، فَإِنْ قِيلَ: فَأَيْنَ السُّنَّةُ الَّتِي دَلَّتْ عَلَى أَنَّهَا لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ، قِيلَ:.
(١٩٠٢٧) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: شاید قربانی کے واجب ہونے کی وجہ سے اعادہ کا حکم فرمایا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اگر دوبارہ قربانی کا ارادہ ہو تو کرلے اور وقت سے پہلے والی قربانی کفایت نہ کرے گی۔ قربانی اگرچہ واجب نہیں لیکن اسی کا ترک کردینا بھی جائز نہیں ہے۔ سنت ہونے کے باوجود اس کے لزوم کو ہم پسند کرتے ہیں اور ترک کو ناپسند کرتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ سنت ہونا عدم وجوب پر دلالت کرتا ہے۔
(ب) ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عشرہ ذی الحج شروع ہوجائے تو قربانی کا ارادہ کرنے والا شخص اپنے جسم کے کسی حصہ سے بال نہ اکھاڑے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قربانی کا ارادہ کرے اگر قربانی واجب ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں نہ فرماتے بلکہ یہ کہہ دیتے کہ کوئی اپنے بال نہ کٹوائے یہاں تک کہ قربانی کرلے۔
شیخ فرماتے ہیں: براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرمایا کہ اس دن سب سے پہلا کام نماز ادا کرنا ہے پھر قربانی کرنا۔ جس نے یہ کام کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19027]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19028
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ عَيَّاشَ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ". فَقَالَ الرَّجُلُ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةَ أَبِي أَوْ شَاةَ أَبِي وَأَهْلِي وَمَنِيحَتَهُمْ أَذْبَحُهَا؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ قَلِّمْ أَظْفَارَكَ، وَقُصَّ شَارِبَكَ، وَاحْلِقْ عَانَتَكَ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ"..
(١٩٠٢٨) حضرت عبداللہ بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا دن اللہ نے اس امت کے لیے عید کا دن مقرر فرمایا ہے تو اس شخص نے کہا: اگر اپنے بچوں اور گھر والوں کے دودھ والا جانور ذبح کر دوں۔ فرمایا: دودھ والا جانور ذبح نہ کر۔ لیکن اپنے ناخن کاٹ اور مونچھیں مونڈ لے اور زیر ناف بالوں کی صفائی کر اس طرح تجھے اللہ سے مکمل قربانی کا ثواب ملے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19028]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19029
وَأَنْبَانِي أَبُو عَبْدِ اللهِ إِجَازَةً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
[السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19029]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19030
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ ⦗٤٤٣⦘ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ وَلَكُمْ تَطَوُّعٌ: النَّحْرُ، وَالْوِتْرُ، وَرَكْعَتَا الضُّحَى".
(١٩٠٣٠) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سینقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں میرے اوپر فرض ہیں اور تمہارے لیے نفل قربانی کرنا، وتر پڑھنا، اور چاشت کی دو رکعت ادا کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19030]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19031
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، وَهُوَ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ قَالَ:" كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ". زَادَ الْأَصْبَهَانِيُّ فِي رِوَايَتِهِ:" وَأُمِرْتُ بِصَلَاةِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا" كَذَا قَالَا عَنْ سِمَاكٍ.
(١٩٠٣١) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قربانی میرے اوپر فرض جبکہ تمہارے اوپر فرض نہیں ہے۔ اصبہانی نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے کہ مجھے نماز چاشت کا حکم دیا گیا ہے جبکہ تمہیں حکم نہیں دیا گیا۔ [ضعیف ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19031]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19032
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ قَالَ:" كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ، وَأُمِرْتُ بِصَلَاةِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا". وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ جَابِرٍ، هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٩٠٣٢) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قربانی میرے اوپر فرض ہے جبکہ تمہارے اوپر فرض نہیں ہے اور نماز چاشت مجھے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور تمہیں حکم نہیں دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19032]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19033
وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى لِلنَّاسِ يَوْمَ النَّحْرِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ وَصَلَاتِهِ دَعَا بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ هُوَ بِنَفْسِهِ وَقَالَ:" بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي". ⦗٤٤٤⦘ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا لَا يُضَحِّيَانِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُقْتَدَى بِهِمَا فَيَظُنُّ مَنْ رَآهُمَا أَنَّهَا وَاجِبَةٌ.
(١٩٠٣٣) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی والے دن لوگوں کو نماز پڑھائی۔ نماز اور خطبہ سے فارغ ہو کر ایک مینڈھا منگوا کر خود ذبح کیا اور فرمایا: بسم اللہ واللہ اکبر، اے اللہ! میری اور میری امت کے اس شخص کی جانب سے جس نے قربانی نہیں کی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہ دونوں قربانی نہ کرتے اس ڈر سے کہ کہیں لوگ ان کی اقتدا شروع نہ کردیں۔ یہ اس شخص کا گمان ہے جس کا گمان ہے کہ یہ واجب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19033]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں