السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3801. -- الأضاحي
-- قربانى کا بیان
حدیث نمبر: 19014
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَظُنُّهُ الْبَغَوِيَّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنْفَقْتَ الْوَرِقَ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ نَحِيرَةٍ فِي يَوْمِ عِيدٍ". تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْخُوزِيِّ، وَلَيْسَا بِالْقَوِيَّيْنِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے چاندی کسی ایسی چیز میں خرچ نہیں کی جو عید کے دن قربانی کرنے سے افضل ہو۔“
اسے ابراہیم خوزی سے روایت کرنے میں محمد بن ربیعہ منفرد ہیں، اور یہ دونوں قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19014]
اسے ابراہیم خوزی سے روایت کرنے میں محمد بن ربیعہ منفرد ہیں، اور یہ دونوں قوی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19014]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19015
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الْمُسَيِّبِيُّ، يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى سُلَيْمَانَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللهِ مِنْ إِهْرَاقِ دَمٍ، وَإِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي قَرْنِهِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا، وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِي الْأَرْضِ فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا". قَالَ الْبُخَارِيُّ فِيمَا حَكَى أَبُو عِيسَى عَنْهُ: هُوَ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، لَمْ يَسْمَعْ أَبُو الْمُثَنَّى مِنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ. قَالَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ: رَوَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَعَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ هَكَذَا بِالشَّكِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللهِ مِنْ إِهْرَاقِهِ دَمًا"، ثُمَّ ذَكَرَهُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی والے دن اللہ کو انسان کا سب سے زیادہ محبوب عمل خون بہانا ہے۔ وہ قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ ان کی قربانی قبول کرلیتے ہیں، لہٰذا خوش دلی سے قربانی کرو۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کے دن اللہ کو انسان کا سب سے زیادہ محبوب عمل خون بہانا ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے، جیسا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے ان سے نقل کیا، فرمایا: یہ حدیث مرسل ہے، ابو المثنیٰ نے ہشام بن عروہ سے نہیں سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19015]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کے دن اللہ کو انسان کا سب سے زیادہ محبوب عمل خون بہانا ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے، جیسا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے ان سے نقل کیا، فرمایا: یہ حدیث مرسل ہے، ابو المثنیٰ نے ہشام بن عروہ سے نہیں سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19015]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19016
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّيْرَافِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ عَائِذِ اللهِ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ قَالُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ:" سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ". قَالُوا: مَا لَنَا فِيهَا مِنَ الْأَجْرِ؟ قَالَ:" بِكُلِّ قَطْرَةٍ حَسَنَةٌ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانیوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔“ صحابہ نے پوچھا: ہمیں آخرت میں کیا اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر خون کے قطرے کے بدلے نیکی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19016]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
حدیث نمبر: 19017
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ عَائِذِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُجَاشِعِيِّ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ السَّبِيعِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ:" سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ". قَالَ: قُلْنَا: فَمَا لَنَا فِيهَا؟ قَالَ:" بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ". قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ فَالصُّوفُ؟ قَالَ:" بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ"..
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہمیں کیا اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بال کے بدلے نیکی۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے کہا: اون کے بارے میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اون کے ہر بال کے بدلے نیکی ملے گی۔“ [ضعیف جدًا] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19017]
حدیث نمبر: 19018
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ، يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: عَائِذُ اللهِ الْمُجَاشِعِيُّ عَنْ أَبِي دَاوُدَ رَوَى عَنْهُ سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ لَا يَصِحُّ حَدِيثَهُ. قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ بِعَائِذِ اللهِ، وَلَيْسَ يَرْوِيهِ عَنْهُ غَيْرُ سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، وَأَبُو دَاوُدَ لَمْ يُسَمَّ هُوَ نُفَيْعُ بْنُ الْحَارِثِ.
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عائذ اللہ مجاشعی، ابو داود سے روایت کرتے ہیں اور ان سے سلام بن مسکین نے روایت کی ہے، ان کی حدیث صحیح نہیں ہے۔ ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث عائذ اللہ کے ذریعے پہچانی جاتی ہے اور ان سے سلام بن مسکین کے سوا کوئی اسے روایت نہیں کرتا، اور ابو داود کا نام نہیں لیا گیا، وہ نفیع بن حارث ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19018]
حدیث نمبر: 19019
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَحْمُودٍ الْأَصْبَهَانِيُّ قَدِمَ عَلَيْنَا، أنبأ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَاهِينَ بِبَغْدَادَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، يَعْنِي ابْنَ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيَّ، ثنا الْمُسَيِّبُ بْنُ شَرِيكٍ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْخَلَّالُ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا الْمُسَيِّبُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا عُبَيْدٌ الْمُكْتِبُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَسَخَ الْأَضْحَى كُلَّ ذَبْحٍ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ كُلَّ صَوْمٍ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ كُلَّ غُسْلٍ، وَالزَّكَاةُ كُلَّ صَدَقَةٍ". قَالَ عَلِيٌّ: خَالَفَهُ الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ شَرِيكٍ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ، وَالْمُسَيِّبُ بْنُ شَرِيكٍ مَتْرُوكٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی نے ہر ذبیحہ اور رمضان کے روزوں نے ہر قسم کے روزوں کو اور غسل جنابت نے ہر قسم کے غسل کو اور زکوۃ نے تمام صدقات کو منسوخ کر دیا ہے۔“ [ضعیف جدًا ]
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مسیب بن واضح نے مسیب بن شریک سے روایت کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے، اور یہ دونوں ضعیف ہیں، اور مسیب بن شریک متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19019]
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مسیب بن واضح نے مسیب بن شریک سے روایت کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے، اور یہ دونوں ضعیف ہیں، اور مسیب بن شریک متروک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19019]
حدیث نمبر: 19020
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ، ثنا الْمُسَيَّبُ بْنُ شَرِيكٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ الْيَقْظَانِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَسَخَتِ الزَّكَاةُ كُلَّ ⦗٤٤٠⦘ صَدَقَةٍ فِي الْقُرْآنِ، وَنَسَخَ غُسْلُ الْجَنَابَةِ كُلَّ غُسْلٍ، وَنَسَخَ صَوْمُ رَمَضَانَ كُلَّ صَوْمٍ، وَنَسَخَ الْأَضْحَى كُلَّ ذَبْحٍ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زکوٰۃ نے قرآن میں موجود تمام صدقات کو منسوخ کر دیا، غسلِ جنابت نے ہر قسم کے غسل کو منسوخ کیا، رمضان کے روزوں نے تمام قسم کے روزوں کو منسوخ کیا اور قربانی نے ہر قسم کے ذبیحہ کو منسوخ کر دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19020]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
حدیث نمبر: 19021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ مُبَشِّرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا رِفَاعَةُ بْنُ هُدَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَسْتَدِينُ وَأُضَحِّي؟ قَالَ:" نَعَمْ فَإِنَّهُ دَيْنٌ مَقْضِيٌّ". قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ، وَهُدَيْرٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَلَمْ يُدْرِكْهَا.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اے اللہ کے رسول! کیا میں قرض لے کر قربانی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرض لے کر قربانی کرو کیونکہ قرض ادا کر دیا جائے گا۔“
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند ضعیف ہے، ہدیر، عبدالرحمن بن رافع بن خدیج کے بیٹے ہیں، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا اور نہ ہی ان کا زمانہ پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19021]
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند ضعیف ہے، ہدیر، عبدالرحمن بن رافع بن خدیج کے بیٹے ہیں، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا اور نہ ہی ان کا زمانہ پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19021]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3802. -- باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها
-- باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19022
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ الْبَجَلِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ يَقُولُ:" مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ.
جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں قربانی والے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نماز ادا کرنے سے پہلے ذبح کرے وہ نماز پڑھنے کے بعد اس کی جگہ دوسرا جانور قربان کرے اور جس نے ابھی تک ذبح نہیں کیا وہ ذبح کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19022]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19023
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ خَالَهُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ، وَإِنِّي عَجَّلْتُ نَسِيكَتِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي وَأَهْلَ دَارِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعِدْ نُسُكًا". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا لَهِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ. فَقَالَ:" هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتِكَ، وَلَا تُجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَاسْتَشْهَدَ بِهِ الْبُخَارِيُّ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے خالو سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذبح کرنے سے پہلے قربانی کر دی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو گوشت کا دن ہے، اس لیے میں نے اپنی قربانی کو جلدی کیا ہے تاکہ اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو کھانا کھلا سکوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی دوبارہ کر۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے اچھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری بہترین قربانی ہے، لیکن تیرے بعد «جَذَع» یعنی کھیرا جانور کسی کو بھی کفایت نہ کرے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19023]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح