السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4007. -- باب: الرخصة في الاحتجاب في غير وقت القضاء، وفي وقت القضاء إذا خشي الازدحام عليه
-- باب: فیصلے کے اوقات کے علاوہ پردہ اختیار کرنے (تنہائی میں رہنے) کی اجازت، اور قضاء کے وقت بھی اگر اس پر ہجوم کا خدشہ ہو تو پردہ کرنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20259
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا، قَالَ: فَجِئْتُ الْمَشْرَبَةَ الَّتِي فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِغُلَامٍ لَهُ أَسْوَدَ:" اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَدَخَلَ الْغُلَامُ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلِيَّ، فَقَالَ: كَلَّمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ ⦗١٧٥⦘ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَجِئْتُ الْغُلَامَ فَقُلْتُ لَهُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ إِلِيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ، فَصَمَتَ، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا إِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي، فَقَالَ: قَدْ أَذِنَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ، قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ، مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا اللِّيفُ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان دو عورتوں کے قصے کے بارے میں جنہوں نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف) باہم ایکا کیا تھا، فرماتے ہیں کہ میں اس بالاخانے پر آیا، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سیاہ فام غلام سے کہا: عمر کے لیے اجازت مانگو، غلام داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی۔ پھر واپس میری طرف پلٹا۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کا تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، میں واپس آکر اس گروہ کے پاس بیٹھ گیا، جو منبر کے پاس تھے۔ پھر میری ضرورت غالب آئی تو دوبارہ غلام سے کہا: عمر کے لیے اجازت طلب کرو۔ غلام داخل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ کہتے ہیں: جب میں واپس مڑ کر جانے لگا تو غلام نے پیچھے سے آواز دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ درمیان میں کوئی بستر نہ تھا۔ چٹائی کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایسے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، جو کھجور کی چھال سے بھرا ہوا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20259]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20260
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيُّ، وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ذَكَرَ لِي ذِكْرًا مِنْ حَدِيثِهِ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، فَقَالَ لِي مَالِكٌ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي أَهْلِي حِينَ مَتَعَ النَّهَارُ، إِذَا رَسُولُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَجِبْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى رِمَالِ سَرِيرٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ، مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ لِي:" هَهُنَا يَا مَالِ" - يَعْنِي: يَا مَالِكُ، إِنَّهُ قَدْ قَدِمَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ، وَقَدْ أُمِّرْتَ لَهُمْ، فَاقْسِمْ بَيْنَهُمْ"، قَالَ: فَقُلْتُ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَمَّرْتَ بِهِ غَيْرِي" قَالَ:" فَاقْبِضْهُ أَيُّهَا الْمَرْءُ"، قَالَ:" فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ إِذْ جَاءَهُ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ؟" قَالَ:" نَعَمْ"، فَأَذِنَ لَهُمْ، قَالَ:" فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا، قَالَ:" ثُمَّ لَبِثَ يَرْفَأُ قَلِيلًا، فَقَالَ لِعُمَرَ: هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ؟" قَالَ:" نَعَمْ، ائْذَنْ لَهُمَا"، فَلَمَّا دَخَلَا سَلَّمَا وَجَلَسَا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ:" اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا"، فَقَالَ الرَّهْطُ - عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ -: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنَهُمَا، وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے مالک بن اوس بن حدثان نصری رضی اللہ عنہ نے خبر دی، اور محمد بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ نے مجھ سے ان کی اس حدیث کا کچھ ذکر کیا تھا۔ میں چلا اور مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ پر داخل ہوا۔ میں نے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنے گھر والوں کے درمیان تھا، جس وقت دن اچھی طرح چڑھ گیا تو اچانک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قاصد آیا، اس نے کہا: ”امیر المومنین یاد کر رہے ہیں۔“ میں اس کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ وہ کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چارپائی پر بیٹھے تھے، کوئی اوپر بستر بھی نہ تھا اور چمڑے کا بنا ہوا تکیہ تھا۔ میں سلام کہہ کر بیٹھ گیا۔ فرمانے لگے: ”اے مالک! یہاں بیٹھو۔“
”تمہاری قوم کے کچھ گھرانوں کے لوگ آئے ہیں، میں نے ان کے لیے (کچھ مال کا) حکم دیا ہے، اسے ان کے درمیان تقسیم کر دو۔“ میں نے کہا: اے امیر المومنین! میرے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں۔ فرمایا: ”اے انسان! پکڑ۔“ ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ دربان آیا اور حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمن، حضرت زبیر اور حضرت سعد رضی اللہ عنہم کے لیے اجازت طلب کر رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ اجازت ملنے کے بعد وہ داخل ہوئے اور سلام کہا، تھوڑی دیر کے بعد دربان دوبارہ آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما اجازت طلب کرتے ہیں، فرمایا: ”ان کو اجازت دے دو۔“ دونوں داخل ہوئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے اور اس کے درمیان فیصلہ فرمائیں۔“ گروہ یعنی حضرت عثمان اور ان کے ساتھی کہنے لگے: اے امیر المومنین! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیجیے اور ایک کو دوسرے سے آرام دیجیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20260]
”تمہاری قوم کے کچھ گھرانوں کے لوگ آئے ہیں، میں نے ان کے لیے (کچھ مال کا) حکم دیا ہے، اسے ان کے درمیان تقسیم کر دو۔“ میں نے کہا: اے امیر المومنین! میرے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں۔ فرمایا: ”اے انسان! پکڑ۔“ ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ دربان آیا اور حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمن، حضرت زبیر اور حضرت سعد رضی اللہ عنہم کے لیے اجازت طلب کر رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ اجازت ملنے کے بعد وہ داخل ہوئے اور سلام کہا، تھوڑی دیر کے بعد دربان دوبارہ آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما اجازت طلب کرتے ہیں، فرمایا: ”ان کو اجازت دے دو۔“ دونوں داخل ہوئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے اور اس کے درمیان فیصلہ فرمائیں۔“ گروہ یعنی حضرت عثمان اور ان کے ساتھی کہنے لگے: اے امیر المومنین! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیجیے اور ایک کو دوسرے سے آرام دیجیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20260]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20261
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ:" كَانَ شُرَيْحٌ يَدْخُلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَيْتًا يَخْلُو فِيهِ، لَا يَدْرِي النَّاسُ مَا يَصْنَعُ فِيهِ".
مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ جمعہ کو گھر میں داخل ہوتے، وہ گھر میں اکیلے ہوتے، لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20261]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4008. -- باب: ما يستحب للقاضي من أن لا يكون قضاؤه في المسجد
-- باب: قاضی کے لیے مستحب ہونے کا بیان کہ وہ مسجد میں بیٹھ کر فیصلے نہ کرے۔
حدیث نمبر: Q20262
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِكَثْرَةِ مَنْ يَغْشَاهُ لِغَيْرِ مَا بُنِيَتْ لَهُ الْمَسَاجِدُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(یہ) ان لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ہے جو اس (قاضی) کے پاس ان کاموں کے علاوہ دیگر کاموں کے لیے آتے ہیں جن کے لیے مساجد بنائی گئی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: Q20262]
حدیث نمبر: 20262
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَسْوَدِ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ مَوْلَى شَدَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَلْيَقُلْ: لَا أَدَّاهَا اللهُ إِلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ الْمُقْرِئِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جو گم شدہ چیز کا اعلان مسجد میں کرے تو اس کے لیے کہہ دو: اللہ تیری چیز واپس نہ کرے، کیونکہ مسجدیں اس لیے نہیں بنائی گئیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20262]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 568»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20263
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ أَعْرَابِيًّا، أَوْ رَجُلًا يَقُولُ: مَنْ دَعَا إِلَيَّ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتْ هَذِهِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
ابن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی یا آدمی کو سنا، جو سرخ اونٹ کا اعلان کر رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نہ پائے، مساجد تو جس کے لیے بنائی گئی ہیں اسی کے لیے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20263]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 569»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20264
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ مَهْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُزْرِمُوهُ"، قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ، دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُتَّخَذْ لِهَذَا الْقَذَرِ وَالْبَوْلِ وَالْخَلَاءِ إِنَّمَا تُتَّخَذُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَلِذِكْرِ اللهِ"، ثُمَّ أَمَرَ بَعْضَ أَصْحَابِهِ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللهِ، وَالصَّلَاةِ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا: رک، رک! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پیشاب نہ روکو۔“ راوی فرماتے ہیں جب وہ فارغ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلوایا اور فرمایا: ”مساجد اس لیے نہیں بنائی گئیں یعنی بول و براز اور گندگی کے لیے۔ بلکہ یہ تو قراءتِ قرآن اور اللہ کے ذکر کے لیے بنائی گئی ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا وہ ایک ڈول پانی لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ڈال دیا۔
(ب) عکرمہ بن عمار کی حدیث میں ہے کہ: ”اللہ کے ذکر، نماز اور قراءتِ قرآن کے لیے بنائی گئی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20264]
(ب) عکرمہ بن عمار کی حدیث میں ہے کہ: ”اللہ کے ذکر، نماز اور قراءتِ قرآن کے لیے بنائی گئی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20264]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20265
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْجَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ، إِذَا رَجُلٌ يَحْصِبُنِي، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ"، فَقَالَ:" اذْهَبْ إِلَى هَذَيْنِ ⦗١٧٧⦘ الرَّجُلَيْنِ، فَائْتِنِي بِهِمَا"، فَذَهَبْتُ فَأَتَيْتُهُ بِهِمَا، فَقَالَ لَهُمَا عُمَرُ:" مِمَّنْ أَنْتُمَا؟"، أَوْ،" مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا؟"، قَالَا: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ قَالَ:" لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ هَذَا الْبَلَدِ، لَأَوْجَعْتُكُمَا ضَرْبًا تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ عَنْ يَحْيَى، وَالْجَعْدُ بْنُ أَوْسٍ هَذَا هُوَ الْجَعْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَوْسٍ وَيُقَالُ لَهُ جُعَيْدٌ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں لیٹا ہوا تھا، اچانک ایک آدمی کنکریاں مار رہا تھا، میں نے سر اٹھایا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے اور فرما رہے تھے: ان دو آدمیوں کو میرے پاس لے کر آؤ۔ میں ان کو لے کر آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تم کہاں سے آئے ہو اور کون ہو؟“ کہنے لگے: ”طائف سے۔“ فرمایا: ”اگر تم اس شہر کے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا، تم مسجد نبوی میں آوازوں کو بلند کر رہے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20265]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 470»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20266
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَنَى إِلَى جَانِبِ الْمَسْجِدِ رَحَبَةً، فَسَمَّاهَا الْبُطَيْحَاءَ فَكَانَ يَقُولُ:" مَنْ أَرَادَ أَنْ يَلْغَطَ، أَوْ يُنْشِدَ شِعْرًا، أَوْ يَرْفَعَ صَوْتًا، فَلْيَخْرُجْ إِلَى هَذِهِ الرَّحَبَةِ".
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کی ایک جانب ایک چبوترہ بنایا ہوا تھا، اس کا نام «البَطْحَاءُ» تھا، جس نے بات چیت، شعر یا آواز کو بلند کرنا ہو وہ اس جگہ کی طرف جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20266]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20267
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ زُفَرِ بْنِ وَثِيمَةَ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُسْتَقَادَ فِي الْمَسْجِدِ، أَوْ يُنْشَدَ فِيهِ، أَوْ تُقَامَ فِيهِ الْحُدُودُ".
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”مساجد میں قصاص لیا جائے یا اشعار پڑھے جائیں یا حدود قائم کی جائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20267]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف