السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4004. -- باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا
-- باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20229
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، قَالَ:" كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ رَجُلًا يَصُومُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ وَهُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَسِلْقًا، فَقَالَ ⦗١٦٧⦘ لَهُ:" تَعَالَ فَكُلْ"، قَالَ: فَسَأَلَهُ الرَّجُلُ عَنْ شَيْءٍ، قَالَ:" مَا لَكَ ظَنَنْتَ أَنَّهُ مِنْ أَمْرِ الْقَضَاءِ" فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ: أَرَاكَ أَحْمَقَ، اذْهَبْ إِلَى الْقَاضِي الَّذِي أُجْلِسَ لِهَذَا، أَتُرَانِي أَنِّي كُنْتُ أَشْغَلُ نَفْسِي بِهَذَا؟" أَوْ قَالَ:" بِكَ".
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ روزہ رکھتے تھے، ان کے پاس ایک آدمی آیا جو روٹی اور چقندر کے پتے کھا رہا تھا، اس نے کہا: آؤ کھاؤ۔ کہتے ہیں: آدمی نے کسی چیز کا سوال کیا، میرا خیال ہے قضاۃ کے امور میں سے کسی کا سوال کیا تو سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: بیوقوف! قاضی کے پاس جاؤ جو اس کام کے لیے بٹھائے گئے ہیں، کیا میں اپنے آپ کو اس کام میں مصروف کر دوں یا تجھے بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20229]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20230
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا أَبُو عَمْرٍو النَّمَرِيُّ، ثنا حَمَّادٌ، قَالَ: قَالَ أَيُّوبُ:" وَجَدْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِالْقَضَاءِ أَشَدَّ النَّاسِ مِنْهُ فِرَارًا، وَأَشَدَّهُمْ مِنْهُ فَرَقًا"، ثُمَّ قَالَ:" وَمَا أَدْرَكْتُ أَحَدًا كَانَ أَعْلَمَ بِالْقَضَاءِ مِنْ أَبِي قِلَابَةَ لَا أَدْرِي مَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ فَكَانَ يُرَادُ عَلَى الْقَضَاءِ، فَيَفِرُّ إِلَى الشَّامِ مَرَّةً، وَيَفِرُّ إِلَى الْيَمَامَةِ مَرَّةً، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ إِلَى الْبَصْرَةِ كَانَ كَالْمُسْتَخْفِي حَتَّى يَخْرُجَ".
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ قاضی کے عہدے سے وہی بھاگتا ہے جو اسے لوگوں سے زیادہ جانتا ہے اور ابو قلابہ رحمہ اللہ سے بڑھ کر اس کو کوئی نہیں جانتا۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کو قاضی بنانے کا ارادہ کیا گیا تو وہ ایک مرتبہ شام کی طرف اور دوسری دفعہ یمامہ بھاگ گئے اور جب بصرہ آئے تو چھپ کر رہتے، یہاں تک کہ وہاں سے نکل جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20230]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20231
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ:" إِنَّمَا مَثَلُ الْقَاضِي كَمَثَلِ رَجُلٍ يَسْبَحُ فِي الْبَحْرِ، فَكَمْ عَسَى يَسْبَحُ حَتَّى يَغْرَقَ" قَالَ:" وَطُلِبَ أَبُو قِلَابَةَ لِلْقَضَاءِ، فَهَرَبَ.
ایوب، ابو قلابہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قاضی کی مثال ایسے آدمی کی طرح ہے جو سمندر میں تیرتا ہے، وہ کتنی دیر تیرتا رہے گا یہاں تک کہ غرق ہو جائے۔ ابو قلابہ رحمہ اللہ کو قاضی کے عہدے کے لیے طلب کیا گیا تو وہ بھاگ گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20231]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20232
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا الْأَخْنَسِيُّ - أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي الصَّهْبَاءِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: جِئْتُ وَإِذَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَآنِي أَخَفَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلِيَّ: أَمُخَاصِمٌ أَوْ مُسَلِّمٌ أَوْ حَاجَةٌ؟"، قَالَ: قُلْتُ:" لَا، بَلْ مُسَلِّمٌ"، فَذَهَبَ الرَّسُولُ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ أَتَانِي فَقَالَ لِي:" قُمْ"، قَالَ:" فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَجْلِسْ لِهَذَا الْمَجْلِسِ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ وقَدَّرْتَهُ عَلَيَّ إِلَّا وَأَنَا أَكْرَهُهُ وَأُبْغِضُهُ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ"، قَالَ: ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً نَظِيفَةً، فَوَضَعَهَا عَلَى وَجْهِهِ، فَلَمْ يَزَلْ يَبْكِي حَتَّى قُمْتُ، قَالَ:" فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ وُلِّيَ بَعْدَهُ ابْنُ شُبْرُمَةَ قَالَ:" فَجِئْتُ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَآنِي أَخَفَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ بَعَثَ إِلِيَّ:" أَمُخَاصِمٌ أَوْ مُسَلِّمٌ أَوْ حَاجَةٌ؟"، قَالَ:" قُلْتُ:" لَا بَلْ مُسَلِّمٌ"، فَذَهَبَ الرَّسُولُ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ أَتَانِي فَقَالَ لِي: قُمْ، فَقُمْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ: حَدِّثْنِي حَدِيثَ أَخِي مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ:" اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ إِنِّي لَمْ أَجْلِسْ هَذَا الْمَجْلِسَ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ إِلَّا وَأَنَا أُحِبُّهُ وَأَشْتَهِيهِ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ"، ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً نَظِيفَةً فَوَضَعَهَا عَلَى وَجْهِهِ، فَمَا زَالَ يَبْكِي حَتَّى قُمْتُ".
ابن ابی صہبا تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں محارب بن دثار رحمہ اللہ کے پاس آیا، وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو نماز کو ہلکا کر دیا۔ پھر وہ قضاۃ کی مجلس میں آکر بیٹھ گئے۔ پھر میری طرف کسی کو روانہ کیا اور پوچھا: کیا جھگڑا لے کر آئے ہو، سلام کرنے والے ہو یا کوئی اور ضرورت ہے؟ میں نے کہا: صرف سلام کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔ قاصد نے جا کر خبر دی، پھر میرے پاس آیا اور کہا: کھڑے ہو جاؤ۔ کہتے ہیں: میں نے سلام کیا، انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: «اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَجْلِسْ لِهَذَا الْمَجْلِسِ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ وَقَدَّرْتَهُ عَلَيَّ إِلَّا وَأَنَا أَكْرَهُهُ وَأُبْغِضُهُ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ» ”اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں اس مجلس میں، جس کے ذریعے تو نے میری آزمائش کی اور جسے تو نے میرے مقدر میں لکھا، اسے ناپسند کرتے اور اس سے نفرت کرتے ہوئے ہی بیٹھا ہوں، پس مجھے اس کے برے انجام سے کافی ہو جا۔“ پھر انہوں نے کپڑے کا ایک صاف ٹکڑا نکالا، اسے چہرے پر رکھ کر روتے رہے یہاں تک کہ میں کھڑا ہو گیا۔ راوی فرماتے ہیں: جتنی دیر اللہ نے چاہا وہ رہے۔ پھر ابن شبرمہ رحمہ اللہ قاضی بنے، پھر میں ان کے پاس آیا، اچانک وہ بھی نماز ادا کر رہے تھے۔ جب انہوں نے مجھے دیکھا تو نماز کو ہلکا کر دیا۔ پھر میری طرف قاصد آیا اور کہنے لگا: کیا جھگڑا لے کر آئے ہو یا سلام کی غرض سے یا کوئی اور ضرورت ہے؟ میں نے کہا: صرف سلام کی غرض سے آیا ہوں۔ قاصد نے جا کر خبر دی، پھر میرے پاس آکر کہا: اٹھو۔ میں نے جا کر سلام کیا اور ان کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ انہوں نے کہا: میرے بھائی محارب بن دثار کی بات بیان کرو۔ میں نے انہیں وہ بات بیان کر دی، تو انہوں نے کہا: «اللهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ إِنِّي لَمْ أَجْلِسْ هَذَا الْمَجْلِسَ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي بِهِ إِلَّا وَأَنَا أُحِبُّهُ وَأَشْتَهِيهِ، فَاكْفِنِي شَرَّ عَوَاقِبِهِ» ”اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں اس مجلس میں، جس کے ذریعے تو نے میری آزمائش کی، اسے پسند کرتے اور اس کی چاہت رکھتے ہوئے ہی بیٹھا ہوں، پس مجھے اس کے برے انجام سے کافی ہو جا۔“ پھر ایک کپڑے کا صاف ٹکڑا نکالا، چہرے پر رکھ کر روتے رہے یہاں تک کہ میں کھڑا ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20232]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20233
أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الْبَزَّازُ الْكِسَائِيُّ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو عِيسَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَرُوضِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ الْعَبَّاسِ، يَقُولُ:" لَمَّا وُلِّيَ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ الْقَضَاءَ، قِيلَ ⦗١٦٨⦘ لِلْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ: أَلَا تَأْتِيهِ؟ قَالَ:" وَاللهِ مَا نَالَ عِنْدِي غَنِيمَةً فَأُهَنِّيَهُ عَلَيْهَا، وَلَا أُصِيبَ عِنْدَ نَفْسِهِ بِمُصِيبَةٍ فَأُعَزِّيَهُ عَلَيْهَا، وَمَا كُنْتُ زَوَّارًا لَهُ قَبْلَ الْيَوْمِ، فَأَزُورُهُ الْيَوْمَ؟".
ابو جعفر طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر محمد بن عباس رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: جب محارب بن دثار رحمہ اللہ قاضی بنے تو حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ سے کہا گیا: آپ ان کے پاس کیوں نہیں جاتے؟ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میرے نزدیک اس نے مال تو حاصل نہیں کیا کہ میں اس کو مبارک باد دوں اور نہ کوئی مصیبت آئی کہ میں اس پر تعزیت کروں۔ اس سے پہلے میں ان کی زیارت نہ کرتا تھا کہ آج زیارت کے لیے جاؤں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20233]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20234
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ:" خَرَجَ شُرَيْحٌ مِنْ عِنْدِ زِيَادٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ:" كَبِرَتْ سِنُّكَ، وَرَقَّ عَظْمُكَ، وَارْتَشَى ابْنُكَ"، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" مَنْ قَالَ لَكَ؟"، قَالَ: لَا أَعْرِفُهُ فَاعْفِنِي، قَالَ:" لَا أُعْفِيكَ حَتَّى تُشِيرَ عَلَيَّ بِرَجُلٍ"، فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِأَبِي بُرْدَةَ فَوَلَّاهُ الْقَضَاءَ".
ابونعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ زیاد کے پاس سے نکلے، انہیں ایک آدمی ملا جو کہنے لگا: آپ کی عمر بڑھ گئی، ہڈیاں کمزور ہو گئیں اور آپ کے بیٹے نے رشوت لی ہے۔ وہ زیاد کے پاس واپس گئے اور انہیں اس کی خبر دی۔ اس نے کہا: آپ سے یہ کس نے کہا؟ انہوں نے کہا: میں اس کو پہچانتا نہیں، پس مجھے (اس عہدے سے) معاف رکھیں۔ زیاد نے کہا: میں آپ کو اس وقت تک معاف نہیں کروں گا جب تک آپ کسی آدمی کی طرف میری رہنمائی نہ کریں، تو انہوں نے ابوبردہ رحمہ اللہ کی طرف اشارہ کیا، چنانچہ اس نے ان کو قاضی بنا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20234]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20235
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ:" كَانَ قَعْنَبٌ التَّمِيمِيُّ قَدْ دَعَاهُ وَالٍ، فَوَلَّاهُ الْقَضَاءَ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى قَبِلَ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ بِعَهْدِهِ، رَمَى بِهِ وَتَوَارَى، قَالَ:" فَأَرْسَلَ الْوَالِي فِي طَلَبِهِ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَطْلُبُونَهُ، إِذْ سَقَطَ عَلَيْهِ الْبَيْتُ الَّذِي كَانَ فِيهِ مُتَوَارِيًا فَلَمْ يَشْعُرُوا إِلَّا وَقَدْ خُرِجَ عَلَيْهِمْ بِجِنَازَتِهِ".
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قعنب تیمی رحمہ اللہ کو والی نے بلایا اور ان کو عہدۂ قضا دینے لگے تو انہوں نے انکار کر دیا۔ بار بار اصرار کے بعد عہدہ دے دیا گیا۔ جب وہ ان کے پاس سے نکلے تو عہدہ چھوڑ دیا اور چھپ گئے، تو امیر نے ان کی تلاش میں آدمی روانہ کیے۔ وہ تلاش کر رہے تھے کہ اس گھر کی چھت گر پڑی جس کے اندر وہ چھپے ہوئے تھے، ان کو پتا بھی نہ تھا۔ اس وقت پتا چلا جب ان کا جنازہ لایا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20235]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20236
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، قَالَ: قَالَ اللَّيْثُ:" قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ:" تَلِي لِي مِصْرَ؟"، قُلْتُ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ، وَإِنِّي رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي"، فَقَالَ:" مَا بِكَ مِنْ ضَعْفٍ مَعِي، وَلَكِنْ ضَعُفَتْ نِيَّتُكَ فِي الْعَمَلِ لِي عَلَى ذَلِكَ، أَتُرِيدُ قُوَّةً أَقْوَى مِنِّي وَمِنْ عَمَلِي، فَأَمَّا إِذَا أَبِيتَ فَدُلَّنِي عَلَى رَجُلٍ أُقَلِّدُهُ أَمْرَ مِصْرَ"، قُلْتُ:" عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ الْجُذَامِيُّ رَجُلٌ لَهُ صَلَاحٌ، وَلَهُ عَشِيرَةٌ"، قَالَ:" فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَعَاهَدَ اللهَ أَنْ لَا يُكَلِّمَ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ".
لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوجعفر رحمہ اللہ نے مجھے کہا: میری جانب سے مصر کے والی بن جاؤ۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں کمزور آدمی ہوں۔ میں غلام ہوں۔ کہنے لگے: آپ کمزور نہیں، صرف آپ کی نیت میرے ساتھ کام کرنے میں کمزور ہے۔ کیا آپ مجھ سے زیادہ قوت چاہتے ہیں اور میرے کام سے بڑا کام چاہتے ہیں؟ کہنے لگے: اگر آپ انکاری ہیں تو میری رہنمائی ایسے آدمی کی طرف کرو کہ میں مصر کی امارت اس کو سونپ دوں۔ میں نے کہا: عثمان بن حکم جذامی رحمہ اللہ نیک آدمی ہے، اس کا قبیلہ بھی ہے۔ جب اس کو یہ بات پہنچی تو اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ وہ لیث بن سعد رحمہ اللہ سے کلام نہ کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20236]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20237
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أَحْمَدَ وَهُوَ الْحَافِظُ الْبُخَارِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي عَمْرٍو الطَّوَاوِيسِيَّ يَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْأَزْهَرِ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي يُوسُفَ قَالَ:" لَمَّا مَاتَ سَوَّارٌ قَاضِي أَهْلِ الْبَصْرَةِ دَعَا أَبُو جَعْفَرٍ - يَعْنِي الْمَنْصُورَ أَبَا حَنِيفَةَ، فَقَالَ لَهُ:" إِنَّ سَوَّارًا قَدْ مَاتَ، وَإِنَّهُ لَا بُدَّ لِهَذَا الْمِصْرِ"، يَعْنِي مِنْ قَاضٍ،" فَاقْبَلِ الْقَضَاءَ، فَقَدْ وَلَّيْتُكَ قَضَاءَ الْبَصْرَةِ"، فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ:" وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنِّي لَا أَصْلِحُ لِلْقَضَاءِ، وَوَاللهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَئِنْ كُنْتُ صَادِقًا فَمَا يَسَعُكَ أَنْ تَسْتَقْضِيَ رَجُلًا لَا يَصْلُحُ لِلْقَضَاءِ، وَلَئِنْ كُنْتُ كَاذِبًا فَمَا يَسَعُكُ أَنْ تَسْتَقْضِيَ رَجُلًا كَذَّابًا، وَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، وَقَدْ أَصْبَحْتُ مُخَالِفًا لَكَ"، قَالَ:" فَقَالَ لَهُ أَبُو جَعْفَرٍ:" صَدَقْتَ، إِنَّكَ قُلْتَ: لَا يَصْلُحُ لِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا مِثْلُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَـ {تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ} [البقرة: ١٣٤] ، الْآيَةُ، وَأَمَّا قَوْلُكَ: إِنَّهُ لَا يَصْلُحَ لِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، ⦗١٦٩⦘ فَإِنَّا نَأْخُذُ بِمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ} [الحجرات: ١٣] وَلَيْسَ عَلَيْنَا إِلَّا الْجَهْدُ فِي أَهْلِ زَمَانِنِا، وَأَمَّا قَوْلُكُ: إِنَّكَ أَصْبَحْتَ مُخَالِفًا لِي، فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخَالِفُ الرَّأْيَ، فَاقْبَلْ هَذَا الْأَمْرَ"، فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَئِنْ خَلَّيْتَ عَنِّي وَإِلَّا لَبَّيْتُ مَكَانِيَ السَّاعَةَ، فَمَا يَسَعُكَ أَنْ تَحْبِسَ مُلَبِّيًا"، قَالَ: فَخَلَّى عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ.
ابویوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بصرہ کے قاضی سوار فوت ہو گئے تو ابوجعفر منصور نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو بلایا اور کہا: بصرہ کے قاضی سوار فوت ہو گئے، اس شہر کے لیے قاضی کی ضرورت ہے، میں آپ کو عہدہ قضا سونپ دیتا ہوں، اسے قبول کیجیے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں عہدہ قضا کے لائق نہیں ہوں، اے امیر المؤمنین! اگر میں سچ بولتا ہوں تو پھر ایسے آدمی کو قضا کا عہدہ دینا مناسب نہیں جو اس کا لائق نہیں ہے، اور اگر میں جھوٹا ہوں تو کذاب آدمی کو عہدہ قضا نہ دیں۔ کسی عرب آدمی کے لیے یہ عہدہ مناسب ہے، میں آپ کی مخالفت کروں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ منصور نے کہا: تو نے سچ کہا کہ اس عہدہ کے مناسب ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی طرح کے لوگ تھے۔ ﴿أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ﴾ [سورة البقرة: 134] ”یہ ایک امت تھی جو گزر گئی، ان کے لیے وہ ہے جو انہوں نے کمایا۔“ آپ کا یہ کہنا کہ عرب کے لوگ اس کے لائق ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ [سورة الحجرات: 13] ”اللہ کے ہاں تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔“ اپنے زمانے میں کوشش کرنا ہے اور آپ کا یہ کہنا کہ تو نے میری مخالفت مول لی، رائے تو ایک دوسرے کے مخالف ہو سکتی ہے، اس امر کو قبول کیجیے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے امیر المؤمنین! میرا راستہ چھوڑ دیں، وگرنہ میں اپنی اسی جگہ سے ابھی اسی وقت تلبیہ کہنا شروع کر دوں گا، پھر آپ کے لیے تلبیہ کہنے والے کو قید کرنا جائز نہ ہوگا۔ راوی کہتے ہیں: اس نے راستہ چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20237]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20238
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ:" دَخَلَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَجَعَلَ يَتَجَانَنُ عَلَيْهِمْ، وَيَمْسَحُ الْبِسَاطَ، وَيَقُولُ:" مَا أَحْسَنَهُ مَا أَحْسَنَهُ بِكَمْ أَخَذْتُمْ هَذَا؟"، ثُمَّ قَالَ:" الْبَوْلَ الْبَوْلَ"، حَتَّى أُخْرِجَ"، يَعْنِي: أَنَّهُ احْتَالَ لِيَتَبَاعَدَ مِنْهُمْ، وَيَسْلَمَ مِنْ أَمْرِهِمْ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری امیر المؤمنین کے پاس گئے۔ اپنے آپ کو پاگل ظاہر کر رہے تھے اور چٹائی کو چھو رہے تھے اور کہہ رہے تھے: یہ کتنی خوبصورت ہے، یہ کتنی خوبصورت ہے! تم نے یہ کتنے میں لی ہے؟ پھر کہنے لگے: پیشاب، پیشاب۔ یہاں تک کہ نکل گئے تاکہ ان کے معاملے سے دور اور محفوظ رہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20238]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح