السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4051. -- باب: ما يقول القاضي إذا جلس الخصمان بين يديه
-- باب: جب دونوں فریق قاضی کے سامنے بیٹھیں تو قاضی کیا کہے۔
حدیث نمبر: 20468
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ الْفَامِيُّ بِبَغْدَادَ فِي مَسْجِدِ الرَّصَافَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو ⦗٢٣٢⦘ عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ، وَقَالَ الْآخَرُ: هِيَ أَرْضِي، أَزْرَعُهَا، قَالَ:" أَلَكَ بَيِّنَةٌ"؟ قَالَ: لَا، قَالَ:" فَلَكَ يَمِينُهُ"، قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، قَالَ:" لَيْسَ لَكَ فِيهِ إِلَّا ذَلِكَ"، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَحْلِفَ قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَرَبِيعَةُ، هُوَ ابْنُ عَيْدَانَ بِفَتْحِ الْعَيْنِ، وَيَاءٍ مُعْجَمَةٍ مِنْ تَحْتِهَا بِنُقْطَتَيْنِ، وَقِيلَ: ابْنُ عِبْدَانَ، بِكَسْرِ الْعَيْنِ، وَبِبَاءٍ مُعْجَمَةٍ مِنْ تَحْتِهَا بِوَاحِدَةٍ.
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، دو جھگڑا کرنے والے آئے، ایک نے کہا: اس نے میری زمین جاہلیت میں چھین لی، یہ امرء القیس بن عابس کندی رضی اللہ عنہ تھا، اس سے جھگڑا کرنے والا ربیعہ تھا، دوسرے نے کہا: یہ میری زمین ہے، میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس دلیل ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ذمہ قسم ہے“، اس نے کہا: اس کو قسم کی پروا نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے صرف یہی ہے“، جب وہ قسم اٹھانے گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے ظلم کی بنا پر قسم اٹھائی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20468]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 139»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20469
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ، بِهَا، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ كَلَامَ الْآخَرِ، فَسَوْفَ تَرَى كَيْفَ تَقْضِي"، قَالَ: فَمَا زِلْتُ بَعْدُ قَاضِيًا.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی جھگڑا لے کر تمہارے پاس آئیں تو پہلے کے لیے فیصلہ نہ کرو یہاں تک کہ دوسرے کی بات سن لو، تو تم دیکھ لو گے کہ فیصلہ کیسے کرنا ہے۔“ کہتے ہیں: میں ہمیشہ اس طرح فیصلے کرتا رہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20469]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4052. -- باب: لا ينبغي للقاضي أن يضيف الخصم إلا وخصمه معه
-- باب: قاضی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی فریق کی میزبانی کرے مگر یہ کہ اس کا مدِمقابل بھی اس کے ساتھ ہو۔
حدیث نمبر: 20470
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: نَزَلَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلٌ وَهُوَ بِالْكُوفَةِ، ثُمَّ قَدِمَ خَصْمًا لَهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَخَصْمٌ أَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتَحَوَّلْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَانَا أَنْ نُضِيفَ الْخَصْمَ إِلَّا وَخَصْمُهُ مَعَهُ" تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِمَعْنَاهُ هَكَذَا.
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کوفہ میں آیا، پھر دوسرا جھگڑا کرنے والا بھی آگیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو جھگڑا کرنے والا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: جاؤ؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ”ہم کسی جھگڑا کرنے والے کی مہمانی کریں مگر یہ کہ اس کا دوسرا ساتھی بھی موجود ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20470]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20471
وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلٌ نَزَلَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ، فَأَقَامَ عِنْدَهُ أَيَّامًا، ثُمَّ ذَكَرَ خُصُومَةً لَهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" تَحَوَّلْ عَنْ مَنْزِلِي، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يَنْزِلَ الْخَصْمُ إِلَّا وَخَصْمُهُ مَعَهُ".
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کوفہ میں آیا۔ ان کے ہاں چند دن قیام کیا۔ پھر اس نے اپنے جھگڑے کا تذکرہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر سے نکال دیا۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ”ایک جھگڑا کرنے والے کی مہمان نوازی کی جائے مگر یہ کہ اس کا فریقِ مخالف بھی اس کے ساتھ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20471]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20472
وَقَرَأْتُ فِي كِتَابِ ابْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَهْلٍ الرَّمْلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غُصْنٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضِيفُ الْخَصْمَ إِلَّا وَخَصْمُهُ مَعَهُ".
ابوحرب بن اسود دیلمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”جھگڑا کرنے والے کی مہمانی نہ فرماتے تھے جب تک دوسرا نہ ہوتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20472]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4053. -- باب: لا يقبل منه هدية
-- باب: قاضی اس (فریقِ مقدمہ) سے کوئی ہدیہ (تحفہ) قبول نہ کرے۔
حدیث نمبر: 20473
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا الَّذِي لَكُمْ، وَهَذَا الَّذِي أُهْدِيَ إِلِيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهَلَّا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَنَظَرْتَ: أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لَا"؟ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً عَلَى الْمِنْبَرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِيَنَا، فَيَقُولَ: هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ، وَهَذَا الَّذِي أُهْدِيَ لِي، فَهَلَّا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَنَظَرَ: هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَقْبَلُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا وَلَهَا خُوَارٌ، وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ"، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى إِنَّنَا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ. قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: قَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَسَلُوهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو صدقہ پر عامل بنایا۔ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر آیا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کے لیے ہے اور یہ مجھے تحفہ ملا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی ماں یا باپ کے گھر میں رہتا تو کیا تجھے تحفہ دیا جاتا؟“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت نماز کے بعد منبر پر بیٹھے اور اللہ کی حمد و ثنا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عاملوں کو کیا ہے کہ وہ ہمارے پاس آکر کہتے ہیں: یہ تمہارا اور یہ ہمارے تحفے ہیں۔ وہ اپنے ماں، باپ کے گھر رہتا، پھر دیکھتا اس کو تحفے ملتے ہیں یا نہیں۔ اللہ کی قسم! جس نے اس طرح کوئی چیز قبول کی وہ اس کو اپنی گردن پر قیامت کے دن لائے گا۔ اگر اونٹ ہے تو اس کو لے کر آئے گا اور اس کے لیے بلبلانے کی آواز ہوگی۔ اگر گائے ہے اس کو لے کر آئے گا اس کی آواز ہوگی۔ اگر بکری ہے اس کو لے کر آئے گا اور اس کے لیے آواز ہوگی۔ میں نے پہنچا دیا۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے تو بغلوں کی سفیدی نظر آ رہی تھی۔
یہ بات میرے ساتھ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی سنی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20473]
یہ بات میرے ساتھ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی سنی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20473]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20474
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، وَدَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَدَايَا الْأُمَرَاءِ غُلُولٌ".
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امراء کے ہدیے خیانت ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20474]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20475
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَمِلَ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَهُوَ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَأَنِّي أَرَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ، قَالَ:" وَمَا لَكَ"؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ الَّذِي قُلْتَ، قَالَ:" وَأَنَا أَقُولُهُ الْآنَ: مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى" ⦗٢٣٤⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”اے لوگو! جس نے ہمارا کوئی کام کیا، پھر اس نے ایک سوئی بھی چھپائی تو وہ اسے قیامت کے دن لے کر آئے گا۔“ ایک انصاری آدمی نے کہا، گویا کہ میں تو اس کو دیکھ رہا ہوں، اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اپنا کام (واپس) قبول کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیا ہوا ہے؟“ اس نے عرض کی: میں نے آپ سے یہ بات سنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات میں اب بھی کہتا ہوں، جو عامل بنے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ سب کچھ لے کر آئے، پھر اسے جو دیا جائے وہ لے لے اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رک جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20475]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1833»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20476
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو زِيَادٍ الْفُقَيْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُهْدِي إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّ سَنَةٍ فَخِذَ جَزُورٍ، قَالَ: فَجَاءَ يُخَاصِمُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنَنَا قَضَاءً فَصْلًا كَمَا تَفْصِلُ الْفَخِذَ مِنَ الْجَزُورِ، قَالَ: فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عُمَّالِهِ:" لَا تَقْبَلُوا الْهَدْيَ، فَإِنَّهَا رِشْوَةٌ".
ابوحریر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ہر سال اونٹ کی ران تحفہ میں دیتا، وہ جھگڑا لے کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہمارے درمیان فیصلہ کیجیے، جیسے اونٹ کی ران اونٹ سے جدا ہوتی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کی طرف لکھا کہ ہدیہ قبول نہ کرو؛ کیونکہ رشوت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20476]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20477
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَصْبَغَ بْنِ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، أنبأ أَبِي، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا مَالِكٌ، قَالَ: أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مِنْ عُمَّالِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ لِامْرَأَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَخَلَ عُمَرُ فَرَآهُمَا، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ لَكِ هَاتَيْنِ؟ اشْتَرَيْتِهِمَا؟ أَخْبِرِينِي، وَلَا تَكْذِبِينِي"، قَالَتْ: بَعَثَ بِهِمَا إِلِيَّ فُلَانٌ، فَقَالَ: قَاتَلَ اللهُ فُلَانًا، إِذَا أَرَادَ حَاجَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْهَا مِنْ قِبَلِي أَتَانِي مِنْ قِبَلِ أَهْلِي فَاجْتَبَذَهُمَا اجْتِبَاذًا شَدِيدًا مِنْ تَحْتِ مَنْ كَانَ عَلَيْهِمَا جَالِسًا، فَخَرَجَ يَحْمِلُهُمَا، فَتَبِعَتْهُ جَارِيَتُهَا فَقَالَتْ: إِنَّ صُوفَهُمَا لَنَا، فَفَتَقَهُمَا، وَطَرَحَ إِلَيْهَا الصُّوفَ، وَخَرَجَ بِهِمَا، فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا امْرَأَةً مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ، وَأَعْطَى الْأُخْرَى امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ.
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمال میں سے تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی کو دو گدے تحفہ میں دیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو انہیں دیکھا اور پوچھا: یہ دونوں تمہارے پاس کہاں سے آئے؟ کیا تم نے انہیں خریدا ہے؟ مجھے بتاؤ اور مجھ سے جھوٹ نہ بولنا۔ اس نے کہا: یہ مجھے فلاں نے بھیجے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فلاں کو اللہ ہلاک کرے! جب وہ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے اور میری جانب سے وہ کام نہیں کروا پاتا تو میرے گھر والوں کی جانب سے آتا ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ان لوگوں کے نیچے سے سختی سے کھینچ لیا جو ان پر بیٹھے ہوئے تھے اور انہیں اٹھائے ہوئے باہر نکلے۔ ان کی بیوی کی لونڈی ان کے پیچھے آئی اور کہنے لگی: ان کا اون ہمارا ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں ادھیڑا، اون اس کی طرف پھینک دیا اور انہیں لے کر نکل گئے، پھر ایک مہاجر عورت کو اور دوسرا ایک انصاری عورت کو دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20477]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف