🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4062. -- باب: من قال: ليس للقاضي أن يقضي بعلمه
-- باب: جس نے کہا کہ قاضی کے لیے اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20506
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ:" أَرَأَيْتَ لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا قَتَلَ أَوْ سَرَقَ أَوْ زَنَى؟"، قَالَ: أَرَى شَهَادَتَكَ شَهَادَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ:" أَصَبْتَ".
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اگر میں کسی کو دیکھوں کہ اس نے قتل یا چوری یا زنا کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: آپ کی گواہی عام مسلمانوں کی طرح ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے درست کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20506]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20507
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا أَكُونُ أَنَا أَوَّلَ الْأَرْبَعَةِ".
جعفر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ابتدائی چار میں سے نہ ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20507]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20508
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي ابْنُ شُبْرُمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ عِنْدَهُ شَهَادَةٌ، فَجُعِلَ قَاضِيًا؟ فَقَالَ: أُتِيَ شُرَيْحٌ فِي ذَلِكَ فَقَالَ:" ائْتِ الْأَمِيرَ وَأَنَا أَشْهَدُ لَكَ" وَهَذِهِ الْآثَارُ مُنْقَطِعَةٌ غَيْرَ أَثَرِ شُرَيْحٍ.
ابن شبرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جو گواہ تھا، اسے قاضی بنا دیا گیا۔ قاضی شریح رحمہ اللہ کو لایا گیا تو وہ اس کے بارے میں کہنے لگے: امیر کے پاس جاؤ، میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا۔
یہ آثار منقطع ہیں، سوائے شریح کے اثر کے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20508]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20509
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ شُرَيْحٌ:" الْقَضَاءُ جَمْرٌ، فَارْفَعِ الْجَمْرَ عَنْكَ بِعُودَيْنِ".
ابو حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: ”قضا ایک کوئلہ ہے، اس کو دو لکڑیوں کے ذریعے اپنے سے دور ہٹاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20509]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4063. -- باب: القاضي لا يحكم لنفسه
-- باب: قاضی اپنے حق میں فیصلہ نہیں کر سکتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20510
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ عُمَرَ وَأُبَيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خُصُومَةٌ، فَقَالَ عُمَرُ:" اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا"، قَالَ: فَجَعَلَا بَيْنَهُمَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ: فَأَتَوْهُ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَتَيْنَاكَ لِتَحْكُمَ بَيْنَنَا، وَفِي بَيْتِهِ يُؤْتَى الْحَكَمُ"، قَالَ: فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ أَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى صَدْرِ فِرَاشِهِ، قَالَ: فَقَالَ: هَذَا أَوَّلُ جَوْرٍ جُرْتَ فِي حُكْمِكَ، أَجْلِسْنِي وَخَصْمِي مَجْلِسًا"، قَالَ: فَقَصَّا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، قَالَ: فَقَالَ زَيْدٌ لِأُبَيٍّ: الْيَمِينُ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنْ شِئْتَ أَعْفَيْتَهُ، قَالَ: فَأَقْسَمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ أَقْسَمَ لَهُ:" لَا تُدْرِكْ بَابَ الْقَضَاءِ حَتَّى لَا يَكُونَ لِي عِنْدَكَ عَلَى أَحَدٍ فَضِيلَةٌ".
سیار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی رحمہ اللہ سے سنا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے درمیان جھگڑا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی کو فیصل مقرر کرو، تو انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو فیصل مقرر کر لیا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ ان کے پاس آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم تیرے پاس آئے ہیں تاکہ تو ہمارے درمیان فیصلہ کرے۔ اور فیصل کے پاس اس کے گھر میں آیا جاتا ہے۔ جب وہ ان کے پاس داخل ہوئے تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بستر پر بٹھایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تم نے فیصلے میں پہلا ظلم کیا ہے، مجھے اور میرے فریقِ مخالف کو ایک ہی جگہ بٹھاؤ۔ راوی کہتے ہیں کہ اس نے اپنا قصہ بیان کیا تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: قسم امیر المؤمنین پر ہے، اگر آپ چاہیں تو انہیں معاف کر دیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اس وقت تک قاضی نہیں بن سکو گے جب تک تمہارے نزدیک میں اور ایک عام آدمی برابر نہ ہو جاؤں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20510]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4064. -- باب:: ما جاء في التحكيم
-- باب: تحکیم (ثالث مقرر کرنے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20511
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: ثنا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ هَانِئٍ أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَدِينَةَ، فَسَمِعَهُمْ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي الْحَكَمِ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٢٤٤⦘ فَقَالَ:" إِنَّ اللهَ هُوَ الْحَكَمُ، وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ، فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ؟"، قَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ، فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَحْسَنَ هَذَا فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ؟"، قَالَ: لِي شُرَيْحٌ وَمُسْلِمٌ وَعَبْدُ اللهِ، قَالَ:" فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ؟"، قَالَ: قُلْتُ: شُرَيْحٌ، قَالَ:" فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ".
شریح اپنے والد ہانی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں ایک وفد آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ انہوں نے ابوالحکم کنیت رکھی ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور فرمایا: ” «الْحَكَمُ» ”حکم“ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے، تو نے ابوالحکم کنیت کیوں رکھی؟“ انہوں نے کہا: میری قوم اپنے فیصلے مجھ سے کرواتی تھی اور دونوں فریق راضی ہو جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کتنا اچھا ہے! کیا تیرا کوئی بچہ ہے؟“ انہوں نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان میں سے بڑا کون ہے؟“ انہوں نے کہا: شریح۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ابوشریح کنیت رکھ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20511]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20512
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السِّمَّرِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ عُمَرَ وَأُبَيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خُصُومَةٌ فِي حَائِطٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَانْطَلَقَا، فَطَرَقَ عُمَرُ الْبَابَ، فَعَرَفَ زَيْدٌ صَوْتَهُ، فَفَتَحَ الْبَابَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا بَعَثْتَ إِلِيَّ حَتَّى آتِيَكَ؟ فَقَالَ:" فِي بَيْتِهِ يُؤْتَى الْحَكَمُ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ".
عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہما کے درمیان ایک باغ کے بارے میں جھگڑا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ثالث مقرر کر دیا، وہ دونوں گئے تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے آپ کی آواز پہچان کر دروازہ کھول دیا اور کہنے لگے: ”اے امیر المؤمنین! کسی کو روانہ کرتے تو میں آپ کے پاس آ جاتا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فیصل کے پاس اس کے گھر میں آیا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20512]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4065. -- باب: الأمر بالإشهاد
-- باب: گواہ بنانے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q20513
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ} [البقرة: 282] ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" الَّذِي يُشْبِهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَإِيَّاهُ أَسْأَلُ التَّوْفِيقَ، أَنْ يَكُونَ أَمْرُهُ بِالْإِشْهَادِ عِنْدَ الْبَيْعِ دَلَالَةً عَلَى مَا فِيهِ الْحَظُّ بِالشَّهَادَةِ، لَا حَتْمًا، وَاحْتَجَّ بِقَوْلِهِ تَعَالَى فِي آيَةِ الدَّيْنِ، وَالدَّيْنُ تَبَايُعٌ: {فَاكْتُبُوهُ} [البقرة: 282] ، ثُمَّ قَالَ: {وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ} [البقرة: 283] ، فَلَمَّا أَمَرَ إِذَا لَمْ يَجِدُوا كَاتِبًا بِالرَّهْنِ ثُمَّ أَبَاحَ تَرْكَ الرَّهْنِ دَلَّ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ الْأَوَّلَ دَلَالَةٌ عَلَى الْحَظِّ، لَا فَرْضًا مِنْهُ، يَعْصِي مَنْ تَرَكَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ﴾ ”اور جب تم آپس میں خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔“ [سورة البقرة: 282]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو بات (زیادہ) مناسب معلوم ہوتی ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اور میں اسی سے توفیق کا سوال کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ خرید و فروخت کے وقت گواہ بنانے کا اس کا حکم اس بات کی رہنمائی ہے کہ گواہی میں (لوگوں کا) فائدہ ہے، نہ کہ یہ لازمی حکم ہے۔“
اور انہوں نے قرض والی آیت میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا، اور قرض بھی (ایک طرح کی) خرید و فروخت ہے: ﴿فَاكْتُبُوهُ﴾ ”تو اسے لکھ لیا کرو۔“ [سورة البقرة: 282]
پھر فرمایا: ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ﴾ ”اور اگر تم سفر پر ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو قبضے میں دی ہوئی گروی چیزیں (کافی ہیں)، پھر اگر تم میں سے ایک دوسرے پر اعتماد کرے تو جس پر اعتماد کیا گیا ہے وہ اپنی امانت ادا کر دے۔“ [سورة البقرة: 283]
(امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:) ”تو جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ اگر وہ لکھنے والا نہ پائیں تو گروی رکھ لیں، پھر گروی چھوڑ دینے کو بھی جائز قرار دے دیا، تو اس سے معلوم ہوا کہ پہلا حکم (بھی) فائدے کی طرف رہنمائی ہے، نہ کہ اس کی طرف سے کوئی ایسا فرض جسے چھوڑنے والا گناہ گار ہو، واللہ اعلم...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: Q20513]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں