🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4054. -- باب: التشديد في أخذ الرشوة، وفي إعطائها على إبطال حق
-- باب: رشوت لینے اور کسی کا حق مارنے (باطل کرنے) کے لیے رشوت دینے پر سخت وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20478
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت کی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20478]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20479
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ - يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ، عَنِ السُّحْتِ؟ فَقَالَ:" الرِّشَا"، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْجَوْرِ فِي الْحُكْمِ، فَقَالَ:" ذَلِكَ الْكُفْرُ".
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «السُّحْتُ» کے بارے میں سوال کیا تو فرمانے لگے: یہ رشوت ہے اور میں نے فیصلے میں ظلم کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا: یہ کفر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20479]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20480
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٢٣٥⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ عَنِ السُّحْتِ؟ فَقَالَ:" هِيَ الرِّشَا"، فَقَالَ: فِي الْحُكْمِ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" ذَلِكَ الْكُفْرُ"، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: ٤٤] ".
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے «سُحْت» کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ رشوتیں ہیں۔ پوچھنے والے نے کہا: فیصلے میں (رشوت)؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو کفر ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44] ”جو اللہ کی نازل شدہ کتاب کے ذریعے فیصلہ نہیں کرتا وہی کافر لوگ ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20480]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20481
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ السُّحْتِ، أَهُوَ رِشْوَةٌ فِي الْحُكْمِ؟ قَالَ:" لَا"، {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: ٤٤] ، وَ {الظَّالِمُونَ} [المائدة: ٤٥] ، وَ {الْفَاسِقُونَ} [المائدة: ٤٧] ، وَلَكِنَّ السُّحْتَ أَنْ يَسْتَعِينَكَ رَجُلٌ عَلَى مَظْلِمَةٍ فَيُهْدِيَ لَكَ فَتَقْبَلَهُ، فَذَلِكَ السُّحْتُ".
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے «السُّحْتُ» ”سحت“ کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ فیصلے میں رشوت ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ ﴿جو اللہ کے نازل شدہ وحی کے ذریعے فیصلہ نہ کرے وہ کافر، ظالم اور فاسق ہیں﴾ [سورة المائدة: 44، 45، 47] ، لیکن «السُّحْتُ» ”سحت“ یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی ظلم (کے ازالے) پر آپ سے مدد طلب کرے، پھر وہ آپ کو تحفہ دے اور آپ اس کو قبول کریں، یہ سحت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20481]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4055. -- باب: من أعطاها ليدفع بها عن نفسه، أو ماله ظلما، أو يأخذ بها حقا
-- باب: جس شخص نے اپنی جان یا اپنے مال سے ظلم کو دفع کرنے کے لیے یا اپنا حق وصول کرنے کے لیے رشوت دی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20482
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ وَكَانَ مِنَ الْخِيَارِ قَالَ: ثنا وَكِيعٌ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَنَّهُ لَمَّا أَتَى أَرْضَ الْحَبَشَةِ أَخَذَ بِشَيْءٍ، فَتَعَلَّقَ بِهِ، فَأَعْطَى دِينَارَيْنِ حَتَّى خُلِّيَ سَبِيلُهُ".
قاسم بن عبدالرحمن، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ حبشہ کی زمین پر آئے تو انہیں کسی چیز کے سلسلے میں پکڑ لیا گیا اور روک لیا گیا، تو انہوں نے دو دینار دیے جس کے بعد ان کا راستہ چھوڑ دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20482]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20483
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا زَيْدٌ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ:" لَيْسَتِ الرِّشْوَةُ الَّتِي يَأْثَمُ فِيهَا صَاحِبُهَا بِأَنْ يَرْشُوَ فَيَدْفَعَ عَنْ مَالِهِ وَدَمِهِ، إِنَّمَا الرِّشْوَةُ الَّتِي تَأْثَمُ فِيهَا أَنْ تَرْشُوَ لَتُعْطَى مَا لَيْسَ لَكَ".
وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رشوت وہ نہیں جس میں اس کا دینے والا گناہ گار ہوتا ہے، اگر وہ اپنے مال و خون کی حفاظت کے لیے دیتا ہے تو گناہ گار نہیں ہے، اس رشوت میں انسان گناہ گار ہوتا ہے جو کسی کا حق لینے کے لیے دی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20483]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4056. -- باب:: القاضي يقدم الناس الأول فالأول، فللأول حق السبق، والسبق أصل في الشريعة
-- باب: قاضی لوگوں کو ان کی آمد کی ترتیب کے مطابق (پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر) مقدم رکھے کیونکہ پہلے آنے والے کو سبقت کا حق حاصل ہے اور سبقت شریعت میں ایک اصل (بنیاد) ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q20484
وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ"، وَعَنْ أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سُبِقَ إِلَى مَا لَمْ يَسْبِقْهُ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ فَهُوَ لَهُ"، يُرِيدُ بِهِ إِحْيَاءَ الْمَوَاتِ.
اور ہمیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت پہنچی ہے کہ: ”منیٰ اس شخص کے پڑاؤ کی جگہ ہے جو (وہاں) پہلے پہنچ جائے۔“
اور سیدنا اسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ: ”جو شخص کسی ایسی چیز کی طرف سبقت کر جائے جس کی طرف کسی مسلمان نے اس سے پہلے سبقت نہ کی ہو تو وہ اسی کی ہے۔“ اس سے مراد بنجر زمین کو آباد کرنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: Q20484]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20484
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ⦗٢٣٦⦘ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ هِيَ سَبْعُونَ أَلْفًا تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ"، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ، فَقَالَ: ادْعُ لِي يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ:" اللهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ"، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار آدمی جنت میں داخل ہوں گے۔ ان کے چہرے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔“ عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ اپنی چادر سنبھالتے ہوئے بولے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے لیے دعا فرمائیں اللہ مجھے ان میں سے کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو اس کو ان میں سے کر دے۔“ پھر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کھڑا ہوا۔ اس نے بھی کہا: دعا کریں اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ سبقت لے گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20484]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4057. -- باب: من دعي إلى حكم حاكم
-- باب: جس شخص کو کسی حاکم (یا قاضی) کے فیصلے کی طرف بلایا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q20485
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ} [النور: 48] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ﴾ ”اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو اچانک ان میں سے ایک گروہ منہ پھیرنے والا ہوتا ہے۔“ [سورة النور: 48] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: Q20485]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20485
وَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الدَّاوُدِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ حَيَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ دُعِيَ إِلَى حَكَمٍ مِنَ الْحُكَّامِ فَلَمْ يُجِبْ فَهُوَ ظَالِمٌ" هَذَا مُرْسَلٌ.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو حکام میں سے کسی کی طرف بلایا جاتا ہے پھر وہ اس کی بات کو قبول نہیں کرتا تو وہ ظالم ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20485]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں