🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4065. -- باب: الأمر بالإشهاد
-- باب: گواہ بنانے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20513
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ شَهْرَيَارَ، ثنا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الرَّزْجَاهِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الصُّوفِيُّ - وَهُوَ أَحْمَدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" تَلَا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى} [البقرة: ٢٨٢] حَتَّى بَلَغَ: {فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا} [البقرة: ٢٨٣] قَالَ:" هَذِهِ نَسَخَتْ مَا قَبْلَهَا".
(٢٠٥١٣) ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آیت { یٰٓا أَ یُّھَا الَّذِیْْنَ اٰمَنُوْْٓا اِذَا تَدَایَنْْتُمْْ بِدَیْْنٍ اِلٓٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی } [البقرۃ ٢٨٢] اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تم آپس میں قرض کا لین دین کرو تو وقت مقرر تک لکھ لیا کرو۔
{ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } [البقرۃ ٢٨٣] بعض تمہارا بعض سے اس میں ہو۔ اس نے پہلی آیت کو منسوخ کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20513]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20514
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَفَّانُ، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: {فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا} [البقرة: ٢٨٣] قَالَ: إِنْ أَشَهَدْتَ فَحَزْمٌ، وَإِنِ ائْتَمَنْتَهُ فَفِي حِلٍّ وَسَعَةٍ". وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: إِنْ شَاءَ أَشْهَدَ، وَإِنْ شَاءَ لَمْ يَشْهَدْ، أَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا} [البقرة: ٢٨٣] ؟ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَقَدْ حُفِظَ عَنِ ⦗٢٤٦⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَايَعَ أَعْرَابِيًّا فِي فَرَسٍ فَجَحَدَ الْأَعْرَابِيُّ بِأَمْرِ بَعْضِ الْمُنَافِقِينَ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ".
(٢٠٥١٤) عامر اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ { فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } [البقرۃ ٢٨٣] اگر آپ گواہ بنے تو پختہ بات کرنا، اگر امین بنو تو جائز اور وسعت والی بات کرنا۔
(ب) حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو گواہی دے، اگر چاہے تو گواہی نہ دے، کیا آپ نے یہ اللہ کا فرمان نہیں سنا: { فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } [البقرۃ ٢٨٣] امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دیہاتی سے گھوڑے کے بارے میں بیع کی۔ دیہاتی نے بعض منافقین کی وجہ سے جھگڑا کیا۔ ان دونوں کے درمیان میں کوئی دلیل نہ تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20514]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20515
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ، حَدَّثَهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّ عَمَّهُ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَاسْتَتْبَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَ ثَمَنَ فَرَسِهِ، فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ، وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ، فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ وَيُسَاوِمُونَهُ الْفَرَسَ، وَلَا يَشْعُرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَدِ ابْتَاعَهُ، حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمُ الْأَعْرَابِيَّ فِي السَّوْمِ، فَلَمَّا زَادُوا، نَادَى الْأَعْرَابِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْهُ، وَإِلَّا بِعْتُهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ حَتَّى أَتَى الْأَعْرَابِيَّ فَقَالَ:" أَوَلَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُ مِنْكَ؟"، قَالَ: لَا، وَاللهِ، مَا بِعْتُكَهُ، قَالَ:" بَلِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ"، فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ، فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: هَلُمَّ شَهِيدًا أَنِّي بَايَعْتُكَ، فَقَالَ خُزَيْمَةُ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ بَايَعْتَهُ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ فَقَالَ:" بِمَ تَشْهَدُ؟"، قَالَ: بِتَصْدِيقِكَ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ.
(٢٠٥١٥) عمارہ بن خزیمہ کے چچا نے خبر دی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دیہاتی سے گھوڑا خریدا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ساتھ لیا تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز چلے اور دیہاتی نے دیر کی۔ کچھ لوگ دیہاتی کو ملے اور گھوڑے کی قیمت مقرر کرنے لگے۔ انھیں معلوم نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خریدا ہوا ہے۔ بعض نے قیمت زیادہ لگا دی۔ جب انھوں نے قیمت زیادہ دینا چاہی تو دیہاتی نے رسول اللہ کو آواز دی کہ گھوڑا خریدنا ہے تو خرید لو، وگرنہ میں فروخت کر دوں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب دیہاتی کی آواز سنی تو آئے اور فرمایا: کیا میں نے آپ سے گھوڑا خریدا نہیں؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آپ کو فروخت نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: میں نے تجھ سے خریدا ہے۔ لوکی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ میں آرہے تھے، آپ کی حفاظت کر رہے تھے۔ آپ اور دیہاتی بات چیت کر رہے تھے، دیہاتی نے کہا: گواہ لاؤ کہ میں نے فروخت کیا ہے، تو خزیمہ کہنے لگے: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے فروخت کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خزیمہ کی طرف متوجہ ہوئے، تو نے گواہی کیوں دی؟ کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی وجہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خزیمہ کی گواہی دو آدمیوں کے برابر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20515]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20516
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زُرَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ، عَنْ أَبِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ مِنْ سَوَاءِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيِّ فَرَسًا، فَجَحَدَ، فَشَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى الشَّهَادَةِ، وَلَمْ تَكُنْ مَعَهُ؟"، قَالَ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَكِنْ صَدَّقْتُكَ بِمَا قُلْتَ، وَعَرَفْتُ أَنَّكَ لَا تَقُولُ إِلَّا حَقًّا، فَقَالَ:" مَنْ شَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ أَوْ شَهِدَ عَلَيْهِ فَهُوَ حَسْبُهُ". ⦗٢٤٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَلَوْ كَانَ حَتْمًا لَمْ يُبَايِعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَا بَيِّنَةٍ".
(٢٠٥١٦) عمارہ بن خزیمہ اپنے والدخزیمہ بن ثابت سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سواء بن حارث محاربی سے گھوڑا خریدا۔ اس نے جھگڑا کیا تو خزیمہ بن ثابت نے گواہی دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے گواہی کیوں دی حالانکہ آپ موجود نہ تھے؟ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے سچ فرمایا: لیکن میں نے آپ کی تصدیق کی؛ کیونکہ آپ سچ ہی بولتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے حق میں یا جس کے خلاف خزیمہ گواہی دے دیں وہ کافی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حتمی بات ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بغیر دلیل کی خریدو فروخت نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20516]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4066. -- باب: الاختيار في الإشهاد
-- باب: گواہ بنانے میں انتخاب (بہتر گواہ چننے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20517
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ يَدْعُونَ اللهَ، فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ: رَجُلٌ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ سَيِّئَةُ الْخُلُقِ فَلَمْ يُطَلِّقْهَا، وَرَجُلٌ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ مَالٌ فَلَمْ يُشْهِدْ عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ آتَى سَفِيهًا مَالَهُ، وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمْ} [النساء: ٥] ".
(٢٠٥١٧) سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تین آدمیوں کی دعا اللہ قبول نہیں کرتے۔ 1 جو برے اخلاق والی عورت کو طلاق نہیں دیتا۔ 2 ایک کا کسی کے ذمہ قرض ہے وہ اس کی گواہی نہیں دیتا۔ 3 بیوقوف کو اس کا مال دے دیتا ہے۔ حالانکہ قرآن میں ہے: { وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَھَآئَ اَمْوَالَکُمُ } [النساء ٥] بیوقوفوں کو ان کے مال نہ دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20517]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20518
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ} [البقرة: ٢٨٢] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ:" إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرَاهُ ذُرِّيَّتَهُ، فَرَأَى رَجُلًا أَزْهَرَ سَاطِعًا نُورُهُ فَقَالَ: يَا رَبِّ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ:" هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ"، قَالَ: يَا رَبِّ، فَمَا عُمُرُهُ؟ قَالَ:" سِتُّونَ سَنَةً"، قَالَ: يَا رَبِّ، زِدْ فِي عُمُرِهِ، قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ مِنْ عُمُرِكَ"، قَالَ: وَمَا عُمُرِي؟ قَالَ:" أَلْفُ سَنَةٍ، قَالَ آدَمُ: فَقَدْ وَهَبْتُ لَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ:" وَكَتَبَ اللهُ عَلَيْهِ كِتَابًا، وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ مَلَائِكَتَهُ"، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ، وَجَاءَتْهُ الْمَلَائِكَةُ قَالَ: إِنَّهُ بَقِيَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً، قَالُوا: إِنَّهُ قَدْ وَهَبْتَهُ لِابْنِكَ دَاوُدَ، قَالَ: مَا وَهَبْتُ لِأَحَدٍ شَيْئًا، فَأَخْرَجَ اللهُ الْكِتَابَ، وَشَهَّدَ عَلَيْهِ مَلَائِكَتَهُ"..
(٢٠٥١٨) ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے اس قول کے بارے میں فرمایا: { اِذَا تَدَایَنْْتُمْْ بِدَیْْنٍ اِلٓٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْْتُبُوْْہُ } [البقرۃ ٢٨٢] جب تم ادھار لین دین کرو وقت مقرر تک تو لکھ لیا کرو۔ پہلا جھگڑا آدم نے اللہ سے کیا، جب اللہ نے اس کو اس کی اولاد دکھائی۔ ایک آدمی کو دیکھا جس کی پیشانی چمک رہی تھی، پوچھا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ فرمایا: یہ تیرا بیٹا داؤد ہے، پوچھا: اے میرے رب! اس کی عمر کتنی ہے، فرمایا: ٦٠ سال۔ کہا: اے میرے رب! اس کی عمر میں اضافہ فرما۔ فرمایا: نہیں لیکن اپنی عمر میں سے کچھ اضافہ کر دو۔ پوچھا: میری عمر کتنی ہے؟ فرمایا: ہزار سال۔ آدم نے عرض کیا: میں نے چالیس اس کو ہبہ کردی۔ اللہ نے لکھ لیا اور فرشتوں کو گواہ بنا لیا۔ جب آدم کی موت کا وقت آیا اور فرشتے حاضر ہوئے تو کہنے لگے: میری عمر کے چالیس برس باقی ہیں۔ فرمایا: تو نے اپنے بیٹے داؤد کو ہبہ کردیے تھے۔ کہنے لگے: میں نے کچھ بھی ہبہ نہیں کیا، اللہ نے لکھا ہوا نکالا اور فرشوں نے گواہی دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20518]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20519
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" فَأَكْمَلَ لِآدَمَ أَلْفَ سَنَةٍ، وَلِدَاوُدَ مِائَةَ سَنَةٍ".
(٢٠٥١٩) حماد بن سلمہ نے اس کے مثل ذکر کیا ہے، لیکن اس کے ابتدا میں ہے جب اللہ نے آیت دَین نازل کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور اس کے آخر میں ہے کہ حضرت آدم کے لیے مکمل ہزار سال اور ان کے بیٹے داؤد کے لیے ایک سو سال کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20519]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20520
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا خَلَقَ اللهُ آدَمَ وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَحَمِدَ اللهَ بِإِذْنِ اللهِ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ:" رَحِمَكَ رَبُّكَ يَا آدَمُ"، فَقَالَ لَهُ: يَا آدَمُ اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ الْمَلَائِكَةِ، إِلَى مَلَأٍ ⦗٢٤٨⦘ مِنْهُمْ جُلُوسٍ، فَقُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ"، فَذَهَبَ، قَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ:" هَذِهِ تَحِيَّتُكَ، وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ وَبَنِيهِمْ"، وَقَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، لَهُ وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ:" اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ"، فَقَالَ: اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي - وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ، ثُمَّ بَسَطَهَا، فَإِذَا فِيهَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ:" هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ"، فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ مَكْتُوبٌ عُمُرُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَإِذَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَضْوَأُهُمْ، أَوْ قَالَ: مِنْ أَضْوَئِهِمْ، لَمْ يُكْتَبْ لَهُ إِلَّا أَرْبَعُونَ سَنَةً، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، زِدْ فِي عُمُرِهِ، قَالَ:" ذَاكَ الَّذِي كُتِبَ لَهُ"، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُ مِنْ عُمُرِي سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ:" أَنْتَ وَذَاكَ"، قَالَ: ثُمَّ أُسْكِنَ الْجَنَّةَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا، وَكَانَ آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهِ، فَأَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: قَدْ عَجَّلْتَ، قَدْ كُتِبَتْ لِي أَلْفُ سَنَةٍ، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّكَ جَعَلْتَ لِابْنِكَ دَاوُدَ مِنْهَا سِتِّينَ سَنَةً، فَجَحَدَ، فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَنَسِيَ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ، فَيَوْمَئِذٍ أُمِرَ بِالْكِتَابِ وَالشُّهُودِ".
(٢٠٥٢٠) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ نے آدم کو پیدا فرمایا اور اس میں روح پھونکی۔ اس نے چھینک ماری تو کہا: الحمد للہ، اللہ کی اجازت سے اللہ کی حمد بیان کی۔ اللہ نے فرمایا: تیرا رب تیرے اوپر رحم کرے۔ اللہ نے فرمایا: اے آدم! فرشتوں کی اس جماعت جو مجلس میں جا کر سلام کہو۔ وہ گئے تو انھوں نے کہا: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ تم پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔
پھر اپنے رب کے پاس واپس آئے۔ اللہ نے فرمایا: یہ تمہارا اور اس کا سلام ہے اور اللہ نے فرمایا: جب اس کے دونوں ہاتھ بند تھے جو چاہے اختیار کر۔ اس نے کہا: میں نے اپنے رب کے داہنے ہاتھ کو پسند کیا۔ میرے رب کے دونوں ہاتھ داہنے اور بابرکت ہیں۔ پھر ہاتھ کھولا تو اس میں آدم اور اس کی اولاد تھی۔ فرمایا: اے میرے رب! یہ کیا ہے؟ فرمایا: تیری اولاد۔ ہر انسان کی عمر دونوں آنکھوں کے درمیان میں لکھی ہوئی تھی۔
ان میں سے ایک آدمی پیشانی کے اعتبار سے زیادہ چمکدار تھا اور صرف چالیس لکھا ہوا تھا، کہا: اے اللہ! اس کی عمر میں اضافہ فرما۔ اللہ نے فرمایا: اس کی بس اتنی ہی عمر ہے، کہنے لگے: میری عمر کے ٦٠ سال اس کو دے دے۔ اللہ نے فرمایا: یہ آپ کا اور اس کا معاملہ ہے، پھر جنت میں ٹھہرے جتنی دیر اللہ نے چاہا۔ پھر اس سے اترے۔ حضرت آدم اپنی عمر شمار کرتے رہے جب موت کا فرشتہ آیا تو آدم نے فرمایا: تو نے جلدی کی۔ میری عمر تو ہزار سال ہے، فرشتے نے کہا: کیوں نہیں لیکن آپ نے اپنے بیٹے داؤد کو ساٹھ سال دے دیے تھے۔ آپ نے انکار کردیا۔ ان کی اولاد نے بھی انکار کیا۔ آدم بھول گئے۔ ان کی اولاد بھی بھول گئی۔ اس دن وہ لکھنے اور گواہوں کا حکم دیے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20520]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4067. -- باب: الشهادة في الزنا
-- باب: زنا کے معاملے میں گواہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q20521
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ} [النساء: 15] ، وَقَالَ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً} [النور: 4] .
اللہ تعالیٰ کا فرمان: { وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ } [النساء ١٥] وہ جو تمہاری عورتوں سے بےحیائی کو آلیں تو ان کے خلاف چار گواہ بنا لو۔ { وَالَّذِیْنَ یَر [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20521]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20521
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا، أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ كَمَا مَضَى.
(٢٠٥٢١) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اگر میں اپنی عورت کے ساتھ کسی کو دیکھوں تو پھر میں چار گواہ تلاش کروں۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20521]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1498»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں