السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4067. -- باب: الشهادة في الزنا
-- باب: زنا کے معاملے میں گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 20522
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، ثنا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ"، قَالَ: كَلَّا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، إِنْ كُنْتُ لَأُعْجِلُهُ بِالسَّيْفِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْمَعُوا مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ؟ إِنَّهُ غَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اپنی عورت کے پاس کسی مرد کو پاؤں، پھر اس کو کچھ کہے بغیر چار گواہ تلاش کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ کہنے لگے: نہیں اللہ کے رسول! پہلے میں اس کی گردن ماروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جو تمہارا سردار کہہ رہا ہے، یہ غیرت مند ہے، میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20522]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20523
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى: سَلْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ بَيْتَهُ، فَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلٌ، فَقَتَلَهَا، أَوْ قَتَلَهُ؟ فَسَأَلَهُ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا ذَكَّرَكَ هَذَا؟ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا هُوَ بِأَرْضِنَا؟ عَزَمْتُ عَلَيْكَ، قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ مُعَاوِيَةُ فِي أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهَا، قَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ:" إِنْ جَاءَنَا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، وَإِلَّا دَفَعَ بِرُمَّتِهِ"، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ:" يُقْتَلُ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ مَضَى مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَشَهِدَ ثَلَاثَةٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالزِّنَا، وَلَمْ يُثْبِتِ الرَّابِعُ، فَجَلَدَ الثَّلَاثَةَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھیں جو اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے، اس کی عورت کے ساتھ دوسرا آدمی ہے، وہ اس عورت کو یا مرد کو قتل کر دے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ کو یہ بات کس نے یاد دلائی؟ یہ تو ایسی چیز ہے جو ہمارے علاقے میں نہیں ہوئی، میں آپ کو قسم دیتا ہوں (کہ بتائیں)۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا کہ میں اس کے بارے میں آپ سے پوچھ لوں۔ فرمایا: میں ابوالحسن ہوں: اگر وہ چار گواہ لے آئے (تو ٹھیک)، وگرنہ اسے رسی سمیت (قصاص کے لیے) حوالے کر دیا جائے گا۔ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: قتل کیا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمیوں نے ایک شخص کے خلاف زنا کی گواہی دی اور چوتھے نے گواہی ثابت نہ کی تو انہوں نے ان تینوں کو کوڑے لگائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20523]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمیوں نے ایک شخص کے خلاف زنا کی گواہی دی اور چوتھے نے گواہی ثابت نہ کی تو انہوں نے ان تینوں کو کوڑے لگائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20523]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20524
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ - هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: لَمَّا شَهِدَ أَبُو بَكْرَةَ وَصَاحِبَاهُ عَلَى الْمُغِيرَةِ جَاءَ زِيَادٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" رَجُلٌ إِنْ يَشْهَدْ إِنْ شَاءَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ"، قَالَ: رَأَيْتُ ابْتِهَارًا وَمَجْلِسًا سَيِّئًا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ رَأَيْتَ الْمِرْوَدَ دَخَلَ الْمُكْحُلَةَ؟" قَالَ: لَا:" فَأَمَرَ بِهِمْ فَجُلِدُوا".
ابو عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے دو ساتھیوں نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے خلاف گواہی دی تو زیاد آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ایسا آدمی ہے جو ان شاء اللہ حق کے سوا گواہی نہیں دے گا۔ اس نے کہا کہ میں نے تیز سانسیں اور بری مجلس دیکھی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا آپ نے سرمچو کو سرمہ دانی کے اندر داخل ہوتے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تو انہوں نے ان (تینوں) کے بارے میں حکم دیا اور انہیں کوڑے مارے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20524]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4068. -- باب: الشهادة في الطلاق، والرجعة وما في معناهما من النكاح والقصاص والحدود
-- باب: طلاق، رجوع اور ان کے ہم معنی امور جیسے نکاح، قصاص اور حدود میں گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: Q20525
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: 2] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ ”پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کو پہنچنے لگیں تو انہیں بھلے طریقے سے روک لو یا بھلے طریقے سے ان سے جدا ہو جاؤ، اور اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو۔“ [سورة الطلاق: 2] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20525]
حدیث نمبر: 20525
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، ثنا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ، فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" أَلَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَتْلِ صَاحِبِكُمْ"؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّمَا هُمْ يَهُودُ، وَقَدْ يَجْتَرِئُونَ عَلَى أَعْظَمَ مِنْ هَذَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری صبح کے وقت خیبر میں مقتول پایا گیا، اس کے وارثوں نے اس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے دو گواہ اس قتل پر گواہی دیں گے؟“ انہوں نے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہاں کوئی مسلمان موجود نہیں ہے، وہاں یہودی ہیں وہ اس سے بھی بڑا کام کرسکتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20525]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20526
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ ⦗٢٥٠⦘ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ الْقُومِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ، فَإِنْ نَكَحَتْ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ". وَرَوَيْنَا فِي كِتَابِ النِّكَاحِ، عَنِ الْحَسَنِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ" وَرُوِّينَاهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالَّذِي رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَجَازَ شَهَادَةَ الرَّجُلِ مَعَ النِّسَاءِ فِي النِّكَاحِ لَا يَصِحُّ، فَعَطَاءٌ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنْقَطِعٌ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَمُرْسَلُ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ اگر وہ آپس میں اختلاف کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہیں۔ اگر اس نے اپنا نکاح خود کر لیا تو نکاح باطل ہے۔“
(ب) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح باطل ہے۔
(ج) حجاج بن ارطاۃ کی عطاء کے واسطے سے یہ روایت کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نکاح میں عورتوں کے ساتھ مرد کی گواہی کی اجازت دی، درست نہیں ہے۔
عطاء کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے، حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں، اور ابن مسیب کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20526]
(ب) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح باطل ہے۔
(ج) حجاج بن ارطاۃ کی عطاء کے واسطے سے یہ روایت کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نکاح میں عورتوں کے ساتھ مرد کی گواہی کی اجازت دی، درست نہیں ہے۔
عطاء کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے، حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں، اور ابن مسیب کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20526]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في كتاب النكاح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20527
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةَ النِّسَاءِ عَلَى الْإِطْلَاقِ".
حضرت حسن رحمہ اللہ عورتوں کی گواہی کو مطلقاً جائز نہیں سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20527]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20528
قَالَ: وَحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةَ النِّسَاءِ عَلَى الْحُدُودِ وَالطَّلَاقِ، قَالَ:" وَالطَّلَاقُ مِنْ أَشَدِّ الْحُدُودِ".
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت کی گواہی حدود و طلاق میں جائز نہیں، فرمایا: طلاق تو سب سے زیادہ سخت حدود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20528]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4069. -- باب:: الشهادة في الدين وما في معناه مما يكون مالا، أو يقصد به المال
-- باب: قرض اور اس کے ہم معنی امور میں گواہی کا بیان جو کہ مال ہو یا اس سے مال مقصود ہو۔
حدیث نمبر: Q20529
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ} [البقرة: 282] ، وَقَالَ فِي سِيَاقِهَا: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى} [البقرة: 282] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ﴾ ”جب تم ایک مقررہ مدت تک کے لیے آپس میں قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔“ [سورة البقرة: 282]
اور اسی کے سیاق میں فرمایا: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى﴾ ”اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لو، پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں، ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو، تاکہ اگر ان دونوں (عورتوں) میں سے ایک بھول جائے تو ان میں سے ایک دوسری کو یاد دلا دے۔“ [سورة البقرة: 282] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20529]
اور اسی کے سیاق میں فرمایا: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى﴾ ”اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لو، پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں، ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو، تاکہ اگر ان دونوں (عورتوں) میں سے ایک بھول جائے تو ان میں سے ایک دوسری کو یاد دلا دے۔“ [سورة البقرة: 282] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20529]
حدیث نمبر: 20529
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ وَأَكْثِرْنَ الِاسْتِغْفَارَ، فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ"، قَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: مَا لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي اللُّبِ مِنْكُنَّ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ؟ قَالَ:" أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ، فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَهَذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ، وَتَمْكُثُ اللَّيَالِيَ لَا تُصَلِّي، وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ، فَهَذَا نُقْصَانُ الدِّينِ". ⦗٢٥١⦘.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورتوں کے گروہ! تم صدقہ اور استغفار زیادہ کیا کرو، میں تمہیں اکثر جہنم والیاں دیکھتا ہوں۔“ ان میں سے ایک عورت نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں کیا ہے (کہ ہم کثرت سے جہنمی ہیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لعنت اور خاوندوں کی ناشکری زیادہ کرتی ہو، اور میں نے عقل و دین میں ناقص ہونے کے باوجود عقل مند آدمی پر تم سے زیادہ غالب آنے والی کسی کو نہیں دیکھا۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عقل و دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوتی ہے، یہ عقل کا نقصان ہے؛ اور وہ کئی راتیں نماز نہیں پڑھتی اور رمضان میں روزے نہیں رکھتی، یہ دین کا نقصان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20529]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 807»
الحكم على الحديث: صحيح