السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4114. -- باب:: ما ترد به شهادة أهل الأهواء
-- باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20874
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنُ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ أَبُو سِنَانٍ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ خَالِدٍ الْحِمْصِيَّ يُحَدِّثُنَا، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ، فَأَتَيْتُ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ خِفْتُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ هَلَاكُ دِينِي وَأَمْرِي، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ ⦗٣٤٤⦘ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ، لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ لَهُمْ خَيْرًا مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنَّ لَكَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ مَا قَبِلَهُ اللهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَإِنَّكَ إِذَا مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ، وَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ أَخِي عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَتَسْأَلَهُ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ إِسْحَاقُ: قَصَّ الْقِصَّةَ كُلَّهَا كَمَا قَالَ، غَيْرَ أَنِّي اخْتَصَرْتُهُ، وَقَالَ لِي: لَا عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَتَسْأَلَهُ، فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَسَأَلْتُهُ، وَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَ: ائْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَلْهُ، فَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنَّ لَكَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، مَا قَبِلَهُ اللهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَأَنَّهُ إِنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلَ النَّارَ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ. وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَغَيْرِهِمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
ابن دیلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تقدیر کے بارے میں میرے دل میں شک سا پیدا ہوا تو میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا اور میں نے کہا: اے ابو منذر! میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ (وسوسہ) واقع ہوا، میں خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ میرا دین برباد نہ ہو جائے، انہوں نے کہا: اے بھتیجے! اگر اللہ آسمانوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ اس میں ظالم نہیں ہے، اور اگر وہ رحمت کرے تو اس کی رحمت سب سے زیادہ وسیع ہے، اگر آپ کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور آپ اس کو خرچ کر دیں تو اللہ اسے قبول نہ فرمائیں گے جب تک کہ آپ کا تقدیر پر ایمان نہ ہو اور آپ جان لیں کہ جو آپ کو پہنچنے والا ہے وہ پہنچ کر رہے گا اور جو نہیں ملنا وہ آپ کو نہیں مل سکے گا۔ اگر آپ تقدیر کے عقیدے کے بغیر مر گئے تو جہنم میں جاؤ گے اور جب میرے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئیں تو ان سے سوال کر لینا۔ پھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان سے سوال کیا تو انہوں نے بھی ویسا ہی جواب دیا۔
اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر سوال کرنا۔ میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے بھی مجھے ایسا ہی جواب دیا اور وہ مجھ سے کہنے لگے: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جانا، میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے ان سے سوال کیا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”اگر اللہ آسمانوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ اس میں ظالم نہ ہوگا، اور اگر وہ رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت تمام اعمال سے بہتر ہے۔ اگر تیرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور آپ اسے خرچ کریں تو اللہ اسے قبول نہ فرمائیں گے جب تک آپ کا تقدیر پر ایمان نہ ہو۔ آپ جان لیں جو آپ کو پہنچنے والا ہے وہ پہنچ کر ہی رہے گا اور جو آپ سے خطا کر گیا وہ آپ کو نہ پہنچ سکے گا۔ اگر اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر فوت ہوا تو جہنم میں جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20874]
اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر سوال کرنا۔ میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے بھی مجھے ایسا ہی جواب دیا اور وہ مجھ سے کہنے لگے: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جانا، میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے ان سے سوال کیا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”اگر اللہ آسمانوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو وہ اس میں ظالم نہ ہوگا، اور اگر وہ رحمت کرنا چاہے تو اس کی رحمت تمام اعمال سے بہتر ہے۔ اگر تیرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور آپ اسے خرچ کریں تو اللہ اسے قبول نہ فرمائیں گے جب تک آپ کا تقدیر پر ایمان نہ ہو۔ آپ جان لیں جو آپ کو پہنچنے والا ہے وہ پہنچ کر ہی رہے گا اور جو آپ سے خطا کر گیا وہ آپ کو نہ پہنچ سکے گا۔ اگر اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر فوت ہوا تو جہنم میں جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20874]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20875
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، فِي كِتَابِ السُّنَنِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ الْهُذَلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ: قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ لِابْنِهِ: يَا بُنِيَّ، إِنَّكَ لَنْ تَجِدَ طَعْمَ حَقِيقَةِ الْإِيمَانِ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، قَالَ: رَبِّ، وَمَاذَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبْ مَقَادِيرَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ"، يَا بُنِيَّ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ هَذَا فَلَيْسَ مِنِّي".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے سے فرماتے ہیں: اے میرے بیٹے! آپ ایمان کے ذائقے کو نہیں پا سکتے، یہاں تک کہ جو چیز آپ کو پہنچنے والی ہے، وہ پہنچ کر ہی رہے گی اور جو نہیں پہنچنی وہ کبھی نہ پہنچ سکے گی؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور فرمایا: لکھ۔ اس نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ فرمایا: قیامت تک ہر چیز کی تقدیر لکھ دو۔“
اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اس عقیدہ کے بغیر مرا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20875]
اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اس عقیدہ کے بغیر مرا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20875]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 22197»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20876
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ الْأَزْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ، قَالَ: تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ".
ابوحجاج ازدی سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ان سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: تو جان لے کہ جو تجھے پہنچنے والا ہے، وہ پہنچ کر ہی رہے گا اور جو تجھے نہیں پہنچنا وہ کبھی نہ ملے گا۔ [ضعیف] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20876]
حدیث نمبر: 20877
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنِ الْهَيْثَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ ⦗٣٤٥⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَطَبَ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ فَقَالَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ".
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں منبر پر خطبہ ارشاد فرمایا: اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں جو اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا۔ [ضعیف] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20877]
حدیث نمبر: 20878
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا يَجِدُ عَبْدٌ طَعْمَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ".
حارث سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں: ”جو بندہ تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20878]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20879
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ بِرَجُلٍ، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ هَذَا يُكَلِّمُكَ فِي الْقَدَرِ، قَالَ:" أَدْنِهِ مِنِّي"، فَقُلْتُ: هُوَ ذَا، تُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَهُ؟ قَالَ: إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَدْنَيْتَهُ مِنِّي لَوَضَعْتُ يَدِي فِي عُنُقِهِ، فَلَمْ يُفَارِقْنِي حَتَّى أَدُقَّهَا".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک آدمی کو لے کر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں نے کہا: یہ تقدیر کے بارے میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہے، فرمانے لگے: اس کو میرے قریب کر دو۔ میں نے کہا: کیا آپ اس کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں؟ فرمانے لگے: اگر آپ اس کو میرے قریب کر دیتے تو میں اپنا ہاتھ اس کی گردن پر رکھ دیتا اور اس وقت تک جدا نہ کرتا جب تک اس کو کچل نہ دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20879]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20880
أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ بْنُ بُرْهَانٍ، وَأَبُو الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ قَالُوا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَنْزِعُ فِي زَمْزَمَ قَدِ ابْتَلَّتْ أَسَافِلُ ثِيَابِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ تُكُلِّمَ فِي الْقَدَرِ، فَقَالَ:" أَوَ قَدْ فَعَلُوهَا؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللهِ مَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِلَّا فِيهِمْ: {ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: ٤٩] أُولَئِكَ شِرَارُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، لَا تَعُودُوا مَرْضَاهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا عَلَى مَوْتَاهُمْ، إِنْ أَرَيْتَنِي أَحَدًا مِنْهُمْ فَقَأْتُ عَيْنَيْهِ بِأُصْبُعِيَّ هَاتَيْنِ".
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ آبِ زمزم نکال رہے تھے۔ ان کے کپڑوں کے نیچے والا حصہ تر ہو چکا تھا۔ میں نے کہا: تقدیر کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ فرمانے لگے: کیا؟ انہوں نے ایسا کیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرمانے لگے: اللہ کی قسم! یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾ [سورة القمر: 48-49] یہ اس امت کے بدترین لوگ ہیں۔ ان کے بیماروں کی تیمار داری نہ کرو، ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھو، اگر ان میں سے میں کسی کو دیکھ لیتا تو اپنی انگلیوں کے ساتھ ان کی آنکھیں نکال دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20880]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20881
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلِيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ".
نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اہل شام کا رہنے والا ایک دوست تھا جو ان کو خط وغیرہ لکھتا تھا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے تقدیر کے بارے میں باتیں کی ہیں، آئندہ مجھے خط نہ لکھنا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے اندر ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کا انکار کریں گے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20881]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20882
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ ⦗٣٤٦⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، قَالَ طَاوُسٌ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، حَتَّى الْعَجْزُ وَالْكَيْسُ" أَوِ:" الْكَيْسُ وَالْعَجْزُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ.
طاؤس یمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم فرماتے تھے کہ ہر چیز تقدیر کے مطابق ہے، طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز تقدیر کے ساتھ ہے، حتی کہ عاجزی اور دانائی بھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20882]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2655»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20883
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ:" مَا رَأْيُكَ فِي هَؤُلَاءِ الْقَدَرِيَّةِ؟"، قَالَ: قُلْتُ: أَرَى أَنْ تَسْتَتِيبَهُمْ، فَإِنْ قَبِلُوا وَإِلَّا عَرَضْتَهُمْ عَلَى السَّيْفِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ:" ذَلِكَ رَأْيِي"، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَيْضًا رَأْيِي..
امام مالک رحمہ اللہ اپنے چچا ابوسہیل بن مالک رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ چل رہا تھا، فرمانے لگے: ”قدریہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟“ کہنے لگے: ”میں ان سے توبہ طلب کروں گا، اگر وہ قبول کر لیں تو ٹھیک وگرنہ میں ان کو تلوار پر پیش کروں گا“ تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہنے لگے: ”میری بھی یہی رائے ہے“، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میری بھی یہی رائے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20883]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1665»
الحكم على الحديث: صحيح