🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4112. -- باب:: من قال: لا تجوز شهادة الوالد لولده، والولد لوالديه
-- باب: جس نے کہا: ”والد کی اپنی اولاد کے حق میں اور اولاد کی اپنے والدین کے حق میں گواہی جائز نہیں ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20865
وَرَوَاهُ عُقَيْلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:" مَضَتِ السُّنَّةُ أَنْ لَا تَجُوزَ شَهَادَةُ خَصْمٍ وَلَا ظَنِينٍ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَذَكَرَهُ.
عقیل نے زہری رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”سنت یہ چلی آئی ہے کہ جھگڑا کرنے والے اور متہم (جس پر تہمت ہو) کی گواہی جائز نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20865]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20866
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ شِهَابٍ، عَنْ رَجُلٍ وَلِيِّ يَتِيمٍ، هَلْ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ؟ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:" مَضَتِ السُّنَّةُ فِي الْإِسْلَامِ أَنْ لَا تَجُوزَ شَهَادَةُ خَصْمٍ وَلَا ظَنِينٍ وَلَا شَهَادَةُ خَصْمٍ لِمَنْ يُخَاصِمُ" قَالَ الشَّيْخُ:" وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا اللَّفْظُ فِي الْقَرَابَةِ فِي الْكِتَابِ الَّذِي كَتَبَهُ عُمَرُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَقَدْ مَضَى بِإِسْنَادِهِ، وَرُوِّينَا رَدَّ شَهَادَةَ الظَّنِينِ مُطْلَقًا مِنْ وَجْهَيْنِ مُرْسَلَيْنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْصُولًا، إِلَّا أَنَّ فِيهِ ضَعْفًا، وَهُوَ يُقَوَّى بِالْمُرْسَلَيْنِ مَعَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسلام کا طریقہ گزر چکا کہ جھگڑالو اور ناقابلِ اعتبار آدمی کی شہادت قبول نہ کی جائے گی اور جھگڑا کرنے والے کی شہادت اپنے مخالف کے بارے میں قبول نہ کی جائے گی۔
ظنین (متہم) کی گواہی کا مطلقاً رد ہونا ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دو مرسل سندوں سے، اور ایک دوسری سند سے موصولاً بھی مروی ہے، مگر اس میں ضعف ہے، اور وہ اپنے ساتھ کی دو مرسل روایتوں سے تقویت پاتی ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20866]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4113. -- باب:: ما جاء في شهادة الأخ لأخيه
-- باب: بھائی کی اپنے بھائی کے حق میں گواہی دینے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20867
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ شُرَيْحًا كَانَ يُجِيزُ شَهَادَةَ الْأَخِ لِأَخِيهِ إِذَا كَانَ عَدْلًا"،.
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ بھائی کی شہادت بھائی کے حق میں قبول کر لیتے تھے جب وہ عادل ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20867]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20868
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّهُ أَجَازَ شَهَادَةَ الْأَخِ لِأَخِيه، وَرُوِّينَا، عَنْ أَبِي يَحْيَى السَّاجِيِّ أَنَّهُ رَوَاهُ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَشُرَيْحٍ، وَالْحَسَنِ، وَالشَّعْبِيِّ، وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ. قَالَ: وَقَالَ الْحَسَنُ وَالزُّهْرِيُّ:" تَجُوزُ شَهَادَةُ الزَّوْجِ وَالْمَرْأَةِ".
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھائی کی شہادت بھائی کے حق میں جائز خیال کرتے تھے۔
(ب) حضرت حسن اور زہری رحمہما اللہ میاں بیوی کی شہادت کو بھی جائز خیال کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20868]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4114. -- باب:: ما ترد به شهادة أهل الأهواء
-- باب: وہ امور جن کی بنا پر اہل ہوائے نفس (بدعتیوں) کی گواہی رد کی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q20869
قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: هُوَ إِظْهَارُ منْ أَظْهَرَ مِنْهُمْ نَفْيَ صِفَاتِ اللهِ تَعَالَى الَّتِي قَدْ وَرَدَ الْكِتَابُ بِهَا، وَدَلَّتِ السُّنَّةُ الْمُسْتَفِيضَةُ مَعَ إِجْمَاعِ سَلَفِ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى إِثْبَاتِهَا، نَحْوَ الْكَلَامِ وَالْقُدْرَةِ وَالْعِلْمِ وَالْمَشِيئَةِ، وَأَنَّ الْأَفْعَالَ كُلَّهَا لِلَّهِ تَعَالَى مَخْلُوقَةٌ، فَقَدْ جَاءَتِ الْأَخْبَارُ بِتَكْفِيرِ مُنْكِرِيهَا، وَتَبَرَّأَ سَلَفُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مِنْ مَذْهَبِ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ فِيهَا.
ہمارے بعض اصحاب نے فرمایا: ”اس سے مراد ان میں سے اس شخص کا (علانیہ) اظہار ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی نفی کا اظہار کرے جن کے بارے میں کتاب اللہ وارد ہوئی ہے، اور سنت مستفیضہ نے اس امت کے سلف کے اجماع کے ساتھ مل کر ان کے اثبات پر دلالت کی ہے، جیسے کلام، قدرت، علم اور مشیت، اور (اسی طرح اس بات کا انکار) کہ تمام افعال اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں، کیونکہ ان کے منکرین کی تکفیر کے بارے میں روایات آئی ہیں، اور اس امت کے سلف نے ان امور میں اہل اہواء (بدعتیوں) کے مذہب سے براءت کا اظہار کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20869]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20869
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً فِي جَامِعِ الْمَنْصُورِ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ" أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ هَكَذَا.
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں۔ اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی تیمارداری نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں تو ان کی نماز جنازہ نہ پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20869]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20870
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ، مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسًا، وَإِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، فَمَنْ مَرِضَ مِنْهُمْ فَلَا تَعُودُوهُ، وَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ فَلَا تَشْهَدُوهُ، وَهُمْ شِيعَةُ الدَّجَّالِ، وَحَقٌّ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُلْحِقَهُمْ بِهِ" أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ وَالَّذِي رُوِيَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَحُذَيْفَةَ فِي تَكْفِيرِ الْقَدَرِيَّةِ نَصًّا مَوْجُودٌ دَلَالَةٌ ظَاهِرَةٌ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَيْمَانِ، مَعَ تَبَرِّي ابْنِ عُمَرَ مِمَّنْ نَفَى الْقَدَرَ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں اور اس امت کے مجوسی قدریہ (یعنی تقدیر کے منکر) ہیں، نہ ان کی تیمارداری کرو اور نہ ہی ان کے جنازے میں شامل ہو۔ یہ دجال کا گروہ ہے، اللہ کے ذمہ ہے کہ ان کو ان کے ساتھ ملا دے۔“
سیدنا ابن عمر اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہم سے قدریہ کی تکفیر کے بارے میں جو صراحتاً منقول ہے، اس پر واضح دلالت اس ثابت حدیث میں موجود ہے جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں روایت کرتے ہیں، نیز سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے تقدیر کا انکار کرنے والوں سے براءت کا اظہار کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20870]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20871
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُرَيْدَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ فِي الْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ، فَانْطَلَقْنَا حُجَّاجًا أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا قُلْنَا: لَوْ لَقِينَا بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ فِي الْقَدَرِ قَالَ: فَوَافَقْنَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فِي الْمَسْجِدِ، فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي، أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ، قَالَ يَحْيَى: فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي يَكِلُ الْكَلَامَ إِلِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَعْرِفُونَ الْعِلْمَ، يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ، إِنَّمَا الْأَمْرُ أُنُفٌ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَإِذَا لَقِيتُمْ أُولَئِكَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ، وَأَنَّهُمْ مِنِّي بَرَاءٌ، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ، مَا قَبِلَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ، خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، إِذْ طَلَعَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا نَعْرِفُهُ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَهُ إِلَى رُكْبَتِهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ ⦗٣٤٣⦘ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِسْلَامُ أَنَ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ السَّبِيلَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: صَدَقْتَ، قَالَ عُمَرُ: عَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ؟ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، مَا الْإِيمَانُ؟ فَقَالَ:" الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالْقَدَرِ كُلِّهِ، خَيْرِهِ وَشَرِّهِ"، فَقَالَ: صَدَقْتَ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ، فَقَالَ:" الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ"، قَالَ: فَحَدِّثْنِي عَنِ السَّاعَةِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" مَا الْمَسْئُولُ بِأَعْلَمَ بِهَا مِنَ السَّائِلِ"، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا قَالَ:" أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ"، ثُمَّ انْطَلَقَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَبِثْتُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُمَرُ مَا تَدْرِي مَنِ السَّائِلُ"؟ قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" ذَاكَ جِبْرَئِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ"..
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ، یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے بصرہ میں معبد جہنی نے تقدیر کا انکار کیا۔ میں اور حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ حج کو چلے۔ جب ہم آئے تو ہم نے کہا: ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کے بارے میں سوال کریں گے جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں۔ ہم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو مسجد میں پا لیا تو ہم نے ان کو دائیں اور بائیں سے گھیر لیا، یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھیوں نے کلام کے لیے میرا انتخاب کیا۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! ہمارے علاقے میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں، جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور علم کو جانتے ہیں اور تقدیر کے منکر ہیں اور (کہتے ہیں کہ) معاملہ نیا ہے (یعنی پہلے سے مقدر نہیں)۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب تم ان سے ملو تو کہہ دینا: میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔“ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے قسم کھا کر فرمایا: ”اگر ایسے لوگ احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کریں تو اللہ ان سے قبول نہ فرمائیں گے، یہاں تک کہ وہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہ لائیں۔“ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک سفید کپڑوں والا، سخت سیاہ بالوں والا، اس پر سفر کے نشانات بھی نہ تھے اور ہم میں سے کوئی اس کو جانتا بھی نہ تھا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں کے ساتھ گھٹنے ملا کر بیٹھ گیا اور اپنی ہتھیلیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رانوں پر رکھ دیں، پھر کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اسلام کے بارے میں خبر دو، اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کر، زکوٰۃ ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، اگر طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج کر۔“ اس آدمی نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تعجب کیا کہ خود سوال کرتا ہے پھر تصدیق بھی خود کرتا ہے، پھر اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایمان کے بارے میں خبر دو، ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، آخرت کے دن اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانا۔“ اس نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا۔“ پھر اس نے کہا: احسان کے بارے میں مجھے خبر دو۔ فرمایا: ”اللہ کی عبادت اس انداز سے کرنا گویا آپ اس کو دیکھ رہے ہو، اگر آپ اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقیناً آپ کو دیکھ رہا ہے۔“ اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں بیان کرو۔ فرمایا: ”جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔“ اس نے کہا: اس کی علامات کے بارے میں بتاؤ۔ فرمایا: ”لونڈی اپنے آقا کو جنم دے گی اور آپ دیکھیں گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، فقیر، بکریوں کے چرواہے وہ عمارتوں کے بنانے میں فخر کریں گے۔“ پھر وہ چلا گیا، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تین دن تک ٹھہرا رہا۔ پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! جانتے ہو سائل کون تھا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں۔ فرمایا: ”یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20871]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20872
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ كَهْمَسٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ كَهْمَسٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَوَاهِدُهُ كَثِيرَةٌ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ وَأَبِي ذَرٍّ وَغَيْرِهِمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20872]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20873
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ شَرِيكٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ" أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قدریہ کے ساتھ نہ بیٹھو اور نہ تم ان سے فیصلہ جات کراؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20873]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں