السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4123. -- باب:: ما لا ينهى عنه من اللعب
-- باب: وہ کھیل جن سے منع نہیں کیا گیا۔
حدیث نمبر: 20979
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْهَرَوِيُّ، بِسَافِرِيَّةَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شَيْبَانُ، وَإِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" مَا كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ يُعْمَلُ بَعْدَهُ، إِلَّا شَيْءٌ وَاحِدٌ، كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ". وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ قَالَ:" كَانَ يُقَلَّسُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعِيدِ" وَالتَّقْلِيسُ: اللَّعِبُ.
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو کچھ ہوتا تھا میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ہوتے دیکھا ہے، سوائے ایک چیز کے: عید الفطر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھیل (تقلیس) ہوا کرتا تھا۔
(ب) عمرو بن محمد، اسرائیل سے نقل فرماتے ہیں کہ عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھیل پیش کیا جاتا تھا اور «التَّقْلِيسُ» کھیل ہی کو کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20979]
(ب) عمرو بن محمد، اسرائیل سے نقل فرماتے ہیں کہ عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھیل پیش کیا جاتا تھا اور «التَّقْلِيسُ» کھیل ہی کو کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20979]
4124. -- باب:: ينبغي للمرء أن لا يبلغ منه ولا من غيره من تلاوة القرآن، ولا صلاة نافلة، ولا نظر في علم ما يشغله عن الصلاة حتى يخرج وقتها
-- باب: انسان کے لیے مناسب ہے کہ اس کی اپنی طرف سے یا کسی اور کی طرف سے تلاوتِ قرآن، نفل نماز اور علم میں غور و فکر جیسی چیزیں اس حد تک نہ بڑھ جائیں جو اسے (فرض) نماز سے غافل کر دیں یہاں تک کہ اس کا وقت ہی نکل جائے۔
حدیث نمبر: Q20980
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" لِأَنَّ الْمَكْتُوبَةَ أَوْجَبُ عَلَيْهِ مِنْ جَمِيعِ النَّوَافِلِ".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ فرض نماز اس پر تمام نوافل سے زیادہ واجب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20980]
حدیث نمبر: 20980
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلِيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلِيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ يَتَقَرَّبُ إِلِيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطُشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَلَئِنْ سَأَلَنِي عَبْدِي أَعْطَيْتُهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ، يَكْرَهُ الْمَوْتَ، وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، اس نے مجھے لڑائی کی دعوت دی، اور میرا بندہ ایسی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کرتا جو مجھے ان چیزوں سے زیادہ محبوب ہو جو میں نے اس پر فرض کی ہیں، اور میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں۔ جب میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ سنتا ہے، میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن کے ذریعے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے، اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ چلتا ہے۔ اگر میرا بندہ مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو عطا کر دیتا ہوں، اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے پناہ عطا کر دیتا ہوں، اور میں نے جس کام کو کرنا ہوتا ہے اس میں کبھی ایسا تردد نہیں کیا جیسا کہ مومن کی جان قبض کرنے میں کرتا ہوں، وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کی تکلیف کو ناپسند کرتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20980]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6502»
الحكم على الحديث: صحيح
4125. -- باب:: ما جاء في اللعب بالبنات
-- باب: گڑیوں کے ساتھ کھیلنے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 20981
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا ⦗٣٧١⦘ قَالَتْ:" كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَأْتِينِي صَوَاحِبِي، فَكُنَّ يَنْقَمِعْنَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلِيَّ، فَيَلْعَبْنَ مَعِي". قَالَ أَنَسٌ: يَنْقَمِعْنَ: يَفْرُرْنَ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔ میری سہیلیاں آتیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے وقت وہ چھپ جاتیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو میرے پاس روانہ کرتے تاکہ وہ میرے ساتھ کھیلیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20981]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20982
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَقَدْ نَصَبْتُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي عَبَاءَةً، وَعَلَى عُرْضِ بَيْتِي سِتْرًا أَرْمِنِيًّا، فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَلَمَّا رَآهُ قَالَ:" مَا لِي يَا عَائِشَةُ وَالدُّنْيَا؟"، فَهَتَكَ السِّتْرَ حَتَّى وَقَعَ بِالْأَرْضِ، وَفِي سَهْوَتِهَا سِتْرٌ، فَهَبَّتْ رِيحٌ فَكَشَفَ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ لُعَبٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟"، قَالَتْ: بَنَاتِي، قَالَتْ: وَرَأَى بَيْنَ طُوبِهَا فَرَسًا لَهُ جَنَاحَانِ مِنْ رُقَعٍ، قَالَ:" فَمَا هَذَا الَّذِي أَرَى فِي وَسَطِهِنَّ؟"، قَالَتْ: فَرَسٌ، قَالَ:" مَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟"، قَالَتْ: جَنَاحَانِ، قَالَ:" فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟"، قَالَتْ: أَوَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ خَيْلًا لَهُ أَجْنِحَةٌ؟ قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَوْ خَيْبَرَ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّهْيُ عَنِ التَّصَاوِيرِ وَالتَّمَاثِيلِ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ عَنْهُ، فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمَحْفُوظُ فِي رِوَايَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قُدُومَهُ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ، وَأَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الصُّوَرِ وَالتَّمَاثِيلِ، ثُمَّ كَانَ تَحْرِيمُهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَمِنْ جُمْلَةِ مَنْ رَوَى النَّهْيَ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَإِسْلَامُهُ كَانَ زَمَنَ خَيْبَرَ، فَيَكُونُ السَّمَاعُ بَعْدَهُ. وَفِي حَدِيثِ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا، فَلَمْ يَدْخُلْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهَا" قَالَ الشَّيْخُ:" زَمَنُ الْفَتْحِ كَانَ بَعْدَ خَيْبَرَ، وَأَيْضًا فَإِنَّهَا كَانَتْ صَغِيرَةً فِي الْوَقْتِ الَّذِي زُفَّتْ فِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا اللُّعَبُ، ثَبَتَ:.
ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے اور میں نے اپنے حجرہ کے دروازے پر چادر تان رکھی تھی۔ میرے گھر کی چوڑائی کی جانب پردہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے، پردہ دیکھا اور فرمایا: ”اے عائشہ! میرا دنیا سے کیا واسطہ؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ پھاڑ دیا اور زمین پر گرا دیا۔ اس طاق کے اندر میری گڑیاں تھیں۔ ہوا کے چلنے کی وجہ سے وہ نظر آنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے عائشہ! یہ کیا ہے؟“ عرض کیا: ”میرے کھلونے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان کے درمیان ایک گھوڑا تھا جس کے کپڑے کے پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ درمیان میں کیا ہے؟“ کہنے لگی: ”گھوڑا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کے اوپر کیا ہے؟“ کہتی ہیں: ”اس کے دو پر۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا گھوڑے کے پر ہوتے ہیں؟“ کہنے لگیں: ”کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس گھوڑا تھا، اس کے پر تھے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔
(ب) ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے واپس ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تصاویر کی حرمت ثابت ہے، ممکن ہے یہ واقعہ حرمت سے پہلے کا ہو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ممانعت والی حدیث کے راوی ہیں۔ یہ غزوہ خیبر کے زمانہ میں مسلمان ہوئے ہیں۔ ممکن ہے ان کا سماع بعد میں ہو۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے زمانہ میں جب وہ بطحا مقام پر تھے، حکم دیا کہ کعبہ سے تمام تصاویر ختم کر دی جائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے جب تمام صورتیں ختم کر دی گئی تھیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فتح کا زمانہ خیبر کے بعد کا ہے۔ اس وقت وہ چھوٹی تھیں، جب ان کی رخصتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی گئی۔ ان کے ساتھ کھلونے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20982]
(ب) ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے واپس ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تصاویر کی حرمت ثابت ہے، ممکن ہے یہ واقعہ حرمت سے پہلے کا ہو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ممانعت والی حدیث کے راوی ہیں۔ یہ غزوہ خیبر کے زمانہ میں مسلمان ہوئے ہیں۔ ممکن ہے ان کا سماع بعد میں ہو۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے زمانہ میں جب وہ بطحا مقام پر تھے، حکم دیا کہ کعبہ سے تمام تصاویر ختم کر دی جائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے جب تمام صورتیں ختم کر دی گئی تھیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فتح کا زمانہ خیبر کے بعد کا ہے۔ اس وقت وہ چھوٹی تھیں، جب ان کی رخصتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی گئی۔ ان کے ساتھ کھلونے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20982]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20983
عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ ابْنَةُ سَبْعِ سِنِينَ، وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ وَلُعَبُهَا مَعَهَا، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ ابْنَةُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ⦗٣٧٢⦘ فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ أَنَّهَا كَانَتْ بَلَغَتْ مَبْلَغَ النِّسَاءِ بِغَيْرِ السِّنِّ فِي وَقْتِ زِفَافِهَا، فَيُحْتَمَلُ إِنْ كَانَ انْشِغَالُهَا بِلُعِبِهَا وَتَقْرِيرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى وَقْتِ بُلُوغِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَعَلَى هَذَا حَمَلَهُ أَبُو عُبَيْدٍ فَقَالَ:" وَلَيْسَ وَجْهُ ذَلِكَ عِنْدَنَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا لَهْوٌ لِلصِّبْيَانِ، فَلَوْ كَانَ لِلْكِبَارِ لَكَانَ مَكْرُوهًا" وَذَكَرَ الْحَلِيمِيُّ أَنَّهُ: إِنْ عُمِلَ مِنْ خَشَبٍ أَوْ حَجَرٍ أَوْ صُفْرٍ أَوْ نُحَاسٍ شَبَهَ آدَمَيٍّ تَامِّ الْأَطْرَافِ كَالْوَثَنِ وَجَبَ كَسْرُهُ، وَلَمْ يَجُزْ إِطْلَاقُ إِمْسَاكِهِ لَهُنَّ، فَأَمَّا إِذَا كَانَتِ الْوَاحِدَةُ مِنْهُنَّ تَأْخُذُ خِرْقَةً فَتَلُفُّهَا ثُمَّ تُشَكِّلُهَا بِشَكْلٍ مِنْ أَشْكَالِ الصَّبَايَا وَتُسَمِّيهَا بِنْتًا أَوْ أُمَّا، وَتَلْعَبُ بِهَا فَلَا تُمْنَعُ مِنْهَا"، وَذَكَرَ مَا فِي ذَلِكَ مِنَ انْبِسَاطِ قَلْبِهَا وَحُسْنِ نَشْوِهَا، وَمُمَارَسِتِهَا مُعَالَجَةَ الصِّبْيَانِ".
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شادی 7 سال کی عمر میں ہوئی اور رخصتی 9 سال کی عمر میں ہوئی۔ ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو ان کی عمر 18 برس کی تھی۔
(ب) کسی بھی روایت میں یہ نہیں ہے کہ رخصتی کے وقت وہ عمر کے علاوہ (کسی اور علامت سے) عورتوں کی حد (بلوغت) کو پہنچ چکی تھیں، لہٰذا ممکن ہے کہ ان کا کھلونوں میں مشغول رہنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں اس پر برقرار رکھنا ان کے بالغ ہونے کے وقت تک ہو، واللہ اعلم۔ ابوعبید نے بھی اسے اسی پر محمول کیا اور فرمایا: ”ہمارے نزدیک اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ بچوں کا کھیل ہے، اگر یہ بڑوں کے لیے ہوتا تو مکروہ ہوتا۔“ حلیمی نے بیان کیا کہ اگر لکڑی، پتھر، پیتل یا تانبے سے مکمل اعضاء والے انسان کی شکل بت کی طرح بنائی جائے تو اس کا توڑنا واجب ہے اور ان (بچیوں) کو اسے رکھنے کی اجازت نہیں، البتہ اگر ان میں سے کوئی کپڑے کا ٹکڑا لے کر اسے لپیٹے، پھر اسے بچیوں کی شکل دے اور اس کا نام بیٹی یا ماں رکھ کر اس سے کھیلے تو اسے منع نہیں کیا جائے گا۔ اور انہوں نے اس میں بچی کے دل کی خوشی، اچھی نشوونما اور بچوں کی دیکھ بھال کی مشق (کے فوائد) کا ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20983]
(ب) کسی بھی روایت میں یہ نہیں ہے کہ رخصتی کے وقت وہ عمر کے علاوہ (کسی اور علامت سے) عورتوں کی حد (بلوغت) کو پہنچ چکی تھیں، لہٰذا ممکن ہے کہ ان کا کھلونوں میں مشغول رہنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں اس پر برقرار رکھنا ان کے بالغ ہونے کے وقت تک ہو، واللہ اعلم۔ ابوعبید نے بھی اسے اسی پر محمول کیا اور فرمایا: ”ہمارے نزدیک اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ بچوں کا کھیل ہے، اگر یہ بڑوں کے لیے ہوتا تو مکروہ ہوتا۔“ حلیمی نے بیان کیا کہ اگر لکڑی، پتھر، پیتل یا تانبے سے مکمل اعضاء والے انسان کی شکل بت کی طرح بنائی جائے تو اس کا توڑنا واجب ہے اور ان (بچیوں) کو اسے رکھنے کی اجازت نہیں، البتہ اگر ان میں سے کوئی کپڑے کا ٹکڑا لے کر اسے لپیٹے، پھر اسے بچیوں کی شکل دے اور اس کا نام بیٹی یا ماں رکھ کر اس سے کھیلے تو اسے منع نہیں کیا جائے گا۔ اور انہوں نے اس میں بچی کے دل کی خوشی، اچھی نشوونما اور بچوں کی دیکھ بھال کی مشق (کے فوائد) کا ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20983]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
4126. -- باب:: ما جاء في المراجيح
-- باب: جھولے جھولنے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 20984
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الدَّارِمِيُّ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ"، قَالَتْ:" فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَوُعِكْتُ شَهْرًا، فَوَافَى شَعْرِي جُمَيْمَةً، فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبِي، فَصَرَخَتْ بِي، فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا يُرَادُ بِي، فَأَخَذَتْ بِيَدِي فَأَوْقَفَتْنِي عَلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ: هَذِهِ، هَذِهِ، حَتَّى ذَهَبَ نَفَسِي، فَأَدْخَلَتْنِي بَيْتًا، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقُلْنَ: عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو میری عمر 6 برس کی تھی اور میری رخصتی ہوئی تو میری عمر 9 سال کی تھی۔ میں مدینہ آئی تو مہینہ بھر بخار رہا، میرے جُمہ (کندھوں تک لٹکنے والے) بال تھے۔ میرے پاس ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں، میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولے پر تھی۔ انہوں نے مجھے پکارا، میں ان کے پاس آئی۔ مجھے معلوم نہ تھا ان کا ارادہ کیا ہے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر دروازے کی دہلیز پر لے آئیں۔ میں نے کہا: یہ کیا، یہاں تک کہ میرے دل کا خوف ختم ہو گیا۔ انہوں نے مجھے گھر میں داخل کر دیا، جہاں انصاری عورتیں تھیں، انہوں نے کہا: آپ کے لیے خیر و برکت ہو۔ انہوں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے تیار کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو ان عورتوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20984]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20985
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" تَزَوَّجَنِي"، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" لِسِتِّ سِنِينَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ نَزَلْنَا السُّنْحَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ"، قَالَتْ:" فَإِنِّي لَأَرْجِحُ بَيْنَ عِذْقَيْنِ وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعٍ، إِذْ جَاءَتْ أُمِّي فَأَنْزَلَتْنِي، ثُمَّ مَشَتْ بِي حَتَّى انْتَهَتْ بِي إِلَى الْبَابِ وَأَنَا أُنْهِجُ، فَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، وَفَرَقَتْ جُمَيْمَةً كَانَتْ لِي، وَدَخَلَتْ بِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ، فَقَالَتْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُكَ، فَبَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهِمْ، وَبَارَكْ لَهُمْ فِيكَ، وَقَامَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ وَخَرَجُوا، وَبَنَى بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”میری شادی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سال کی عمر میں ہوئی۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو بنو حارث بن خزرج کے ہاں سنح میں اترے۔ میں کھجور کے دو تنوں کے درمیان جھولا جھول رہی تھی، اس وقت میری عمر نو برس کی تھی، کہ اچانک میری والدہ آئیں، مجھے (جھولے سے) اتارا، پھر مجھے لے کر چلیں اور دروازے تک جا پہنچیں۔ میرا سانس پھولا ہوا تھا۔ میری والدہ نے میرا چہرہ تھوڑے سے پانی سے صاف کیا اور میری مانگ نکالی اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں۔ گھر میں مرد اور عورتیں تھے، تو انہوں نے کہا: یہ آپ کے گھر والے ہیں، اللہ آپ کو ان میں برکت دے اور ان کو آپ میں برکت دے۔ مرد اور عورتیں اٹھ کر چلے گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بنا کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20985]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20986
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، حَدَّثَنِي أَبِي، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ زِيَادٍ أَبِي عُمَرَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِقَطْعِ الْمَرَاجِيحِ.. هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ مَوْصُولًا وَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ، وَطَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ يَكْرَهَانِهَا.
صالح ابو الخلیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جھولوں کو کاٹنے کا“ حکم دیا۔
یہ روایت منقطع ہے، اور ایک دوسری ضعیف سند سے موصولاً بھی مروی ہے، لیکن وہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20986]
یہ روایت منقطع ہے، اور ایک دوسری ضعیف سند سے موصولاً بھی مروی ہے، لیکن وہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20986]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4127. -- باب:: ما جاء في ذم الملاهي من المعازف والمزامير ونحوها
-- باب: آلاتِ موسیقی جیسے باجوں، بانسریوں اور اس طرح کے دیگر لہو و لعب کے آلات کی مذمت میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: Q20987
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ} [لقمان: 6] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ﴾ ”اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو غافل کر دینے والی بات خریدتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے گمراہ کرے۔“ [سورة لقمان: 6] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20987]