السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4122. -- باب:: من كره كل ما لعب الناس به من الحزة، وهي قطعة خشب يكون فيها حفر يلعبون بها والقرق ونحوها
-- باب: جس نے لوگوں کے کھیلے جانے والے ہر کھیل کو مکروہ قرار دیا جیسے حزہ، اور وہ لکڑی کا ایک ٹکڑا ہے جس میں گڑھے ہوتے ہیں جس سے وہ کھیلتے ہیں، اور قرق (ایک قسم کا کھیل) اور اس طرح کے دیگر کھیل۔
حدیث نمبر: 20969
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: دَخَلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ بِهَذِهِ الشَّهَارَدَةِ فَكَسَرَهَا، قَالَ: وَسَمِعْتُ حَمَّادًا مَرَّةً يَقُولُ: كَسَرَهَا عَلَى رَأْسِهِ.
نافع حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھر والوں کے پاس آئے تو وہ «أَرْبَعَةَ عَشَرَ» ”چودہ گٹیوں کے کھیل“ سے کھیل رہے تھے، انہوں نے اسے توڑ دیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حماد سے سنا کہ انہوں نے اسے سر کے اوپر رکھ کر توڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20969]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20970
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى بَنِيهِ عَنْ لَعِبِ الْأَرْبَعَ عَشَرَةَ، فَقِيلَ لَهُ: تَنْهَاهُمْ؟ قَالَ:" إِنَّهُمْ يَحْلِفُونَ وَيَكْذِبُونَ". وَرُوِّينَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَرِهَتْهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَمَنْ لَعِبَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا عَلَى الِاسْتِحْلَالِ لَهُ لَمْ تُرَدَّ شَهَادَتُهُ"، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَهَذَا لِلِاخْتِلَافِ فِيهِ، أَوْ فِي بَعْضِهِ".
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو «الْأَرْبَعَ عَشَرَةَ» ”چودہ گٹیوں کے کھیل“ سے منع فرماتے۔ پوچھا: منع کیوں کرتے ہو؟ تو وہ فرمانے لگے کہ یہ قسمیں اٹھاتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی منقول ہے کہ وہ اسے ناپسند کرتی تھیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص ان میں سے کسی چیز کو حلال سمجھتے ہوئے کھیلے اس کی شہادت رد نہ کی جائے گی۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس میں یا اس کے بعض میں اختلاف کی وجہ سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20970]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص ان میں سے کسی چیز کو حلال سمجھتے ہوئے کھیلے اس کی شہادت رد نہ کی جائے گی۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس میں یا اس کے بعض میں اختلاف کی وجہ سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20970]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20971
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ بَسَّامِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الصَّيْرَفِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عَنِ النَّرْدَشِيرِ، فَكَرِهَهُ وَقَالَ:" كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ يُلَاعِبُ أَهْلَهُ بِالشَّهْارَدَةِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَإِنْ غَفَلَ بِهِ عَنِ الصَّلَاةِ فَأَكْثَرَ حَتَّى تَفُوتَهُ ثُمَّ يَعُودَ لَهُ حَتَّى تَفُوتَهُ رَدَدْنَا شَهَادَتَهُ عَلَى الِاسْتِخْفَافِ بِمَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ".
بسام بن عبداللہ صیرفی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر رحمہ اللہ سے نرد شیر کے بارے میں پوچھا تو وہ اس کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ علی بن حسین رحمہ اللہ اپنے گھر والوں کے ساتھ شہاردہ سے کھیلا کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کی وجہ سے غفلت زیادہ ہو جائے اور نماز کا وقت چلا جائے تو اس کی شہادت نماز کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے رد کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20971]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کی وجہ سے غفلت زیادہ ہو جائے اور نماز کا وقت چلا جائے تو اس کی شہادت نماز کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے رد کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20971]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20972
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ ⦗٣٦٨⦘ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، قَالَ الْمُخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللهُ عَلَى الْعِبَادِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ".
یحییٰ بن حبان، ابن محریز سے نقل فرماتے ہیں کہ کنانہ کا ایک آدمی جس کو مخدجی کہا جاتا تھا، اس نے شام کے ایک آدمی کو جس کو ابو محمد کہہ کر بلایا جاتا ہے، سنا وہ کہتا ہے کہ وتر واجب ہے، مخدجی کہتے ہیں کہ میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان کو خبر دی تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ابو محمد نے غلطی کی ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو ان کو حقیر سمجھ کر ضائع نہ کرے گا، اللہ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، اور جو ان نمازوں کو نہ پڑھے گا اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر چاہے تو عذاب دے اگر چاہے تو جنت میں داخل کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20972]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20973
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: مَا الْمَيْسِرُ؟ فَقَالَ:" كُلُّ مَا أَلْهَى عَنْ ذِكْرِ اللهِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهِيَ مَيْسِرٌ".
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے پوچھا: میسر کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہر وہ چیز جو اللہ کے ذکر سے اور نماز سے غافل کر دے، وہ میسر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20973]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20974
قَالَ يَحْيَى: وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يَقُولُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: هَذِهِ النَّرْدُ مَيْسِرٌ، أَرَأَيْتَ الشِّطْرَنْجَ أَمَيْسِرٌ هِيَ؟ قَالَ الْقَاسِمُ:" كُلُّ مَا أَلْهَى عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهِيَ مَيْسِرٌ".
عمر بن عبید اللہ، قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے کہتے تھے کہ نرد میسرہ ہے، شطرنج کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ میسرہ ہے؟ تو قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہنے لگے: ”ہر وہ چیز جو اللہ کے ذکر اور نماز سے غافل کر دے، یہ میسرہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20974]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4123. -- باب:: ما لا ينهى عنه من اللعب
-- باب: وہ کھیل جن سے منع نہیں کیا گیا۔
حدیث نمبر: 20975
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ مَزْيَدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ جَابِرٍ ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا رَامِيًا، فَكَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَدْعُونِي فَيَقُولُ: اخْرُجْ بِنَا يَا خَالِدُ نَرْمِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: تَعَالَ أُحَدِّثُكَ مَا حَدَّثَنِي بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَقُولُ لَكَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنَبِّلَهُ، فَارْمُوا وَارْكَبُوا، وَإِنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَلَيْسَ مِنَ اللهْوِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا". ⦗٣٦٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مَزَيْدَ.
ابو سلام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ خالد بن زید رحمہ اللہ نے مجھے بیان کیا کہ میں تیر انداز تھا تو عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مجھے بلایا کرتے تھے کہ: ”خالد! آؤ ہم تیر اندازی کریں۔“ ایک دن مجھے تاخیر ہوگئی تو وہ کہنے لگے: ”آؤ میں تمہیں وہ بات بیان کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بیان فرمائی تھی یا میں وہ بات کہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی تھی۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین بندوں کو جنت میں داخل فرمائے گا: تیر بنانے والا جس کا بھلائی کا ارادہ ہو، تیر اندازی کرنے والا اور تیر پکڑانے والا۔ تم تیر اندازی کرو اور سواری کرو، اور تمہارا تیر اندازی کرنا مجھے شہسواری سے زیادہ محبوب ہے۔ کھیل صرف تین طرح کے ہیں: اپنے گھوڑے کو سدھانا، اپنی بیوی سے کھیلنا اور تیر اندازی کرنا۔ جس نے تیر اندازی سیکھ کر اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا، تو اس نے ایک نعمت کی ناشکری کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20975]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20976
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَزْرَقِ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. قَالَ:" وَكُلُّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ، إِلَّا رَمْيَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ، وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عَلِمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عَلِمَهُ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" كَذَا فِي كِتَابِي: عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: عَنْ هِشَامٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ.
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”تمام وہ کھیل جو آدمی کھیلتا ہے باطل ہیں، 1 لیکن تیر اندازی کرنا 2 گھوڑے کو سدھانا 3 اپنی بیوی سے کھیلنا یہ حق ہے۔ جس نے تیر اندازی کو ترک کر دیا تو اس نے اپنے سیکھے ہوئے کام کی بے قدری کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20976]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ عَمْرٌو، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثٍ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، وَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ: مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" دَعْهُمَا"، فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا، وَقَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا قَالَ:" تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ، خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ"، حَتَّى إِذَا مَلَلْتُ قَالَ:" حَسْبُكِ؟"، قُلْتُ، نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبِي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَيُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے پاس دو بچیاں گانے والی تھیں، جو جنگِ بعاث کے متعلق اشعار پڑھ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اور چہرہ پھیر لیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے مجھے ڈانٹا اور کہا: یہ شیطانی ساز ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”ان دونوں کو چھوڑ دو۔“ جب وہ غافل ہوئے تو میں نے چپکے سے دونوں کو نکال دیا۔ فرماتی ہیں: جب عید کا دن تھا اس دن سودانی ڈھالوں اور نیزوں سے کھیل رہے تھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دیکھنا چاہتی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا رخسار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے بنو ارفدہ! کھیلتے رہو۔“ یہاں تک کہ میں تھک گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20977]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20978
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُ شَهِدَ عِيدًا بِالْأَنْبَارِ فَقَالَ:" مَا لِي لَا أَرَاكُمْ تُقَلِّسُونَ؟ كَانُوا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُونَهُ". قَالَ يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ: التَّقْلِيسُ أَنْ تَقْعُدَ الْجَوَارِي وَالصِّبْيَانُ عَلَى أَفْوَاهِ الطُّرُقِ يَلْعَبُونَ بِالطَّبْلِ وَغَيْرِ ذَلِكَ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ فِي الْعِيدَيْنِ، يَعْنِي ضَرْبَ الدُّفِّ عِنْدَ الِانْصِرَافِ، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شَرِيكٍ فَقَالَ: زِيَادُ بْنُ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيُّ.
عامر شعبی حضرت عیاض اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ انبار میں عید کے دن حاضر ہوئے۔ فرمانے لگے: تم کھیلتے کیوں نہیں؟ حالانکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کھیلا کرتے تھے۔ یوسف بن عدی فرماتے ہیں کہ «التَّقْلِيسُ» کا یہ معنی ہے کہ بچیاں اور بچے راستوں پر بیٹھ کر طبل سے کھیلا کرتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: اسے ہشیم نے مغیرہ سے روایت کیا ہے، البتہ انہوں نے کہا: ”کیونکہ یہ دونوں عیدوں میں سنت ہے“ یعنی (عید سے) واپسی کے وقت دف بجانا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20978]
شیخ فرماتے ہیں: اسے ہشیم نے مغیرہ سے روایت کیا ہے، البتہ انہوں نے کہا: ”کیونکہ یہ دونوں عیدوں میں سنت ہے“ یعنی (عید سے) واپسی کے وقت دف بجانا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20978]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف