السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4076. -- باب: التحفظ في الشهادة والعلم بها
-- باب: گواہی کو محفوظ رکھنے اور اس کا پختہ علم ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20578
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ"، قَالَ: وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ وَقَالَ:" وَشَهَادَةُ الزُّورِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ"، أَوْ:" قَوْلُ الزُّورِ"، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَفْصٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، كِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
(٢٠٥٧٨) عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے، آپ نے فرمایا: کیا میں کبیرہ گناہوں کے بارے میں بیان نہ کروں: 1 اللہ کے ساتھ شرک کرنا 2 والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے، سیدھے ہو کر بیٹھ گئی اور فرمایا: 3 جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی، جھوٹی گواہی، جھوٹی بات۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو بار بار دھراتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے کہا۔ شاید کے آپ خاموش ہوجائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20578]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20579
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ الْمَكِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ الْمَكِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَشْهَدُ بِشَهَادَةٍ، فَقَالَ:" أَمَّا أَنْتَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَلَا تَشَهَدْ إِلَّا عَلَى أَمْرٍ يُضِيءُ لَكَ كَضِيَاءِ هَذِهِ الشَّمْسِ"، وَأَوْمَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّمْسِ". ⦗٢٦٤⦘ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ هَذَا تَكَلَّمَ فِيهِ الْحُمَيْدِيُّ، وَلَمْ يُرْوَ مِنْ وَجْهٍ يُعْتَمَدُ عَلَيْهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(٢٠٥٧٩) طاؤس ابن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک گواہی دینے والے آدمی کا تذکرہ کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کام پر گواہی نہ دینا، لیکن ایسا معاملہ جو اس سورج کی طرح روشن ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے سورج کی طرف اشارہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20579]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20580
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّ نَاسًا يَدْعُونَنِي، يُشْهِدُونَنِي، وَأَكْرَهُ ذَاكَ، قَالَ:" اشْهَدْ بِمَا تَعْلَمُ".
(٢٠٥٨٠) ابومجلز فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ لوگ مجھے گواہی کے لیے بلاتے ہیں اور میں ناپسند کرتا ہوں، فرمایا: اس پر گواہی دے جس کو تو جانتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20580]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4077. -- باب: وجوه العلم بالشهادة
-- باب: گواہی کا علم حاصل ہونے کے مختلف پہلوؤں (طریقوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: Q20581
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: مِنْهَا: مَا عَايَنَهُ الشَّاهِدُ، فَيَشْهَدُ بِالْمُعَايَنَةِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهِيَ الْأَفْعَالُ الَّتِي تُعَايِنُهَا فَتَشَهَدُ عَلَيْهَا بِالْمُعَايَنَةِ.
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: شاہد دیکھ کر گواہی دے۔
شیخ بھی فرماتے ہیں کہ ان کی شہادت آنکھوں سے دیکھ کر دینی چاہیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20581]
شیخ بھی فرماتے ہیں کہ ان کی شہادت آنکھوں سے دیکھ کر دینی چاہیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20581]
حدیث نمبر: 20581
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ: أَسَرَقْتَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟ قَالَ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، قَالَ: فَقَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: آمَنْتُ بِاللهِ، وَكَذَّبْتُ بَصَرِي". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمِنْهَا مَا تَظَاهَرَتْ بِهِ الْأَخْبَارُ مِمَّا لَا يُمْكِنُ فِي أَكْثَرِهِ الْعَيَانُ، وَتَثْبُتُ مَعْرِفَتُهُ فِي الْقُلُوبِ، فَيَشْهَدُ عَلَيْهِ بِهَذَا الْوَجْهِ".
(٢٠٥٨١) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم نے ایک آدمی کو چوری کرتے دیکھا، فرمایا: چوری کرتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ کہنے لگا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے، تو عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) فرمانے لگے: میں اللہ پر ایمان لایا اور اپنی نظر کو جھٹلاتا ہوں۔
امام شافعی (رح): فرماتے ہیں: جب خبریں ظاہر ہوں جن کا اکثر ظاہر ہونا ممکن نہیں ہوتا، لیکن دلوں میں ان کا ثبوت ہوتا ہے، اس وجہ سے ثابت ہوجاتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20581]
امام شافعی (رح): فرماتے ہیں: جب خبریں ظاہر ہوں جن کا اکثر ظاہر ہونا ممکن نہیں ہوتا، لیکن دلوں میں ان کا ثبوت ہوتا ہے، اس وجہ سے ثابت ہوجاتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20581]
تخریج الحدیث: «متفق عليه»
الحكم على الحديث: متفق عليه
حدیث نمبر: 20582
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَمَتَّ لَهُ بِرَحِمٍ بَعِيدَةٍ، فَأَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْرَفُوا أَنْسَابَكُمْ تَصِلُوا أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّهُ لَا قُرْبَ لِلرَّحِمِ إِذَا قُطِعَتْ، وَإِنْ كَانَتْ قَرِيبَةً، وَلَا بُعْدَ لَهَا إِذَا وُصِلَتْ، وَإِنْ كَانَتْ بَعِيدَةً". فَأَمَرَ بِمَعْرِفَةِ الْأَنْسَابِ، وَالْعِلْمُ بِأَصْلِهَا إِنَّمَا يَقَعُ بِتَظَاهُرِ الْأَخْبَارِ، وَلَا يُمْكِنُ فِي أَكْثَرِهَا الْعَيَانُ.
(٢٠٥٨٢) اسحاق بن سعید فرماتی ہیں کہ اس کے والدنے بیان کیا کہ میں ابن عباس کے پاس تھا۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا۔ انھوں نے اس سے سوال کیا کہ تو کون ہے؟ اس کی دور کی رشتہ داری تھی۔ اب اس سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے نسبوں کو پہچانو اور رشتہ داریاں ملایا کرو۔ جب رشتہ داری کاٹ دی جائے تو جتنی بھی قریبی ہو نہیں رہتی اور دوری نہیں ہوتی جب اس کو ملایا جائے۔ اگرچہ دور کا تعلق ہی کیوں نہ ہو۔ انھوں نے نسب کو پہچاننے کا حکم دیا؛ کیونکہ اخبار سے ہی یہ ظاہر ہوتا ہے کیونکہ اکثر ان کی اصل معلوم نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20582]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي 2880»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20583
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ⦗٢٦٥⦘ بِبَغْدَادَ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْأَسْوَدَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، يَقُولُ: لَقَدْ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ، فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نَرَى إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ.
(٢٠٥٨٣) اسود فرماتے ہیں کہ میں نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں اور میرا بھائی یمن سے آئے، ہم یہاں کچھ وقت ٹھہرے اور ہم عبداللہ بن مسعود کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کا ایک فرد خیال کرتے تھے؛ کیونکہ وہ اور ان کی والدہ اکثر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20583]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20584
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ:" قَدِمْنَا مِنَ الْيَمَنِ فَمَكَثْنَا حِينًا وَلَا نَرَى إِلَّا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَأُمُّهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِكَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي هَذَا كَالدِّلَالَةِ عَلَى أَنَّ كَثْرَةَ الدُّخُولِ فِي الدَّارِ، وَالتَّصَرُّفَ فِيهَا يُسْتَدَلُّ بِهِمَا عَلَى الْمِلْكِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَمِنْهَا: مَا سَمِعَهُ فَيَشْهَدُ بِمَا أَثْبَتَ سَمْعًا مِنَ الْمَشْهُودِ عَلَيْهِ مَعَ إِثْبَاتِ بَصَرٍ".
(٢٠٥٨٤) اسود بن یزید حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم یمن سے مدینہ آئے۔ کچھ وقت یہاں ٹھہرے، ہم ابن مسعود اور ان کی والدہ کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت سے خیال کرتے تھے، ان کے نبی کے پاس اکثر آنے کی وجہ سے۔
(ب) اسحق بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں دلالت ہے کہ گھر میں اکثر داخل ہونا اور گھر میں مصروف رہنا ملکیت پر دلالت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20584]
(ب) اسحق بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں دلالت ہے کہ گھر میں اکثر داخل ہونا اور گھر میں مصروف رہنا ملکیت پر دلالت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20584]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20585
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَتَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ: إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُأْثِرُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَعَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَأُذُنَيْهِ، فَقَالَ: أَبْصَرَ عَيْنَايَ، وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهُ غَائِبًا بِنَاجِزٍ، إِلَّا يَدًا بِيَدٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ. فَأَخْبَرَ أَنَّ الْعِلْمَ بِالْقَوْلِ يَقَعُ بِمُعَايَنَةِ قَائِلِهِ وَسَمَاعِهِ مِنْهُ، وَفِي هَذَا عَنِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَمْثِلَةٌ كَثِيرَةٌ، قَالَ الشَّافِعِيُّ ⦗٢٦٦⦘ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِهَذَا قُلْتُ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْأَعْمَى إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَثْبَتَ شَيْئًا مُعَايَنَةً، أَوْ مُعَايَنَةً وَسَمْعًا، ثُمَّ عَمِيَ، فَتَجُوزُ شَهَادَتُهُ"، قَالَ:" وَإِذَا كَانَ الْقَوْلُ أَوِ الْفِعْلُ وَهُوَ أَعْمَى لَمْ يَجُزْ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الصَّوْتَ يُشْبِهُ الصَّوْتَ".
(٢٠٥٨٥) نافع ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو لیث کے ایک آدمی نے کہا کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ چاندی کی بیع چاندی کے ساتھ کی جائے لیکن برابر برابر، اس طرح سونے کی بیع بھی برابر برابر کی جائے۔ ابوسعید نے اپنی انگلی سے اپنی آنکھوں اور کانوں کی طرف اشارہ کیا کہ میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا کہ آپ نے فرمایا: چاندی اور سونے کی بیع برابر برابر کی جائے اور ایک دوسرے پر قیمت میں اضافہ نہ کرو۔ غائب کو موجود کے عوض فروخت نہ کرو مگر ہاتھوں ہاتھ۔
(ب) محمد بن رمح فرماتے ہیں کہ علم کا حصول بات کے ذریعہ کہنے والے کے مشاہدہ اور سماع کی بناء پر۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نابینا آدمی کی شہادت صرف اس صورت میں قبول ہے کہ اس نے مشاہدہ کیا ہو یا سنا ہو نظر ختم ہونے سے پہلے، لیکن جب وہ نابینا ہوجائے قول یا فعل نقل کرے وہ اندھا ہو تو اس کی جانب سے یہ خبر مقبول نہیں؛ کیونکہ آوازیں ایک دوسرے کے مشابہہ ہوتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20585]
(ب) محمد بن رمح فرماتے ہیں کہ علم کا حصول بات کے ذریعہ کہنے والے کے مشاہدہ اور سماع کی بناء پر۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نابینا آدمی کی شہادت صرف اس صورت میں قبول ہے کہ اس نے مشاہدہ کیا ہو یا سنا ہو نظر ختم ہونے سے پہلے، لیکن جب وہ نابینا ہوجائے قول یا فعل نقل کرے وہ اندھا ہو تو اس کی جانب سے یہ خبر مقبول نہیں؛ کیونکہ آوازیں ایک دوسرے کے مشابہہ ہوتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20585]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20586
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ الْعَنَزِيُّ، سَمِعَ قَوْمَهُ، يَقُولُونَ:" إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَدَّ شَهَادَةَ أَعْمَى فِي سَرِقَةٍ لَمْ يُجِزْهَا".
(٢٠٥٨٦) اسود بن قیس عنزی نے اپنی قوم سے سنا، وہ کہہ رہے تھی کہ چوری کے کیس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اندھے کی شہادت کو رد کردیا، اسے درست قرار نہیں دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20586]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف