السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4082. -- باب:: ولا يضار كاتب ولا شهيد
-- باب: کسی کاتب اور کسی گواہ کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
حدیث نمبر: 20605
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" لَا يُضَارَّ الْكَاتِبُ وَلَا الشَّهِيدُ، يَقُولُ:" يَأْتِيهِ فَيَشْغَلُهُ عَنْ ضَيْعَتِهِ، وَعَنْ سُوقِهِ"،.
حمید اَعْرَج، حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿کاتب اور گواہ کو تنگ نہ کیا جائے﴾ [سورة البقرة: 282] جب وہ اپنی جاگیر اور بازار میں مصروف ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20605]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20606
قَالَ: وَأنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ} [البقرة: ٢٨٢] قَالَ:" لَا يُضَارَّ الْكَاتِبُ فَيَكْتُبَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ، وَلَا يُضَارَّ الشَّهِيدُ فَيَزِيدَ فِي شَهَادَتِهِ" قَالَ: وَأنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
اسماعیل بن مسلم حضرت حسن رحمہ اللہ سے اللہ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں: ﴿وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ﴾ [سورة البقرة: 282] ”کہ کاتب اور گواہ نقصان نہ پہنچائیں۔“
کاتب ایسی چیز لکھ کر نقصان نہ پہنچائے جس کا اس کو حکم نہ دیا گیا ہو اور نہ ہی گواہ اپنی گواہی میں اضافہ کر کے نقصان پہنچائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20606]
کاتب ایسی چیز لکھ کر نقصان نہ پہنچائے جس کا اس کو حکم نہ دیا گیا ہو اور نہ ہی گواہ اپنی گواہی میں اضافہ کر کے نقصان پہنچائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20606]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4083. -- باب:: من رد شهادة العبيد ومن قبلها
-- باب: جس نے غلاموں کی گواہی رد کی اور جس نے اسے قبول کیا۔
حدیث نمبر: Q20607
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ} [البقرة: 282] قَالَ: وَرِجَالُنَا أَحْرَارُنَا، لَا مَمَالِيكُنَا الَّذِينَ يَغْلِبُهُمْ مَنْ يَمْلِكُهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِنْ أُمُورِهِمْ، فَلَا يَجُوزُ شَهَادَةُ مَمْلُوكٍ فِي شَيْءٍ وَإِنْ قَلَّ".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ ”اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لو۔“ [سورة البقرة: 282]
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”اور ہمارے مردوں سے مراد ہمارے آزاد لوگ ہیں، نہ کہ ہمارے وہ غلام جن کے بہت سے معاملات پر ان کے مالک غالب ہوتے ہیں، لہٰذا کسی غلام کی گواہی کسی بھی معاملے میں جائز نہیں، خواہ وہ معاملہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20607]
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”اور ہمارے مردوں سے مراد ہمارے آزاد لوگ ہیں، نہ کہ ہمارے وہ غلام جن کے بہت سے معاملات پر ان کے مالک غالب ہوتے ہیں، لہٰذا کسی غلام کی گواہی کسی بھی معاملے میں جائز نہیں، خواہ وہ معاملہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20607]
حدیث نمبر: 20607
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ ⦗٢٧٢⦘ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ} [البقرة: ٢٨٢] قَالَ: مِنَ الْأَحْرَارِ".
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ارشادِ باری تعالیٰ ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 282] میں «رِجَال» سے مراد آزاد لوگ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20607]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20608
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ الظِّهَارِ مِنَ الْأَمَةِ، قَالَ:" لَيْسَ بِشَيْءٍ"، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ اللهُ سُبْحَانَهُ يَقُولُ: {وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ} [المجادلة: ٣] أَفَلَيْسَتْ مِنَ النِّسَاءِ؟، فَقَالَ:" وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ} [البقرة: ٢٨٢] أَفَتَجُوزُ شَهَادَةُ الْعَبِيدِ؟". فَبَيَّنَ مُجَاهِدٌ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ مُطْلَقَ الْخِطَابِ يَتَنَاوَلُ الْأَحْرَارَ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَالَ أَبُو يَحْيَى السَّاجِيُّ: رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَالْحَسَنِ وَالنَّخَعِيِّ وَالزُّهْرِيِّ وَمُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْعَبِيدِ". وَقَالَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي التَّرْجَمَةِ: قَالَ أَنَسٌ:" شَهَادَةُ الْعَبْدِ جَائِزَةٌ إِذَا كَانَ عَدْلًا"، وَأَجَازَهَا شُرَيْحٌ، وَزُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ:" شَهَادَتُهُ جَائِزَةٌ، إِلَّا الْعَبْدَ لِسَيِّدِهِ"، وَأَجَازَهَا الْحَسَنُ وَإِبْرَاهِيمُ فِي الشَّيْءِ التَّافِهِ، وَقَالَ شُرَيْحٌ:" كُلُّكُمْ بَنُو عَبِيدٍ وَإِمَاءٍ".
داؤد بن ابی ہند فرماتے ہیں کہ میں نے لونڈی سے ظہار کے بارے میں مجاہد سے پوچھا تو وہ فرمانے لگے: ”کچھ بھی نہیں۔“ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ﴾ [سورة المجادلة: 3] ”وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں۔“ کیا وہ عورتیں نہیں؟ فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 282] ”تو کیا غلام کی شہادت جائز ہے؟“ تو مجاہد نے بیان کیا کہ مطلق طور پر خطاب آزاد لوگوں کو ہے۔
(ب) ابویحییٰ ساجی فرماتے ہیں کہ علی، حسن، نخعی، زہری، مجاہد اور عطاء فرماتے ہیں کہ غلام کی شہادت قبول نہیں۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں فرمایا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر عادل غلام ہو تو گواہی جائز ہے۔“
قاضی شریح اور زرارہ بن اوفی نے بھی جائز قرار دیا ہے۔
(د) ابن سیرین بھی جائز خیال کرتے ہیں، لیکن مالک کے حق میں نہیں۔ حسن اور ابراہیم نے معمولی چیز میں اسے جائز قرار دیا ہے، اور قاضی شریح نے فرمایا: ”تم سب غلاموں اور لونڈیوں کی اولاد ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20608]
(ب) ابویحییٰ ساجی فرماتے ہیں کہ علی، حسن، نخعی، زہری، مجاہد اور عطاء فرماتے ہیں کہ غلام کی شہادت قبول نہیں۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں فرمایا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر عادل غلام ہو تو گواہی جائز ہے۔“
قاضی شریح اور زرارہ بن اوفی نے بھی جائز قرار دیا ہے۔
(د) ابن سیرین بھی جائز خیال کرتے ہیں، لیکن مالک کے حق میں نہیں۔ حسن اور ابراہیم نے معمولی چیز میں اسے جائز قرار دیا ہے، اور قاضی شریح نے فرمایا: ”تم سب غلاموں اور لونڈیوں کی اولاد ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20608]
4084. -- باب:: من رد شهادة الصبيان ومن قبلها في الجراح ما لم يتفرقوا
-- باب: جس نے بچوں کی گواہی رد کی اور جس نے زخمی کرنے کے معاملے میں ان کی گواہی اس وقت تک قبول کی جب تک وہ منتشر نہ ہوئے ہوں۔
حدیث نمبر: Q20609
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {مِنْ رِجَالِكُمْ} [البقرة: 282] يَدُلُّ عَلَى أَنْ لَا تَجُوزَ شَهَادَةُ الصِّبْيَانِ وَاللهُ أَعْلَمُ فِي شَيْءٍ، ولِأَنَّهُ إِنَّمَا خُوطِبَ بِالْفَرَائِضِ الْبَالِغُونَ دُونَ مَنْ لَمْ يَبْلُغْ، وَلِأَنَّهُمْ لَيْسُوا مِمَّنْ يُرْضَى مِنَ الشُّهَدَاءِ، وَإِنَّمَا أَمَرَنَا اللهُ أَنْ نَقْبَلَ شَهَادَةَ مَنْ نَرْضَى" قَالَ الشَّيْخُ:" وَقَدْ رُوِّينَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يُفِيقَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: أَجَازَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَابْنُ عَبَّاسٍ رَدَّهَا"..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کا فرمان: ﴿مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ ”تمہارے مردوں میں سے“ [سورة البقرة: 282] اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ، واللہ اعلم، بچوں کی گواہی کسی بھی معاملے میں جائز نہیں، اور اس لیے بھی کہ فرائض کا مخاطب صرف بالغ لوگوں کو بنایا گیا ہے نہ کہ نابالغوں کو، اور اس لیے بھی کہ وہ ان گواہوں میں سے نہیں جنہیں پسند کیا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف انہی کی گواہی قبول کرنے کا حکم دیا ہے جنہیں ہم پسند کریں۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت پہنچی ہے کہ: تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے افاقہ ہو جائے، اور سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پھر اگر کوئی کہنے والا کہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے (بچوں کی گواہی کو) جائز قرار دیا ہے، تو (جواب یہ ہے کہ) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے رد کر دیا ہے...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20609]
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت پہنچی ہے کہ: تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے افاقہ ہو جائے، اور سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پھر اگر کوئی کہنے والا کہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے (بچوں کی گواہی کو) جائز قرار دیا ہے، تو (جواب یہ ہے کہ) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے رد کر دیا ہے...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20609]
حدیث نمبر: 20609
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي شَهَادَةِ الصِّبْيَانِ:" لَا تَجُوزُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بچوں کی گواہی جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20609]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20610
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُوحَازِمٍ الْحَافِظُ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ شَهَادَةِ الصِّبْيَانِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: ٢٨٢] وَلَيْسُوا مِمَّنْ نَرْضَى، لَا تَجُوزُ".
عمرو بن دینار، ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا اور بچوں کی شہادت کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے جواباً تحریر کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ [سورة البقرة: 282] ”یہ پسندیدہ گواہ نہیں اس لیے ان کی گواہی درست نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20610]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20611
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: أَرْسَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَسْأَلُهُ عَنْ شَهَادَةِ الصِّبْيَانِ، فَقَالَ:" قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: ٢٨٢] وَلَيْسُوا مِمَّنْ نَرْضَى"، قَالَ: فَأَرْسَلْتُ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسْأَلُهُ، فَقَالَ:" بِالْحَرِيِّ إِنْ سُئِلُوا أَنْ يَصْدُقُوا"، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ الْقَضَاءَ إِلَّا عَلَى مَا قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ".
ابن جریج، حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا تاکہ بچوں کی شہادت کے بارے میں سوال کروں، انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ [سورة البقرة: 282] ”جو گواہوں میں سے تم پسند کرو۔“ یہ ان میں سے نہیں ہیں جن کو ہم پسند کرتے ہیں۔
میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے بھی یہی سوال کیا، انہوں نے کہا: ”زیادہ لائق یہی ہے کہ اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ سچ بولیں گے۔“ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے فیصلہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی بات کے مطابق ہی ہوتے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20611]
میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے بھی یہی سوال کیا، انہوں نے کہا: ”زیادہ لائق یہی ہے کہ اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ سچ بولیں گے۔“ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے فیصلہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی بات کے مطابق ہی ہوتے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20611]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قصه زبير»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20612
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، كَانَ يَقْضِي بِشَهَادَةِ الصِّبْيَانِ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنَ الْجِرَاحِ.
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بچوں کی گواہی پر زخموں کے فیصلے کر دیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20612]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح