السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4221. -- باب:: من لم يكره كتابة عبده وإن كان غير قوي ولا أمين.
-- باب: جس نے اپنے غلام کو مکاتب بنانے کو مکروہ نہیں سمجھا، اگرچہ وہ طاقتور اور امانت دار نہ ہو۔
حدیث نمبر: 21620
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ أَبِي ثَرْوَانَ الْحَارِثِيُّ، عَنِ ابْنِ التَّيَّاحِ، أَنَّهُ أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أُرِيدُ أَنْ أُكَاتِبَ، فَقَالَ:" أَعِنْدَكَ شَيْءٌ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: فَجَمَعَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ:" أَعِينُوا أَخَاكُمْ"، فَجَمَعُوا لَهُ، قَالَ: فَبَقِيَ بَقِيَّةٌ عَنْ مُكَاتَبَتِهِ قَالَ: فَأَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنِ الْفَضْلَةِ، فَقَالَ:" اجْعَلْهَا فِي الْمُكَاتَبِينَ". هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُكَاتَبَ إِنَّمَا يُعْطَى مِنَ الصَّدَقَاتِ مِنْ سَهْمِ الرِّقَابِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَعْتِقَ..
ابن تیاح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: میں مکاتبت کا ارادہ رکھتا ہوں، انہوں نے پوچھا: کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ کہنے لگے: نہیں۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، تو انہوں نے اس کے لیے مال جمع کیا۔ وہ کہتے ہیں: اس کی مکاتبت (کی رقم) سے کچھ بچ گیا، پھر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور باقی ماندہ کے بارے میں سوال کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اسے (دوسرے) مکاتبین میں لگا دو۔ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ مکاتب کو صدقات میں سے غلاموں کے حصے سے صرف اتنا دیا جائے گا جتنا اس کی آزادی کے لیے باقی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21620]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4222. -- باب:: فضل من أعان مكاتبا في رقبته.
-- باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جس نے مکاتب غلام کی گردن چھڑانے (آزادی) میں اس کی مدد کی۔
حدیث نمبر: 21621
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، قِرَاءَةً، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٥٤٠⦘ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ سَهْلًا، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَعَانَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ غَارِمًا فِي عُسْرَتِهِ، أَوْ مُكَاتَبًا فِي رَقَبَتِهِ أَظَلَّهُ اللهُ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ". لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ. زَادَ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ:" أَوْ غَازِيًا"..
سیدنا سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں مجاہد کی مدد کی یا چٹی پڑنے والے کی تنگی میں مدد کی یا مکاتب کو آزاد کروانے میں مدد کی تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔“ عمرو بن ثابت نے یہ لفظ زائد بیان کیے ہیں کہ ”یا غازی (کی مدد کی)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21621]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4223. -- باب:: مكاتبة الرجل عبده أو أمته على نجمين فأكثر بمال صحيح
-- باب: آدمی کا اپنے غلام یا لونڈی کو دو یا اس سے زائد اقساط پر صحیح مال کے عوض مکاتب بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21622
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ:" إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي تِسْعِ سِنِينَ، كُلُّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ. وَرُوِّينَاهُ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ"، وَفِي الْكِتَابَةِ الْحَالَّةِ غَرَرٌ كَثِيرٌ..
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان کے پاس بریرہ آئیں اور کہنے لگیں کہ میرے آقا نے مجھ سے نو اوقیہ نو سال کی مدت میں ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنے پر مکاتبت کی ہے تو آپ میری مدد کریں۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دھوکے کی بیع“ سے منع کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21622]
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دھوکے کی بیع“ سے منع کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21622]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21623
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بِشْرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا جُوَيْرِيَةُ ابْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي تِجَارَةٍ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَأَحْمَدَ وِلَايَتِي، قَالَ: فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَسْأَلُكَ الْكِتَابَةَ، فَقَطَّبَ، فَقَالَ:" نَعَمْ، وَلَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللهِ مَا فَعَلْتُ، أُكَاتِبُكَ عَلَى مِائَةِ أَلْفٍ، عَلَى أَنْ تُعِدَّهَا لِي فِي عِدَتَيْنِ، لَا وَاللهِ أَغُضُّكَ مِنْهَا دِرْهَمًا"، قَالَ: فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ، فَلَقِيَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا الَّذِي أَرَى بِكَ؟ قُلْتُ: كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بَعَثَنِي فِي تِجَارَةٍ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَأَحْمَدَ وِلَايَتِي، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَسْأَلُكَ الْكِتَابَةَ، قَالَ: فَقَطَّبَ، قَالَ: فَقَالَ:" نَعَمْ، وَلَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللهِ مَا فَعَلْتُ، أُكَاتِبُكَ عَلَى مِائَةِ أَلْفٍ عَلَى أَنْ تُعِدَّهَا لِي فِي عِدَتَيْنِ، وَاللهِ لَا أَغُضُّكَ مِنْهَا دِرْهَمًا"، قال، فَقَالَ: انْطَلِقْ، قَالَ: فَرَدَّنِي إِلَيْهِ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فُلَانٌ كَاتَبْتَهُ؟ قَالَ: فَقَطَّبَ وَقَالَ:" نَعَمْ، وَلَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللهِ مَا فَعَلْتُ، أُكَاتِبُهُ عَلَى مِائَةِ أَلْفٍ عَلَى أَنْ يُعِدَّهَا لِي فِي عِدَتَيْنِ، وَاللهِ لَا أَغُضُّهُ مِنْهَا دِرْهَمًا، قَالَ: فَغَضِبَ الزُّبَيْرُ فَقَالَ: لِلَّهِ لَأَمْثُلَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنَّمَا أَطْلُبُ إِلَيْكَ حَاجَةً تَحُولُ دُونَهَا بِيَمِينٍ؟، قَالَ: فَضَرَبَ، لَا أَدْرِي قَالَ: كَتِفِيَّ، أَوْ قَالَ: عَضُدِيَّ، ثُمَّ قَالَ: كَاتِبْهُ، قَالَ فَكَاتَبْتُهُ فَانْطَلَقَ بِيَ الزُّبَيْرُ إِلَى أَهْلِهِ، فَأَعْطَانِي مِائَةَ أَلْفٍ، ثُمَّ قَالَ: انْطَلِقْ فَاطْلُبْ فِيهَا مِنْ فَضْلِ اللهِ، فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَأَدِّ إِلَى عُثْمَانَ مَالَهُ مِنْهَا، فَانْطَلَقْتُ فَطَلَبْتُ فِيهَا مِنْ فَضْلِ اللهِ، وَأَدَّيْتُ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَالَهُ، وَإِلَى الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَالَهُ، وَفَضَلَ فِي ⦗٥٤١⦘ يَدِيَّ ثَمَانُونَ أَلْفًا..
مسلم بن ابی مریم ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کا غلام تھا۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے تجارت کی غرض سے بھیجا، میں واپس آیا تو انہوں نے میری کارکردگی کی تعریف کی۔ وہ کہتے ہیں: میں ایک دن عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا: ”اے امیر المؤمنین! میں مکاتبت کا سوال کرتا ہوں۔“ انہوں نے تیوری چڑھائی اور کہا: ”ٹھیک ہے، اگر اللہ کی کتاب میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں ایسا نہ کرتا، میں ایک لاکھ کے عوض تجھ سے مکاتبت کرتا ہوں اس شرط پر کہ تو مجھے وہ دو قسطوں میں ادا کرے، اللہ کی قسم! میں اس میں سے ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا۔“ وہ کہتا ہے کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلا تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے کہا: ”میں تجھے کس حال میں دیکھ رہا ہوں؟“ میں نے کہا کہ امیر المؤمنین نے مجھے تجارت کی غرض سے بھیجا تھا، میں واپس لوٹا تو انہوں نے میری کارکردگی کی تعریف کی، میں ان کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا: ”اے امیر المؤمنین! میں مکاتبت کا سوال کرتا ہوں۔“ انہوں نے تیوری چڑھائی اور فرمایا: ”ٹھیک ہے، اگر اللہ کی کتاب میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں ایسا نہ کرتا، میں ایک لاکھ کے عوض تجھ سے مکاتبت کرتا ہوں اس شرط پر کہ تو مجھے وہ دو قسطوں میں ادا کرے، اللہ کی قسم! میں اس میں سے ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا۔“ تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”چلو۔“ وہ مجھے واپس لے گئے اور امیر المؤمنین کے سامنے کھڑے ہو کر کہا: ”اے امیر المؤمنین! کیا آپ نے فلاں سے مکاتبت کی ہے؟“ انہوں نے تیوری چڑھائی اور کہا: ”ہاں! اگر اللہ کی کتاب میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں ایسا نہ کرتا، میں ایک لاکھ کے عوض اس سے مکاتبت کرتا ہوں اس شرط پر کہ وہ مجھے دو قسطوں میں ادا کرے، اللہ کی قسم! میں اس میں سے ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور کہا: ”اللہ کی قسم! میں آپ کے سامنے سائل بن کر کھڑا ہوں گا، میں آپ سے ایک ضرورت مانگتا ہوں اور آپ قسم کے ذریعے اس میں رکاوٹ ڈالتے ہیں؟“ وہ کہتے ہیں: پھر انہوں نے مارا، میں نہیں جانتا کہ میرے کندھے پر کہا یا میرے بازو پر، پھر کہا: ”اس سے مکاتبت کر لو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے مکاتبت کر لی تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ مجھے اپنے گھر لے گئے اور مجھے ایک لاکھ کی رقم دے دی پھر کہا: ”جاؤ اس میں اللہ کا فضل تلاش کرو، اگر کوئی معاملہ تم پر غالب آ جائے تو عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کا حق اس میں سے ادا کر دینا۔“ کہتے ہیں کہ میں چلا اور اس میں اللہ کا فضل تلاش کرتا رہا تو میں نے عثمان اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو ان کی رقم ادا کر دی اور میرے پاس اسی ہزار بچ گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21623]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4224. -- باب:: من قال: لا يعتق المكاتب حتى يكون في الكتابة: فإذا أديت هذا، أو نصفه فأنت حر.
-- باب: جس نے کہا: مکاتب اس وقت تک آزاد نہیں ہوتا جب تک کہ عقدِ کتابت میں یہ درج نہ ہو: ”جب تم یہ، یا اس کا آدھا حصہ ادا کر دو گے تو تم آزاد ہو“۔
حدیث نمبر: 21624
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، رَحِمَهُ اللهُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى أَنْ أَغْرِسَ لَهُمْ خَمْسَمِائَةِ فَسِيلَةٍ، فَإِذَا عَلِقَتْ فَأَنَا حُرٌّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" اغْرِسْ وَاشْتَرِطْ لَهُمْ، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَغْرِسَ فَآذِنِّي"، فَآذَنْتُهُ، فَجَاءَ فَجَعَلَ يَغْرِسُ إِلَّا وَاحِدَةً غَرَسْتُهَا بِيَدِي، فَعَلِقْنَ جَمِيعًا، إِلَّا الْوَاحِدَةَ.
ابو عثمان، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے آقاؤں سے مکاتبت کی کہ میں پانچ سو درخت لگا کر دوں گا، جب وہ پھل دینے لگیں گے تو میں آزاد ہو جاؤں گا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے اس بات کا تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درخت لگاؤ اور شرط رکھ لو لیکن جب درخت لگانے کا ارادہ ہو مجھے اطلاع دے دینا۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور درخت لگانے لگے سوائے ایک درخت کے جو میں نے اپنے ہاتھ سے لگایا، تمام درختوں نے پھل دینا شروع کر دیا سوائے اس ایک کے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21624]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21625
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ عَلَى طَبَقٍ فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ"؟ قَالَ: صَدَقَةٌ عَلَيْكَ وَعَلَى أَصْحَابِكَ، قَالَ:" إِنِّي لَا آكُلُ الصَّدَقَةَ"، فَرَفَعَهَا، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِهَا، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا"؟ قَالَ: هَدِيَّةٌ لَكَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" كُلُوا"، قَالَ:" ⦗٥٤٢⦘ لِمَنْ أَنْتَ"؟، قَالَ: لِقَوْمٍ، قَالَ:" فَاطْلُبْ إِلَيْهِمْ أَنْ يُكَاتِبُوكَ"، قَالَ: فَكَاتَبُونِي عَلَى كَذَا وَكَذَا نَخْلَةً أَغْرِسُهَا لَهُمْ، وَيَقُومُ عَلَيْهَا سَلْمَانُ حَتَّى تُطْعِمَ، قَالَ: فَفَعَلُوا، قَالَ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَرَسَ النَّخْلَ كُلَّهُ إِلَّا نَخْلَةً وَاحِدَةً غَرَسَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأُطْعِمَ نَخْلُهُ مِنْ سَنَتِهِ إِلَّا تِلْكَ النَّخْلَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ غَرَسَهَا"؟ قَالُوا: عُمَرُ، فَغَرَسَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَدِهِ، فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِهَا..
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ جب مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک پلیٹ کے اندر تحفہ رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”سلمان! یہ کیا ہے؟“ کہنے لگے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے صدقہ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں صدقہ نہیں کھاتا۔“ تو انہوں نے اسے اٹھا لیا۔ دوسرے دن پھر اسی طرح پلیٹ میں کچھ رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ تو کہنے لگے: ”یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”کھاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم کون ہو؟“ کہنے لگے کہ میں ایک قوم کا غلام ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے مکاتبت طلب کر لو۔“ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے مکاتبت کر لی کہ اتنی اتنی کھجوریں لگا کر دوں اور پھل آنے تک سلمان رضی اللہ عنہ ان کی حفاظت کرے۔ انہوں نے یہ کام کر لیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور کے علاوہ تمام کھجوریں لگا دیں، ایک کھجور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لگائی۔ سال کے اندر تمام کھجوروں نے پھل دیا سوائے اس کھجور کے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کس نے لگائی تھی؟“ تو انہوں نے عرض کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی اپنے دستِ مبارک سے لگایا تو اسی سال اس نے بھی پھل دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21625]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21626
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ سَبَبِ إِسْلَامِهِ وَفِيهِ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَاتِبْ يَا سَلْمَانُ"، فَكَاتَبْتُ صَاحِبِي عَلَى ثَلَاثِمِائَةِ نَخْلَةٍ أُحْيِيهَا، وَأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، وَأَعَانَنِي أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ ثَلَاثِينَ وَدِيَّةً، وَعِشْرِينَ وَدِيَّةً وَعَشْرًا، كَلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَى قَدْرِ مَا عِنْدَهُ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْحَفْرِ، قَالَ: وَخَرَجَ مَعِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهَا، فَكُنَّا نَحْمِلُ إِلَيْهِ الْوَدِيَّ وَيَضَعُهُ بِيَدِهِ وَيُسَوِّي عَلَيْهَا، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا مَاتَتْ مِنْهَا وَدِيَّةٌ وَاحِدَةٌ، وَبَقِيَتْ عَلَيَّ الدَّرَاهِمُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ مِنَ الذَّهَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ الْفَارِسِيُّ الْمُسْلِمُ الْمُكَاتَبُ"؟ فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ:" خُذْ هَذِهِ يَا سَلْمَانُ فَأَدِّ مَا عَلَيْكَ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَيْنَ تَقَعُ هَذِهِ مِمَّا عَلَيَّ؟ قَالَ:" فَإِنَّ اللهَ سَيؤَدِّي بِهَا عَنْكَ"، فَوَالَّذِي نَفْسُ سَلْمَانَ بِيَدِهِ لَوَزَنْتُ لَهُمْ مِنْهَا أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِمْ، وَعَتَقَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى زِيَادَةٌ فِي عَدَدِ الْفَسِيلَاتِ، وَفِيهَا اشْتِرَاطُ الْحُرِّيَةِ، وَإِنْ وَاحِدَةٌ مِنْهَا لَمْ تَعْلَقْ، وَهِيَ مَا لَمْ يَغْرِسْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الرِّوَايَةِ الثَّالِثَةِ نُقْصَانٌ عَنْ عَدَدِ الْفَسِيلَاتِ وَزِيَادَةُ الْأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، وَفِي كِلْتَيْهِمَا مَعَ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ بِشَرْطِ الْعُلُوقِ أَوِ الْإِطْعَامِ، وَكَأَنَّ الْعَقْدَ كَانَ مَعَ الْكُفَّارِ وَكَأَنَّ الْقَصْدَ مِنْهُ حُصُولُ الْعِتَاقِ، فَأَذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اشْتِرَاطِهِ بِقَوْلِهِ:" اشْتَرِطْ لَهُمْ"، لِكَوْنِهِ شَرْطًا صَحِيحًا فِي حُصُولِ الْعِتَاقِ بِهِ، وَإِنْ كَانَ عَقْدُ الْكِتَابَةِ يُفْسَدُ بِهِ..
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام قبول کرنے کا قصہ ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سلمان! مکاتبت کرلو۔“ میں نے اپنے مالکوں سے تین سو کھجوروں کے درختوں کو آباد کرنے اور چالیس اوقیہ ادا کرنے پر مکاتبت کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے 30، کسی نے 20، کسی نے 10 اپنی طاقت کے مطابق مجھے عطا کیں۔ دوسری حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ نکلے اور ہم کھجور کے چھوٹے پودوں کو اٹھائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پودے کو ہاتھ میں لیتے اور زمین میں برابر گاڑھ دیتے۔ اللہ کی قسم! ایک پودا بھی ضائع نہیں ہوا۔ باقی میرے اوپر درہم رہ گئے تو ایک آدمی انڈے کے برابر سونا لے کر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فارسی مسلمان مکاتب کہاں ہے؟“ مجھے بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلمان! لے لو اور اپنا قرض ادا کرو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا قرض کہاں سے ادا کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس کے ذریعے تیرا قرض ادا کر دے گا۔“ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں سلمان کی جان ہے، میں نے ان کو 40 اوقیوں کا وزن کر کے دے دیا اور سلمان رضی اللہ عنہ آزاد ہو گئے۔
شیخ فرماتے ہیں: پہلی روایت میں درختوں کی تعداد زیادہ اور آزادی کی شرط دی اور ان میں سے ایک درخت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں لگایا تھا اور تیری روایت میں درختوں کی تعداد کم اور 40 اوقیوں کی زیادتی اور دوسری روایت میں درختوں کے پھل دینے کی شرط۔ یہ کفار سے معاہدہ آزادی کا معاہدہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی شرط لگانے کی اجازت دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21626]
شیخ فرماتے ہیں: پہلی روایت میں درختوں کی تعداد زیادہ اور آزادی کی شرط دی اور ان میں سے ایک درخت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں لگایا تھا اور تیری روایت میں درختوں کی تعداد کم اور 40 اوقیوں کی زیادتی اور دوسری روایت میں درختوں کے پھل دینے کی شرط۔ یہ کفار سے معاہدہ آزادی کا معاہدہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی شرط لگانے کی اجازت دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21626]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21627
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، فِي قِصَّةِ إِسْلَامِهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِمَنْ أَنْتَ"؟ قُلْتُ: لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ جَعَلَتْنِي فِي حَائِطٍ لَهَا، قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ"، قَالَ: لَبَّيْكَ، قَالَ:" اشْتَرِهِ"، قَالَ: فَاشْتَرَانِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَعْتَقَنِي.. وَهَذَا يُخَالِفُ الرِّوَايَاتِ قَبْلَهُ، وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ عَتَاقُهُ لَمْ يَحْصُلْ بِأَنْ لَمْ يَعْلُقْ مِنَ الْفَسِيلَاتِ وَاحِدَةٌ حَتَّى أَعَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرْسَهَا فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِهَا ⦗٥٤٣⦘ فَاشْتَرَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَأَعْتَقَهُ، وَيُحْتَمَلُ غَيْرُهُ، وَاللهُ أَعْلمُ، وَفِي ثُبُوتِ بَعْضِ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ نَظَرٌ..
زید بن صوحان حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے اسلام کے قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو کس کا غلام ہے؟“ میں نے کہا: ”انصاری عورت کا جس نے اپنے باغ میں میری ڈیوٹی لگائی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر رضی اللہ عنہ!“ عرض کیا: ”اللہ کے رسول! حاضر۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو خریدو۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے خرید کر آزاد کر دیا۔
نوٹ: یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے، ممکن ہے ایک درخت کے پھل نہ دینے کی وجہ سے ان کو آزادی نہ ملی ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے ہاتھ سے دوبارہ لگا دیا، تو اس عرصے کے درمیان ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو خریدا ہو۔
ان میں سے بعض روایات کے ثابت ہونے میں کلام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21627]
نوٹ: یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے، ممکن ہے ایک درخت کے پھل نہ دینے کی وجہ سے ان کو آزادی نہ ملی ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے ہاتھ سے دوبارہ لگا دیا، تو اس عرصے کے درمیان ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو خریدا ہو۔
ان میں سے بعض روایات کے ثابت ہونے میں کلام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21627]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4225. -- باب:: من كاتب عبده، أو أمته على عرض موصوف، أو على عرض ونقد.
-- باب: جس نے اپنے غلام یا لونڈی کو کسی متعین سامان، یا سامان اور نقد رقم کے عوض مکاتب بنایا۔
حدیث نمبر: 21628
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ حَفْصَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتَبَتْ عَبْدًا لَهَا عَلَى رَقِيقٍ، قَالَ نَافِعٌ: فَأَدْرَكْتُ أَنَا ثَلَاثَةً مِنَ الَّذِينَ أَدَّوْا فِي مُكَاتَبَتِهِمْ..
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام سے غلاموں کے عوض مکاتبت کی۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے خود ان میں سے تین غلاموں کو پایا جو اس کی مکاتبت میں ادا کیے گئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21628]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21629
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالْكِتَابَةِ عَلَى الْوُصَفَاءِ..
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نو عمر غلاموں کے عوض مکاتبت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21629]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف