🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4221. -- باب:: من لم يكره كتابة عبده وإن كان غير قوي ولا أمين.
-- باب: جس نے اپنے غلام کو مکاتب بنانے کو مکروہ نہیں سمجھا، اگرچہ وہ طاقتور اور امانت دار نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21620
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ أَبِي ثَرْوَانَ الْحَارِثِيُّ، عَنِ ابْنِ التَّيَّاحِ، أَنَّهُ أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أُرِيدُ أَنْ أُكَاتِبَ، فَقَالَ:" أَعِنْدَكَ شَيْءٌ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: فَجَمَعَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ:" أَعِينُوا أَخَاكُمْ"، فَجَمَعُوا لَهُ، قَالَ: فَبَقِيَ بَقِيَّةٌ عَنْ مُكَاتَبَتِهِ قَالَ: فَأَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنِ الْفَضْلَةِ، فَقَالَ:" اجْعَلْهَا فِي الْمُكَاتَبِينَ". هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُكَاتَبَ إِنَّمَا يُعْطَى مِنَ الصَّدَقَاتِ مِنْ سَهْمِ الرِّقَابِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَعْتِقَ..
(٢١٦٢٠) ابننباح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: میں مکاتبت کا ارادہ رکھتا ہوں، انھوں نے پوچھا: کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ کہنے لگے: نہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو اور اس کے لیے مال جمع کرو۔ کہتے ہیں: جو باقی بچے اس سے مکاتبت کرلینا، پھر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور باقی ماندہ کے بارے میں سوال کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ ان کو مکاتبین میں شمار کریں۔ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ مکاتب آدمی صدقات سے پیسے وصول کر کے آزادی حاصل کرسکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21620]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4222. -- باب:: فضل من أعان مكاتبا في رقبته.
-- باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جس نے مکاتب غلام کی گردن چھڑانے (آزادی) میں اس کی مدد کی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21621
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، قِرَاءَةً، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٥٤٠⦘ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ سَهْلًا، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَعَانَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ غَارِمًا فِي عُسْرَتِهِ، أَوْ مُكَاتَبًا فِي رَقَبَتِهِ أَظَلَّهُ اللهُ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ". لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ. زَادَ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ:" أَوْ غَازِيًا"..
(٢١٦٢١) سہل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجاہد کی مدد کی یا چٹی پڑنے والے کی تنگی میں مدد کی یا مکاتب کو آزاد کروانے میں مدد کی تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ عمرو بن ثابت نے یہ لفظ زائد بیان کیے ہیں کہ نمازی کی مدد کرنے والا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21621]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4223. -- باب:: مكاتبة الرجل عبده أو أمته على نجمين فأكثر بمال صحيح
-- باب: آدمی کا اپنے غلام یا لونڈی کو دو یا اس سے زائد اقساط پر صحیح مال کے عوض مکاتب بنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21622
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ:" إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي تِسْعِ سِنِينَ، كُلُّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ. وَرُوِّينَاهُ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ"، وَفِي الْكِتَابَةِ الْحَالَّةِ غَرَرٌ كَثِيرٌ..
(٢١٦٢٢) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ ان کے پاس بریرہ آئیں اور کہنیلگیں کہ میرے آقا نے مجھ سے نو اوقیہ نو سال کی مدت میں ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنے پر مکاتبت کی ہے تو آپ میری مدد کریں۔
(ب) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھوکے کی بیع سے منع کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21622]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21623
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بِشْرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا جُوَيْرِيَةُ ابْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي تِجَارَةٍ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَأَحْمَدَ وِلَايَتِي، قَالَ: فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَسْأَلُكَ الْكِتَابَةَ، فَقَطَّبَ، فَقَالَ:" نَعَمْ، وَلَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللهِ مَا فَعَلْتُ، أُكَاتِبُكَ عَلَى مِائَةِ أَلْفٍ، عَلَى أَنْ تُعِدَّهَا لِي فِي عِدَتَيْنِ، لَا وَاللهِ أَغُضُّكَ مِنْهَا دِرْهَمًا"، قَالَ: فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ، فَلَقِيَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا الَّذِي أَرَى بِكَ؟ قُلْتُ: كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بَعَثَنِي فِي تِجَارَةٍ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَأَحْمَدَ وِلَايَتِي، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَسْأَلُكَ الْكِتَابَةَ، قَالَ: فَقَطَّبَ، قَالَ: فَقَالَ:" نَعَمْ، وَلَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللهِ مَا فَعَلْتُ، أُكَاتِبُكَ عَلَى مِائَةِ أَلْفٍ عَلَى أَنْ تُعِدَّهَا لِي فِي عِدَتَيْنِ، وَاللهِ لَا أَغُضُّكَ مِنْهَا دِرْهَمًا"، قال، فَقَالَ: انْطَلِقْ، قَالَ: فَرَدَّنِي إِلَيْهِ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فُلَانٌ كَاتَبْتَهُ؟ قَالَ: فَقَطَّبَ وَقَالَ:" نَعَمْ، وَلَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللهِ مَا فَعَلْتُ، أُكَاتِبُهُ عَلَى مِائَةِ أَلْفٍ عَلَى أَنْ يُعِدَّهَا لِي فِي عِدَتَيْنِ، وَاللهِ لَا أَغُضُّهُ مِنْهَا دِرْهَمًا، قَالَ: فَغَضِبَ الزُّبَيْرُ فَقَالَ: لِلَّهِ لَأَمْثُلَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنَّمَا أَطْلُبُ إِلَيْكَ حَاجَةً تَحُولُ دُونَهَا بِيَمِينٍ؟، قَالَ: فَضَرَبَ، لَا أَدْرِي قَالَ: كَتِفِيَّ، أَوْ قَالَ: عَضُدِيَّ، ثُمَّ قَالَ: كَاتِبْهُ، قَالَ فَكَاتَبْتُهُ فَانْطَلَقَ بِيَ الزُّبَيْرُ إِلَى أَهْلِهِ، فَأَعْطَانِي مِائَةَ أَلْفٍ، ثُمَّ قَالَ: انْطَلِقْ فَاطْلُبْ فِيهَا مِنْ فَضْلِ اللهِ، فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَأَدِّ إِلَى عُثْمَانَ مَالَهُ مِنْهَا، فَانْطَلَقْتُ فَطَلَبْتُ فِيهَا مِنْ فَضْلِ اللهِ، وَأَدَّيْتُ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَالَهُ، وَإِلَى الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَالَهُ، وَفَضَلَ فِي ⦗٥٤١⦘ يَدِيَّ ثَمَانُونَ أَلْفًا..
(٢١٦٢٣) مسلم بن ابی مریم ایک آدمی سینقل فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا غلام تھا۔ حضرت عثمان نے مجھے تجارت کی غرض سے بھیجا۔ میں واپس آیا تو انھوں نے میری تعریف کی۔ کہتے ہیں: میں ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا: اے امیرالمومنین! میں مکاتبت کا سوال کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا ٹھیک ہے۔ اگر اللہ کی کتاب میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک لاکھ کے عوض بھی مکاتبت نہ کرتا کہ آپ مجھے وہ دو مدتوں میں ادا کرتے۔ اللہ کی قسم! میں ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا۔ کہتا ہے کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلا تو زبیر بن عوام سے ملاقات ہوگئی تو انھوں نے کہا کہ میں تجھے کیسے دیکھ رہا ہوں، میں نے کہا کہ امیرالمومنین نے مجھے تجارت کی غرض سے بھیجا ہے۔ میں واپس لوٹا تو انھوں نے میری بہت زیادہ تعریف کی میں ان کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا: اے امیرالمومنین! میں مکاتبت کا سوال کرتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ انھوں نے مکاتبت کرلی اور فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک لاکھ کے عوض بھی مکاتبت نہ کرتا کہ آپ مجھے دو مدتوں میں ادا کرتے۔ اللہ کی قسم! میں اس سے ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا تو زبیر بن عوام کہنے لگے: چلو۔ انھوں نے مجھے لا کر امیرالمومنین کے سامنے کھڑا کردیا اور کہا: اے امیرالمومنین! آپ نے فلاں سے مکاتبت کی ہے۔ کہتے ہیں: ہاں! اگر اللہ کی کتاب میں آیت نہ ہوتی تو میں ایک لاکھ کے عوض بھی مکاتبت نہ کرتا کہ آپ وہ دو مدتوں میں ادا کرتے۔ اللہ کی قسم! میں اس سے ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ زبیر بن عوام غصے میں آگئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کے سامنے مثالیں بیان کروں گا اور آپ مجھے اپنی ضرورت بیان کریں جس کی وجہ سے آپ نے قسم اٹھائی۔ فرماتے ہیں کہ انھوں نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا اور کہا کہ میں نہیں جانتا۔ پھر کہا کہ چلو آپ اس سے مکاتبت کرلیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے مکاتبت کرلی تو زبیر بن عوام نے گھر جا کر مجھے ایک لاکھ روپے ادا کردیے پھر کہا: جاؤ ان سے اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اگر معاملہ غالب آجائے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ رقم ادا کردینا۔ کہتے ہیں کہ میں چلا اللہ کا فضل تلاش کرتا رہا تو میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ان کی رقم ادا کردی اور میرے پاس اسی ہزار موجود تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21623]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4224. -- باب:: من قال: لا يعتق المكاتب حتى يكون في الكتابة: فإذا أديت هذا، أو نصفه فأنت حر.
-- باب: جس نے کہا: مکاتب اس وقت تک آزاد نہیں ہوتا جب تک کہ عقدِ کتابت میں یہ درج نہ ہو: ”جب تم یہ، یا اس کا آدھا حصہ ادا کر دو گے تو تم آزاد ہو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21624
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، رَحِمَهُ اللهُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى أَنْ أَغْرِسَ لَهُمْ خَمْسَمِائَةِ فَسِيلَةٍ، فَإِذَا عَلِقَتْ فَأَنَا حُرٌّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" اغْرِسْ وَاشْتَرِطْ لَهُمْ، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَغْرِسَ فَآذِنِّي"، فَآذَنْتُهُ، فَجَاءَ فَجَعَلَ يَغْرِسُ إِلَّا وَاحِدَةً غَرَسْتُهَا بِيَدِي، فَعَلِقْنَ جَمِيعًا، إِلَّا الْوَاحِدَةَ.
(٢١٦٢٤) ابو عثمان سلمان سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے آقاؤں سے مکاتبت کی کہ میں پانچ سو درخت لگا کر دوں گا۔ جب وہ پھل دینے لگیں گے تو میں آزاد ہوجاؤں گا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے اس بات کا تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درخت لگاؤ اور شرط رکھ لو لیکن جب درخت لگانے کا ارادہ ہو مجھے اطلاع دے دینا۔ میں نے آپ کو اطلاع دی تو آپ ایک درخت کے علاوہ تمام درخت اپنے ہاتھ سے لگائے۔ تمام درختوں نے پھل دینا شروع کردیا سوائے ایک کے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21624]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21625
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ عَلَى طَبَقٍ فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ"؟ قَالَ: صَدَقَةٌ عَلَيْكَ وَعَلَى أَصْحَابِكَ، قَالَ:" إِنِّي لَا آكُلُ الصَّدَقَةَ"، فَرَفَعَهَا، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِهَا، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا"؟ قَالَ: هَدِيَّةٌ لَكَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" كُلُوا"، قَالَ:" ⦗٥٤٢⦘ لِمَنْ أَنْتَ"؟، قَالَ: لِقَوْمٍ، قَالَ:" فَاطْلُبْ إِلَيْهِمْ أَنْ يُكَاتِبُوكَ"، قَالَ: فَكَاتَبُونِي عَلَى كَذَا وَكَذَا نَخْلَةً أَغْرِسُهَا لَهُمْ، وَيَقُومُ عَلَيْهَا سَلْمَانُ حَتَّى تُطْعِمَ، قَالَ: فَفَعَلُوا، قَالَ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَرَسَ النَّخْلَ كُلَّهُ إِلَّا نَخْلَةً وَاحِدَةً غَرَسَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأُطْعِمَ نَخْلُهُ مِنْ سَنَتِهِ إِلَّا تِلْكَ النَّخْلَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ غَرَسَهَا"؟ قَالُوا: عُمَرُ، فَغَرَسَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَدِهِ، فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِهَا..
(٢١٦٢٥) عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سلمان جب مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک پلیٹ کے اندر تحفہ رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: سلمان! یہ کیا ہے؟ کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے لیے صدقہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں صدقہ نہیں کھاتا تو انھوں نے اٹھا لیا۔ دوسرے دن پھر اسی طرح پلیٹ میں کچھ رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو کہنے لگے: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تحفہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: کھاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تو کون ہے؟ کہنے لگے کہ قوم کا غلام۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سے مکاتبت طلب کرلو۔ کہتے ہیں: انھوں نے مجھ سے مکاتبت کرلی کہ اتنی اتنی کھجوریں لگا کر دوں اور پھل آنے تک سلمان ان کی حفاظت کرے۔ انھوں نے یہ کام کرلیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کھجور کے علاوہ تمام کھجوریں لگا دیں۔ ایک کھجور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لگائی۔ سال کے اندر تمام کھجوروں نے پھل دیا۔ سوائے اس کھجور کے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کس نے لگائی تھی تو انھوں نے کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھی اپنے ہاتھ سے لگایا تو اسی سال اس نے بھی پھل دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21625]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21626
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ سَبَبِ إِسْلَامِهِ وَفِيهِ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَاتِبْ يَا سَلْمَانُ"، فَكَاتَبْتُ صَاحِبِي عَلَى ثَلَاثِمِائَةِ نَخْلَةٍ أُحْيِيهَا، وَأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، وَأَعَانَنِي أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ ثَلَاثِينَ وَدِيَّةً، وَعِشْرِينَ وَدِيَّةً وَعَشْرًا، كَلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَى قَدْرِ مَا عِنْدَهُ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْحَفْرِ، قَالَ: وَخَرَجَ مَعِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهَا، فَكُنَّا نَحْمِلُ إِلَيْهِ الْوَدِيَّ وَيَضَعُهُ بِيَدِهِ وَيُسَوِّي عَلَيْهَا، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا مَاتَتْ مِنْهَا وَدِيَّةٌ وَاحِدَةٌ، وَبَقِيَتْ عَلَيَّ الدَّرَاهِمُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ مِنَ الذَّهَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ الْفَارِسِيُّ الْمُسْلِمُ الْمُكَاتَبُ"؟ فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ:" خُذْ هَذِهِ يَا سَلْمَانُ فَأَدِّ مَا عَلَيْكَ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَيْنَ تَقَعُ هَذِهِ مِمَّا عَلَيَّ؟ قَالَ:" فَإِنَّ اللهَ سَيؤَدِّي بِهَا عَنْكَ"، فَوَالَّذِي نَفْسُ سَلْمَانَ بِيَدِهِ لَوَزَنْتُ لَهُمْ مِنْهَا أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِمْ، وَعَتَقَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى زِيَادَةٌ فِي عَدَدِ الْفَسِيلَاتِ، وَفِيهَا اشْتِرَاطُ الْحُرِّيَةِ، وَإِنْ وَاحِدَةٌ مِنْهَا لَمْ تَعْلَقْ، وَهِيَ مَا لَمْ يَغْرِسْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الرِّوَايَةِ الثَّالِثَةِ نُقْصَانٌ عَنْ عَدَدِ الْفَسِيلَاتِ وَزِيَادَةُ الْأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، وَفِي كِلْتَيْهِمَا مَعَ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ بِشَرْطِ الْعُلُوقِ أَوِ الْإِطْعَامِ، وَكَأَنَّ الْعَقْدَ كَانَ مَعَ الْكُفَّارِ وَكَأَنَّ الْقَصْدَ مِنْهُ حُصُولُ الْعِتَاقِ، فَأَذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اشْتِرَاطِهِ بِقَوْلِهِ:" اشْتَرِطْ لَهُمْ"، لِكَوْنِهِ شَرْطًا صَحِيحًا فِي حُصُولِ الْعِتَاقِ بِهِ، وَإِنْ كَانَ عَقْدُ الْكِتَابَةِ يُفْسَدُ بِهِ..
(٢١٦٢٦) ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام قبول کرنے کا قصہ ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سلمان! مکاتبت کرلو۔ میں نے اپنے مالکوں سے تین سو کھجوروں کے درختوں کو آباد کرنے اور چالیس اوقیہ ادا کرنے پر مکاتبت کرلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی نے ٣٠ کسی نے ٢٠، کسی نے ١٠ اپنی طاقت کے مطابق مجھے عطا کیں۔ دوسری حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ نکلے اور ہم کھجور کے چھوٹے پودوں کو اٹھائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پودے کو ہاتھ میں لیتے اور زمین میں برابر گاڑھ دیتے۔ اللہ کی قسم! ایک پودا بھی ضائع نہیں ہوا۔ باقی میرے اوپر درہم رہ گئے تو ایک آدمی انڈے کے برابر سونا لے کر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فارسی مسلمان مکاتب کہاں ہے؟ مجھے بلایا گیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلمان لے لو اور اپنا قرض ادا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا قرض کہاں سے ادا کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ یہ تیرا قرض ادا کر دے۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں سلمان کی جان ہے، میں نے ان کو ٤٠ اوقیوں کا وزن کر کے دے دیا اور سلمان آزاد ہوگیا۔
شیخ فرماتے ہیں: پہلی روایت میں درختوں کی تعداد زیادہ اور آزادی کی شرط دی اور ان میں سے ایک درخت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں لگایا تھا اور تیری روایت میں درختوں کی تعداد کم اور ٤٠ اوقیوں کی زیادتی اور دوسری روایت میں درختوں کے پھل دینے کی شرط۔ یہ کفار سے معاہدہ آزادی کا معاہدہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی شرط لگانے کی اجازت دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21626]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21627
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، فِي قِصَّةِ إِسْلَامِهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِمَنْ أَنْتَ"؟ قُلْتُ: لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ جَعَلَتْنِي فِي حَائِطٍ لَهَا، قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ"، قَالَ: لَبَّيْكَ، قَالَ:" اشْتَرِهِ"، قَالَ: فَاشْتَرَانِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَعْتَقَنِي.. وَهَذَا يُخَالِفُ الرِّوَايَاتِ قَبْلَهُ، وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ عَتَاقُهُ لَمْ يَحْصُلْ بِأَنْ لَمْ يَعْلُقْ مِنَ الْفَسِيلَاتِ وَاحِدَةٌ حَتَّى أَعَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرْسَهَا فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِهَا ⦗٥٤٣⦘ فَاشْتَرَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَأَعْتَقَهُ، وَيُحْتَمَلُ غَيْرُهُ، وَاللهُ أَعْلمُ، وَفِي ثُبُوتِ بَعْضِ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ نَظَرٌ..
(٢١٦٢٧) زید بن صوحان حضرت سلمان کے اسلام کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تو کس کا غلام ہے؟ میں نے کہا: انصاری عورت کا جس نے اپنے باغ میں میری ڈیوٹی لگائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! عرض کیا: اللہ کے رسول حاضر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو خریدو۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے خرید کر آزاد کردیا۔
نوٹ: یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے، ممکن ہے ایک درخت کے پھل نہ دینے کی وجہ سے ان کو آزادی نہ ملی ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنے ہاتھ سے دوبارہ لگا دیا تو اس عرصہ کے درمیان ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو خریدا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21627]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4225. -- باب:: من كاتب عبده، أو أمته على عرض موصوف، أو على عرض ونقد.
-- باب: جس نے اپنے غلام یا لونڈی کو کسی متعین سامان، یا سامان اور نقد رقم کے عوض مکاتب بنایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21628
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ حَفْصَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتَبَتْ عَبْدًا لَهَا عَلَى رَقِيقٍ، قَالَ نَافِعٌ: فَأَدْرَكْتُ أَنَا ثَلَاثَةً مِنَ الَّذِينَ أَدَّوْا فِي مُكَاتَبَتِهِمْ..
(٢١٦٢٨) نافع فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی حضرت حفصہ نے اپنے غلام سے باریک کپڑے کے عوض مکاتبت کی۔ نافع کہتے ہیں: میں نے اس طرح کے لوگوں کو پایا کہ جنہوں نے اپنی مکاتبت کے اندر اس طرح کا سامان ادا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21628]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21629
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا بِالْكِتَابَةِ عَلَى الْوُصَفَاءِ..
(٢١٦٢٩) نافع ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اچھی خوبی بیان کرنے والوں کے ساتھ مکاتبت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21629]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں