السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4229. -- باب:: ما جاء في المكاتب يصيب حدا، أو ميراثا، أو يقتل.
-- باب: اس مکاتب کے بارے میں وارد شدہ احکام جو کسی حد کا مستحق ہو جائے، یا وراثت پائے، یا قتل کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 21659
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ:" إِذَا أَدَّى الْمُكَاتَبُ قِيمَةَ رَقَبَتِهِ فَهُوَ غَرِيمٌ".
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب مکاتب اپنی قیمت ادا کر دے تو وہ مقروض ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21659]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21660
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ:" إِذَا أَدَّى الْمُكَاتَبُ ثُلُثًا، أَوْ رُبُعًا فَهُوَ غَرِيمٌ".
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب مکاتب تیسرا یا چوتھا حصہ قیمت ادا کر دے، پھر بھی وہ مقروض ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21660]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
4230. -- باب:: الحديث الذي روي في الاحتجاب، عن المكاتب إذا كان عنده ما يؤدي.
-- باب: اس حدیث کا بیان جو اس مکاتب سے پردہ کرنے کے بارے میں مروی ہے جس کے پاس ادائیگی کے لیے مال موجود ہو۔
حدیث نمبر: 21661
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ، مُكَاتَبٍ لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ". ⦗٥٥٠⦘.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی ایک کے مکاتب کے پاس قیمت موجود ہو تو وہ اس سے پردہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21661]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21662
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
سفیان رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21662]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21663
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي نَبْهَانُ، مُكَاتَبُ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: إِنِّي لَأَقُودُ بِهَا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِالْأَبْوَاءِ قَالَتْ: مَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: أَنَا نَبْهَانُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ بَقِيَّةَ كِتَابَتَكِ لِابْنِ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، أَعَنْتُهُ بِهِ فِي نِكَاحِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللهِ، لَا أُؤَدِّيهِ إِلَيْهِ أَبَدًا، قَالَتْ: إِنْ كَانَ أَنَّ مَا بِكَ أَنْ تَدْخُلَ عَلَيَّ أَوْ تَرَانِي؟ فَوَاللهِ لَا تَرَانِي أَبَدًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا كَانَ عِنْدَ الْمُكَاتَبِ مَا يُؤَدِّي فَاحْتَجِبْنَ مِنْهُ". وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ: وَلَمْ أَحْفَظْ عَنْ سُفْيَانَ أَنَّ الزُّهْرِيَّ سَمِعَهُ مِنْ نَبْهَانَ وَلَمْ أَرَ مَنْ رَضِيتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُثْبِتُ وَاحِدًا مِنْ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ". يُرِيدُ حَدِيثَ نَبْهَانَ وَحَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَاتَبَ عَبْدَهُ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ فَهُوَ رَقِيقٌ". وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِنَّمَا رَوَى حَدِيثَ عَمْرٍو مُنْقَطِعًا، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ نَبْهَانَ قَدْ ذَكَرَ فِيهِ مَعْمَرٌ سَمَاعَ الزُّهْرِيِّ مِنْ نَبْهَانَ، إِلَّا أَنَّ الْبُخَارِيَّ وَمُسْلِمًا صَاحِبَيِ الصَّحِيحِ لَمْ يُخَرِّجَا حَدِيثَهُ فِي الصَّحِيحِ، وَكَأَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ عَدَالَتُهُ عِنْدَهُمَا، أَوْ لَمْ يَخْرُجْ مِنْ حَدِّ الْجَهَالَةِ بِرِوَايَةِ عَدْلٍ عَنْهُ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ الزُّهْرِيِّ عَنْهُ، إِنْ كَانَ مَحْفُوظًا، وَهُوَ فِيمَا رَوَاهُ قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ مُكَاتَبٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ يُقَالُ لَهُ نَبْهَانُ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ. هَكَذَا قَالَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ، وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ رَوَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كَانَ لِأُمِّ سَلَمَةَ مُكَاتَبٌ يُقَالُ لَهُ نَبْهَانُ. وَرَوَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ عَنْهُ، فَعَادَ الْحَدِيثُ إِلَى رِوَايَةِ الزُّهْرِيِّ. ⦗٥٥١⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ سَلَمَةَ إِنْ كَانَ أَمَرَهَا بِالْحِجَابِ مِنْ مُكَاتَبِهَا إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي عَلَى مَا عَظَّمَ اللهُ بِهِ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ رَحِمَهُنَّ اللهُ، وَخَصَّصَهُنَّ بِهِ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْنَ، ثُمَّ تَلَا الْآيَاتِ فِي اخْتِصَاصِهِنَّ بِأَنْ جَعَلَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَهُنَّ أُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَى امْرَأَةٍ سِوَاهُنَّ أَنْ تَحْتَجِبَ مِمَّنْ يَحْرُمُ عَلَيْهِ نِكَاحُهَا، وَكَانَ فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَ قَالَهُ:" إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ" - يَعْنِي: أَزْوَاجَهُ خَاصَّةً، ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَمَعَ هَذَا، إِنَّ احْتِجَابَ الْمَرْأَةِ مِمَّنْ لَهُ أَنْ يَرَاهَا وَاسِعٌ لَهَا، وَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي: سَوْدَةَ أَنْ تَحْتَجِبَ مِنْ رَجُلٍ قَضَى أَنَّهُ أَخُوهَا، وَذَلِكَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ لِلِاحْتِيَاطِ، وَأَنَّ الِاحْتِجَابَ مِمَّنْ لَهُ أَنْ يَرَاهَا مُبَاحٌ. وَقَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ سُرَيْجٍ فِي مَعْنَاهُ: هَذَا لِيُحَرِّكَهُ احْتِجَابُهُنَّ عَنْهُ عَلَى تَعْجِيلِ الْأَدَاءِ، وَالْمَصِيرِ إِلَى الْحُرِّيَةِ، وَلَا يَتْرُكُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ دُخُولِهِ عَلَيْهِنَّ..
زہری کہتے ہیں: ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام نبہان نے مجھے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں بیداء یا ابواء کے مقام پر ان کی سواری کو لے کر چل رہا تھا۔ کہنے لگیں: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میں نبہان ہوں۔ کہتی ہیں: میں نے تیری مکاتبت کا بقیہ حصہ اپنے بھتیجے محمد بن عبداللہ بن ابی امیہ کے لیے چھوڑ دیا ہے، میں نے اس کے نکاح میں اس سے اس کی مدد کی ہے۔ نبہان کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں اس کو کبھی ادا نہیں کروں گا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اگر تیرا یہ ارادہ ہے کہ تو مجھے دیکھے تو اللہ کی قسم! تو مجھے ہرگز دیکھ نہ سکے گا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ”جب مکاتب کے پاس ادا کرنے کی قیمت موجود ہو تو تم اس سے پردہ کرو۔“
(ب) عمرو بن شعیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام سے 100 اوقیہ پر مکاتبت کر لی، باقی صرف 10 اوقیہ بچے تو وہ غلام ہی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے اہل علم میں سے کسی ایسے شخص کو، جسے میں پسند کرتا ہوں، ان دونوں حدیثوں (نبہان کی حدیث اور عمرو بن شعیب کی حدیث) میں سے کسی ایک کو بھی ثابت قرار دیتے نہیں دیکھا۔ امام بخاری اور امام مسلم نے نبہان کی حدیث صحیح میں نقل نہیں کی، گویا ان دونوں کے نزدیک اس کی عدالت ثابت نہیں ہوئی، یا کسی عادل راوی کے اس سے روایت کرنے کے ذریعے وہ مجہول ہونے کی حد سے نہیں نکلا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21663]
(ب) عمرو بن شعیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام سے 100 اوقیہ پر مکاتبت کر لی، باقی صرف 10 اوقیہ بچے تو وہ غلام ہی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے اہل علم میں سے کسی ایسے شخص کو، جسے میں پسند کرتا ہوں، ان دونوں حدیثوں (نبہان کی حدیث اور عمرو بن شعیب کی حدیث) میں سے کسی ایک کو بھی ثابت قرار دیتے نہیں دیکھا۔ امام بخاری اور امام مسلم نے نبہان کی حدیث صحیح میں نقل نہیں کی، گویا ان دونوں کے نزدیک اس کی عدالت ثابت نہیں ہوئی، یا کسی عادل راوی کے اس سے روایت کرنے کے ذریعے وہ مجہول ہونے کی حد سے نہیں نکلا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21663]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21664
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ سَمْعَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَتْ نَبْهَانَ مُكَاتَبًا لَهَا، فَقَالَتِ: ادْفَعْ مَا بَقِيَ مِنْ كِتَابَتِكَ إِلَى ابْنِ أَخِي ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، فَإِنِّي قَدْ أَعَنْتُهُ بِهَا، ثُمَّ لَا تُكَلِّمُنِي إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، فَبَكَى نَبْهَانُ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا:" إِذَا كَاتَبَتْ إِحْدَاكُنَّ عَبْدَهَا فَلْيَرَهَا مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ كِتَابَتِهِ، فَإِذَا قَضَاهَا فَلَا تُكَلِّمْنَ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ". هَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرِوَايَةُ الثِّقَاتِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِخِلَافِهِ.
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبہان کو مکاتب بنا کر فروخت کر دیا اور کہنے لگیں: مکاتبت کی باقی رقم میرے بھتیجے ابن عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہما کو دے دینا، میں اس کی مدد کرنا چاہتی ہوں اور پھر آئندہ پردے کے پیچھے سے مجھ سے کلام رکھنا۔ نبہان رو پڑا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے غلام سے مکاتبت کر لے تو مکاتبت کی رقم کے ہوتے ہوئے وہ اس کو دیکھ سکتا ہے۔ جب رقم پوری ہو جائے تو پردے کے پیچھے سے کلام کیا جائے۔“
اسی طرح اسے عبداللہ بن زیاد بن سمعان نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، اور زہری سے ثقہ راویوں کی روایت اس کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21664]
اسی طرح اسے عبداللہ بن زیاد بن سمعان نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، اور زہری سے ثقہ راویوں کی روایت اس کے خلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21664]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4231. -- باب:: من لم يكره لأحد أن يأخذ من مكاتبه صدقات الناس فريضة ونافلة
-- باب: جس نے کسی شخص کے لیے اپنے مکاتب سے لوگوں کے فرض اور نفل صدقات وصول کرنے کو مکروہ نہیں سمجھا۔
حدیث نمبر: Q21665
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، وَأَكَلَ مِنْ صَدَقَةٍ تُصُدِّقَ بِهَا عَلَى بَرِيرَةَ وَقَالَ:" هِيَ لَنَا هَدِيَّةٌ، وَعَلَيْهَا صَدَقَةٌ"..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے تھے، (لیکن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صدقے میں سے کھایا جو سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا تھا، اور فرمایا: ”یہ ہمارے لیے ہدیہ ہے اور اس (بریرہ) پر صدقہ ہے۔“...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: Q21665]
حدیث نمبر: 21665
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ: خُيِّرَتْ عَلَى زَوْجِهَا حِينَ أُعْتِقَتْ، وَأُهْدِيَ لَهَا لَحْمٌ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْبُرْمَةُ عَلَى ⦗٥٥٢⦘ النَّارِ، فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأُتِيَ بِخُبْزٍ وَأَدَمٍ مِنْ أَدَمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً عَلَى النَّارِ فِيهَا لَحْمٌ؟"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُطْعِمَكَ مِنْهُ، فَقَالَ:" هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ مِنْهَا لَنَا هَدِيَّةٌ". وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا:" إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
قاسم بن محمد، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ بریرہ (رضی اللہ عنہا) کے بارے میں تین طریقے (سنتیں) ثابت ہوئیں:
1. آزادی کے بعد انہیں ان کے خاوند کے بارے میں اختیار دیا گیا، 2. انہیں گوشت تحفے میں دیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہنڈیا آگ پر چڑھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا تو روٹی اور گھر کا (عام) سالن پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے چولہے پر رکھی ہوئی ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھا؟“ عرض کیا گیا: یہ بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے، تو ہم نے ناپسند کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ» ”وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ اور (3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» ”ولاء (وراثت کا حق) آزاد کرنے والے کے لیے ہی ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21665]
1. آزادی کے بعد انہیں ان کے خاوند کے بارے میں اختیار دیا گیا، 2. انہیں گوشت تحفے میں دیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہنڈیا آگ پر چڑھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا تو روٹی اور گھر کا (عام) سالن پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے چولہے پر رکھی ہوئی ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھا؟“ عرض کیا گیا: یہ بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے، تو ہم نے ناپسند کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ» ”وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ اور (3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» ”ولاء (وراثت کا حق) آزاد کرنے والے کے لیے ہی ہوتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21665]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: ضعيف
4232. -- باب:: من كره أخذها فأبرأه من مال الكتابة بقدرها.
-- باب: جس نے اسے (صدقات کو) وصول کرنا مکروہ سمجھا، چنانچہ اس نے اسے اسی قدر مالِ کتابت سے بری کر دیا۔
حدیث نمبر: 21666
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ: كَاتَبَ ابْنُ عُمَرَ غُلَامًا لَهُ، فَجَاءَ بِنَجْمِهِ حِينَ حَلَّ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ هَذَا؟"، قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ وَأَعْمَلُ، فَقَالَ:" تُرِيدُ أَنْ تُطْعِمَنِي أَوْسَاخَ النَّاسِ؟ أَنْتَ حُرٌّ، وَلَكَ نَجْمُكَ".
میمون بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے مکاتبت کی۔ وہ جس وقت آیا تو کچھ لے کر آیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: یہ کہاں سے؟ کہنے لگا: میں لوگوں سے مانگتا اور کام کرتا رہا ہوں تو کہنے لگے: تو لوگوں کی میل کچیل مجھے کھلائے گا۔ جا تو آزاد ہے اور یہ حصہ بھی تیرے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21666]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21667
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ح ⦗٥٥٣⦘ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ السَّائِبٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ. وَفِي رِوَايَةِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِي آتَاكُمْ} [النور: ٣٣] قَالَ:" رُبْعُ الْمُكَاتَبَةِ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ قَالَ:" يَتْرُكُ لِلْمُكَاتَبِ الرُّبُعَ". زَادَ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَأَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَرَفَعَهُ لِي.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ﴿وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ﴾ [سورة النور: 33] نقل فرماتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مکاتبت کا چوتھا حصہ۔“ ابو عبداللہ کی روایت میں ہے کہ ”وہ مکاتب کو چوتھا حصہ چھوڑ دے۔“
حجاج بن محمد نے یہ اضافہ کیا کہ ابن جریج نے کہا: مجھے کئی ایسے لوگوں نے بتایا جنہوں نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے سنی تھی کہ انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان نہیں کیا۔ ابن جریج کہتے ہیں: اور مجھ سے انہوں نے اسے مرفوع بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21667]
حجاج بن محمد نے یہ اضافہ کیا کہ ابن جریج نے کہا: مجھے کئی ایسے لوگوں نے بتایا جنہوں نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے سنی تھی کہ انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان نہیں کیا۔ ابن جریج کہتے ہیں: اور مجھ سے انہوں نے اسے مرفوع بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21667]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف