🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
16. محمد بن سيرين عن الحسن بن علي رضي الله عنه
محمد بن سیرین کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2732
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ جِنَازَةً مَرَّتْ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَامَ أَحَدُهُمَا، وَقَعَدَ الْآخَرُ، فَقَالَ الْقَائِمُ لِلْقَاعِدِ: «أَلَيْسَ قَدْ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» قَالَ: «بَلَى، ثُمَّ قَعَدَ»
محمد بن سیرین کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو ان میں سے ایک کھڑے ہو گئے اور دوسرے بیٹھے رہے، تو کھڑے ہونے والے نے بیٹھنے والے سے کہا: ”کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نہیں ہوتے تھے؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں، پھر بیٹھ گئے تھے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2732]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 87، حدیث 2745»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2733
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَيَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيِّ، وَأَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَابْنَ عَبَّاسٍ مَرَّتْ عَلَيْهِمَا جِنَازَةٌ، فَقَامَ الْحَسَنُ، وَجَلَسَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: «أَلَمْ تَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ؟» قَالَ: «بَلَى، وَقَدْ جَلَسَ»
محمد بن سیرین کہتے ہیں: مجھے بتایا گیا کہ سیدنا حسن بن علی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو سیدنا حسن کھڑے ہو گئے اور سیدنا ابن عباس بیٹھ گئے، تو سیدنا حسن نے سیدنا ابن عباس سے کہا: ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہوئے؟“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں، اور پھر بیٹھ گئے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2733]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 87، حدیث 2746»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2734
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الرَّجَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ الْمُقَوِّمُ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا أَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا جَالِسَيْنِ، فَمَرَّتْ بِهِمَا جِنَازَةٌ، فَقَامَ الْحَسَنُ، وَقَعَدَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَامَ وَجَلَسَ؟»
محمد بن سیرین کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو سیدنا حسن کھڑے ہو گئے اور سیدنا ابن عباس بیٹھے رہے، تو فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کھڑے ہوتے اور کبھی بیٹھے رہتے تھے؟“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2734]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 87، حدیث 2747»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2735
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَوْ نَظَرْتُمْ مَا بَيْنَ جَابَرْسَ إِلَى جَابَلْقَ مَا وَجَدْتُمْ رَجُلًا جَدُّهُ نَبِيٌّ غَيْرِي وَأَخِي، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْتَمِعُوا عَلَى مُعَاوِيَةَ، {وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ} [الأنبياء: ١١١] ". قَالَ مَعْمَرٌ:" جَابَرْسُ وَجَابَلْقُ: الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ"
ابن سیرین کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم جابرس سے جابلق تک دیکھو تو مجھے اور میرے بھائی کے سوا کوئی ایسا شخص نہ پاؤ گے جس کا نانا نبی ہو، اور میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ تم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر متفق ہو جاؤ، ”اور میں نہیں جانتا، شاید یہ تمہارے لیے ایک آزمائش ہو اور ایک مدت تک کے لیے فائدہ اٹھانا ہو“ [سورۃ الانبیاء: 111] ۔“ معمر کہتے ہیں: ”جابرس اور جابلق سے مراد مشرق اور مغرب ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2735]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 87، حدیث 2748»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. أبو ليلى عن الحسن بن علي رضي الله عنه
ابولیلیٰ کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2736
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَنَسُ انْطَلِقْ فَادْعُ لِي سَيِّدَ الْعَرَبِ» - يَعْنِي عَلِيًّا - فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَلَسْتَ سَيِّدَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَعَلِيٌّ سَيِّدُ الْعَرَبِ» . فَلَمَّا جَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَأَتَوْهُ، فَقَالَ لَهُمْ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: «هَذَا عَلِيٌّ فَأَحِبُّوهُ بِحُبِّي، وَكَرِّمُوهُ لِكَرَامَتي، فَإِنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِالَّذِي قُلْتُ لَكُمْ عَنِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! جاؤ اور عرب کے سردار کو میرے پاس بلا لاؤ“ - یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ - تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیا آپ عرب کے سردار نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اولادِ آدم کا سردار ہوں، اور علی عرب کا سردار ہے۔“ تو جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی طرف پیغام بھیجا، تو وہ آپ کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے گروہ انصار! کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے تھامے رکھو تو اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ علی ہے، تو اس سے میری محبت کی خاطر محبت کرو، اور میری عزت کی خاطر اس کی عزت کرو، کیونکہ جبریل علیہ السلام نے مجھے اللہ عزوجل کی طرف سے یہی حکم دیا ہے جو میں نے تم سے کہا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2736]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 88، حدیث 2749»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. عمير بن مأمون عن الحسن بن علي رضي الله عنه
عمیر بن مامون کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2737
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ مَأْمُونٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَدْمَنَ الِاخْتِلَافَ إِلَى الْمَسْجِدِ أَصَابَ أَخًا مُسْتَفَادًا فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعِلْمًا مُسْتَطْرَفًا، وَكَلِمَةً تَدَعُوهُ إِلَى الْهُدَى، وَكَلِمَةً تَصْرِفُهُ عَنِ الرَّدَى، وَيَتْرُكُ الذُّنُوبَ حَيَاءً أَوْ خَشْيَةً، وَنِعْمَةً أَوْ رَحْمَةً مُنْتَظَرَةً»
عمیر بن مامون کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں نے اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص باقاعدگی سے مسجد آتا جاتا رہے، وہ اللہ عزوجل کی خاطر ایک فائدہ مند بھائی پاتا ہے، اور تازہ علم، اور ایک ایسا کلمہ جو اسے ہدایت کی طرف بلائے، اور ایک ایسا کلمہ جو اسے ہلاکت سے روک دے، اور وہ شرم یا خوف کے باعث گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے، اور ایک نعمت یا متوقع رحمت پاتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2737]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 88، حدیث 2750»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2738
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ مَأْمُونٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُحْفَةُ الصَّائِمِ الدُّهْنُ وَالْمُجْمَرُ»
عمیر بن مامون کہتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کا تحفہ تیل اور خوشبودار دھونی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2738]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 88، حدیث 2751»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. حبيب بن أبي ثابت عن الحسن بن علي رضي الله عنه
حبیب بن ابی ثابت کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2739
حَدَّثَنَا عَلَّانُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ مَا غَمَّهُ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: «كُلًّا قَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، وَقَدْ أَهَلَّ وَهُوَ بِالْبَيْدَاءِ بِالْأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَسْتَوِيَ بِهِ رَاحِلَتُهُ»
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”دونوں طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت احرام باندھا جب آپ کی سواری سیدھی کھڑی ہو گئی، اور آپ نے اس وقت بھی احرام باندھا جب آپ بیداء کے مقام پر زمین پر تھے، اس سے پہلے کہ سواری سیدھی کھڑی ہوتی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2739]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 89، حدیث 2752»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. أم أنيس بنت الحسن بن علي عن أبيها
ام انیس بنت حسن بن علی کی اپنے والد سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2740
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الطَّحَّانُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَطَّافٍ، عَنْ أُمِّ أُنَيْسٍ بِنْتِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ} [الأحزاب: ٥٦] ؟ قَالَ:" إِنَّ هَذَا لَمِنْ مَكْتُومٍ، وَلَوْلَا أَنَّكُمْ سَأَلْتُمُونِي عَنْهُ مَا أَخْبَرْتُكُمْ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَّلَ بِي مَلَكَيْنِ، لَا أُذْكَرُ عِنْدَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ فَيُصَلِّي عَلَيَّ إِلَّا قَالَ ذَانِكَ الْمَلَكانِ: غَفَرَ اللهُ لَكَ، وَقَالَ اللهُ وَمَلَائِكَتُهُ جَوَابًا لَذَيْنِكَ الْمَلَكَيْنِ: آمِينَ، وَلَا يُصَلِّي عَلَيَّ أَحَدُ إِلَّا قَالَ ذَانِكَ الْمَلَكَانِ: غَفَرَ اللهُ لَكَ، وَقَالَ اللهُ وَمَلَائِكَتُهُ جَوَابًا لَذَيْنِكَ الْمَلَكَيْنِ: آمِينَ"
سیدہ ام انیس بنت الحسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتی ہیں، فرماتے ہیں: صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہمیں اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں بتائیں: ”بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں“ [سورۃ الاحزاب: 56] ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک پوشیدہ بات ہے، اگر تم مجھ سے اس کے بارے میں نہ پوچھتے تو میں تمہیں نہ بتاتا، اللہ عزوجل نے میرے ساتھ دو فرشتے مقرر کیے ہیں، جس مسلمان بندے کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود بھیجے تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: اللہ تمہیں بخش دے، اور اللہ اور اس کے فرشتے ان دونوں فرشتوں کے جواب میں کہتے ہیں: آمین، اور کوئی مجھ پر درود نہیں بھیجتا مگر وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: اللہ تمہیں بخش دے، اور اللہ اور اس کے فرشتے ان دونوں فرشتوں کے جواب میں کہتے ہیں: آمین۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2740]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 89، حدیث 2753»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. يوسف بن مازن الراسبي عن الحسن بن علي رضي الله تعالى عنه
یوسف بن مازن راسبی کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2741
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ، قَالَا: ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ الرَّاسِبِيِّ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: سَوَّدْتَ وُجُوهَ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ:" لَا تُؤَنِّبْنِي رَحِمَكَ اللهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُرِيَ بَنِي أُمَيَّةَ يَخْطُبُونَ عَلَى مِنْبَرِهِ رَجُلًا فَرَجُلًا، فَسَاءَهُ ذَلِكَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ} [الكوثر: ١] نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، وَنَزَلَتْ: {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ، لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ} [القدر: ٢] ، تَمْلِكُهُ بَنُو أُمَيَّةَ". قَالَ الْقَاسِمُ: «فَحَسَبْنَا ذَلِكَ، فَإِذَا هُوَ أَلْفٌ لَا يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ»
یوسف بن مازن راسبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک شخص سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا ہوا اور کہا: تم نے مومنوں کے چہرے سیاہ کر دیے۔ تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے ملامت نہ کرو، اللہ تم پر رحم کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا کہ بنو امیہ ایک ایک کر کے آپ کے منبر پر خطبہ دے رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بری لگی، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”بے شک ہم نے تمہیں کوثر عطا کیا“ [سورۃ الکوثر: 1] ، یعنی جنت کی ایک نہر، اور یہ آیت نازل ہوئی: ”بے شک ہم نے اسے شبِ قدر میں نازل کیا، اور تمہیں کیا معلوم شبِ قدر کیا ہے، شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے“ [سورۃ القدر: 1-3] ، بنو امیہ اس (مدت) کے مالک ہوں گے۔“ قاسم کہتے ہیں: ”تو ہم نے اس کا حساب لگایا تو وہ ہزار (مہینے) نکلے، نہ زیادہ نہ کم۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2741]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 89، حدیث 2754»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں