🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4. باب (أحاديث 16156–16221)
باب (احادیث 16156 تا 16221)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16187
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَالِسِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَصْلِيَّةً بِخَيْبَرَ، فَقَالَ لَهَا: «مَا هَذِهِ؟» ، قَالَتْ: هَدِيَّةٌ، وَحَذِرَتْ أَنْ تَقُولَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَكَلَ وَأَكَلَ أَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: «أَمْسِكُوا» ، ثُمَّ قَالَ لِلْمَرْأَةِ: «هَلْ سَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ؟» ، قَالَتْ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟، قَالَ: «هَذَاِ الْعَظْمُ» لِسَاقِهَا أَوْ هُوَ فِي يَدَهِ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «لِمَ؟» ، قَالَتْ: قُلْتُ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ يَسْتَرِيحَ النَّاسُ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ، فَاحْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْكَاهِلِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَاحْتَجِمُوا، فَمَاتَ بَعْضُهُمْ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: «وَأَسْلَمَتِ الْمَرْأَةُ، فَذَكَرُوا أَنَّهُ قَتَلَهَا»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر میں ایک یہودی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بھنی ہوئی بکری ہدیہ کے طور پر پیش کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: یہ ہدیہ ہے - اور وہ ڈر گئی کہ صدقہ نہ کہہ دے - تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے بھی کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”رک جاؤ۔“ پھر اس عورت سے فرمایا: ”کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے؟“ اس نے کہا: آپ کو کس نے بتایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ہڈی نے“ - اس کی پنڈلی کی ہڈی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، یا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی - اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیوں؟“ اس نے کہا: میں نے سوچا کہ اگر تم جھوٹے نبی ہو تو لوگ تم سے آرام پا جائیں گے، اور اگر تم سچے نبی ہو تو یہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاہل (کندھے کے پاس) پچھنے لگوائے، اور اپنے ساتھیوں کو بھی پچھنے لگوانے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے پچھنے لگوائے، مگر ان میں سے کچھ لوگ فوت ہو گئے۔ زہری کہتے ہیں: ”اس عورت نے اسلام قبول کر لیا، پھر لوگوں نے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16187]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 70، حدیث 137»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16188
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَالِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ، وَعَرَضَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِسْلَامَ، فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ملاعب الاسنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہدیہ لے کر آیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے اسلام پیش کیا، مگر اس نے اسلام لانے سے انکار کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16188]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 70، حدیث 138»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16189
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ»
قَالَ: فَابْعَثْ إِلَى أَهْلِ نَجْدٍ مَنْ شِئْتَ، فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِقَوْمٍ فِيهِمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يُقَالُ لَهُ: الْمُعْنِقُ، أَعْنَقَ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ بَنِي عَامِرٍ، فَأَبَوْا أَنْ يُطِيعُوهُ، وَأَبَوْا أَنْ يَخْفِرُوا مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ، فَاسْتَجَاشَ عَلَيْهِمْ بَنِي سُلَيْمٍ فَأَطَاعُوهُ فَاتَّبَعَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ، فَأَدْرَكُوهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ، فَقَتَلُوهُمْ إِلَّا عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ملاعب الاسنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہدیہ لے کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے اسلام پیش کیا، مگر اس نے اسلام لانے سے انکار کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔“
اس نے کہا: آپ نجد کے لوگوں کی طرف جسے چاہیں بھیج دیں، میں ان کا ذمہ دار ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف کچھ لوگوں کو بھیجا جن میں منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی تھے، جنہیں ”المُعْنِق“ (تیز چلنے والا) کہا جاتا تھا کیونکہ وہ موت کے وقت تیزی سے آگے بڑھے تھے۔ تو عامر بن طفیل نے ان کے خلاف بنی عامر سے مدد مانگی، مگر انہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور ملاعب الاسنہ کی دی ہوئی پناہ توڑنے سے بھی انکار کر دیا۔ تو اس نے ان کے خلاف بنی سلیم سے مدد مانگی، تو انہوں نے اس کی بات مان لی، چنانچہ وہ تقریباً سو تیر انداز آدمیوں کے ساتھ ان کے پیچھے چلا، اور انہیں بئرِ معونہ پر جا لیا، اور عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے سوا سب کو قتل کر دیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16189]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 71، حدیث 139»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16190
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَغَيْرِهِ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جَعْفَرٍ، الَّذِي يُدْعَى مُلَاعِبَ الْأَسِنَّةِ، قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْرِكٌ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِسْلَامَ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ»
فَقَالَ عَامِرُ بْنُ مَالِكٍ: ابْعَثْ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ شِئْتَ مِنْ رُسُلِكَ فَأَنَا لَهُمْ جَارٌ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا فِيهِمْ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو السَّاعِدِيُّ، يُقَالُ لَهُ: أَعْنَقَ لِيَمُوتَ عَيْنًا فِي أَهْلِ نَجْدٍ، فَسَمِعَ بِهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَاسْتَنْفَرَ لَهُمْ بَنِي سُلَيْمٍ فَنَفَرُوا مَعَهُ فَقَتَلُوهُمْ بِبِئْرِ مَعُونَةَ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، أَخَذَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَأَرْسَلَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِهِمْ، وَكَانَ فِيهِمْ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، فَزَعَمَ لِي عُرْوَةُ أَنَّهُ قُتِلَ يَوْمَئِذٍ فَلَمْ يُوجَدْ جَسَدُهُ حِينَ دَفَنُوهُ، يَقُولُ عُرْوَةُ: «وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ هِيَ دَفَنَتْهُ» ، فَقَالَ حَسَّانٌ: يُحَرِّضُ عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ:
[البحر الوافر]
بَنِي أُمِّ الْبَنِينَ أَلَمْ يَرُعْكُمْ... وَأَنْتُمْ مِنْ ذَوَائِبِ أَهْلِ نَجْدِ
تَهَكُّمِ عَامِرٍ بِأَبِي بَرَاءٍ... لِيَخْفِرُهُ وَمَا خَطَأٌ كَعَمْدِ
فَطَعَنَ رَبِيعَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ فِي خَفْرَتِهِ عَامِرَ بْنَ مَالِكٍ فِي فَخِذِهِ طَعْنَةً فَقَدَّهُ? «وَلَمْ يَقُلْ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ»
عبدالرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ وغیرہ سے روایت ہے کہ عامر بن مالک بن جعفر، جسے ملاعب الاسنہ کہا جاتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ وہ مشرک تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے اسلام پیش کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔“
تو عامر بن مالک نے کہا: یا رسول اللہ! اپنے قاصدوں میں سے جسے چاہیں بھیج دیں، میں ان کا ذمہ دار ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت بھیجی جن میں منذر بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ بھی تھے، جن کے بارے میں کہا جاتا تھا: ”وہ موت کی طرف تیزی سے بڑھے“، انہیں اہلِ نجد میں خبر لانے والا بنا کر بھیجا گیا تھا۔ تو عامر بن طفیل کو ان کی خبر ملی، اس نے ان کے خلاف بنی سلیم سے مدد طلب کی، وہ اس کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے اور عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کے سوا سب کو بئرِ معونہ پر قتل کر دیا۔ عامر بن طفیل نے انہیں پکڑ کر بعد میں چھوڑ دیا۔ جب وہ ان سب میں سے واحد بچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے - اور ان میں عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، مجھے عروہ نے بتایا کہ وہ اسی دن قتل ہوئے تھے مگر جب انہیں دفن کرنے کے لیے تلاش کیا تو ان کی لاش نہ ملی، عروہ کہتے ہیں: لوگوں کا خیال تھا کہ فرشتوں نے ہی انہیں دفن کر دیا تھا - تو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے عامر بن طفیل کے خلاف ابھارتے ہوئے یہ اشعار کہے:
[بحرِ وافر میں]
”اے ام البنین کے بیٹو! کیا تمہیں یہ بات ہلا نہیں دیتی، جبکہ تم اہلِ نجد کے سرداروں میں سے ہو؟ عامر کا ابوبراء کی دی ہوئی پناہ کو حقیر جاننا، تاکہ اس کا عہد توڑے - یہ خطا نہیں بلکہ جان بوجھ کر کی گئی بات تھی۔“
چنانچہ ربیعہ بن عامر بن مالک نے عامر بن طفیل کو، اس کے عامر بن مالک کی پناہ توڑنے کے بدلے، اس کی ران میں ایسا نیزہ مارا کہ اسے چیر ڈالا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یونس نے اپنی روایت میں والد کے واسطے کا ذکر نہیں کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16190]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 71، حدیث 140»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16191
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّ أَمَرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ فِيهِ بِالْحَمْدِ أَقْطَعُ أَوْ أَجْزَمُ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اہم کام جس کا آغاز اللہ کی حمد سے نہ کیا جائے وہ ادھورا (بےبرکت) ہے“ یا فرمایا: ”کٹا ہوا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16191]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 72، حدیث 141»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16192
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ وَيَكْسُونِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ حُلَّةً حَمْرَاءَ، ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فَأَقُولُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ أَقُولَ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا، تو میں اور میری امت ایک ٹیلے پر ہوں گے، اور میرا رب عزوجل مجھے ایک سرخ جوڑا پہنائے گا، پھر مجھے (شفاعت کی) اجازت دی جائے گی، تو میں وہ بات کہوں گا جو اللہ چاہے گا کہ میں کہوں، اور یہی مقامِ محمود ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16192]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 72، حدیث 142»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16193
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى، ثنا يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي نَزَلَتُ فِي مَحِلَّةِ بَنِي فُلَانٍ، وَإِنَّ أَشَدَّهُمْ لِي أَذًى أَقْدَمُهُمْ لِي جِوَارًا، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيًّا يَأْتُونَ الْمَسْجِدَ فَيَقُومُونَ عَلَى بَابِهِ فَيَصِيحُونَ: أَلَا إِنَّ أَرْبَعِينَ دَارًا جَارٌ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ خَافَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ"
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فلاں قبیلے کے محلے میں رہائش پذیر ہوا ہوں، اور جو مجھے سب سے زیادہ تکلیف دیتا ہے وہی مجھ سے پرانا پڑوسی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر، عمر اور علی رضی اللہ عنہم کو بھیجا کہ وہ مسجد آئیں اور اس کے دروازے پر کھڑے ہو کر پکاریں: ”سن لو! چالیس گھر تک پڑوسی ہوتے ہیں، اور وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی برائیوں سے خوفزدہ رہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16193]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 73، حدیث 143»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16194
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ،: «أَنَّهُ كَانَ لَهُ غَنَمٌ تَرْعَى بِسَلْعٍ فَتَرَدَّتْ شَاةٌ مِنْهَا فَنَزَلَتِ الْأَمَّةَ فَذَبَحْتُهَا، فَسَأَلَ كَعْبٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرَ بِهَا بَأْسًا»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی کچھ بکریاں سَلع پہاڑ پر چرا کرتی تھیں، تو ان میں سے ایک بکری گر پڑی، تو ایک باندی نے اتر کر اسے ذبح کر دیا، تو کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16194]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 73، حدیث 144»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16195
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّفْرَ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ لِيَقْتُلُوهُ عَنْ قَتَلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو، جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی الحقیق کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16195]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 74، حدیث 145»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16196
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» نَهَى الَّذِينَ قَتَلُوا ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ حِينَ خَرَجُوا إِلَيْهِ عَنْ قَتَلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ"
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو، جو ابن ابی الحقیق کی طرف اسے قتل کرنے کے لیے نکلے، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16196]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 74، حدیث 146»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں