🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4. باب (أحاديث 16156–16221)
باب (احادیث 16156 تا 16221)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16207
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَكَاةِ الْجَنِينِ، قَالَ: «ذَكَاتُهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ کے بچے (جنین) کے ذبح کے بارے میں فرمایا: ”اس کا ذبح، اس کی ماں کے ذبح میں شامل ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16207]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 78، حدیث 157»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16208
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: إِنَّ آخِرَ خُطْبَةٍ خَطَبْنَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ» إِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ تَزِيدُونَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ قَدِ انْتَهَوْا، وَإِنَّهُمْ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا، فَأَكْرِمُوا مُحْسِنَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ"
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آخری خطبہ جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مہاجرین کی جماعت! تم تو تعداد میں بڑھتے جا رہے ہو، اور انصار اپنی زیادہ سے زیادہ حد کو پہنچ چکے ہیں، اور وہ میرا وہ راز دار طبقہ ہیں جس کی طرف میں نے پناہ لی، لہٰذا ان کے نیکوکار کی عزت کرو اور ان کے خطاکار سے درگزر کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16208]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 79، حدیث 158»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16209
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خَطِيبًا: فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ أُحِدٍ، وَقَالَ: «إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ تَزِيدُونَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ لَا يَزِيدُونَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي آوِي إِلَيْهَا، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے - جو ان تین لوگوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی - روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور احد کے دن شہید ہونے والوں کے لیے استغفار کیا، پھر فرمایا: ”اے مہاجرین کی جماعت! تم تو بڑھتے جا رہے ہو، جبکہ انصار نہیں بڑھتے، اور انصار میرا وہ راز دار طبقہ ہیں جس کی طرف میں پناہ لیتا ہوں، لہٰذا ان کے نیک لوگوں کی عزت کرو اور ان کے خطاکار سے درگزر کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16209]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 79، حدیث 159»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16210
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مَرْزُوقُ بْنُ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ طَلَبِ الْأَحْزَابِ نَزَعَ لِأُمَّتِهِ وَاغْتَسَلَ وَاسْتَجْمَرَ
زَادَ دُحَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتَبَدَّا لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: عَذِيرَكَ مِنْ مُحَارِبٍ، أَلَا أَرَاكَ قَدْ وَضَعَتَ اللَّأْمَةَ وَمَا وَضَعْنَاهَا بَعْدُ"، فَوَثَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا، فَعَزَمَ عَلَى النَّاسِ أَلَا يُصَلُّوا الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ، فَلَبِسَ السِّلَاحَ، وَخَرَجُوا فَلَمْ يَأْتُوا بَنِي قُرَيْظَةَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَاخْتَصَمَ النَّاسُ فِي غَزْوَتِهَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَدْ عَزَمَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُصَلِّيَ الْعَصْرَ حَتَّى نَأْتِيَ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَإِنَّمَا نَحْنُ فِي عَزْمَةٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ عَلَيْنَا إِثْمٌ، فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمُ الْعَصْرَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى لَمْ تُصَلِّ حَتَّى أَتَوْا بَنِي قُرَيْظَةَ بَعْدَمَا غَابَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّوْهَا إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، فَلَمْ يُعَنِّفْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب احزاب کا تعاقب کر کے واپس لوٹے تو ہتھیار اتار کر غسل کیا اور خوشبو لگائی۔
دُحیم نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جبرائیل علیہ السلام میرے سامنے آئے اور کہا: محارب (دشمن) کے معاملے میں آپ کا عذر کون قبول کرے گا! کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ آپ نے ہتھیار اتار دیے جبکہ ہم نے ابھی تک نہیں اتارے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے، اور لوگوں کو سختی سے حکم دیا کہ عصر کی نماز بنی قریظہ کے علاقے میں پہنچ کر ہی پڑھیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار پہن لیا، اور لوگ نکل پڑے، مگر وہ بنی قریظہ نہ پہنچ سکے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، تو لوگوں کا اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ عصر کی نماز راستے میں پڑھیں یا نہیں، بعض نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے حکم دیا تھا کہ ہم بنی قریظہ پہنچنے تک عصر نہ پڑھیں، اور ہم تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کر رہے ہیں، لہٰذا ہم پر کوئی گناہ نہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک گروہ نے ایمان اور ثواب کی نیت سے راستے میں عصر پڑھ لی، اور دوسرے گروہ نے سورج غروب ہونے کے بعد بنی قریظہ پہنچ کر ہی، ایمان اور ثواب کی نیت سے، عصر پڑھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں گروہوں میں سے کسی پر بھی سختی نہیں کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16210]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 79، حدیث 160»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16211
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، وَسَمِعَهُ يَقْرَأُ: «لَقَدْ أُوتِيَ أَخُوكُمْ مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ» . «وَلَمْ يَقُلْ يُونُسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِيهِ» ة
عبدالرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تلاوت کرتے سنا، فرمایا: ”تمہارے اس بھائی کو داؤد علیہ السلام کے خاندان کی خوش الحانی میں سے ایک حصہ دیا گیا ہے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یونس نے اس حدیث میں سند میں ”عن ابیہ“ نہیں کہا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16211]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 80، حدیث 161»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبٍ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ مَالِكٍ الَّذِي كَانَ يُقَالُ لَهُ: مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكٍ فَعَرَضَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِسْلَامَ فَأَبَى، وَأَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا لَا نَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ» ، ثُمِّ قَالَ: ابْعَثْ مَنْ شِئْتَ إِلَى أَهْلِ نَجْدٍ، فَإِنِّي لَهُمْ جَارٌ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا فِيهِمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يُقَالُ لَهُ: أَعْنَقَ لِيَمُوتَ. فَسَمِعَ بِهِمْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عامر بن مالک، جنہیں ملاعب الاسنہ کہا جاتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تبوک میں آئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے اسلام پیش کیا، مگر اس نے انکار کر دیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ پیش کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتے۔“ پھر اس (عامر) نے کہا: آپ جسے چاہیں اہلِ نجد کی طرف بھیج دیں، میں ان کا ذمہ دار (پناہ دہندہ) ہوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت بھیجی جن میں منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی تھے، جنہیں ”اَعْنَق لِیموت“ کہا جاتا تھا۔ تو عامر بن طفیل کو ان کی خبر ملی - پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16212]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 81، حدیث 162»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16213
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيُّ الْمَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ سَيِّدُكُمْ يَا بَنِي سَلِمَةَ؟» ، قَالُوا: الْجَدُّ بْنُ قَيْسٍ، عَلَى أَنَّا نَزِنُهُ بِبُخْلٍ، فَقَالَ: «وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ؟» ، قَالُوا: فَمَنْ سَيِّدُنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی سلمہ! تمہارا سردار کون ہے؟“ انہوں نے کہا: جد بن قیس، اگرچہ ہم اسے بخل کا الزام دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہو سکتی ہے؟“ انہوں نے کہا: تو ہمارا سردار کون ہے، یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بشر بن براء بن معرور۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16213]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 81، حدیث 163»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16214
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ سَيِّدُكُمْ يَا بَنِي سَلَمَةَ؟» ، قَالُوا: سَيِّدُنَا الْجَدُّ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِمَ تُسَوِّدُونَهُ؟» ، قَالُوا: فَإِنَّهُ أَكْثَرُ مِنَّا مَالًا، وَإِنَّا لَنَزِنُهُ بِالْبُخْلِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ، لَيْسَ ذَلِكَ سَيِّدُكُمْ» ، قَالُوا: فَمَنْ سَيِّدُنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «سَيِّدُكُمْ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ»
عبدالرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی سلمہ! تمہارا سردار کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ہمارا سردار جد بن قیس ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے کیوں سردار بناتے ہو؟“ انہوں نے کہا: کیونکہ وہ ہم میں سب سے زیادہ مالدار ہے، اور ہم اسے بخل کا الزام بھی دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہو سکتی ہے؟ یہ تمہارا سردار نہیں۔“ انہوں نے کہا: تو ہمارا سردار کون ہے، یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا سردار بشر بن براء بن معرور ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16214]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 81، حدیث 164»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16215
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: «مُؤْمِنٌ بَيْنَ كَرِيمَيْنَ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے افضل شخص کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مومن جو دو عزت دار نیک لوگوں کے درمیان ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16215]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 82، حدیث 165»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16216
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ غَرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خَبٌّ لَئِيمٌ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن سیدھا سادہ اور عزت دار ہوتا ہے، جبکہ فاجر دھوکے باز اور کمینہ ہوتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16216]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 82، حدیث 166»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں