🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4. باب (أحاديث 16156–16221)
باب (احادیث 16156 تا 16221)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16217
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ رَأَى مَقْتَلَ حَمْزَةَ؟» ، قَالَ رَجُلٌ: أَعَزَّكَ اللهُ، أَنَا رَأَيْتُ مَقْتَلَهُ، فَانْطَلَقَ فَوَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ فَرَآهُ قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مُثِّلَ بِهِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ، وَوَقَفَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْقَتْلَى، وَقَالَ: «أَنَا لِشَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ لِفُّوهُمْ فِي دِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مَجْرُوحٌ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا جَاءَ جُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ، قَدِمُوا أَكْثَرَ الْقَوْمِ قُرْآنًا فَاجْعَلُوهُ فِي اللَّحْدِ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس نے حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا منظر دیکھا؟“ ایک شخص نے کہا: اللہ آپ کو عزت دے، میں نے ان کے قتل کا منظر دیکھا ہے۔ تو وہ چلا اور حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس جا کھڑا ہوا، تو دیکھا کہ ان کا پیٹ چاک کر دیا گیا ہے اور ان کی لاش کا مثلہ کیا گیا ہے، تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! ان کا مثلہ کیا گیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھنا ناپسند فرمایا، اور شہداء کے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا: ”میں ان پر گواہ ہوں، انہیں انہی کے خون میں لپیٹ دو، کیونکہ کوئی بھی زخمی جو اللہ کی راہ میں زخمی ہو، اس کا زخم قیامت کے دن خون بہاتا ہوا آئے گا، اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی۔ ان میں سے جو زیادہ قرآن جانتا ہو اسے آگے کرو اور اسے لحد میں رکھو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16217]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 82، حدیث 167»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16218
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ، أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ،: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ الْبَرَاءَ بْنَ مَعْرُورٍ، وَقَدْ أَخَذَتْهُ ذَبْحَةٌ، فَأَمَرَ مَنْ يَبُطُّهُ بِالنَّارِ حَتَّى يُوَجِّهَهُ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ کی عیادت کی، جبکہ انہیں گلے کی سوزش لاحق تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے آگ سے داغ کر چیرا جائے تاکہ وہ ٹھیک ہو جائیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16218]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 83، حدیث 168»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16219
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ،: «أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَبِيحَةٍ ذَبَحَتْهَا امْرَأَةٌ بِحَجَرٍ، فَلَمْ يَرَ بِهَا بَأْسًا»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ذبیحہ کے بارے میں پوچھا جسے ایک عورت نے پتھر سے ذبح کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16219]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 83، حدیث 169»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16220
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ أَمْرَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ قَاتَلَ فَأَبْلَى، فَأَخْبَرُوا بِذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ» ، قَالَ فَجُرِحَ الرَّجُلُ، فَأَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَنَحَرَ نَفْسَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ صَدَقَ اللهُ حَدِيثَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْ يَا بِلَالُ فَنَادِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ» .
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بارے میں فرمایا کہ وہ جہنمیوں میں سے ہے، تو لوگ اس کے معاملے کا انتظار کرنے لگے، یہاں تک کہ غزوہ حنین کے دن اس نے خوب لڑائی کی اور بہادری دکھائی، تو لوگوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جہنمیوں میں سے ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص زخمی ہو گیا، تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اپنے آپ کو ذبح کر لیا۔ تو لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ نے آپ کی بات سچی کر دکھائی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! کھڑے ہو کر اعلان کرو کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوگا، اور بےشک اللہ عزوجل اس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے بھی کر دیتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16220]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 83، حدیث 170»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16221
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْجُوبَارِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16221]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 83، حدیث 171»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. أنس بن أبي القاسم، عن ابن كعب بن مالك، عن أبيه
انس بن ابی قاسم کی، ابن کعب بن مالک کے واسطے سے، ان کے والد سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16222
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أَحْسَبُ فِي قَوْلِهِ: {سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ} [إبراهيم: ٢١] ، قَالَ:" يَقُولُ أَهْلُ النَّارِ: هَلُمُّوا فَلْنَصْبِرْ، قَالَ: فَصَبَرُوا خَمْسَ مِائَةِ عَامٍ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ لَا يَنْفَعُهُمْ، قَالُوا: هَلُمُّوا فَلْنَجْزَعْ، قَالَ: فَيَبْكُونَ خَمْسَمِائَةِ عَامٍ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ لَمْ يَنْفَعُهُمْ، قَالُوا: {سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ} [إبراهيم: ٢١]
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے - جہاں تک راوی کا خیال ہے - نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مرفوعاً روایت ہے، اس آیت کے بارے میں: ”ہمارے لیے برابر ہے، چاہے ہم بےصبری کریں یا صبر کریں، ہمارے لیے کوئی چھٹکارا نہیں“ [سورۃ ابراہیم: 21] ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمی کہیں گے: آؤ ہم صبر کریں، تو وہ پانچ سو سال صبر کریں گے، جب دیکھیں گے کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا تو کہیں گے: آؤ ہم بےصبری کریں، تو وہ پانچ سو سال روئیں گے، جب دیکھیں گے کہ اس سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوا تو کہیں گے: ہمارے لیے برابر ہے، چاہے ہم بےصبری کریں یا صبر کریں، ہمارے لیے کوئی چھٹکارا نہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16222]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 84، حدیث 172»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن ابن كعب بن مالك
عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی ابن کعب بن مالک سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16223
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، ثنا خَلَّادُ الصَّفَّارُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ وَأَمَرَ بِالْغَزْوِ إِلَى تَبُوكٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ بِاللهِ وَرَسُولِهِ غَيْرَ أَنَّ نَفْسِي تَتَوقُ إِلَى الظِّلِّ وَالرُّطَبِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ شَابٌّ قَوِيٌّ وَنَفْسِي تَقُولُ لِي، وَعِنْدِي بَعِيرَانِ: سَوْفَ تَعْتَذِرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَفْسِي تَقُولُ لِي: تَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنَا كَذَلِكَ وَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَادِيًا، وَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ أُرِيدُ أَنْ أَتَجَهَّزَ، وَكَأَنَّمَا أُمْسِكَ بِيَدِيَّ، وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْمَدِينَةِ قَدْرَ فَرْسَخَيْنِ وَقَفَ، فَإِذَا هُوَ بِرَاكِبٍ يَلْحَقُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُنْ أَبَا خَيْثَمَةَ» ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِي خَيْثَمَةَ، قَالَ: وَفِي الْمَدِينَةِ سَبْعَةٌ وَثَمَانُونَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، وَأَنَا، وَهِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ، وَمَرَارَةُ، فَسَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا خَيْثَمَةَ: «مَا فَعَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ؟» ، قَالَ: تَرَكْتُهُ يَمْشِي فِي أَزِقَّةِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ مُعَاذٌ: هُوَ وَاللهِ مَا عَلِمْتُهُ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: وَنَزَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَانِبِنَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَاللهِ إِنَّهُمْ أَرْغَبُنَا بُطُونًا، وَأَخْشَانَا عِنْدَ اللِّقَاءِ، وَأَضْعَفُنَا قُلُوبًا، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، فَقَالَ:" اذْهَبْ إِلَى هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ، فَقُلْ لَهُمْ مَا نَقِسْتُمْ؟، فَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ: إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ"، فَقَالَ لَهُمْ: احْتَرَقْتُمْ أَحْرَقَكُمُ اللهُ، وَنَزَلَتْ {وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ}، قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ، فَتَعَلَّقَ بِرِجْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَا مَالَيْتُهُمْ، وَلَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَهُمْ، فَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَ يَتَعَلَّقُ بِالرَّجُلِ وَيَعْتَذِرُ إِلَيْهِ وَيَسِيرُ مَعَهُ حَتَّى سَالَ مِنْ عَقِبَيْهِ الدَّمُ، وَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَتِهِ فَأَتَاهُ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ، وَمَرَارَةُ بْنُ رَبِيعَةَ فَأَجْلَسَنَا فِي نَاحِيَةٍ، فَقِيلَ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: إِنَّهُ وَاللهِ مَا رَضِيَ عَنْ صَاحِبَيْكَ، فَانْظُرْ بِمَ تَعْتَذِرُ، قُلْتُ: أَسْتَعِينُ عَلَى مَا صَنَعْتُ بِالْكَذِبِ، وَمَا أَجِدُ شَيْئًا خَيْرًا مِنَ الصِّدْقِ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، قَالَ: «وَعَلَيْكَ، مَا خَلَفَكَ يَا كَعْبُ؟» ، قُلْتُ: وَاللهِ مَا تَخَلَّفْتُ مِنْ ضِعْفٍ وَلَا حَاجَةٍ، وَلَكِنِ الْبَلَاءُ، قَالَ: «اجْلِسْ مَعَ صَاحِبَيْكَ» ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «لَا تُجَالِسُوا هَؤُلَاءِ النَّفْرَ، وَلَا تُكَلِّمُوهُمْ، وَلَا تُبَايعُوهُمْ» ، فَأَرْسَلَ إِلَى نِسَائِهِمْ: «لَا يَقْرَبُونَكُمْ» ، فَأَرْسَلَتِ امْرَأَةُ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ هِلَالًا شَيْخٌ كَبِيرٌ فَتَأْذَنَ لَهَا أَنْ تُعْطِيَهُ الشَّيْءَ مِنْ غَيْرِ أَنْ تُكَلِّمَهُ، فَأَذِنَ لَهَا، فَأَرْسَلَتِ امْرَأَةُ كَعْبٍ أَنَّ امْرَأَةَ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ قَدِ اسْتَأْذَنَتْ أَنْ تُنَاوِلَهُ الشَّيْءَ فَتَسْتَأْذِنَهُ فِيكَ، فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَعْتَذِرِينَ، تَقُولِينَ إِنِّي شَيْخٌ كَبِيرٌ؟ فَوَاللهِ إِنِّي لَشَابٌّ، أَتَقُولِينَ إِنِّي سَقِيمٌ؟، فَوَاللهِ إِنِّي لَصَحِيحٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا أَلَّا تَفْعَلِي، وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ نِعْمَ الشَّفِيعُ إِذْ كَانَتْ لَيْلَتَهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ، تُكَلِّمُهُ فِينَا، حَتَّى إِذَا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ، قَالَ: «أَشَعَرْتِ أَنَّ اللهَ قَدْ تَابَ عَلَى الثَّلَاثَةِ؟» ، قَالَتْ: أَلَا أُرْسِلُ إِلَى أَهْلِيهِمْ فَأُبَشِّرَهُمْ، قَالَ: «إِذَنْ لَا يَذَرُنَا النَّاسُ نَنَامُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، وَلَكِنْ أَصْبِحِي» ، فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «أَشَعَرْتُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ تَابَ عَلَى الثَّلَاثَةِ؟» ، فَاسْتَبَقَ إِلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلَانِ، رَجُلٌ رَكِبَ فَرَسًا فَأَخَذَ بَطْنَ الْوَادِي، وَرَجُلٌ مَشَى عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى صَعِدَ الْجَبَلَ، قَالَ: يَا كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ أَشَعَرْتَ أَنَّ اللهَ قَدْ تَابَ عَلَيْكَ؟، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا حَتَّى إِذَا دَنَا مِنِّي رَمَيْتُ إِلَيْهِ بِرِدَائِي، ثُمَّ أَقْبَلَتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مِنْكَ أَوْ مِنَ اللهِ؟، فَقَالَ: «مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت گرمی میں نکلے اور تبوک کی طرف غزوے کا حکم دیا، اور میں ان دنوں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا تھا، مگر میرا دل سائے اور تازہ کھجوروں کی طرف مائل تھا، اور میں ان دنوں ایک طاقتور جوان تھا، اور میرے پاس دو اونٹ تھے، میرا نفس مجھ سے کہتا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عذر کر لو گے، اور میرا نفس مجھ سے کہتا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جاؤ۔ میں اسی حال میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے روانہ ہو گئے، اور میں تیاری کرنے کے ارادے سے بازار نکلا، مگر گویا میرے ہاتھ پکڑ لیے گئے ہوں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، یہاں تک کہ جب مدینہ سے تقریباً دو فرسخ کے فاصلے پر پہنچے تو رک گئے، اچانک ایک سوار انہیں آتا نظر آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوخیثمہ ہو جاؤ۔“ تو وہ ابوخیثمہ ہی نکلے۔ راوی کہتے ہیں: مدینہ میں ستاسی منافق تھے، اور میں (کعب رضی اللہ عنہ)، ہلال بن امیہ اور مرارہ رضی اللہ عنہما بھی (پیچھے رہ گئے تھے)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوخیثمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کعب بن مالک نے کیا کیا؟“ انہوں نے کہا: میں نے اسے مدینہ کی گلیوں میں چلتے چھوڑا ہے۔ تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم، جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ ہمارے قریب اترے، تو ان میں سے کسی نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ہم سب سے زیادہ پیٹ کے لالچی، میدان میں سب سے زیادہ ڈرپوک، اور سب سے زیادہ کمزور دل والے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: تم نے کیا بات کہی؟ اگر تم ان سے پوچھو گے تو وہ ضرور کہیں گے: ہم تو بس بات چیت اور مذاق کر رہے تھے۔“ تو عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم جل گئے، اللہ تمہیں جلائے! اور یہ آیت نازل ہوئی: ”اور اگر تم ان سے پوچھو تو وہ ضرور کہیں گے کہ ہم تو صرف بات چیت اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہہ دیجیے: کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق اڑا رہے تھے؟“ راوی کہتے ہیں: اور ایک شخص جو ان میں سے نہیں تھا مگر سنتا رہا تھا، وہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سے لپٹ گیا، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، میں نے ان کا ساتھ نہیں دیا، لیکن میں نے ان کی بات سن لی تھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو گئے، اور وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹا ہوا معذرت کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا رہا، یہاں تک کہ اس کی ایڑیوں سے خون بہنے لگا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے غزوے سے واپس لوٹے تو ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ہمیں ایک طرف بٹھا دیا گیا۔ تو کعب بن مالک سے کہا گیا: اللہ کی قسم، وہ تمہارے دونوں ساتھیوں سے راضی نہیں ہوئے، دیکھو تم کیا عذر پیش کرتے ہو۔ میں نے دل میں کہا: میں اپنے کیے ہوئے پر جھوٹ سے مدد نہیں لوں گا، اور مجھے سچ سے بہتر کوئی چیز نہیں ملتی۔ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وعلیک، اے کعب! تمہیں کس چیز نے پیچھے رکھا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم، میں نہ کسی کمزوری کی وجہ سے پیچھے رہا اور نہ کسی ضرورت کی وجہ سے، بلکہ یہ ایک آزمائش تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ جاؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”ان تینوں کے ساتھ نہ بیٹھو، نہ ان سے بات کرو، اور نہ ان سے خرید و فروخت کرو۔“ اور ان کی بیویوں کو پیغام بھیجا: ”وہ تمہارے قریب نہ آئیں۔“ تو ہلال بن امیہ کی بیوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ ہلال ایک بوڑھے آدمی ہیں، کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ وہ ان سے بات کیے بغیر انہیں کچھ دے دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ تو کعب کی بیوی نے بھی یہ پیغام بھیجا کہ ہلال بن امیہ کی بیوی نے تو انہیں کچھ دینے کی اجازت مانگ لی ہے، تو کیا وہ بھی تمہارے بارے میں اجازت مانگ لے؟ تو میں نے کہا: تم کس بات کا عذر پیش کرو گی؟ کیا یہ کہو گی کہ میں بوڑھا آدمی ہوں؟ اللہ کی قسم، میں تو جوان ہوں۔ کیا یہ کہو گی کہ میں بیمار ہوں؟ اللہ کی قسم، میں تو تندرست ہوں۔ تو میں نے اسے پیغام بھیجا کہ ایسا نہ کرے۔ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا بہترین سفارشی تھیں، جب ان کی باری ہوتی تو عرض کرتیں: یا رسول اللہ! ہلال بن امیہ کے معاملے میں کچھ فرمائیے۔ یہاں تک کہ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ان تینوں کی توبہ قبول کر لی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: کیا میں ان کے گھر والوں کو خوشخبری بھیج دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو لوگ ہمیں آج رات سونے نہیں دیں گے، بلکہ صبح کا انتظار کرو۔“ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح فجر کی نماز پڑھی، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ان تینوں کی توبہ قبول کر لی ہے؟“ تو کعب بن مالک کی طرف دو آدمی دوڑ پڑے، ایک گھوڑے پر سوار ہو کر وادی کے بیچ سے، اور دوسرا اپنے پاؤں سے چل کر پہاڑ پر چڑھا، اس نے کہا: اے کعب بن مالک! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے تمہاری توبہ قبول کر لی ہے؟ تو میں سجدے میں گر پڑا، جب وہ میرے قریب پہنچا تو میں نے اپنی چادر اسے دے دی، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یہ آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کی طرف سے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16223]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 85، حدیث 173»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. معبد بن كعب، عن أخيه
معبد بن کعب کی اپنے بھائی سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16224
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْقَيْنِ، أَخُو بَنِي سَلَمَةَ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجْنَا فِي الْحِجَّةِ الَّتِي بَايَعْنَا بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَقَبَةَ مَعَ مُشْرِكِي قَوْمِنَا، وَمَعَنَا الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ كَبِيرُنَا وَسَيِّدُنَا، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: يَا هَؤُلَاءِ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَأَيًا، مَا أَدْرِي أَتُوَافِقُونِي عَلَيْهِ أَمْ لَا؟، قُلْنَا: مَا هُوَ يَا أَبَا الْبَشَرِ؟، قَالَ: رَأَيْتُ أَنِّي أُصَلِّي إِلَى هَذِهِ الْبَنِيَّةِ وَلَا أَجْعَلُهَا مِنِّي بِظَهْرٍ، قُلْنَا: لَا وَاللهِ لَا تَفْعَلُ، مَا بَلَغَنَا أَنَّ نَبِيَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي إِلَّا إِلَى الشَّامِ، قَالَ: فَإِنِّي وَاللهِ لِمُصَلٍّ إِلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ تَوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ وَتَوَجَّهْنَا إِلَى الشَّامِ، حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَقَالَ لِي الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ: يَا ابْنَ أَخِي انْطَلَقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ حَتَّى نَسْأَلَهُ عَمَّا صَنَعْنَا فِي سَفَرِنَا هَذَا، فَلَقَدْ وَجَدْتُ فِي نَفْسِي مِنْهُ بِخِلَافِكُمْ إِيَّايَ، فَخَرَجْنَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيَنَا رَجُلٌ بِالْأَبْطَحِ، فَقُلْنَا لَهُ: تَدُلُّنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: وَهَلْ تَعْرِفَانِهِ إِذَا رَأْيُتَمَاهُ؟، قُلْنَا: لَا وَاللهِ مَا نَعْرِفُهُ، وَلَمْ نَكُنْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَهَلْ تَعْرَفَانِ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟، قُلْنَا: نَعَمْ، وَقَدْ كُنَّا نَعْرِفُهُ، كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَيْنَا بِالتِّجَارَةِ، قَالَ: فَإِذَا دَخَلْتُمَا الْمَسْجِدَ فَانْظُرَا الْعَبَّاسَ فَهُوَ الرَّجُلُ الَّذِي مَعَهُ، فَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَبَّاسُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ جَالِسَانِ، فَسَلَّمْنَا وَجَلَسْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَعْرِفُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ؟» ، فَلَمَّا انْفَتَلَ، قَالَ: نَعَمْ، هَذَا الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ سَيِّدُ قَوْمِهِ، وَهَذَا كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ، فَوَاللهِ مَا أَنْسَى قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّاعِرَ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ كُنْتُ رَأَيْتُ فِي سَفَرِي هَذَا رَأَيًا قَدْ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهُ لَتُخْبِرَنِّي عَمَّا صَنَعْتُ فِيهِ، قَالَ: «وَمَا ذَلِكَ؟» ، قَالَ: رَأَيْتُ أَنْ لَا أَجْعَلَ هَذِهِ الْبَنِيَّةَ مِنِّي بِظَهْرٍ، فَصَلَّيْتُ إِلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ كُنْتَ عَلَى قِبْلَةٍ لَوْ صَبَرْتَ إِلَيْهَا» ، فَرَجَعَ إِلَى قِبْلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْلُهُ يَقُولُونَ: قَدْ مَاتَ عَلَيْهَا، وَنَحْنُ أَعْلَمُ بِهِ قَدْ رَجَعَ إِلَى قِبْلَةِ رَسُولِ اللهِ فَصَلَّى مَعَنَا إِلَى الشَّامِ
ثُمَّ وَاعَدَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، وَنَحْنُ سَبْعُونَ رَجُلًا لِبَيْعَتِهِ، وَمَعَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ أَبُو جَابِرٍ، وَإِنَّهُ لَعَلَى شِرْكِهِ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا جَابِرٍ إِنَّا وَاللهِ لَنَرْغَبُ بِكَ أَنْ تَمُوتَ عَلَى مَا أَنْتَ عَلَيْهِ فَتَكُونَ لِهَذِهِ النَّارِ غَدًا حَطَبًا، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ بَعَثَ رَسُولًا يَأْمُرُ بِتَوْحِيدِهِ، وَقَدْ أَسْلَمَ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِكَ، وَقَدْ وَاعَدَنَا
رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْبَيْعَةِ، فَأَسْلَمَ وَطَهِّرَ ثِيَابَهُ وَحَضَرَهَا مَعَنَا، وَكَانَ نَقِيبًا، فَلَمَّا كَانَ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي وَاعَدَنَا فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى أَوَّلَ اللَّيْلِ مَعَ قَوْمِنَا، فَلَمَّا اسْتَثْقَلَ النَّاسُ فِي النَّوْمِ تَسَلَّلْنَا مِنْ فُرُشِنَا تَسَلُّلَ الْقَطَا، حَتَّى اجْتَمَعْنَا بِالْعَقَبَةِ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمُّهُ الْعَبَّاسُ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ، وَلَكِنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَحْضُرَ أَمَرَ ابْنِ أَخِيهِ، فَكَانَ أَوَّلَ مُتَكَلِّمٍ، قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ ـ إِنَّمَا كَانَتِ الْعَرَبُ تُسَمِّي هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْسَهَا وَخَزْرَجَهَا الْخَزْرَجَ ـ يَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ إِنَّ مُحَمَّدًا مِنَّا بِحَيْثُ قَدْ عَلِمْتُمْ، وَهُوَ فِي مَنَعَةٍ مِنْ قَوْمِهِ وَبِلَادِهِ، وَقَدْ مَنَعْنَاهُ مِمَّنْ عَلَى مِثْلِ رَأْيِنَا فِيهِ، وَقَدْ أَبَى إِلَّا انْقِطَاعَنَا إِلَيْكُمْ وَإِلَى مَا دَعَوْتُمُوهُ إِلَيْهِ، فَإِنْ كُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنَّكُمْ وَافُونَ لَهُ بِمَا واَعَدْتُمُوهُ إِلَيْهِ فَأَنْتُمْ وَمَا عَلِمْتُمْ، وَإِنْ كُنْتُمْ تَخْشَوْنَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِذْلَانًا فَاتْرُكُوهُ فِي قَوْمِهِ، فَإِنَّهُ فِي مَنَعَةٍ مِنْ عَشِيرَتِهِ وَقَوْمِهِ، فَقُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا مَا قُلْتَ، تَكَلَّمْ يَا رَسُولَ اللهِ فَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَلَا الْقُرْآنَ وَرَغَّبَ فِي الْإِسْلَامِ، فَأَجَبْنَاهُ فِي الْإِيمَانِ بِهِ وَالتَّصْدِيقِ لَهُ، وَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ خُذْ لِرَبِّكَ ثُمَّ لِنَفْسِكَ، فَقَالَ: «إِنِّي أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ تَمْنَعُونِي مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَكُمْ» ، فَأَجَابَهُ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ فَقَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، فَبَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَحْنُ وَاللهِ أَهْلُ الْحُرُوبِ وَأَهْلُ الْحَلْقَةِ وَرِثْنَاهَا كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ، فَعَرَضَ فِي الْحَدِيثِ أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيْهَانِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ حِبَالًا، وَإِنَّا لَقَاطِعُوهَا، فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَظْهَرَكَ اللهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى قَوْمِكَ وَتَدَعَنَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلِ الدَّمُ الدَّمُ، وَالْهَدْمُ الْهَدْمُ، أَنَا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنِّي، أُسَالِمُ مَنْ سَالَمْتُمْ، وَأُحَارِبُ مَنْ حَارَبْتُمْ» ، فَقَالَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ: ابْسُطْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْرِجُوا إِلَيَّ مِنْكُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا» ، فَأَخْرَجُوهُمْ، وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي
النَّجَّارِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ، وَكَانَ نَقِيبُ بَنِي سَلِمَةَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، وَكَانَ نَقِيبُ بَنِي سَاعِدَةَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَالْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو، وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي زُرَيْقٍ رَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ الْعَجْلَانِ، وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ وَسَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، وَنقيبَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَأَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيْهَانِ، وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ سَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ، وَكَانُوا اثْنَيْ عَشَرَ، تِسْعَةٌ مِنَ الْخَزْرَجِ، وَثَلَاثَةٌ مِنَ الْأَوْسِ، فَأَخَذَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ بِيَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ عَلَيْهَا، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ بَايَعَ، فَتَتَابَعَ النَّاسُ فَبَايِعُوا، وَصَرَخَ الشَّيْطَانُ عَلَى الْعَقَبَةِ بِأَبْعَدِ صَوْتٍ سَمِعْتُهُ قَطُّ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْحُبَاحِبِ هَلْ لَكُمْ فِي مُحَمَّدٍ وَالصُّبَاةِ مَعَهُ قَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى حَرْبِكُمْ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْفَضُّوا إِلَى رِحَالِكُمْ» ، فَرَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا، فَاضْطَجَعْنَا عَلَى فُرُشِنَا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا أَقْبَلَتْ جُلَّةٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فِيهِمُ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ فَتًى شَابٌّ عَلَيْهِ نَعْلَانِ لَهُ جَدِيدَانِ، حَتَّى جَاؤُونَا فِي رِحَالِنَا، فَقَالُوا: يَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ قَدْ جِئْتُمْ إِلَى صَاحِبِنَا لِتَسْتَخْرِجُوهُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا، وَإِنَّهُ وَاللهِ مَا مِنَ الْعَرَبِ أَحَدٌ أَبْغَضُ إِلَيْنَا أَنْ يَنْشَبَ الْحَرْبُ فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ مِنْكُمْ، فَانْبَعَثَ مِنْ هُنَاكَ مِنْ قَوْمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَحْلِفُونَ بِاللهِ مَا كَانَ مِنْ هَذَا شَيْءٌ وَمَا فَعَلْنَاهُ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى أَبِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَرَامٍ، وَهُوَ صَامِتٌ وَأَنَا صَامِتٌ، فَلَمَّا تَثَوَّرَ الْقَوْمُ لِيَنْطَلِقُوا قُلْتُ كَلِمَةً كَأَنِّي أَشْرِكُهُمْ فِي الْكَلَامِ: يَا أَبَا جَابِرٍ أَنْتَ مِنْ سَادَتِنَا، وَكَهْلٌ مِنْ كُهُولِنَا، لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَتَّخِذَ مِثْلَ نَعْلِ هَذَا الْفَتَى مِنْ قُرَيْشٍ، فَسَمِعَهُ الْفَتَى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَرَمَى بِهِمَا إِلَيَّ، فَقَالَ: وَاللهِ لَتَلْبِسَنَّهُمَا، فَقَالَ أَبُو جَابِرٍ: مَهْلًا، أَحْفَظْتَ لَعَمْرِ اللهِ الرَّجُلَ، يَقُولُ أَخْجَلْتَهُ، ارْدُدْ عَلَيْهِ نَعْلَيْهِ، قُلْتُ: وَاللهِ لَا أَرُدُّهُمَا، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَسْتَلِبَهُ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم اس حج کے سفر میں نکلے جس میں ہم نے عقبہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، اپنی قوم کے مشرکوں کے ساتھ، اور ہمارے ساتھ ہمارے بڑے اور سردار براء بن معرور بھی تھے۔ یہاں تک کہ جب ہم مقامِ بیداء کے کھلے میدان میں پہنچے تو انہوں نے کہا: اے لوگو! تمہیں معلوم ہے کہ میں نے ایک رائے قائم کی ہے، مجھے نہیں معلوم کہ تم اس میں میرے موافق ہو گے یا نہیں۔ ہم نے پوچھا: اے ابوالبشر! وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ رائے قائم کی ہے کہ میں اس عمارت (کعبہ) کی طرف نماز پڑھوں اور اسے اپنے پیچھے نہ رکھوں۔ ہم نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، ایسا نہ کرو، ہمیں تو یہی معلوم ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف شام کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، میں تو اسی کعبہ کی طرف نماز پڑھوں گا۔ چنانچہ جب بھی نماز کا وقت ہوتا تو وہ کعبہ کی طرف رخ کرتے اور ہم شام کی طرف رخ کرتے، یہاں تک کہ ہم مکہ پہنچے۔ تو براء بن معرور نے مجھ سے کہا: بھتیجے! چلو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو تاکہ ہم ان سے پوچھیں کہ ہم نے اس سفر میں جو کیا اس کا کیا حکم ہے، کیونکہ تم لوگوں کے میری مخالفت کرنے کی وجہ سے مجھے اپنے دل میں اس بارے میں کچھ کھٹک محسوس ہوئی ہے۔ تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے نکلے، تو ابطح میں ہمیں ایک آدمی ملا، ہم نے اس سے کہا: کیا تم ہمیں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کا پتہ بتا سکتے ہو؟ اس نے کہا: کیا تم دونوں انہیں دیکھ کر پہچان لو گے؟ ہم نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، ہم انہیں نہیں پہچانتے، اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے کبھی دیکھا نہ تھا۔ اس نے کہا: تو کیا تم عباس بن عبدالمطلب کو پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: ہاں، ہم انہیں جانتے ہیں، وہ تجارت کے سلسلے میں ہمارے ہاں آیا جایا کرتے تھے۔ اس نے کہا: تو جب تم مسجد میں داخل ہو تو عباس کو دیکھنا، وہی وہ آدمی ہیں جن کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔ تو ہم مسجد میں داخل ہوئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عباس رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے، تو ہم نے سلام کیا اور بیٹھ گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ان دونوں آدمیوں کو پہچانتے ہو؟“ جب وہ متوجہ ہوئے تو کہا: جی ہاں، یہ براء بن معرور ہیں، اپنی قوم کے سردار، اور یہ کعب بن مالک ہیں۔ اللہ کی قسم، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات کبھی نہیں بھولتی: ”شاعر؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ تو براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے اس سفر میں ایک رائے قائم کی تھی، میں چاہتا ہوں کہ آپ سے اس بارے میں پوچھوں تاکہ آپ مجھے بتائیں کہ میں نے جو کیا اس کا کیا حکم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے یہ رائے قائم کی کہ میں اس عمارت (کعبہ) کو اپنے پیچھے نہ رکھوں، چنانچہ میں نے اسی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تو ایسے قبلے پر تھے کہ اگر اسی پر ثابت قدم رہتے تو بہتر ہوتا۔“ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی طرف واپس آ گئے، جبکہ ان کے گھر والے کہتے تھے کہ وہ اسی (کعبہ کے قبلے) پر فوت ہوئے، مگر ہم انہیں بہتر جانتے تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی طرف لوٹ آئے تھے اور شام کی طرف ہمارے ساتھ نماز پڑھی تھی۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایامِ تشریق کے درمیانی دن کا وعدہ دیا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے لیے ستر آدمی تھے، اور ہمارے ساتھ عبداللہ بن عمرو بن حرام ابوجابر رضی اللہ عنہ بھی تھے، اور وہ ابھی تک اپنے شرک پر تھے۔ تو ہم نے ان سے کہا: اے ابوجابر! اللہ کی قسم، ہمیں یہ ناپسند ہے کہ تم اسی حال میں مرو جس پر تم ہو اور کل اس آگ کا ایندھن بن جاؤ، بےشک اللہ عزوجل نے ایک رسول بھیجا ہے جو اس کی توحید کا حکم دیتا ہے، اور تمہاری قوم میں سے کچھ لوگ اسلام لا چکے ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت کا وعدہ کیا ہے۔ تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا، اپنے کپڑے پاک کیے اور ہمارے ساتھ اس بیعت میں حاضر ہوئے، اور وہ نقیب (نمائندہ) بھی بنے۔ جب وہ رات آئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں رات کے شروع میں اپنی قوم کے ساتھ وعدہ دیا تھا، تو جب لوگ گہری نیند میں سو گئے، ہم اپنے بستروں سے یوں چوری چھپے نکلے جیسے قطا (تیتر جیسا پرندہ) نکلتا ہے، یہاں تک کہ عقبہ پر جمع ہو گئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی نہ تھا، اور وہ ابھی تک اپنے شرک پر تھے، لیکن انہیں پسند تھا کہ اپنے بھتیجے کے معاملے میں حاضر رہیں، تو وہ سب سے پہلے بولے، انہوں نے کہا: اے خزرج کی جماعت - عرب انصار کے اس قبیلے کو، خواہ اوس ہو یا خزرج، خزرج ہی کہتے تھے - اے خزرج کی جماعت! محمد ہم میں سے ہیں، جیسا تم جانتے ہو، وہ اپنی قوم اور اپنے شہر میں محفوظ ہیں، اور ہم نے انہیں ان لوگوں سے بھی بچایا ہے جو ہماری ہی طرح کی رائے رکھتے تھے، مگر انہوں نے انکار کیا اور تمہاری طرف اور جس چیز کی طرف تم نے انہیں بلایا ہے اس کی طرف جانے پر اصرار کیا۔ تو اگر تم سمجھتے ہو کہ تم اس وعدے کو پورا کرو گے جو تم نے ان سے کیا ہے تو تم اور تمہارا معاملہ، اور اگر تمہیں اپنی طرف سے انہیں بےیار و مددگار چھوڑ دینے کا اندیشہ ہے تو انہیں ان کی قوم میں چھوڑ دو، کیونکہ وہ اپنے خاندان اور اپنی قوم میں محفوظ ہیں۔ تو ہم نے کہا: ہم نے آپ کی بات سن لی، یا رسول اللہ! اب آپ گفتگو فرمائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو فرمائی، اللہ عزوجل کی طرف بلایا، قرآن کی تلاوت کی اور اسلام کی رغبت دلائی، تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی، اور ہم نے کہا: یا رسول اللہ! پہلے اپنے رب کے لیے اور پھر اپنی ذات کے لیے جو چاہیں عہد لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم میری اسی طرح حفاظت کرو گے جیسے اپنے بیٹوں اور اپنی عورتوں کی حفاظت کرتے ہو۔“ تو براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور کہا: ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ اللہ کی قسم، ہم تو جنگ اور ہتھیار والے لوگ ہیں، ہمیں یہ نسل در نسل وراثت میں ملا ہے۔ اس دوران ابوالہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ نے گفتگو میں شرکت کی اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے اور ایک قوم (یہود) کے درمیان دوستی کے رشتے ہیں، اور ہم انہیں توڑنے والے ہیں، تو کیا ممکن ہے کہ اگر اللہ آپ کو غالب کر دے تو آپ اپنی قوم کی طرف لوٹ جائیں اور ہمیں چھوڑ دیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ خون خون ہے، تباہی تباہی ہے، میں تم میں سے ہوں اور تم مجھ میں سے ہو، جس سے تم صلح کرو گے میں اس سے صلح کروں گا، اور جس سے تم لڑو گے میں اس سے لڑوں گا۔“ تو براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنا ہاتھ بڑھائیے، میں آپ سے بیعت کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے میں سے بارہ نمائندے میرے پاس بھیجو۔“ تو انہوں نے بارہ نمائندے مقرر کیے: بنی نجار کے نمائندے اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ تھے، بنی سلمہ کے نمائندے براء بن معرور اور عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہما تھے، بنی ساعدہ کے نمائندے سعد بن عبادہ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہما تھے، بنی زریق کے نمائندے رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ تھے، بنی حارث بن خزرج کے نمائندے عبداللہ بن رواحہ اور سعد بن ربیع رضی اللہ عنہما تھے، بنی عوف بن خزرج کے نمائندے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھے، بنی عبدالاشہل کے نمائندے اسید بن حضیر اور ابوالہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہما تھے، اور بنی عمرو بن عوف کے نمائندے سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ کل بارہ آدمی تھے، نو خزرج سے اور تین اوس سے۔ تو براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر اس پر بیعت کی، وہ سب سے پہلے بیعت کرنے والے تھے، پھر لوگ ایک کے بعد ایک آ کر بیعت کرنے لگے۔ اور شیطان نے عقبہ پر ایسی بلند آواز سے چیخ ماری جیسی میں نے کبھی نہ سنی تھی، اس نے کہا: اے حباحب (منیٰ کے ڈیروں) والو! کیا تمہیں محمد اور اس کے ساتھ ملے دین سے پھرنے والوں کی خبر ہے، جو تمہاری جنگ پر جمع ہو گئے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ڈیروں کی طرف منتشر ہو جاؤ۔“ تو ہم اپنے ڈیروں کو واپس گئے اور اپنے بستروں پر لیٹ گئے۔ جب صبح ہوئی تو قریش کے کچھ سردار آئے، جن میں حارث بن ہشام بھی تھا، ایک نوجوان جس نے نئی جوتیاں پہنی ہوئی تھیں، یہاں تک کہ وہ ہمارے ڈیروں میں ہمارے پاس آئے اور کہا: اے خزرج کی جماعت! تم ہمارے ساتھی کو ہمارے درمیان سے نکال لے جانے آئے ہو، اللہ کی قسم، عرب میں کوئی قوم ہمیں تم سے زیادہ ناپسند نہیں کہ ہمارے اور اس کے درمیان تمہاری وجہ سے جنگ چھڑ جائے۔ تو ہماری قوم کے مشرکین میں سے کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور اللہ کی قسمیں کھانے لگے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور نہ ہم نے یہ کیا ہے۔ میں ابوجابر بن عبداللہ بن حرام رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ رہا تھا، وہ خاموش تھے اور میں بھی خاموش تھا۔ جب وہ لوگ اٹھ کر جانے لگے تو میں نے ایک بات کہی، گویا میں بھی ان کی بات میں شریک ہو رہا ہوں: اے ابوجابر! تم ہمارے سرداروں میں سے ہو اور ہمارے بزرگوں میں سے ایک بزرگ ہو، کیا تم اس نوجوان قریشی کی جوتی جیسی جوتی بھی نہیں بنوا سکتے؟ تو اس نوجوان نے یہ سن لیا اور اپنی دونوں جوتیاں اتار کر میری طرف پھینک دیں، اور کہا: اللہ کی قسم، تم انہیں پہنو گے۔ تو ابوجابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھہرو، اللہ کی قسم تم نے اس شخص کو ناراض کر دیا، یعنی تم نے اسے شرمندہ کر دیا، اس کی جوتیاں اسے واپس کر دو۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم، میں انہیں واپس نہیں کروں گا، مجھے امید ہے کہ (کسی دن) میں اس کا سامان چھین لوں گا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16224]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 87، حدیث 174»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16225
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِيعِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبٍ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجَ مَعَنَا حَجَّاجُ قَوْمِنَا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
عبیداللہ بن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم مدینہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے کے ارادے سے نکلے، اور ہمارے ساتھ ہماری قوم کے مشرک حاجی بھی نکلے - پھر راوی نے آگے اسی طرح کا واقعہ بیان کیا جیسا اوپر گزرا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16225]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 91، حدیث 175»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. أبو أمامة بن سهل بن حنيف، عن ابن كعب بن مالك
ابوامامہ بن سہل بن حنیف کی ابن کعب بن مالک سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16226
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كُنْتُ قَائِدَ أَبِي حِينَ كَفَّ بَصَرُهُ، فَإِذَا خَرَجْتُ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الْأَذَانَ بِهَا اسْتَغْفَرَ لِأَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَمَكَثْتُ حِينًا أَسْمَعُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقُلْتُ: إِنْ عَجْزٌ إِلَّا أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ هَذَا، فَخَرَجْتُ بِهِ كَمَا كُنْتُ أَخْرُجُ بِهِ، فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ اسْتَغْفَرَ لَهُ، فَقُلْتُ: «يَا أَبَتَاهُ أَرَأَيْتَ اسْتِغْفَارَكَ لِأَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ الْأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ؟» ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيْ كَانَ أَسْعَدُ أَوَّلَ مَنْ جَمَّعَ بِنَا فِي الْمَدِينَةِ قَبْلَ مَقْدِمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَزْمٍ مِنْ حُرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي نَقِيعِ الْخَضَمَاتِ، قُلْتُ: وَكَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟، قَالَ: أَرْبَعُونَ رَجُلًا
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب میرے والد کعب رضی اللہ عنہ کی بینائی جاتی رہی تو میں ان کی رہنمائی کیا کرتا تھا، تو جب میں انہیں جمعہ کے لیے لے کر نکلتا اور وہ جمعہ کی اذان سنتے تو ابو امامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار کرتے، میں کچھ عرصہ ان سے یہ استغفار سنتا رہا، تو میں نے دل میں کہا: مجھ سے اگر کچھ نہ بھی ہو سکے تو کم از کم یہ ضرور پوچھوں گا۔ چنانچہ میں انہیں لے کر نکلا جیسے میں معمول کے مطابق لے کر نکلا کرتا تھا، جب انہوں نے جمعہ کی اذان سنی تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار کیا، تو میں نے پوچھا: اے میرے والد! جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے، اسعد رضی اللہ عنہ ہی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ہمیں مدینہ میں، بنی بیاضہ کی سنگلاخ زمین کے ایک نشیب، نقیعِ خضمات میں، جمعہ کی نماز کے لیے جمع کیا تھا۔ میں نے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: چالیس آدمی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16226]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 91، حدیث 176»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں