🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
232. -- باب: الرجل يعزب عن الماء ومعه أهله فيصيبها إن شاء، ثم يتيمم
-- باب: اس آدمی کا بیان جو پانی سے دور ہو اور اس کی بیوی اس کے ساتھ ہو، تو اگر چاہے اس سے صحبت کرے اور پھر تیمم کر لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1042
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَهَمَّنِي دِينِي فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ فَقَالَ لِيَ: اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِهَا، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَشُكُّ فِي أَبْوَالِهَا فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَقُلْتُ: نَعَمْ هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: وَمَا أَهْلَكَكَ، قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَجَاءَتْ بِهِ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ يَتَخَضْخَضُ مَا هُوَ بِمَلْآنَ فَتَسَتَّرْتُ إِلَى بَعِيرِي فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ، وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ جِلْدَكَ".
ابو قلابہ رحمہ اللہ بنی عامر قبیلے کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اسلام میں داخل ہوا تو میرے دین نے مجھے فکر میں ڈال دیا، میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: مدینہ کی آب و ہوا کو میں نے اپنے لیے ناموافق پایا، مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ اور بکریوں کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا دودھ پیو۔“ حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے شک ہے کہ اس میں پیشاب کا بیان ہے یا نہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پانی سے دور تھا اور میرے ساتھ میری بیوی تھی، میں جنبی ہو گیا تو میں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی، میں دوپہر کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ مسجد کے سایہ میں تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا؟“ میں نے کہا: میں پانی سے دور تھا اور میری بیوی میرے ساتھ تھی، میں جنبی ہو گیا۔ میں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا، سیاہ رنگ کی لونڈی برتن لے کر آئی جس میں پانی چھلک رہا تھا۔ میں نے اونٹ کی اوٹ میں پردہ کیا اور غسل کیا، پھر میں آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے، اگرچہ تجھے دس سال بھی پانی نہ ملے۔ جب پانی مل جائے تو اسے اپنے جسم پر ڈالو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1042]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 333»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1042 in Urdu