السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2696. -- باب: الاختيار في التعجيل بقسمة مال الفيء إذا اجتمع
-- باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
حدیث نمبر: 13028
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الشَّعِيرِيُّ، ثنا مَحْمَشُ بْنُ عِصَامٍ، أنبأ حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ:" انْثُرُوهُ فِي الْمَسْجِدِ"، قَالَ: وَكَانَ أَكْثَرَ مَالٍ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَمَا كَانَ يَرَى أَحَدًا إِلَّا أَعْطَاهُ، إِذْ جَاءَهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطِنِي؛ فَإِنِّي فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ عَقِيلًا، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْ"، فَحَثَا فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ يُقِلُّهُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ، فَقَالَ: مُرْ بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ إِلِيَّ، قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَيَّ، قَالَ:" لَا"، فَنَثَرَ مِنْهُ ثُمَّ احْتَمَلَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى كَاهِلِهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ، ⦗٥٨٠⦘ قَالَ: فَمَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْهِ عَجَبًا مِنْ حِرْصِهِ، فَمَا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَمَّ مِنْهَا دِرْهَمٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین سے مال لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مسجد میں پھیلا دو“ اور یہ سب سے زیادہ مال تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلے اور آپ نے اس کی طرف توجہ نہ کی، جب نماز پوری کر لی تو آ کر اس کے پاس بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو نہ دیکھتے مگر اسے دے دیتے تھے۔ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی دیں، میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لے لو“، انہوں نے اپنے کپڑے میں لپ بھر بھر کر ڈالا، پھر اٹھانا چاہا لیکن نہ اٹھا سکے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کسی کو حکم دیجیے وہ اٹھوانے میں میری مدد کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ خود ہی اٹھوا دیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (میں بھی نہیں اٹھواؤں گا)“ پھر انہوں نے اس میں سے کچھ سامان نکال دیا، پھر اس کو اٹھا کر اپنی کمر پر ڈال لیا اور چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل انہیں اپنی نگاہ کے تعاقب میں دیکھتے رہے، یہاں تک کہ وہ چھپ گئے (نظر نہیں آرہے تھے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی حرص سے تعجب کر رہے تھے، جب تک وہاں ایک درہم بھی باقی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13028]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13028 in Urdu