السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2696. -- باب: الاختيار في التعجيل بقسمة مال الفيء إذا اجتمع
-- باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
حدیث نمبر: 13029
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مَنْصُورٌ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ثنا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا يَوْمًا وَعُرْوَةُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْضَةٍ مَرَضَهَا، وَكَانَتْ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ، قَالَ مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ: أَوْ سَبْعَةٌ، فَأَمَرَنِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُفَرِّقَهَا، فَشَغَلَنِي وَجَعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللهُ، ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا فَقَالَ:" أَكُنْتِ فَرَّقْتِ السِّتَّةَ أَوِ السَّبْعَةَ؟" قَالَتْ: لَا وَاللهِ، شَغَلَنِي وَجَعُكَ، قَالَتْ: فَدَعَا بِهَا، ثُمَّ فَرَّقَهَا فَقَالَ:" مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللهِ لَوْ لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهِيَ عِنْدَهُ".
ابو امامہ کہتے ہیں کہ میں اور عروہ ایک دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا: اگر تم دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض میں دیکھ لیتے۔ اس وقت میرے پاس چھ دینار تھے۔ موسیٰ بن جبیر کہتے ہیں: یا سات کہا۔ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کو تقسیم کر دوں، پس مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری نے مشغول کر دیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو آرام دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ان کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے چھ یا سات دینار تقسیم کر دیے ہیں؟“ میں نے کہا: نہیں، مجھے آپ کی بیماری نے مشغول کر دیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ منگوائے، پھر ان کو تقسیم کر دیا اور فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا گمان ہے کہ وہ اللہ سے ملیں اور ان کے پاس وہ ہوں؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13029]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 24212»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13029 in Urdu