السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2857. -- باب: اعتبار الكفاءة
-- باب: نکاح میں کفاءت (برابری و ہمسری) کا اعتبار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q13756
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ الْبُوَيْطِيِّ: أَصْلُ الْكَفَاءَةِ مُسْتَنْبَطٌ مِنْ حَدِيثِ بَرِيرَةَ كَانَ زَوْجُهَا غَيْرُ كُفُوٍ لَهَا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے بویطی کی روایت میں فرمایا: ”کفاءت (نکاح میں برابری) کی اصل سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے مستنبط ہے، ان کا شوہر ان کا کفو (ہم پلہ) نہیں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (نکاح باقی رکھنے یا ختم کرنے کا) اختیار دے دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13756]
حدیث نمبر: 13756
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَاتَبَتْ بَرِيرَةُ عَلَى نَفْسِهَا تِسْعَةَ أَوَاقٍ فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ فَأَتَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا، فَقَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لِي، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ، فَكَلَّمَتْ فِي ذَلِكَ أَهْلَهَا، فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَوْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ لَهَا: مَا قَالَ أَهْلُهَا، فَقَالَتْ: لَاهَا اللهُ إِذًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْتَاعِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ"، ثُمَّ قَامَ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ، يَقُولُونَ أَعْتِقْ يَا فُلَانُ الْوَلَاءُ لِي، كِتَابُ اللهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللهِ أَوْثَقُ، وَكُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ" قَالَتْ: وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا وَكَانَ عَبْدًا وَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا. قَالَ عُرْوَةُ: وَلَوْ كَانَ حُرًّا مَا خَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى مَا قَصَدْنَاهُ بِالدَّلَالَةِ، وَعَلَى ثُبُوتِ الْوَلَاءِ لِلْمُعْتِقِ، وَأَنْ لَا وَلَاءَ لِغَيْرِ الْمُعْتِقِ، وَمِنْ أَحْكَامِ الْوَلَاءِ ثُبُوتُ وِلَايَةِ النِّكَاحِ لِمَنْ لَهُ الْوَلَاءُ عِنْدَ عَدَمِ الْمُنَاسِبِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَفِي اعْتِبَارِ الْكَفَاءَةِ أَحَادِيثُ أُخَرُ لَا تَقُومُ بِأَكْثَرِهَا الْحُجَّةُ وَاللهُ أَعْلَمُ مِنْهَا، وَهُوَ أَمْثَلُهَا مَا.
ہشام اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت بریرہ نے اپنی آزادی کے لیے 9 اوقیوں پر مکاتبت کر لی کہ ایک سال میں ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، وہ اپنی مدد کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر وہ چاہیں تو میں ایک ہی مرتبہ قیمت ادا کر دوں گی اور ولاء میری ہوگی۔ حضرت بریرہ نے جا کر اپنے گھر والوں سے بات کی، انہوں نے انکار کر دیا، لیکن ولاء کی شرط پر آمادگی ظاہر کی۔ حضرت بریرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آگئے تو بریرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہ بات آ کر کہہ دی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ولاء میری ہوگی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ خرید کر ولاء کی شرط رکھیں اور آزاد کر دیں، کیونکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں۔ کہتے ہیں: اے فلاں! آزاد کر اور ولاء میری ہوگی۔ اللہ کی کتاب زیادہ سچی ہے اور اللہ کی شرطیں زیادہ قابل اعتماد ہیں اور جو شرط کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے اگرچہ وہ سو شرطیں ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اس کے خاوند کے بارے میں اختیار دے دیا۔ ان کا خاوند غلام تھا تو بریرہ نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا (یعنی اس سے آزاد ہو گئی) عروہ کہتے ہیں: اگر وہ آزاد ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ کو اختیار نہ دیتے۔
(ب) اسحق بن ابراہیم کی روایت مسلم میں ہے۔ اس میں وہ دلالت موجود ہے جس کا ہم نے قصد کیا ہے اور ولاء صرف آزاد کرنے والے کے لیے ہے غیر کے لیے نہیں۔ ولاء کے احکام سے نکاح کی ولایت بھی ثابت ہوتی ہے جب کوئی مناسبت ولی موجود نہ ہو۔
کفو کے اعتبار کے لیے دوسری احادیث بھی موجود ہیں لیکن ان سے دلیل لینا درست نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13756]
(ب) اسحق بن ابراہیم کی روایت مسلم میں ہے۔ اس میں وہ دلالت موجود ہے جس کا ہم نے قصد کیا ہے اور ولاء صرف آزاد کرنے والے کے لیے ہے غیر کے لیے نہیں۔ ولاء کے احکام سے نکاح کی ولایت بھی ثابت ہوتی ہے جب کوئی مناسبت ولی موجود نہ ہو۔
کفو کے اعتبار کے لیے دوسری احادیث بھی موجود ہیں لیکن ان سے دلیل لینا درست نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13756]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2168»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13756 in Urdu