السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3031. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رخی کا اندیشہ ہو، تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14730
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ،" أَنَّ ابْنَةَ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ كَانَتْ عِنْدَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَكَرِهَ مِنْهَا أَمْرًا إِمَّا كِبَرًا أَوْ غَيْرَهُ، فَأَرَادَ طَلَاقَهَا فَقَالَتْ: لَا تُطَلِّقْنِي وَاقْسِمْ لِي مَا بَدَا لَكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] الْآيَةَ".
(١٤٧٣٠) سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ کی بیٹی رافع بن خدیج کے نکاح میں تھی تو انھیں اس کی کوئی عادت اچھی نہ لگی تکبر یا کوئی اور تھی۔ اس نے طلاق دینے کا ارادہ کرلیا۔ وہ کہنی لگیں: مجھے طلاق نہ دو اور میرے لیے اپنی مرضی سے باری تقسیم کرلینا تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل کی؟ { وَ اِنِ امْرَاَۃٌخَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوْزًا } [النساء ١٢٨] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14730]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14730 in Urdu