🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3031. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رخی کا اندیشہ ہو، تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14731
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عُمَرَ، وَنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، نا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ" أَنَّ السُّنَّةَ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ اللَّتَيْنِ ذَكَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمَا نُشُوزَ الْمَرْءِ وَإِعْرَاضَهُ عَنِ امْرَأَتِهِ فِي قَوْلِهِ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] إِلَى تَمَامِ الْآيَتَيْنِ أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا نَشَزَ عَنِ امْرَأَتِهِ وَآثَرَ عَلَيْهَا فَإِنَّ مِنَ الْحَقِّ عَلَيْهِ أَنْ يَعْرِضَ عَلَيْهَا أَنْ يُطَلِّقَهَا أَوْ تَسْتَقِرَّ عِنْدَهُ عَلَى مَا كَانَتْ مِنْ أَثَرَةٍ فِي الْقَسَمِ مِنْ نَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَإِنِ اسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ عَلَى ذَلِكَ وَكَرِهَتْ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِيمَا آثَرَ عَلَيْهِمَا مِنْ ذَلِكَ، فَإِنْ لَمْ يَعْرِضْ عَلَيْهَا الطَّلَاقَ وَصَالَحَهَا عَلَى أَنْ يُعْطِيَهَا مِنْ مَالِهِ مَا تَرْضَاهُ وَتَقَرُّ عِنْدَهُ عَلَى الْأَثَرَةِ فِي الْقَسَمِ مِنْ مَالِهِ وَنَفْسِهِ صَلُحَ لَهُ ذَلِكَ وَجَازَ صُلْحُهُمَا عَلَيْهِ" كَذَلِكَ ذَكَرَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَسُلَيْمَانُ الصُّلْحَ الَّذِي قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ} وَقَدْ ذُكِرَ لِي أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ حَتَّى إِذَا كَبِرَتْ تَزَوَّجَ عَلَيْهَا فَتَاةً شَابَّةً فَآثَرَ عَلَيْهَا الشَّابَّةَ فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا كَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ عَلَيْهَا فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً أُخْرَى ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا كَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ عَلَيْهَا فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَقَالَ: مَا شِئْتِ إِنَّمَا بَقِيَتْ لَكِ تَطْلِيقَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِنْ شِئْتِ اسْتَقْرَرْتِ عَلَى مَا تَرَيْنَ مِنَ الْأَثَرَةِ وَإِنْ شِئْتِ فَارَقْتُكِ، فَقَالَتْ: لَا بَلِ أَسْتَقِرُّ عَلَى الْأَثَرَةِ فَأَمْسَكَهَا عَلَى ذَلِكَ فَكَانَ ذَلِكَ صُلْحَهُمَا وَلَمْ يَرَ رَافِعٌ عَلَيْهِ إِثْمًا حِينَ رَضِيَتْ بِأَنْ تَسْتَقِرَّ عِنْدَهُ عَلَى الْأَثَرَةِ فِيمَا آثَرَ بِهِ عَلَيْهَا.
سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان دو آیات میں سنت طریقہ جو اللہ رب العزت نے مرد کی لڑائی اور اعراضِ عورت سے ذکر کیا ہے: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ [سورة النساء: 128] جب مرد اپنی بیوی سے لڑائی یا اس پر کسی کو ترجیح دیتا ہے۔ تو مرد پر یہ حق لازم ہے کہ وہ عورت کو اختیار دے کہ یا تو وہ اسے طلاق دے دے یا وہ اس کے پاس ٹھہری رہے اگرچہ وہ اپنے مال اور نفس میں کسی دوسری کو اس پر ترجیح دے۔ اگر عورت اس کے پاس رہنا چاہے اور طلاق لینا پسند نہ کرے تو مرد کا کسی دوسری کو اس پر ترجیح دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر مرد طلاق نہ دے بلکہ عورت کو اتنا مال دینے پر رضامند ہو، جتنا وہ لینا چاہے تو وہ عورت مال اور باری کی تقسیم کی ترجیح میں اس کے پاس رہنا چاہتی ہے، دونوں کے درمیان صلح جائز ہے، ایسے ہی سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ نے صلح کا تذکرہ کیا ہے: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ﴾ [سورة النساء: 128] ۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے نکاح میں ایک عورت تھی، جب وہ بوڑھی ہوگئی تو انہوں نے ایک نوجوان لڑکی سے شادی کرلی۔ بوڑھی عورت نے طلاق کا مطالبہ کردیا تو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے طلاق دے دی، پھر اس کو روکے رکھا جب حلال ہونے کے قریب ہوئی تو اس سے رجوع کرلیا، پھر نوجوان لڑکی کو رافع رضی اللہ عنہ نے ان پر ترجیح دی تو اس نے دوبارہ طلاق کا مطالبہ کردیا تو رافع رضی اللہ عنہ نے دوسری طلاق بھی دے دی۔ پھر روکے رکھا اور حلال ہونے کے قریب پھر رجوع کرلیا، پھر رافع رضی اللہ عنہ نے نوجوان لڑکی کو ترجیح دی تو بوڑھی نے پھر طلاق کا مطالبہ کردیا، رافع رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اب آخری موقع ہے اگر چاہو تو میں طلاق دے دیتا ہوں، اگر اس ترجیح پر باقی رہنا چاہو تو درست، وگرنہ جدا کردیتا ہوں، تو اس بوڑھی نے اس پر ترجیح پر باقی رہنے کو پسند کرلیا۔ تو انہوں نے روکے رکھا، یہ ان دونوں کے درمیان صلح تھی۔ تو رافع رضی اللہ عنہ نے اس ترجیح پر گناہ نہیں سمجھا جب وہ رہنے پر رضامندی ہوگئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14731]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14731 in Urdu