السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3481. جماع أبواب ما لا قطع فيه -- باب: لا قطع على المختلس، ولا على المنتهب، ولا على الخائن
ان صورتوں کے ابواب کا جامع بیان جن میں ہاتھ کاٹنا واجب نہیں ہے۔ -- باب: اچک لینے والے، لوٹ مار کرنے والے اور خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17298
وَكَذَلِكَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ ⦗٤٨٧⦘ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ، يَعْنِي حُلِيًّا، عَلَى أَلْسِنَةِ أُنَاسٍ يُعْرَفُونَ وَلَا تُعْرَفُ هِيَ، فَبَاعَتْهُ وَأَخَذَتْ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِهَا"، وَهِيَ الَّتِي تَشَفَّعَ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ وَخَالَفَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، فَقَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ..
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے کچھ جانے پہچانے لوگوں کا نام لے کر (زیور) عاریتاً لیا، جبکہ وہ خود پہچانی نہیں جاتی تھی، پھر اس نے اسے بیچ دیا اور (قیمت) رکھ لی۔ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ یہ وہی عورت ہے جس کے بارے میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں جو فرمایا سو فرمایا۔
عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ نے یونس سے روایت میں اس کی مخالفت کی ہے اور یوں کہا: زہری سے، وہ عروہ سے، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ قریش کو اس عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غزوہ فتح (مکہ) میں چوری کی تھی، پھر پوری حدیث ذکر کی، اور یہ پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17298]
عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ نے یونس سے روایت میں اس کی مخالفت کی ہے اور یوں کہا: زہری سے، وہ عروہ سے، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ قریش کو اس عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غزوہ فتح (مکہ) میں چوری کی تھی، پھر پوری حدیث ذکر کی، اور یہ پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17298]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17298 in Urdu