السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3481. جماع أبواب ما لا قطع فيه -- باب: لا قطع على المختلس، ولا على المنتهب، ولا على الخائن
ان صورتوں کے ابواب کا جامع بیان جن میں ہاتھ کاٹنا واجب نہیں ہے۔ -- باب: اچک لینے والے، لوٹ مار کرنے والے اور خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17290
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ الْغَزَّالُ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، قَالُوا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗٤٨٥⦘ الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُخْتَلِسِ، وَلَا عَلَى الْمُنْتَهِبِ، وَلَا عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھیننے پر، ڈاکے پر اور خیانت پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17290]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17291
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ هُوَ السِّجِسْتَانِيُّ: هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، بَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا سَمِعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ يَاسِينَ الزَّيَّاتِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَدْ رَوَاهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کو ابن جریج نے یاسین زیات سے سنا۔
ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو ابن جریج نے ابو الزبیر سے نہیں سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17291]
ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو ابن جریج نے ابو الزبیر سے نہیں سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17291]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17292
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا شَبَابَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُخْتَلِسِ، وَلَا عَلَى الْمُنْتَهِبِ، وَلَا عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھیننے، ڈاکے اور خیانت پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17292]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17293
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ فُضَيْلٌ أَبُو مُعَاذٍ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: أَيُّوبُ بْنُ بِرِيقَةَ اخْتَلَسَ طَوْقًا مِنْ إِنْسَانٍ، فَرُفِعَ إِلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَكَتَبَ فِيهِ عَمَّارٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ" أَنَّ ذَاكَ عَادِي الظَّهِيرَةِ، فَأَنْهِكْهُ عُقُوبَةً، ثُمَّ خَلِّ عَنْهُ وَلَا تَقْطَعْهُ" ⦗٤٨٦⦘ وَفِي رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ بِرَجُلٍ اخْتَلَسَ طَوْقًا مِنْ جَارِيَةٍ، فَلَمْ يَرَ فِيهِ قَطْعًا، قَالَ: تِلْكَ عَادِيَةُ الظَّهِيرَةِ.
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جس کا نام ایوب بن بریقہ تھا، اس نے ایک آدمی سے زیور چھینا اور معاملہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا تو انہوں نے لکھا کہ جو کوئی دن کو چوری کرتا ہے تم اس کو عبرت ناک سزا دو، پھر اس کو چھوڑ دو اور ہاتھ نہ کاٹو۔
ایک اور روایت میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے ایک لونڈی کا زیور چھینا تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا، انہوں نے فرمایا کہ اس نے یہ دن میں چھینا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17293]
ایک اور روایت میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے ایک لونڈی کا زیور چھینا تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا، انہوں نے فرمایا کہ اس نے یہ دن میں چھینا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17293]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17294
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ ابْنٍ لِعُبَيْدِ بْنِ الْأَبْرَصِ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِرَجُلٍ اخْتَلَسَ مِنْ رَجُلٍ ثَوْبَهُ، فَقَالَ الْمُخْتَلِسُ: إِنِّي كُنْتُ أُعَرِّفُهُ" فَلَمْ يَقْطَعْهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ".
عبید بن ابرص کے ایک بیٹے فرماتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے ایک آدمی سے کپڑا چھینا تھا، اس چھیننے والے نے کہا: میں اس کو پہچانتا ہوں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17294]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17295
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِيُّ، قَالُوا: أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خِلَاسٍ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" كَانَ لَا يَقْطَعُ فِي الدَّغْرَةِ، وَيَقْطَعُ فِي السَّرِقَةِ الْمُسْتَخْفَى بِهَا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ چھیننے پر ہاتھ نہیں کاٹتے تھے اور اس چوری میں ہاتھ کاٹتے تھے جو چھپ کر کی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17295]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17296
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، أُتِيَ بِإِنْسَانٍ قَدِ اخْتَلَسَ مَتَاعًا فَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ زَيْدٌ:" لَيْسَ فِي الْخُلْسَةِ قَطْعٌ" قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْخُلْسَةِ قَطْعٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَكَذَلِكَ مَنِ اسْتَعَارَ مَتَاعًا فَجَحَدَهُ، أَوْ كَانَتْ عِنْدَهُ وَدِيعَةٌ فَجَحَدَهَا، لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ فِيهَا قَطْعٌ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي رُوِيَ فِي الْعَارِيَةِ.
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مروان بن حکم کے پاس ایک ایسا انسان لایا گیا جس نے کوئی سامان چھینا تھا۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس کا ہاتھ کاٹے، پھر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف کسی آدمی کو بھیجا کہ وہ اس معاملے کے بارے میں ان سے سوال کرے۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: چھیننے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جو مال چھینتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح جو شخص کوئی سامان عاریتاً لے کر اس کا انکار کر دے، یا اس کے پاس کوئی امانت ہو اور وہ اس کا انکار کر دے، تو اس پر بھی ہاتھ کاٹنا نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17296]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جو مال چھینتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح جو شخص کوئی سامان عاریتاً لے کر اس کا انکار کر دے، یا اس کے پاس کوئی امانت ہو اور وہ اس کا انکار کر دے، تو اس پر بھی ہاتھ کاٹنا نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17296]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17297
وَهُوَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ،" فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي شَفَاعَةِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَإِنْكَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ: فَقَطَعَ يَدَ الْمَخْزُومِيَّةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، كَذَا قَالَهُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنی مخزوم کی ایک عورت لوگوں سے سامان عاریتاً (مانگ کر) لیتی اور پھر اس کا انکار کر دیتی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ (پھر راوی نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی سفارش اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پر ناراضگی کا ذکر کیا) اور اس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مخزومی عورت کا ہاتھ کاٹ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17297]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17298
وَكَذَلِكَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ ⦗٤٨٧⦘ شِهَابٍ، قَالَ: كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ، يَعْنِي حُلِيًّا، عَلَى أَلْسِنَةِ أُنَاسٍ يُعْرَفُونَ وَلَا تُعْرَفُ هِيَ، فَبَاعَتْهُ وَأَخَذَتْ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَ بِقَطْعِ يَدِهَا"، وَهِيَ الَّتِي تَشَفَّعَ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ وَخَالَفَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، فَقَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ..
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے کچھ جانے پہچانے لوگوں کا نام لے کر (زیور) عاریتاً لیا، جبکہ وہ خود پہچانی نہیں جاتی تھی، پھر اس نے اسے بیچ دیا اور (قیمت) رکھ لی۔ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ یہ وہی عورت ہے جس کے بارے میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں جو فرمایا سو فرمایا۔
عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ نے یونس سے روایت میں اس کی مخالفت کی ہے اور یوں کہا: زہری سے، وہ عروہ سے، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ قریش کو اس عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غزوہ فتح (مکہ) میں چوری کی تھی، پھر پوری حدیث ذکر کی، اور یہ پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17298]
عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ نے یونس سے روایت میں اس کی مخالفت کی ہے اور یوں کہا: زہری سے، وہ عروہ سے، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ قریش کو اس عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غزوہ فتح (مکہ) میں چوری کی تھی، پھر پوری حدیث ذکر کی، اور یہ پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17298]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17299
وَكَذَلِكَ قَالَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ،" أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ: ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ فَقُطِعَتْ يَدُهَا فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ وَتَزَوَّجَتْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَأْتِينِي بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ بِذَلِكَ، وَبِمَعْنَاهُ قَالَهُ شَبِيبٌ عَنْ يُونُسَ، إِلَّا أَنَّهُ أَسْنَدَ آخِرَهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي التَّوْبَةِ. وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ:" وَايْمُ اللهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا"، وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے بھی یونس سے، انہوں نے زہری سے اسی طرح روایت کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نے چوری کی، پھر انہوں نے حدیث ذکر کی یہاں تک کہ کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، اس کے بعد اس نے اچھی توبہ کی اور شادی کر لی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس کے بعد وہ میرے پاس آیا کرتی تھی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتی تھی۔
شبیب نے بھی یونس سے اسی معنی میں روایت کیا، مگر انہوں نے اس کا آخری حصہ (توبہ والا) زہری سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ اور لیث بن سعد نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی، پھر ان الفاظ تک حدیث ذکر کی: ”اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“ اور یہ پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17299]
شبیب نے بھی یونس سے اسی معنی میں روایت کیا، مگر انہوں نے اس کا آخری حصہ (توبہ والا) زہری سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ اور لیث بن سعد نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی، پھر ان الفاظ تک حدیث ذکر کی: ”اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“ اور یہ پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السَّرِقَةِ/حدیث: 17299]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح