🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3481. جماع أبواب ما لا قطع فيه -- باب: لا قطع على المختلس، ولا على المنتهب، ولا على الخائن
ان صورتوں کے ابواب کا جامع بیان جن میں ہاتھ کاٹنا واجب نہیں ہے۔ -- باب: اچک لینے والے، لوٹ مار کرنے والے اور خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17299
وَكَذَلِكَ قَالَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ،" أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ: ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ فَقُطِعَتْ يَدُهَا فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ وَتَزَوَّجَتْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَأْتِينِي بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ بِذَلِكَ، وَبِمَعْنَاهُ قَالَهُ شَبِيبٌ عَنْ يُونُسَ، إِلَّا أَنَّهُ أَسْنَدَ آخِرَهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي التَّوْبَةِ. وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ:" وَايْمُ اللهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا"، وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے بھی یونس سے، انہوں نے زہری سے اسی طرح روایت کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نے چوری کی، پھر انہوں نے حدیث ذکر کی یہاں تک کہ کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، اس کے بعد اس نے اچھی توبہ کی اور شادی کر لی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس کے بعد وہ میرے پاس آیا کرتی تھی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتی تھی۔
شبیب نے بھی یونس سے اسی معنی میں روایت کیا، مگر انہوں نے اس کا آخری حصہ (توبہ والا) زہری سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ اور لیث بن سعد نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی، پھر ان الفاظ تک حدیث ذکر کی: ”اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“ اور یہ پہلے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17299]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17299 in Urdu