🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3582. -- باب: قسمة الغنيمة في دار الحرب
-- باب: دار الحرب میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17989
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ ⦗١٠٠⦘ جَحْشٍ إِلَى نَخْلَةَ، فَقَالَ لَهُ:" كُنْ بِهَا حَتَّى تَأْتِيَنَا بِخَبَرٍ مِنْ أَخْبَارِ قُرَيْشٍ"، وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِقِتَالٍ وَذَلِكَ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يُعْلِمَهُ أَيْنَ يَسِيرُ، فَقَالَ:" اخْرُجْ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ حَتَّى إِذَا سِرْتَ يَوْمَيْنِ فَافْتَحْ كِتَابَكَ وَانْظُرْ فِيهِ فَمَا أَمَرْتُكَ فِيهِ فَامْضِ لَهُ، وَلَا تَسْتَكْرِهَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ عَلَى الذَّهَابِ مَعَكَ"، فَلَمَّا سَارَ يَوْمَيْنِ فَتْحَ الْكِتَابَ، فَإِذَا فِيهِ أَنِ امْضِ حَتَّى تَنْزِلَ نَخْلَةَ، فَتَأْتِيَنَا مِنْ أَخْبَارِ قُرَيْشٍ بِمَا يَصِلُ إِلَيْكَ مِنْهُمْ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ حِينَ قَرَأَ الْكِتَابَ سَمْعًا وَطَاعَةً، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَهُ رَغْبَةٌ فِي الشَّهَادَةِ فَلْيَنْطَلِقْ مَعِي فَإِنِّي مَاضٍ لِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ كَرِهَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَرْجِعْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانِي أَنْ أَسْتَكْرِهَ مِنْكُمْ أَحَدًا. فَمَضَى مَعَهُ الْقَوْمُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبُحْرَانَ أَضَلَّ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ بَعِيرًا لَهُمَا كَانَا يَعْتَقِبَانِهِ، فَتَخَلَّفَا عَلَيْهِ يَطْلُبَانِهِ، وَمَضَى الْقَوْمُ حَتَّى نَزَلُوا نَخْلَةَ، فَمَرَّ بِهِمْ عَمْرُو بْنُ الْحَضْرَمِيِّ، وَالْحَكَمُ بْنُ كَيْسَانَ، وَعُثْمَانُ وَالْمُغِيرَةُ ابْنَا عَبْدِ اللهِ، مَعَهُمْ تِجَارَةٌ قَدِمُوا بِهَا مِنَ الطَّائِفِ أُدُمٌ وَزَبِيبٌ، فَلَمَّا رَآهُمُ الْقَوْمُ أَشْرَفَ لَهُمْ وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَكَانَ قَدْ حَلَقَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَوْهُ حَلِيقًا قَالُوا: عُمَّارٌ لَيْسَ عَلَيْكُمْ مِنْهُمْ بَأْسٌ، وَائْتَمَرَ الْقَوْمُ بِهِمْ - يَعْنِي أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَجَبٍ، فَقَالُوا: لَئِنْ قَتَلْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَتَقْتُلُونَهُمْ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَلَئِنْ تَرَكْتُمُوهُمْ لَيَدْخُلُنَّ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ الْحَرَمَ فَلَيَمْتَنِعُنَّ مِنْكُمْ، فَأَجْمَعَ الْقَوْمُ عَلَى قَتْلِهِمْ، فَرَمَى وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّمِيمِيُّ عَمْرَو بْنَ الْحَضْرَمِيِّ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ، وَاسْتَأْسَرَ عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَالْحَكَمَ بْنَ كَيْسَانَ، وَهَرَبَ الْمُغِيرَةُ وَأَعْجَزَهُمْ، وَاسْتَاقُوا الْعِيرَ فَقَدِمُوا بِهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ:" وَاللهِ مَا أَمَرْتُكُمْ بِالْقِتَالِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ". فَأَوْقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسِيرَيْنِ وَالْعِيرَ، فَلَمْ يَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا، فَلَمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أُسْقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ وَظَنُّوا أَنْ قَدْ هَلَكُوا، وَعَنَّفَهُمْ إِخْوَانُهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَتْ قُرَيْشٌ حِينَ بَلَغَهُمْ أَمْرُ هَؤُلَاءِ: قَدْ سَفَكَ مُحَمَّدٌ الدَّمَ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَأَخَذَ فِيهِ الْمَالَ، وَأَسَرَ فِيهِ الرِّجَالَ، وَاسْتَحَلَّ الشَّهْرَ الْحَرَامَ. فَأَنْزَلَ اللهُ فِي ذَلِكَ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ} [البقرة: ٢١٧] ، يَقُولُ: الْكُفْرُ بِاللهِ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ، فَلَمَّا نَزَلَت ذَلِكَ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيرَ، وَفَدَى الْأَسِيرَيْنِ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: أَتَطْمَعُ لَنَا أَنْ تَكُونَ غَزْوَةً، فَأَنْزَلَ اللهُ فِيهِمْ: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا} [البقرة: ٢١٨] ، إِلَى قَوْلِهِ: {أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللهِ}، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَكَانُوا ثَمَانِيَةً وَأَمِيرُهُمُ التَّاسِعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَحْشٍ"..
سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو نخلہ کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”تم وہاں رہو اور قریش کے بارے میں خبر دو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قتال کا حکم نہیں دیا تھا اور یہ حرمت والے مہینے کا واقعہ ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک خط دیا اس سے پہلے کہ ان کو بتاتے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں اور فرمایا: ”اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل جاؤ اور دو دن سفر کے بعد اس کو کھولنا اور دیکھنا میں نے تم کو کیا حکم دیا ہے اور اس پر عمل کرنا اور اپنے ساتھیوں کو اپنے ساتھ جانے پر مجبور نہ کرنا۔“ جب انہوں نے دو دن سفر کر لیا تو خط کو کھولا، اس میں لکھا تھا: ”سفر جاری رکھو حتیٰ کہ نخلہ میں پڑاؤ کرو اور جو قریش کے بارے میں تم کو پتہ چلے اس کی ہمیں خبر دو۔“
انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: سننا اور سن کر اطاعت کرنا ضروری ہے، جو شہادت کا متلاشی ہے وہ میرے ساتھ چلے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے چلوں گا، جو اس کو ناپسند کرے وہ واپس جا سکتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو تمہیں مجبور کرنے سے منع فرمایا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ چلے، جب بحران کے مقام پر پہنچے تو سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما کا اونٹ گم ہو گیا، وہ اس کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے۔ لوگ نکل گئے حتیٰ کہ نخلہ میں پہنچ گئے تو ان کے پاس سے عمرو بن حضرمی اور حکم بن کیسان، عثمان اور مغیرہ گزرے، آخری دونوں عبداللہ کے بیٹے تھے۔ ان کے پاس مالِ تجارت بھی تھا، وہ طائف سے چمڑا اور منقیٰ لائے تھے۔ جب لوگوں نے ان کو دیکھا تو سیدنا واقد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نگرانی کی، انہوں نے اپنا سر منڈوایا ہوا تھا، جب انہوں نے دیکھا تو کہا: ان سے کوئی خوف نہیں ہے، یہ عمرہ کرنے والے ہیں، تو ان لوگوں نے رجب کے آخری دن مشورہ کیا کہ اگر تم ان کو قتل کرتے ہو تو یہ حرمت کا مہینہ ہے اور اگر ان کو چھوڑو گے تو یہ لوگ آج رات حرم میں داخل ہو جائیں اور تمہارے لیے ان کا قتل ممنوع ہوگا، لہٰذا لوگوں نے ان کو قتل کرنے پر اتفاق کیا۔ عمرو بن حضرمی کو سیدنا واقد بن عبداللہ تمیمی رضی اللہ عنہ نے تیر مار کر قتل کر دیا اور عثمان بن عبداللہ اور حکم بن کیسان کو قیدی بنا لیا جبکہ مغیرہ بھاگ گیا اور یہ لوگ اس کو نہ پکڑ سکے۔ انہوں نے قافلہ کو لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے تم کو حرمت والے مہینے میں قتال کا حکم نہیں دیا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلے اور اسیروں کو روکے رکھا، ان سے کچھ نہ لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی باز پرس کی تو وہ نادم ہوئے اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ہلاک ہو گئے اور مسلمانوں نے ان کی سرزنش کی۔ جب قریش کو یہ خبر ملی تو انہوں نے کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حرمت والے مہینے میں خون بہایا، اس میں مال لیا اور بندوں کو اس میں قید کیا اور مہینے کی حرمت کو پامال کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ﴾ [سورة البقرة: 217] ”تجھ سے حرمت والے مہینے کے متعلق اس میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے: اس میں لڑنا بہت بڑا ہے اور اللہ کے راستے سے روکنا اور کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا (جرم) ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ اللہ کا انکار کرنا قتال سے بڑا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ کو پکڑ لیا اور اسیروں پر فدیہ لگایا تو مسلمانوں نے عرض کیا: کیا آپ اس کو ہمارے لیے غزوہ خیال کرتے ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 218] ”بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔“ یہ لوگ آٹھ تھے اور نویں ان کے امیر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17989]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17989 in Urdu