السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3904. -- باب: ما يحل للمضطر من مال الغير
-- باب: مجبور شخص کے لیے دوسرے کے مال میں سے کیا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 19662
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ الصُّوفِيُّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ يَحْيَى الرَّازِيُّ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ الْخُرَاسَانِيُّ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، أنبأ صَالِحُ بْنُ أَبِي جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ، فَأَخَذُونِي، فَذَهَبُوا بِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا يَرْمِي نَخْلَنَا، فَقَالَ:" يَا رَافِعُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ؟"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَجُوعُ، قَالَ:" لَا تَرْمِ، وَكُلْ مِمَّا يَقَعُ، أَشْبَعَكَ اللهُ، وَرَوَاكَ"..
رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں انصار کی کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا۔ وہ مجھے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور کہنے لگے: یہ ہماری کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے رافع! تم ان کی کھجوروں کو پتھر کیوں مار رہے تھے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پتھر نہ مارو بلکہ نیچے گرے ہوئے کھا لیا کرو۔ اللہ آپ کو سیر اور سیراب کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19662]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19662 in Urdu