السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3961. -- باب: ما جاء في ولد الزنا
-- باب: ولد الزنا (زنا سے پیدا ہونے والے بچے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19991
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللهِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ الزِّنَا"، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ"، وَ" إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحِيِّ" فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: رَحِمَ اللهُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَسَاءَ سَمْعًا، فَأَسَاءَ إِجَابَةً" لَأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللهِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ الزِّنَا" إنَّهَا لَمَّا نَزَلَتْ: {فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ⦗١٠٠⦘ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ فَكُّ رَقَبَةٍ} [البلد: ١٢] ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ:" مَا عِنْدَنَا مَا نُعْتِقُ، إِلَّا أَنَّ أَحَدَنَا لَهُ الْجَارِيَةُ السَّوْدَاءُ تَخْدُمُهُ، وَتَسْعَى عَلَيْهِ، فَلَوْ أَمَرْنَاهُنَّ فَزَنَيْنَ، فَجِئْنَ بِأَولَادٍ فَأَعْتَقْنَاهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللهِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ آمُرَ بِالزِّنَا، ثُمَّ أُعْتِقَ الْوَلَدَ"، وَأَمَّا قَوْلُهُ" وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ" فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، إِنَّمَا كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ يُؤْذِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ فُلَانٍ؟"، قِيلَ:" يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ مَعَ مَا بِهِ، وَلَدُ الزِّنَا"، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ"، وَاللهُ تَعَالَى يَقُولُ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤] ، وَأَمَّا قَوْلُهُ" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحِيِّ"، فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ مَاتَ، وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ" وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} [البقرة: ٢٨٦] ". سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ يَرْوِي مَنَاكِيرَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ الشَّامِيِّ، وَهُوَ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مُرْسَلًا فِي إِعْتَاقِ وَلَدِ الزِّنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں ایک کوڑے کے ذریعے مدد کرنا مجھے حرامی بچے کو آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرامی بچہ تینوں میں سب سے برا ہے اور مردہ کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، وہ صحیح سن نہیں سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”میں اللہ کے راستے میں ایک کوڑے کے ذریعے مدد کروں، یہ حرامی بچے کو آزاد کرنے سے بہتر ہے“، یہ ان آیات کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ * وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ * فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ [سورة البلد: 11-13] ”پھر بھی وہ گھاٹی عبور نہ کر سکا۔ (اے پیغمبر!) آپ کیا جانیں گھاٹی کیا ہے؟ ایک گردن آزاد کرا دینا۔“
کہا گیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس آزاد کرنے کو کچھ نہیں، لیکن ہم میں سے کسی کے پاس سیاہ لونڈی ہو جس سے وہ خدمت وغیرہ لیتا ہے، اگر ہم ان کو حکم دیں کہ وہ زنا کر لیں اور جو اولاد وہ جنم دیں ہم ان کو آزاد کر دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک کوڑے کے ذریعے اللہ کے راستے میں مدد کروں، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں زنا کا حکم دوں، پھر بچے کو آزاد کروں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”حرامی بچہ تینوں میں سب سے برا ہے“، یہ حدیث اس طرح نہیں ہے بلکہ ایک منافق آدمی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون مجھے فلاں سے آرام دے گا؟“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! اس میں جو برائی ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ حرامی بچہ بھی ہے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تینوں میں سب سے برا ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی جان کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول کہ میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ملتا ہے، یہ حدیث اس طرح نہیں ہے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے گھر کے پاس سے گزرے، وہ فوت ہو گیا تھا اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو عذاب دیا جا رہا ہے اور یہ رو رہے ہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ [سورة البقرة: 286] ”جان کو اس کی طاقت کے مطابق تکلیف دی جاتی ہے۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل روایت حرامی بچے کی آزادی کے بارے میں منقول ہے۔
سلمہ بن فضل ابرش منکر روایات بیان کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19991]
کہا گیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس آزاد کرنے کو کچھ نہیں، لیکن ہم میں سے کسی کے پاس سیاہ لونڈی ہو جس سے وہ خدمت وغیرہ لیتا ہے، اگر ہم ان کو حکم دیں کہ وہ زنا کر لیں اور جو اولاد وہ جنم دیں ہم ان کو آزاد کر دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک کوڑے کے ذریعے اللہ کے راستے میں مدد کروں، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں زنا کا حکم دوں، پھر بچے کو آزاد کروں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”حرامی بچہ تینوں میں سب سے برا ہے“، یہ حدیث اس طرح نہیں ہے بلکہ ایک منافق آدمی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون مجھے فلاں سے آرام دے گا؟“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! اس میں جو برائی ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ حرامی بچہ بھی ہے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تینوں میں سب سے برا ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی جان کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول کہ میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ملتا ہے، یہ حدیث اس طرح نہیں ہے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے گھر کے پاس سے گزرے، وہ فوت ہو گیا تھا اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو عذاب دیا جا رہا ہے اور یہ رو رہے ہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ [سورة البقرة: 286] ”جان کو اس کی طاقت کے مطابق تکلیف دی جاتی ہے۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل روایت حرامی بچے کی آزادی کے بارے میں منقول ہے۔
سلمہ بن فضل ابرش منکر روایات بیان کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19991]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19991 in Urdu