السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3961. -- باب: ما جاء في ولد الزنا
-- باب: ولد الزنا (زنا سے پیدا ہونے والے بچے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19987
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، أنبأ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ"..
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرامی بچہ تینوں میں سب سے برا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19987]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19988
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا: ثنا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، زَادَ: قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنْيَةٍ".
سہیل بن ابی صالح رحمہ اللہ نے اس طرح ذکر کیا ہے، لیکن کچھ الفاظ زائد ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں ایک کوڑے کے ذریعے مدد کروں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں حرامی بچے کو آزاد کروں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19988]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19989
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرامی بچہ تینوں میں سب سے برا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19989]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19990
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَلَدُ زِنْيَةٍ" وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا.
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرامی بچہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19990]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن خزيمه: 57»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19991
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللهِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ الزِّنَا"، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ"، وَ" إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحِيِّ" فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: رَحِمَ اللهُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَسَاءَ سَمْعًا، فَأَسَاءَ إِجَابَةً" لَأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللهِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ الزِّنَا" إنَّهَا لَمَّا نَزَلَتْ: {فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ⦗١٠٠⦘ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ فَكُّ رَقَبَةٍ} [البلد: ١٢] ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ:" مَا عِنْدَنَا مَا نُعْتِقُ، إِلَّا أَنَّ أَحَدَنَا لَهُ الْجَارِيَةُ السَّوْدَاءُ تَخْدُمُهُ، وَتَسْعَى عَلَيْهِ، فَلَوْ أَمَرْنَاهُنَّ فَزَنَيْنَ، فَجِئْنَ بِأَولَادٍ فَأَعْتَقْنَاهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللهِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ آمُرَ بِالزِّنَا، ثُمَّ أُعْتِقَ الْوَلَدَ"، وَأَمَّا قَوْلُهُ" وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ" فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، إِنَّمَا كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ يُؤْذِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ فُلَانٍ؟"، قِيلَ:" يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ مَعَ مَا بِهِ، وَلَدُ الزِّنَا"، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ"، وَاللهُ تَعَالَى يَقُولُ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤] ، وَأَمَّا قَوْلُهُ" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحِيِّ"، فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ مَاتَ، وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ" وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} [البقرة: ٢٨٦] ". سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ يَرْوِي مَنَاكِيرَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ الشَّامِيِّ، وَهُوَ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مُرْسَلًا فِي إِعْتَاقِ وَلَدِ الزِّنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں ایک کوڑے کے ذریعے مدد کرنا مجھے حرامی بچے کو آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرامی بچہ تینوں میں سب سے برا ہے اور مردہ کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، وہ صحیح سن نہیں سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”میں اللہ کے راستے میں ایک کوڑے کے ذریعے مدد کروں، یہ حرامی بچے کو آزاد کرنے سے بہتر ہے“، یہ ان آیات کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ * وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ * فَكُّ رَقَبَةٍ﴾ [سورة البلد: 11-13] ”پھر بھی وہ گھاٹی عبور نہ کر سکا۔ (اے پیغمبر!) آپ کیا جانیں گھاٹی کیا ہے؟ ایک گردن آزاد کرا دینا۔“
کہا گیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس آزاد کرنے کو کچھ نہیں، لیکن ہم میں سے کسی کے پاس سیاہ لونڈی ہو جس سے وہ خدمت وغیرہ لیتا ہے، اگر ہم ان کو حکم دیں کہ وہ زنا کر لیں اور جو اولاد وہ جنم دیں ہم ان کو آزاد کر دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک کوڑے کے ذریعے اللہ کے راستے میں مدد کروں، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں زنا کا حکم دوں، پھر بچے کو آزاد کروں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”حرامی بچہ تینوں میں سب سے برا ہے“، یہ حدیث اس طرح نہیں ہے بلکہ ایک منافق آدمی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون مجھے فلاں سے آرام دے گا؟“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! اس میں جو برائی ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ حرامی بچہ بھی ہے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تینوں میں سب سے برا ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی جان کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول کہ میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ملتا ہے، یہ حدیث اس طرح نہیں ہے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے گھر کے پاس سے گزرے، وہ فوت ہو گیا تھا اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو عذاب دیا جا رہا ہے اور یہ رو رہے ہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ [سورة البقرة: 286] ”جان کو اس کی طاقت کے مطابق تکلیف دی جاتی ہے۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل روایت حرامی بچے کی آزادی کے بارے میں منقول ہے۔
سلمہ بن فضل ابرش منکر روایات بیان کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19991]
کہا گیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس آزاد کرنے کو کچھ نہیں، لیکن ہم میں سے کسی کے پاس سیاہ لونڈی ہو جس سے وہ خدمت وغیرہ لیتا ہے، اگر ہم ان کو حکم دیں کہ وہ زنا کر لیں اور جو اولاد وہ جنم دیں ہم ان کو آزاد کر دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک کوڑے کے ذریعے اللہ کے راستے میں مدد کروں، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں زنا کا حکم دوں، پھر بچے کو آزاد کروں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ”حرامی بچہ تینوں میں سب سے برا ہے“، یہ حدیث اس طرح نہیں ہے بلکہ ایک منافق آدمی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون مجھے فلاں سے آرام دے گا؟“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! اس میں جو برائی ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ حرامی بچہ بھی ہے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تینوں میں سب سے برا ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی جان کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول کہ میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ملتا ہے، یہ حدیث اس طرح نہیں ہے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے گھر کے پاس سے گزرے، وہ فوت ہو گیا تھا اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو عذاب دیا جا رہا ہے اور یہ رو رہے ہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ [سورة البقرة: 286] ”جان کو اس کی طاقت کے مطابق تکلیف دی جاتی ہے۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل روایت حرامی بچے کی آزادی کے بارے میں منقول ہے۔
سلمہ بن فضل ابرش منکر روایات بیان کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19991]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19992
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ فِي وَلَدِ الزِّنَا: لَيْسَ عَلَيْهِ مِنْ وِزْرِ أَبَوَيْهِ شَيْءٌ {لَا تَزِرُ} [الأنعام: ١٦٤] وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى. رَفَعَهُ بَعْضُ الضُّعَفَاءِ، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حرامی بچے کے بارے میں فرماتی ہیں: اس پر اس کے والدین کا کچھ بھی بوجھ نہیں ہے، ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ [سورة فاطر: 18] ”کوئی جان کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔“
بعض ضعیف راویوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا) موقوف قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19992]
بعض ضعیف راویوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا) موقوف قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19992]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19993
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَيْهِ".
محمد بن قیس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرامی بچہ تینوں میں سب سے برا ہے جب وہ اپنے والدین والے اعمال کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19993]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19994
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ، جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ، إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَيْهِ". ⦗١٠١⦘ هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَمَا قَبْلَهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا الْكَلَامُ عَلَى الْخَبَرِ مِنْ قَوْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
داؤد بن علی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرامی بچہ تینوں میں سب سے برا ہے، جب وہ اپنے والدین والے اعمال کرے۔“
یہ سند ضعیف ہے اور اس سے پہلے والی بھی قوی نہیں ہے، اور یہ الفاظ (جب وہ اپنے والدین والے اعمال کرے) دراصل اس حدیث کی وضاحت میں سفیان ثوری رحمہ اللہ کا قول ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19994]
یہ سند ضعیف ہے اور اس سے پہلے والی بھی قوی نہیں ہے، اور یہ الفاظ (جب وہ اپنے والدین والے اعمال کرے) دراصل اس حدیث کی وضاحت میں سفیان ثوری رحمہ اللہ کا قول ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19994]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19995
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا، فَقَالَ:" هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ". قَالَ سُفْيَانُ:" يَعْنِي: إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ وَالِدَيْهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حرامی بچے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تینوں میں سب سے برا ہے“۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب وہ اپنے والدین والے عمل کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19995]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19996
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْفَرَّاءُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ، لِأَنَّ أَبَوَيْهِ يَتُوبَانِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حرامی بچہ تینوں میں سب سے برا ہے، اس وجہ سے کہ اس کے والدین نے توبہ کر لیتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَيْمَانِ/حدیث: 19996]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف