السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3961. -- باب: ما جاء في ولد الزنا
-- باب: ولد الزنا (زنا سے پیدا ہونے والے بچے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19992
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ فِي وَلَدِ الزِّنَا: لَيْسَ عَلَيْهِ مِنْ وِزْرِ أَبَوَيْهِ شَيْءٌ {لَا تَزِرُ} [الأنعام: ١٦٤] وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى. رَفَعَهُ بَعْضُ الضُّعَفَاءِ، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حرامی بچے کے بارے میں فرماتی ہیں: اس پر اس کے والدین کا کچھ بھی بوجھ نہیں ہے، ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ [سورة فاطر: 18] ”کوئی جان کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔“
بعض ضعیف راویوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا) موقوف قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19992]
بعض ضعیف راویوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا) موقوف قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19992]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19992 in Urdu